Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 133 · Chapter 1358

مشروبات کا بیان

نبیذ کی جائز اور حرام اقسام کا بیان نبیذ کی جائز اقسام کا بیان، نیز نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے نبیذ کیسے اور کس چیز سے نبیذ بنائی جاتی تھی

7 hadiths in this chapter

7482

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7482

Sahih

(۷۴۸۲)۔عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: کُنَّا نَنْبِذُ لِلنَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم فِی سِقَائٍ فَنَأْخُذُ قَبْضَۃً مِنْ زَبِیبٍ أَوْ قَبْضَۃً مِنْ تَمْرٍ فَنَطْرَحُہَا فِی السِّقَاء ِ ثُمَّ نَصُبُّ عَلَیْہَا الْمَائَ لَیْلًا فَیَشْرَبُہُ نَہَارًا أَوْ نَہَارًا فَیَشْرَبُہُ لَیْلًا۔ (مسند احمد: ۲۴۷۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مشک میں نبیذ بنایا کرتے تھے، ہم ایک مٹھی بھر منقّی یا کھجور مشک میں ڈال کر اس میں پانی ڈالتے، رات کو بناتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کو پی لیتے اور دن کو بناتے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات کو پی لیتے تھے۔

7483

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7483

Sahih

(۷۴۸۳)۔عَنْ عَمْرَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّہَا قَالَتْ کُنَّا نَنْبِذُ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ غُدْوَۃً فِی سِقَائٍ وَلَا نُخَمِّرُہُ وَلَا نَجْعَلُ لَہُ عَکَرًا فَإِذَا أَمْسٰی تَعَشّٗی فَشَرِبَ عَلٰی عَشَائِہِ فَإِنْ بَقِیَ شَیْئٌ فَرَّغْتُہُ أَوْ صَبَبْتُہُ ثُمَّ نَغْسِلُ السِّقَائَ فَنَنْبِذُ فِیہِ مِنَ الْعِشَائِ فَإِذَا أَصْبَحَ تَغَدّٰی فَشَرِبَ عَلٰی غَدَائِہِ فَإِنْ فَضَلَ شَیْئٌ صَبَبْتُہُ أَوْ فَرَّغْتُہُ ثُمَّ غَسَلَ السِّقَائَ فَقِیلَ لَہُ أَفِیہِ غَسَلَ السِّقَائَ مَرَّتَیْنِ قَالَ مَرَّتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۲۵۴۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں ہم نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے مشک میں صبح نبیذ بناتے تھے، ہم اسے ڈھانپتے نہ تھے اور نہ ہی ہم اس میں تلچھٹ باقی رہنے دیتے تھے، جب شام ہوتی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم شام کا کھانا کھا لیتے تو پھر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ بچ جاتی میں اسے بہا دیتی اور مشک کو دھو دیتی، پھر ہم عشاء کے وقت نبیذ بناتے تھے، جب صبح ہوتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صبح کاکھانا کھا کر نبیذ پیتے تھے، اگر نبیذ میں سے کچھ بچ جاتا تو میں اسے بہا دیتی پھر برتن دھویا جاتا۔ مقاتل سے پوچھا گیا: کیا اس حدیث میں مشک دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے، انھوں نے کہا: جی ہاں، دو مرتبہ دھونے کا ذکر ہے۔

7484

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7484

Sahih

(۷۴۸۴)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ یُنْقَعُ لِلنَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم الزَّبِیْبُ، قَالَ: فَیَشْرَبُہُ الْیَوْمَ وَالْغَدَ وَبَعْدَ الْغَدِ اِلٰی مَسَائِ الثَّالِثَۃِ، ثُمَّ یُومَرُ بِہِ فَیُسْقٰی اَوْ یُہْرَاقُ۔ (مسند احمد: ۱۹۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے لیے منقّی ملا کر پانی بنایا جاتا تھا، آپ اسے اس دن، دوسرے دن اور تیسرے دن کی شام تک پیتے، اس کے بعد اس کے بارے میں حکم دیا جاتا کہ وہ کسی کو پلا دیا جائے یا پھر بہا دیا جائے۔

7485

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7485

Zaeef

(۷۴۸۵)۔عَنْ عِکْرِمَۃَ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ ابْنَ عَبَّاسٍ عَنْ نَبِیذِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ کَانَ یَشْرَبُ بِالنَّہَارِ مَا صُنِعَ بِاللَّیْلِ وَیَشْرَبُ بِاللَّیْلِ مَا صُنِعَ بِالنَّہَارِ۔ (مسند احمد: ۲۶۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عکرمہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے ایک آدمی نے دریافت کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے نبیذ کے متعلق بتائیں، انہوں نے کہا: جو نبیذ رات کو بنایا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اسے دن میں پی لیتے اور جو دن کو بنایا جاتا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وہ رات کو پی لیتے تھے۔

7486

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7486

Sahih

(۷۴۸۶)۔حَدَّثَنَا یَحْیٰی قَالَ: سَمِعْتُ اِبْرَاہِیْمَ بْنَ سَعْدٍ یَقُوْلُ: اَشْہَدُ عَلٰی سُفْیَانَ اَنِّیْ سَاَلْتُہُ اَوْ سُئِلَ عَنِ النَّبِیْذِ فَقَالَ: کُلْ تَمْرًا وَاشْرَبْ مَائً یَصِیْرُ فِیْ بَطْنِکَ نَبِیْذًا۔ (مسند احمد: ۱۰۷۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابراہیم بن سعد کہتے ہیں: میں سفیان کے پاس حاضر ہوا اور میں نے ان سے سوال کیا یا ان سے نبیذ کے متعلق پوچھا گیا، انہوں نے کہا: کھجور کھا لو اور بعد میں پانی پی لو، تمہارے پیٹ میں نبیذ بن جائے گا۔

