Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 144 · Chapter 1494

قرآن مجید کی اور اس کے تلاوت آداب کا بیان

قرآن مجید کی تلاوت پر سکینت اور فرشتوں کے نزول کا بیان

2 hadiths in this chapter

8376

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8376

Sahih

۔ (۸۳۷۶)۔ عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: قَرَاَ رَجُلٌ الْکَہْفَ وَفِیْ الدَّارِ دَابَۃٌ فَجَعَلَتْ تَنْفِرُ فَنَظَرَ فَاِذَا ضَبَابَۃٌ اَوْ سَحَابَۃٌ قَدْ غَشِیَتْہُ، قَالَ: فَذُکِرَ ذٰلِكَ لِلنَّبِیّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: ((اقْرَاْ فَلَانُ! فَاِنَّہَا السَّکِیْنَۃُ تَنَزَّلَتْ عِنْدَ الْقُرْآنِ اَوْ تَنَزَّلَتْ لِلْقُرْآنِ۔)) (مسند احمد: ۱۸۶۶۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے سورۂ کہف کی تلاوت کی، جس گھر میں وہ تلاوت کر رہا تھا، اس میں اس کی سواری بھی بندھی ہوئی تھی، وہ سواری بدکنا شروع ہو گئی، اس نے دیکھا کہ ایک بادل اس پر چھا رہا ہے، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو بتلائی گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: او فلاں! تو پڑھتا رہتا، یہ سکینت تھی جو قرآن کے لیے نازل ہو رہی تھی۔

8377

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8377

Sahih

۔ (۸۳۷۷)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ اَنَّ اُسَیْدَ بْنَ حُضَیْرٍ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ بَیْنَمَا ھُوَ لَیْلَۃًیَقْرَأُ فِی مِرْبَدِہِ إِذْ جَالَتْ فَرَسُہُ فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أُخْرٰی، فَقَرَأَ ثُمَّ جَالَتْ أَ یْضًا، فَقَالَ أُسَیْدٌ: فَخَشِیتُ أَ نْ تَطَأَیَحْیٰییَعْنِی ابْنَہُ فَقُمْتُ إِلَیْہِ فَإِذَا مِثْلُ الظُّلَّۃِ فَوْقَ رَأْسِی فِیہَا أَ مْثَالُ السُّرُجِ، عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَرَاہَا، قَالَ: فَغَدَوْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! بَیْنَمَا أَ نَا الْبَارِحَۃَ مِنْ جَوْفِ اللَّیْلِ أَ قْرَأُ فِی مِرْبَدِی إِذْ جَالَتْ فَرَسِی، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ أَ یْضًا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ)) فَقَرَأْتُ ثُمَّ جَالَتْ، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِقْرَأْ ابْنَ حُضَیْرٍ!)) قَالَ: فَانْصَرَفْتُ وَکَانَ یَحْیٰی قَرِیبًا مِنْہَا فَخَشِیتُ أَ نْ تَطَأَ ہُ فَرَأَ یْتُ مِثْلَ الظُّلَّۃِ فِیہَا أَ مْثَالُ السُّرُجِ عَرَجَتْ فِی الْجَوِّ حَتّٰی مَا أَ رَاہَا، فَقَالَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ الْمَلَائِکَۃُ کَانَتْ تَسْتَمِعُ لَکَ، وَلَوْ قَرَأْتَ لَأَ صْبَحَتْ رَآہَا النَّاسُ لَا تَسْتَتِرُ مِنْہُمْ۔)) (مسند احمد: ۱۱۷۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ ایک رات سیدنا اسید بن حضیر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ اپنے باڑے میں قرآن مجید کی تلاوت کررہے تھے، اچانک ان کا گھوڑا بدکنے لگا، (وہ چپ ہو گئے)، پھر جب انہوں نے قراء ت شروع کی تو وہ بھر بدکنے لگا، بس جب بھی پڑھنے لگتے تو وہ بدکنے لگ جاتا، سیدنا اسید کہتے ہیں مجھے خدشہ لاحق ہوا کہ وہ میرے بیٹےیحییٰ کو کچل دے گا، پس میں بیٹے کو پکڑنے کے لیے کھڑا ہوا، میں نے دیکھا کہ میرے اوپر بادل کی مانند سائبان تھا، جس میں چراغ روشن تھے، جو فضا میں چڑھتا جا رہا تھا حتیٰ کہ وہ میری نظروں سے اوجھل ہوگیا، جب صبح ہوئی تو میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میں گزشتہ رات کے آخر میں اپنے باڑے میں قرآن مجید پڑھ رہا تھا، اچانک میرا گھوڑا بدکنے لگا، پھر آگے ساری بات بتائی۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن گھوڑا پھر بدکنے لگا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ میں نے کہا: میں پڑھتا تو پھر گھوڑا بدکتا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے پھر فرمایا: اے ابن حضیر! تو پڑھتا رہتا۔ انھوں نے کہا: جی میں نے پڑھا، لیکن میرا بیٹایحییٰ قریب پڑا تھا، مجھے اندیشہ ہوا کہ کہیں ایسا نہ ہو کہ گھوڑا اسے کچل دے، پھر میں نے سائبان کی مانند چیز دیکھی، جس میں چراغ جگمگا رہے ہیں اور وہ فضا میں بلند ہو رہی ہے، پھر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ فرشتے تھے، تمہاری تلاوت سن رہے تھے، اگر تم قراء ت صبح تک جاری رکھتے تو لوگ انہیں دیکھتے اور وہ ان سے چھپ نہ سکتے۔