Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 128 · Chapter 1313

عدتوں کا بیان

متوفّٰی عنہا زوجہا عورت کے سوگ اور پابندیوں کا بیان

6 hadiths in this chapter

7238

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7238

Sahih

(۷۲۳۸)۔عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ اُمِّ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّہَا اِنَّ اِمْرَاَۃً تُوُفِّیَ زَوْجُھَا فَاشْتَکَتْ عَیْنُھَا، فَذَکَرُوْھَا لِلنَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم وَذَکَرُوْا الْکُحْلَ، قَالُوْا: نَخَافُ عَلٰی عَیْنِھَا، قال صلى الله عليه وآله وسلم: ((قَدْ کَانَتْ اِحْدَا کُنَّ تَمْکُثُ فِیْ بَیْتِہَا فِیْ شَرِّ اَحْلَاسِہَا فِیْ شَرِّ بَیْتِہَا حَوْلًا فَاِذَا مَرَّ بِہَا کَلبٌ رَمَتْ بِبَعْرَۃٍ اَفَلَا اَرْبَعَۃَ اَشْھُرٍ وَعَشْرًا۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۳۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ایک عورت کا خاوند فوت ہوا اور اس کی آنکھ خراب ہو گئی، اس کے گھر والوں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا اور سرمہ ڈالنے کی اجازت چاہی، انہوں نے کہا کہ ہمیں اندیشہ ہے کہ اس کی آنکھوں کا نقصان نہ ہو جائے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے ایک عورت اپنے گھر میں بدترین لباس میں بدترین مقام پر ایک سال تک ٹھہرا کرتی تھی اور جب اس کے پاس سے کتا گزرتا تھا تو لید پھینکا کرتی تھی، کیا اب وہ چار ماہ دس دن بھی صبر نہیں کر سکتی۔

7239

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7239

Sahih

(۷۲۳۹)۔عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ رضي الله عنها عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم اَنَّہُ قَالَ: ((اَلْمُتَوَفّٰی عَنْہَا زَوْجُہَا لَا تَلْبَسُ الْمُعَصْفَرَ مِنَ الثِّیَابِ وَلا الْمُمَشَّقَۃَ وَلَا الْحُلِیَّ وَلَا تَخْتَضِبُ وَلَا تَکْتَحِلُ۔)) (مسند احمد: ۲۷۱۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کے بارے میں جس کا خاوند فوت ہوجائے حکم دیا کہ وہ کسنبے سے رنگا ہوا زرد کپڑا اور مشق (گیرو) سے رنگا ہوا کپڑا اور زیورات نہ پہنے اور نہ وہ خضاب لگائے اور نہ سرمہ ڈالے۔

7240

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7240

Sahih

(۷۲۴۰)۔عَنْ حَفْصَۃَ بِنْتِ سِیرِینَ عَنْ أُمِّ عَطِیَّۃَ الْأَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ یَزِیدُ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((لَا تُحِدُّ الْمَرْأَۃُ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلٰی زَوْجٍ فَإِنَّہَا تُحِدُّ عَلَیْہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا وَلَا تَلْبَسُ ثَوْبًا مَصْبُوغًا إِلَّا عَصْبًا وَلَا تَکْتَحِلُ وَلَا تَمَسُّ طِیبًا إِلَّا عِنْدَ طُہْرِہَا قَالَ یَزِیدُ أَوْ فِی طُہْرِہَا فَإِذَا طَہُرَتْ مِنْ حَیْضِہَا نُبْذَۃً مِنْ قُسْطٍ وَاَظْفَارٍ۔)) (مسند احمد: ۲۷۸۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام عطیہ انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی عورت تین دن سے زیادہ کسی میت پر سوگ نہ منائے، ما سوائے خاوند کے کہ اس کی وفات پر بیوی چار ماہ دس دن سوگ منائے گی، اس دوران وہ رنگا ہوا لباس نہیں پہنے گی، البتہ رنگے ہوئے سوت کا کپڑا پہن سکتی ہے، وہ نہ سرمہ لگائے اور نہ ہی خوشبو استعمال کرے، البتہ حیض سے طہارت کے وقت عود ہندی یامشک استعمال کر سکتی ہے۔

