Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 136 · Chapter 1396

نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جو دوائیں اور چیزوں کے خواص بیان کیے ہیں، ان کے بارے میں ابواب

نظر لگنے سے دم کرنے کا بیان

4 hadiths in this chapter

7750

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7750

Sahih

(۷۷۵۰)۔عَنْ عَائِشَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ صلى الله عليه وآله وسلم اَمَرَھَا اَنْ تَسْتَرْقِیَ مِنَ الْعَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا کہ نظر لگ جانے سے دم کیا کروں۔

7751

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7751

Zaeef

(۷۷۵۱)۔وَعَنْہَا اَیْضًا قَالَتَ: دَخَلَ النَّبِیُّ صلى الله عليه وآله وسلم فَسَمِعَ صَوْتَ صَبِیٍّ یَبْکِیْ، فَقَالَ: ((مَا لِصَبِیِّکُمْ ھٰذَا یَبْکِیْ، فَہَلَّا اِسْتَرْقَیْتُمْ لَہُ مِنَ الْعَیْنِ)) (مسند احمد: ۲۴۹۴۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے ہی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اندر داخل ہوئے اور ایک بچے کے رونے کی آواز سنی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہارے اس بچے کو کیا ہو گیا ہے، یہ کیوں رو رہا ہے، تم اسے نظر کا دم کیوں نہیں کرواتے۔

7752

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7752

Sahih

(۷۷۵۲)۔(وَعَنْہَا اَیْضًا) قَالَ: کُنْتُ اَرْقِیْ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم مِنَ الْعَیْنِ فَاَصْنَعُ یَدِیْ عَلٰی صَدْرِہٖ وَاَقُوْلُ: اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ! بِیَدِکَ الشِّفَائُ لَا کَاشِفَ لَہٗ اِلَّا اَنْتَ۔ (مسند احمد: ۲۵۵۰۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو نظر کا دم کیا کرتی تھی، میں اپنا ہاتھ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سینۂ مبارک پر رکھتی اور یہ دعا پڑھتی: اِمْسَحِ الْبَاْسَ رَبَّ النَّاسِ! بِیَدِکَ الشِّفَاءُ لَا کَاشِفَ لَہٗ اِلَّا اَنْتَ۔ (اے لوگوں کے رب! یہ تکلیف دور کردے، شفاء تیرے ہاتھ ہی میں ہے، تیرے سوا کوئی شفاء دینے والا نہیں۔)

7753

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7753

Sahih

(۷۷۵۳)۔عَنْ عُبَیْدِ اللّٰہِ بْنِ رِفَاعَۃَ الزُّرَقِیِّ قَالَ: قَالَتْ اَسْمَائُ (بِنْتُ عُمَیْسٍ): یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ بَنِیْ جَعْفَرٍ تُصِیْبُہُمُ الْعَیْنُ اَفَاَسْتَرْقِیْ لَھُمْ؟ قَالَ: ((نَعَمْ، فَلَوْ کَانَ شَیْئٌ سَابِقَ الْقَدْرِ لَسَبَقَتْہُ الْعَیْنُ)) (مسند احمد: ۲۸۰۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت عمیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! سیدنا جعفر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے بیٹے نظر زدہ ہوجاتے ہیں، کیا میں انہیں دم کرلیا کروں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر کوئی چیز تقدیر پر غالب آ سکتی ہوتی تو وہ نظر ہوتی۔