Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 147 · Chapter 1513

مفصل قراء ات اور اس میں صحابہ کے اختلاف کا بیان

سورۂ محمد کی قراء ت کا بیان

2 hadiths in this chapter

8426

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8426

Sahih

۔ (۸۴۲۶)۔ عَنْ شَقِیْقِ بْنِ سَلَمَۃَ قَالَ: جَائَ رَجُلٌ اِلَی عَبْدِ اللّٰہِ (یَعْنِی: ابْنَ مَسْعُوْدٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌) مِنْ بَنِیْ بُجَیْلَۃَیُقَالُ لَہُ: نَہِیْکُ بْنُ سِنَانٍ، فَقَالَ: یَا اَبَا عَبْدِ الرَّحْمٰنِ! کَیْفَ تَقْرَاُ ھٰذِہِ الْاٰیَۃَ اَیَائً تَجِدُھَا اَوْ اَلِفًا {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ فَقَالَ لَہُ عَبْدُ اللّٰہِ: وَکُلُّ الْقُرْآنِ اَحْصَیْتَ غَیْرَ ھٰذِہٖ،قَالَ: اِنِّیْ لَاَقْرَاُ الْمُفَصَّلَ فِیْ رَکْعَتَیْنِ، فَقَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: ھَذًّا کَہَذِّ الشِّعْرِ اِنَّ مِنَ اَحْسَنِ الصَّلَاۃِ الَرُّکُوْعَ وَالسُّجودَ، وَلَیَقْرَاَنَّ الْقُرْآنَ اَقْوَامٌ لَایُجَاوِزُ تَرَاقِیَہِمْ، وَلٰکِنَّہُ اِذَا قَرَأَہٗفَرَسَخَفِی الْقَلَبِ نَفعَ اِنِّیْ لَاَعْرِفُ النَّظَائِرَ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَاُ سُوْرَتَیْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ، قَالَ: ثُمَّ قَامَ فَدَخَلَ فَجَائَ عَلْقَمَۃُ فَدَخَلَ عَلَیْہِ قَالَ: فَقُلْنَا لَہُ: سَلْہُ عَنِ النَّظَائِرِ الَّتِیْ کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْرَئُ سُوْرَتَیْنِ فِیْ رَکْعَۃٍ، قَالَ: فَدَخَلَ فَسَاَلَہُ ثُمَّ خَرَجَ اِلَیْنَا، فَقَالَ: عِشْرُوْنَ سُوْرَۃً مِنْ اَوَّلِ الْمُفَصَّلِ فِیْ تَاْلِیْفِ عَبْدِاللّٰہِ (یَعْنِیْ: ابْنَ مَسْعُوْدٍ)۔ (مسند احمد: ۳۶۰۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ شفیق بن عبداللہ کہتے ہیں: بنو بجیلہ قبیلے کا ایک آدمی، سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آیا، اس کو نہیک بن سنان کہا جاتا تھا، اس نے کہا: اے ابو عبدالرحمن! اس آیت کو آپ کس طرح پڑھتے ہیں،یاء کے ساتھ یا الف کے ساتھ {مِنْ مَائٍ غَیْرِ آسِنٍ}؟ سیدنا عبداللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اس سے کہا: اس کے علاوہ تو نے سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں دو رکعت نماز میں مفصل سورتیں پڑھتا ہوں، سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا:کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی پڑھتے ہو، بہترین نماز وہ ہے، جس میں رکوع و سجود اچھے انداز میں کئے جائیں،کچھ لوگ قرآن تو پڑھیں گے، مگر وہ ان کی ہنسلیوں کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا، جب آدمی قرآن پڑھتا اور وہ اس کے دل میں راسخ ہو جاتا ہے تو تب قرآن فائدہ دیتا ہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو پہچانتا ہوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جن میں سے دو دو سورتیں ایک رکعت میں پڑھتے تھے۔ پھر سیدنا عبداللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کھڑے ہوئے اور اندر چلے گئے، اتنے میں علقمہ آئے اور وہ بھی ان کے پیچھے اندر چلے گئے، ہم نے علقمہ سے کہا: ان سے ان ملتی جلتی سورتوں کے بارے میں دریافت کرو، جن میں سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو سورتیں پڑھا کرتے تھے، پس علقمہ ان کے پاس گئے اور پھر ہمارے پاس آ کر کہا: مفصل کی ابتدائی بیس سورتیں،یہ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی تالیف ِ قرآن کے مطابق تھا۔

8426

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8426

Sahih

۔ (۸۴۲۶م)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ زِرٍّ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لِابْنِ مَسْعُودٍ: کَیْفَ تَعْرِفُ ہٰذَا الْحَرْفَ مَائٌ غَیْرِیَاسِنٍ أَ مْ آسِنٍ؟ فَقَالَ: کُلَّ الْقُرْآنِ قَدْ قَرَأْتَ؟ قَالَ: إِنِّی لَأَ قْرَأُ الْمُفَصَّلَ أَ جْمَعَ فِی رَکْعَۃٍ وَاحِدَۃٍ، فَقَالَ: أَ ہَذَّ الشِّعْرِ لَا أَ بَا لَکَ، قَدْ عَلِمْتُ قَرَائِنَ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الَّتِی کَانَ یَقْرِنُ قَرِینَتَیْنِ قَرِینَتَیْنِ مِنْ أَ وَّلِ الْمُفَصَّلِ، وَکَانَ أَ وَّلُ مُفَصَّلِ ابْنِ مَسْعُودٍ الرَّحْمٰنُ۔ (مسند احمد: ۳۹۱۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) زرّ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:ایک آدمی نے سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: آپ کا اس قراء ت کے بارے میں کیا خیال ہے مائٍ غَیْرِ آسِن ہے یا یَاسِن ؟ آگے سے انھوں نے کہا: کیا تو نے اس کے علاوہ سارا قرآن مجید پڑھ لیا ہے؟ اس نے کہا: میں تمام مفصل سورتیں ایک ر کعت میں پڑھتا ہوں، انھوں نے کہا: کیا شعروں کی طرح جلدی جلدی، تیرا باپ نہ رہے، میں ان آپس میں ملتی جلتی سورتوں کو جانتا ہوں،جن کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو دو سورتیں کر کے پڑھتے تھے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مفصل کی ابتداء سے شروع کر تے تھے۔ سیدنا ابن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے مصحف میں پہلی مفصل سورت رحمن تھی۔