7241

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7241

Sahih

(۷۲۴۱)۔عَنْ حُمَیْدِ بْنِ نَافِعٍ قَالَ سَمِعْتُ زَیْنَبَ بِنْتَ أُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ تُوُفِّیَ حَمِیمٌ لِأُمِّ حَبِیبَۃَ فَدَعَتْ بِصُفْرَۃٍ فَمَسَحَتْ بِذِرَاعَیْہَا وَقَالَتْ: إِنَّمَا أَصْنَعُ ہٰذَا لِشَیْئٍ سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم وَقَالَ حَجَّاجٌ لِأَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((لَا یَحِلُّ لِامْرَأَۃٍ مُسْلِمَۃٍ تُؤْمِنُ بِاللّٰہِ وَالْیَوْمِ الْآخِرِ أَنْ تُحِدَّ فَوْقَ ثَلَاثٍ إِلَّا عَلٰی زَوْجِہَا أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا۔)) وَحَدَّثَتْہُ زَیْنَبُ عَنْ أُمِّہَا وَعَنْ زَیْنَبَ زَوْجِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم أَوْ عَنِ امْرَأَۃٍ مِنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم۔ (مسند احمد: ۲۷۳۰۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ زینب بنت ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ ام المومنین سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا ایک نہایت قریبی رشتہ دار فوت ہو، سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے زرد رنگ کی خوشبو منگوائی اسے اپنے بازؤں پر ملا اور کہا: میں نے ایسا اس لیے کیا ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو مسلمان عورت اللہ تعالیٰ اور روز آخرت پر یقین رکھتی ہے، اس کے لیے حلال نہیں ہے کہ وہ تین دنوں یا تین راتوں سے اوپر سوگ منائے، ما سوائے اس خاتون کے، جس کا شوہر فوت ہو جائے، وہ اس پر چار ماہ دس دن سوگ منائے گی۔ یہ روایت زینب نے اپنی ماں سیدہ ام سلمہ سے اور انہوں نے سیدہ زینب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے یا امہات المومنین میں سے کسی ام المومنین سے بیان کی ہے۔

7242

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7242

Sahih

(۷۲۴۲)۔عَنْ فُرَیْعَۃَ بِنْتِ مَالِکٍ قَالَتْ خَرَجَ زَوْجِی فِی طَلَبِ أَعْلَاجٍ لَہُ فَأَدْرَکَہُمْ بِطَرَفِ الْقَدُومِ فَقَتَلُوہُ فَأَتَانِی نَعْیُہُ وَأَنَا فِی دَارٍ شَاسِعَۃٍ مِنْ دُورِ أَہْلِی فَأَتَیْتُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَذَکَرْتُ ذٰلِکَ لَہُ فَقُلْتُ إِنَّ نَعْیَ زَوْجِی أَتَانِی فِی دَارٍ شَاسِعَۃٍ مِنْ دُورِ أَہْلِی وَلَمْ یَدَعْ لِی نَفَقَۃً وَلَا مَالًا لِوَرَثَتِہِ وَلَیْسَ الْمَسْکَنُ لَہُ فَلَوْ تَحَوَّلْتُ إِلَی أَہْلِی وَأَخْوَالِی لَکَانَ أَرْفَقَ بِی فِی بَعْضِ شَأْنِی قَالَ: ((تَحَوَّلِی۔)) فَلَمَّا خَرَجْتُ إِلَی الْمَسْجِدِ أَوْ إِلَی الْحُجْرَۃِ دَعَانِی أَوْ أَمَرَ بِی فَدُعِیتُ فَقَالَ: ((اُمْکُثِی فِی بَیْتِکِ الَّذِی أَتَاکِ فِیہِ نَعْیُ زَوْجِکِ حَتّٰی یَبْلُغَ الْکِتَابُ أَجَلَہُ۔)) قَالَتْ فَاعْتَدَدْتُ فِیہِ أَرْبَعَۃَ أَشْہُرٍ وَعَشْرًا قَالَتْ فَأَرْسَلَ إِلَیَّ عُثْمَانُ فَأَخْبَرْتُہُ فَأَخَذَ بِہِ۔ (مسند احمد: ۲۷۶۲۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ فریعہ بنت مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے ، وہ کہتی ہیں: میرا خاوند اپنے مضبوط جسم والے غلاموں کی تلاش میں نکلا، جوبھاگ گئے تھے، اس نے ان غلاموں کو قدوم مقام پر پا تو لیا، لیکن ہوا یوں کہ انہوں نے مل کر میرے خاوند کو قتل کر دیا، میرے خاندان والوں کے اس گھر میں مجھے میرے خاوند کی موت کی اطلاع ملی جو آباد ی سے دور تھا اور نہ ہی میرے خاوند نے میرے لئے کوئی خرچہ چھوڑا تھا، نہ ہی ورثاء کے لیے کوئی مال چھوڑا اور نہ ہی ان کا اپنا گھر ہے، میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں حاضر ہو کر یہ ساری باتیں بیان کیں اور میں نے اجازت طلب کی کہ میں اپنے ماموؤں کے گھر میں اگر منتقل ہو جاؤں تو میرے لیے زیادہ بہتر ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ٹھیک ہے، منتقل ہو جاؤ۔ جب میں آپ کے پاس سے نکل کر مسجد یا حجرہ تک ہی پہنچی تھی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے بلایا اور فرمایا: اپنے اسی گھر میں عدت پوری ہونے تک ٹھہری رہو، جس میں تمہارے خاوند کی وفات کی اطلاع آئی تھی۔ پس میں نے اسی گھر میں چار ماہ دس دن عدت گزاری۔ سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے اپنے دورِ خلافت میں میری طرف پیغام بھیجا، میں نے انہیں اس مسئلہ کی خبر دی تو پھر انہوں نے اسی کے مطابق عمل کیا تھا۔

