Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7256
(۷۲۵۶)۔عَنْ وَھْبِ بْنِ جَابِرٍ قَالَ ابْنُ مَوْلٰی لِعَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ قَالَ لَہُ: اِنِّیْ اُرِیْدُ اَنْ اُقِیْمَ ھٰذَا الشَّہْرَ ھَاھُنَا بِبَیْتِ الْمَقْدَسِ، فَقَالَ لَہُ: تَرَکْتَ لِاَھْلِکَ مَا یَقُوْتُہُمْ ھٰذَا الشَّہْرَ؟ قَالَ: لَا، قَالَ: فَارْجِعْ اِلٰی اَھْلِکَ فَاتْرُکْ لَھُمْ مَا یَقُوْتُہُمْ؟ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((کَفٰی بِالْمَرْئِ اِثْمًا اَنْ یُضِیْعَ مَنْ یَقُوْتُ۔)) (مسند احمد: ۶۸۴۲)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ وہب بن جابر بیان کرتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص رضی اللہ عنہماسے ان کے ایک غلام کے بیٹے نے کہا: میرا ارادہ ہے کہ میں یہ ماہِ رمضان یہاں بیت المقدس میں گزاروں۔ انہوں نے کہا: کیا تم اپنے بیوی بچوں کے لیے اس ماہ مبارک کی خوراک چھوڑ آئے ہو؟ اس نے کہا: جی نہیں، انہوں نے کہا: تو پھر اپنے گھر والوں کی طرف لوٹ جا اور ان کی خوراک کا بندوبست کر کے آ، کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا تھا کہ آدمی کے لیے یہی گناہ کافی ہے کہ وہ جن کی خوراک کا ذمہ دار ہے، ان کو ضائع کر دے۔