Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 144 · Chapter 1496

قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان

عذاب والی آیتیا رحمت والی آیت اور بعض سورتوں کی تکمیل کے وقت قاری کے لیے مستحب ذکر کا بیان

2 hadiths in this chapter

8384

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8384

Sahih

۔ (۸۳۸۴)۔ عَنْ حُذَیْفَۃَ بْنِ الْیَمَانِ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ اِذَا مَرَّبِاٰیَۃِ رَحْمَۃٍ سَأَلَ، وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا عَذَابٌ تَعَوَّذَ،وَاِذَا مَرَّ بِآیَۃٍ فِیْہَا تَنْزِیْہٌ لِلّٰہِ عَزَّ وَجَلَّ سَبَّحَ۔ (مسند احمد: ۲۳۶۵۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا حذیفہ بن یمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جب رحمت والی آیت کی تلاوت کرتے تو اللہ تعالیٰ سے اس کا سوال کرتے، جب عذاب کے ذکر پر مشتمل آیت کے پاس سے گزرتے تو پناہ مانگتے اور جب ایسی آیت سے گزرتے، جس میں اللہ تعالیٰ کی تقدیس بیان کی گئی ہوتی تواس کی تسبیح بیان کرتے۔

8385

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8385

Zaeef

۔ (۸۳۸۵)۔ عَنْ إِسْمَاعِیلَ بْنِ أُمَیَّۃَ سَمِعَہُ مِنْ شَیْخٍ فَقَالَ مَرَّۃً سَمِعْتُہُ مِنْ رَجُلٍ مِنْ أَہْلِ الْبَادِیَۃِ أَعْرَابِیٍّ، سَمِعْتُ أَ بَاہُرَیْرَۃَیَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ قَرَأَ {وَالْمُرْسَلَاتِ عُرْفًا} فَبَلَغَ {فَبِأَیِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} فَلْیَقُلْ: آمَنَّا بِاللّٰہِ، وَمَنْ قَرَأَ {وَالتِّینِ وَالزَّیْتُونِ} فَلْیَقُلْ: بَلٰی وَأَ نَا عَلَی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ، وَمَنْ قَرَأَ {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتَی} فَلْیَقُلْ: ((بَلٰی۔)) قَالَ إِسْمَاعِیلُ: فَذَہَبْتُ أَ نْظُرُ ہَلْ حَفِظَ وَکَانَ أَ عْرَابِیًّا فَقَالَ: یَا ابْنَ أَ خِی أَ ظَنَنْتَ أَ نِّی لَمْ أَ حْفَظْہُ لَقَدْ حَجَجْتُ سِتِّینَ حَجَّۃً، مَا مِنْہَا سَنَۃٌ إِلَّا أَ عْرِفُ الْبَعِیرَ الَّذِی حَجَجْتُ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۷۳۸۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو آدمی سورۂ مرسلات پڑھے اور جب وہ اس آیت {فَبِأَ یِّ حَدِیثٍ بَعْدَہُ یُؤْمِنُونَ} پرپہنچے تو کہے: آمَنَّا بِاللّٰہِ (ہم اللہ تعالیٰ پر ایمان لائے ہیں)، جو آدمی سورۂ تین کی تلاوت کرے تو وہ آخر میں کہے: بَلٰی وَأَ نَا عَلٰی ذَلِکَ مِنْ الشَّاہِدِینَ (کیوں نہیں، اور میں اس پر گواہوں میں سے ہوں)، اور جو آدمی جب یہ آیت {أَ لَیْسَ ذٰلِکَ بِقَادِرٍ عَلَی أَ نْ یُحْیِیَ الْمَوْتٰی} پڑھے، تو وہ کہے: بَلٰی (کیوں نہیں)۔ اسماعیل راوی نے کہا: میں نے کوشش کی کہ پتہ چلاؤں اس اعرابی نے اسے اچھی طرح یاد بھی کیا ہے یا نہیں، اس نے آگے سے کہا: بھتیجے! تیرا کیا خیال ہے کہ میں نے اسے یاد نہیں کیا، میں نے ساٹھ حج کئے ہیں اور میں ہر سال والے اس اونٹ کو پہچان سکتا ہوں، جس پر میں نے حج کیا۔