7487

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7487

Zaeef

(۷۴۸۷)۔عَنْ صُہَیْرَۃَ بِنْتِ جَیْفَرٍ سَمِعَہُ مِنْہَا قَالَتْ: حَجَجْنَا ثُمَّ انْصَرَفْنَا إِلَی الْمَدِینَۃِ فَدَخَلْنَا عَلٰی صَفِیَّۃَ بِنْتِ حُیَیٍّ فَوَافَقْنَا عِنْدَہَا نِسْوَۃً مِنْ أَہْلِ الْکُوفَۃِ فَقُلْنَ لَہَا: إِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْتُنَّ وَسَمِعْنَا وَإِنْ شِئْتُنَّ سَأَلْنَا وَسَمِعْتُنَّ، فَقُلْنَا: سَلْنَ، فَسَأَلْنَ عَنْ أَشْیَائَ مِنْ أَمْرِ الْمَرْأَۃِ وَزَوْجِہَا وَمِنْ أَمْرِ الْمَحِیضِ ثُمَّ سَأَلْنَ عَنْ نَبِیذِ الْجَرِّ فَقَالَتْ: أَکْثَرْتُمْ عَلَیْنَا یَا أَہْلَ الْعِرَاقِ فِی نَبِیذِ الْجَرِّ وَمَا عَلٰی إِحْدَاکُنَّ أَنْ تَطْبُخَ تَمْرَہَا ثُمَّ تَدْلُکَہُ ثُمَّ تُصَفِّیَہُ فَتَجْعَلَہُ فِی سِقَائِہَا وَتُوکِئَ عَلَیْہِ فَإِذَا طَابَ شَرِبَتْ وَسَقَتْ زَوْجَہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۴۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ صہیرہ بنت جیفر کہتی ہیں: ہم نے حج کیا، پھر ہم مدینہ واپس لوٹیں اورہم ام المؤمنین سیدہ صفیہ بنت حیی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے پاس آئیں، ہم نے ان کے پاس کوفہ کی رہنے والی عورتیں موجود پائیں، انہوں نے ہم سے کہا: اگر چاہو تو تم سوال کرو، ہم سنتی ہیں اور اگر چاہو تو ہم سوال کرتی ہیں اور تم سنو، ہم نے کہا: تم سوال کرو ، انہوں نے میاں بیوی اور حیض کے متعلقہ کچھ امور دریافت کئے اور پھر انہوں نے مٹکے (اور گھڑے وغیرہ) میں بنائے جانے والے نبیذ کے بارے میں دریافت کیا،سیدہ صفیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: عراق والیو! تم نے مٹکے کے نبیذ کے بارے میں بہت زیادہ تکرار کیا ہے، اس میں تم پر کوئی حرج نہیں کہ کھجور پکا لو، پھر اسے ہاتھ سے مل دو اور صاف کرکے اسے مشک میں رکھ لو اور پھر اس کا تسمہ بند کر دو اور جب وہ خوشگوار ہو جائے تو اسے پی لو اور اپنے خاوند کو بھی پلاؤ۔

7488

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7488

Sahih

(۷۴۸۸)۔عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ الدَّیْلَمِیِّ عَنْ أَبِیہِ فَیْرُوزَ قَالَ قَدِمْتُ عَلٰی رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنَّا أَصْحَابُ أَعْنَابٍ وَکَرْمٍ وَقَدْ نَزَلَ تَحْرِیمُ الْخَمْرِ فَمَا نَصْنَعُ بِہَا قَالَ: ((تَتَّخِذُونَہُ زَبِیبًا۔)) قَالَ فَنَصْنَعُ بِالزَّبِیبِ مَاذَا؟ قَالَ: ((تَنْقَعُونَہُ عَلٰی غَدَائِکُمْ وَتَشْرَبُونَہُ عَلٰی عَشَائِکُمْ وَتَنْقَعُونَہُ عَلٰی عَشَائِکُمْ وَتَشْرَبُونَہُ عَلٰی غَدَائِکُمْ۔)) قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! نَحْنُ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ وَنَحْنُ نُزُولٌ بَیْنَ ظَہْرَانَیْ مَنْ قَدْ عَلِمْتَ، فَمَنْ وَلِیُّنَا قَالَ: ((اَللَّہُ وَرَسُولُہُ۔)) قَالَ قُلْتُ: حَسْبِی یَا رَسُولَ اللّٰہِ!۔ (مسند احمد: ۱۸۲۰۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا فیروز دیلمی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہم انگوروں کے مالک ہیں، اب شراب کی حرمت نازل ہوچکی ہے، اب ہم انگوروں کا کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کا منقّی تیار کر لیا کرو۔ اس نے کہا: پھر ہم منقی کا کیا کریں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے صبح پانی میں ڈالو اورشام کے کھانے کے ساتھ پیو اور شام کو پانی میں ڈالو اور صبح کو پی لو۔ میں نے کہا: آپ کو معلوم ہے ہم جس قوم سے ہیں، ان میں سے ہم ہی ایمان لائے ہیں، ہماری قوم ایمان نہیں لائی، نیز آپ جانتے ہیں کہ ہم کافر قوم کے درمیان رہتے ہیں، اب ہمارا ولی کون ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول۔ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! مجھے یہی کافی ہے۔