Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8389
۔ (۸۳۸۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: ((بِئْسَمَا لِأَ حَدِکُمْ أَ وْ بِئْسَمَا لِأَ حَدِہِمْ أَ نْ یَقُولَ: نَسِیتُ آیَۃَ کَیْتَ وَکَیْتَ بَلْ ہُوَ نُسِّیَ، اسْتَذْکِرُوا الْقُرْآنَ، فَوَالَّذِی نَفْسِی بِیَدِہِ! لَہُوَ أَ شَدُّ تَفَصِّیًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنْ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِہَا)) (مسند احمد: ۳۹۶۰) (۸۳۸۹م)۔(وَ عَنْهُ مِنْ طَرِيْقٍ ثَانٍ) قَالَ: ((تَعَاهَدُوا هَذِهِ الْمَصَاحِفَ)) وَرُبَّمَا، قَالَ: ((الْقُرْآنَ فَلَهُوَ أَشَدُّ تَفَصِّيًا مِنْ صُدُورِ الرِّجَالِ مِنَ النَّعَمِ مِنْ عُقُلِهِ)) قَالَ: وَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صلى الله عليه وسلم: (( لَا يَقُلْ أَحَدُكُمْ: إِنِّي نَسِيتُ آيَةَ كَيْتَ، وَكَيْتَ، بَلْ هُوَ نُسِّيَ )) (مسند احمد: 3620)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: یہ بری بات ہے کہ آدمی یہ کہے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہنا چاہیے کہ مجھے بھلا دی گئی ہے۔ قرآن کو یاد رکھا کرو، اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ ۔ (دوسری سند)آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: قرآن مجید کی نگہداشت رکھو، یہ قرآن رسی سے نکل کر بھاگنے والی اونٹنی کی بہ نسبت لوگوں کے سینوں سے جلدی نکل جانے والا ہے۔ نیز نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی بھی یہ نہ کہا کرے: میں فلاں فلاں آیت بھول گیا ہوں، بلکہ یہ کہا کرے کہ اس کو بھلا دیا گیا ہے۔