Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 143 · Chapter 1489

قرآن کریم کے فضائل، تفسیر اور اسبابِ نزول کی کتاب

قرآن پاک کی تعلیم پر اجرت لینے کا بیان

3 hadiths in this chapter

8342

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8342

Sahih

۔ (۸۳۴۲)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ أَ نَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فِیکُمْ کِتَابُ اللّٰہِ، یَتَعَلَّمُہُ الْأَ سْوَدُ وَالْأَ حْمَرُ وَالْأَ بْیَضُ، تَعَلَّمُوہُ قَبْلَ أَ نْ یَأْتِیَ زَمَانٌ یَتَعَلَّمُہُ نَاسٌ، وَلَا یُجَاوِزُ تَرَاقِیَہُمْ، وَیُقَوِّمُونَہُ کَمَا یُقَوَّمُ السَّہْمُ، فَیَتَعَجَّلُونَ أَ جْرَہُ وَلَا یَتَأَ جَّلُونَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۲۵۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے درمیان اللہ تعالیٰ کی کتاب موجود ہے، سیاہ، سفید اور سرخ رنگ والا، ہر کوئی اس کو سیکھتا ہے،اس کو اس وقت سے پہلے پہلے سیکھ لو، جب لوگ اسے سیکھیں گے، لیکن یہ ان کی ہنسلی کی ہڈیوں سے نیچے نہیں اترے گا اور اس کے الفاظ اس طرح سیدھے کریں گے، جیسے تیر سیدھا کیا جاتا ہے، لیکن وہ دنیا میں ہی اس کی اجرت طلب کریں گے، آخرت تک تاخیر نہیں کریں گے۔

8343

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8343

Sahih

۔ (۸۳۴۳)۔ عَنْ عُبَادَۃَ بْنِ الصَّامِتِ قَالَ: کَانَ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُشْغَلُ، فَإِذَا قَدِمَ رَجُلٌ مُہَاجِرٌ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دَفَعَہُ إِلَی رَجُلٍ مِنَّا یُعَلِّمُہُ الْقُرْآنَ، فَدَفَعَ إِلَیَّ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَجُلًا، وَکَانَ مَعِی فِی الْبَیْتِ أُعَشِّیہِ عَشَائَ أَ ہْلِ الْبَیْتِ فَکُنْتُ أُقْرِئُہُ الْقُرْآنَ، فَانْصَرَفَ انْصِرَافَۃً إِلَی أَ ہْلِہِ، فَرَأٰ ی أَ نَّ عَلَیْہِ حَقًّا، فَأَ ہْدٰی إِلَیَّ قَوْسًا لَمْ أَ رَ أَ جْوَدَ مِنْہَا عُودًا، وَلَا أَحْسَنَ مِنْہَا عِطْفًا، فَأَ تَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَقُلْتُ: مَا تَرٰییَا رَسُولَ اللّٰہِ فِیہَا؟ قَالَ: ((جَمْرَۃٌ بَیْنَ کَتِفَیْکَ تَقَلَّدْتَّہَا أَ وْ تَعَلَّقْتَہَا۔)) (مسند احمد: ۲۳۱۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم (مسلمانوں کی مصلحتوں میں) مصروف رہتے تھے، جب بھی کوئی ہجرت کر کے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آتا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ہم میں سے کسی آدمی کے ساتھ ملا دیتے تاکہ وہ اسے قرآن پاک کی تعلیم دے۔ سیدنا عبادہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی میرے حوالے کیا،وہ میرے گھر میں ہی رہتا تھا، میں اسے وہی کھانا دیتا، جو میرے گھر والے کھاتے تھے، میں اسے قرآن پاک پڑھاتا تھا،جب وہ اپنے گھرچلا گیا اور اس نے خیال کیا کہ میرا اس پر حق ہے تو اس نے مجھے کمان بطورِ تحفہ دی، میں نے اس جیسی بہترین لکڑی اور اس جیسی بنی ہوئی کمان نہیں دیکھی تھی، پس میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور کہا: اے اللہ کے رسول! اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تیرے کندھوں کے درمیان آگ کا انگارا ہے، جو تو نے لٹکا لیا ہے۔

8344

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #8344

Sahih

۔ (۸۳۴۴)۔ عَنْ أَ بِی عَبْدِالرَّحْمَنِ قَالَ: حَدَّثَنَا مَنْ کَانَ یُقْرِئُنَا مِنْ أَ صْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُمْ کَانُوْا یَقْتَرِءُ وْنَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَشْرَ آیَاتٍ، فَلَا یَأْخُذُونَ فِی الْعَشْرِ الْأُخْرٰی حَتّٰی یَعْلَمُوْا مَا فِی ھٰذِہِ مِنْ الْعِلْمِ وَالْعَمَلِ، قَالُوا: فَعَلِمْنَا الْعِلْمَ وَالْعَمَلَ۔ (مسند احمد: ۲۳۸۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو عبدالرحمن کہتے ہیں: جن صحابہ نے ہمیں قرآن مجید پڑھایا، انھوں نے ہمیں بیان کیا کہ جب وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے دس آیات پڑھ لیتے تھے تو اگلی دس آیات اس وقت تک نہ پڑھتے تھے، جب تک وہ ان آیات پر عمل نہیں کر لیتے تھے، انھوں نے کہا: ہم نے علم اور عمل دونوں چیزوں کی تعلیم ایک ساتھ حاصل کی۔