7243

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7243

Sahih

(۷۲۴۳)۔عَنْ عِکْرِمَۃَ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ زَوْجَ بَرِیرَۃَ کَانَ عَبْدًا أَسْوَدَ یُسَمَّی مُغِیثًا قَالَ فَکُنْتُ أَرَاہُ یَتْبَعُہَا فِی سِکَکِ الْمَدِینَۃِ یَعْصِرُ عَیْنَیْہِ عَلَیْہَا، قَالَ وَقَضٰی فِیہَا النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرْبَعَ قَضِیَّاتٍ: إِنَّ مَوَالِیَہَا اشْتَرَطُوا الْوَلَائَ فَقَضَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْوَلَائَ لِمَنْ أَعْتَقَ وَخَیَّرَہَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا فَأَمَرَہَا أَنْ تَعْتَدَّ (وَقَالَ ھَمَّامٌ مَرَّۃً: عِدَّۃَ الْحُرَّۃِ) قَالَ وَتُصُدِّقَ عَلَیْہَا بِصَدَقَۃٍ فَأَہْدَتْ مِنْہَا إِلٰی عَائِشَۃَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہَا فَذَکَرَتْ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((ہُوَ عَلَیْہَا صَدَقَۃٌ وَلَنَا ہَدِیَّۃٌ۔)) (مسند احمد: ۳۴۰۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کا شوہر ایک سیاہ رنگ کا غلام تھا،اس کو مغیث کہا جاتا تھا، میں نے اسے دیکھا کہ وہ مدینہ کی گلیوں میں بریرہ کے پیچھے پیچھے روتا تھا اور آنسو بہاتا تھا،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کے بارے میں چار فیصلے نافذ کیے: اس کے آقاؤں نے شرط لگائی تھی کہ ولاء ان ہی کے لیے ہو گی، لیکن نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ کیا کہ ولاء کی نسبت اس کے لیے ہے، جس نے آزاد کیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے بریرہ کو مغیث کے ساتھ رہنے یا نہ رہنے کا اختیار دیا تھا اور انھوں نے اپنے نفس کو اختیار کیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کو آزاد خاتون کی عدت گزارنے کا حکم دیا، اور سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا پر صدقہ کیا گیا، پس اس نے سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کو بھی اس سے دیا، جب سیدہ نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس چیز کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ بریرہ کے لیے صدقہ ہے، ہمارے لیے ہدیہ ہے۔