Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 14 · Chapter 124

پاؤں کو دھونے اور اس سے متعلقہ دوسرے امور کا بیان

وضو میں خشک رہ جانے والی جگہ، اعضائے وضو کا پے درپے دھونے اور وضو کو اچھے اندار سے کرنے کی ترغیب دلانے کا بیان

5 hadiths in this chapter

693

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #693

Sahih

۔ (۶۹۳)۔عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِکٍ ؓ أَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ تَوَضَّأَ وَتَرَکَ عَلٰی قَدَمِہِ مَوْضِعَ الظُّفْرِ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم: ((ارْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) (مسند أحمد: ۱۲۵۱۵)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے کہ ایک آدمی وضو کر کے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کے پاس آیا، لیکن اس کے پاؤں پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے فرمایا: لوٹ جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔

694

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #694

Sahih

۔ (۶۹۴)۔عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِاللّٰہِؓ أَنَّ عُمَرَبْنَ الْخَطَّابِؓ أَخْبَرَہُ أَنَّہُ رَاٰی رَجُلًا تَوَضَّأَ فَتَرَکَ مَوْضِعَ ظُفْرٍ عَلٰی ظَہْرِ قَدَمِہِ، فَأَبْصَرَہُ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: (( اِرْجِعْ فَأَحْسِنْ وُضُوئَ کَ۔)) فَرَجَعَ فَتَوَضَّأَ ثُمَّ صَلّٰی۔ (مسند أحمد: ۱۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا جابر بن عبد اللہ ؓ سے مروی ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے ایک آدمی کو دیکھا کہ وہ وضو کر کے آیا تھا، لیکن اس کے قدم کی پشت پر ناخن کے برابر جگہ خشک رہ گئی تھی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اس کو دیکھ کر فرمایا: واپس چلا جا اور اچھی طرح وضو کر کے آ۔ پس اس نے واپس جا کر دوبارہ وضو کیا اور پھر آ کر نماز پڑھی۔

695

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #695

Sahih

۔ (۶۹۵)۔عَنْ خَالِدِ بْنِ مَعْدَانَ عَنْ بَعْضِ أَصْحَابِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رَاٰی رَجُلًا یُصَلِّیْ وَفِیْ ظَہْرِ قَدَمِہِ لُمْعَۃٌ قَدْرُ الدِّرْہَمِ لَمْ یُصِبْہَا الْمَائُ، فَأَمَرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یُعِیْدَ الْوُضُوئَ۔ (مسند أحمد: ۱۵۵۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

خالد بن معدان ایک صحابیِ رسول سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ایک آدمی کو نماز پڑھتے ہوئے دیکھا، جبکہ اس کے قدم کی پشت پر درہم کے بقدر جگہ خشک رہ گئی تھی، اس کو پانی نہیں پہنچا تھا، اس لیے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے اسے حکم دیا کہ وہ دوبارہ وضو کرے۔

696

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #696

Sahih

۔ (۶۹۶)۔ عَنْ أَبِیْ رَوْحِ نِ الْکَلَاعِیِّؓ قَالَ: صَلّٰی بِنَا رَسُولُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم الصُّبْحَ فَقَرَأَ بِالرُّوْمِ فَتَرَدَّدَ فِیْ آیَۃٍ، فَلَمَّا انْصَرَفَ قَالَ: ((اِنَّہُ یُلَبَّسُ عَلَیْنَا الْقُرآنُ، اِنَّ أَقْوَامًا یُصَلُّوْنَ مَعَنَا لَا یُحْسِنُوْنَ الْوُضُوئَ، فَمَنْ شَہِدَ الصَّلَاۃَ مَعَنَا فَلْیُحْسِنِ الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۹)

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابو روح کلاعی ؓ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے ہمیں نمازِ فجر پڑھائی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ نے سورۂ روم کی تلاوت شروع کی، لیکن ایک آیت میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ‌ کو تردّد ہونے لگا، جب آپ فارغ ہوئے تو فرمایا: قرآن ہم پر خلط ملط کیا جاتا ہے، اس کی وجہ یہ ہے کہ ہمارے ساتھ نماز پڑھنے والے بعض لوگ اچھی طرح وضو نہیں کرتے، لہذا جس نے ہمارے ساتھ نماز پڑھنی ہو، وہ اچھی طرح وضو کر کے آیا کرے۔

697

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #697

Sahih

۔ (۶۹۷)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ)۔وَفِیْہِ: ((اِنَّمَا لَبَّسَ عَلَیْنَا الشَّیْطَانُ الْقِرَائَ ۃَ مِنْ أَجْلِ أَقْوَامٍ یَأتُونَ الصَّلٰوۃَ بِغَیْرِ وُضُوئٍ، فَاِذَا أَتَیْتُمُ الصَّلٰوۃَ فَأَحْسِنُوا الْوُضُوئَ۔)) (مسند أحمد: ۱۵۹۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی حدیث ہے، البتہ اس میں ہے: شیطان اس وجہ سے ہم پر قراء ت کو خلط ملط کر دیتا ہے کہ بعض لوگ بغیر وضو کے نماز پڑھنے آ جاتے ہیں، پس جب تم نماز کے لیے آؤ تو اچھی طرح وضو کر کے آیا کرو۔