Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 127 · Chapter 1308

لعان کی کتاب

اس چیز کا بیان کہ بچہ اس کا ہے، جس کے بستر پر پیدا ہوا، نیز بچے کو اس کے والد سے ملانے اور نسب کا دعوی کرنے کا بیان

11 hadiths in this chapter

7212

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7212

Sahih

(۷۲۱۲)۔عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رضي الله عنه اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ: ((اَلْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ))۔ (مسند احمد: ۱۷۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمر بن خطاب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا : اولاد اسی شخص سے منسوب ہوگی، جس کے بستر پر پیدا ہوئی ہو۔

7213

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7213

Sahih

(۷۲۱۳)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم یَقُوْلُ: ((اَلْوَلَدُ لِصَاحِبِ الْفِرَاشِ وَلِلْعَاھِرِ الْحَجَرُ))۔ (مسند احمد: ۹۲۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ روایت کرتے ہیں کہ میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سنا: بچہ بستر والے کا ہو گا، جبکہ زانی کے لئے پتھر ہوں گے۔

7214

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7214

Sahih

(۷۲۱۴)۔عَنْ عُبَادَةَ بْنِ الصَّامِتِ عَنِ النَّبِيِّ صلى الله عليه وسلم نَحْوَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے اسی طرح بیان فرماتے ہیں۔

7215

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7215

Sahih

(۷۲۱۵)۔عَنْ عَائِشَۃَ اخْتَصَمَ عَبْدُ بْنُ زَمْعَۃَ وَسَعْدُ بْنُ أَبِی وَقَّاصٍ عِنْدَ النَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فِی ابْنِ أَمَۃِ زَمْعَۃَ قَالَ عَبْدٌ یَا رَسُولَ اللّٰہِ! أَخِی ابْنُ أَمَۃِ أَبِی وُلِدَ عَلَی فِرَاشِہِ وَقَالَ سَعْدٌ أَوْصَانِی أَخِی إِذَا قَدِمْتَ مَکَّۃَ فَانْظُرْ ابْنَ أَمَۃِ زَمْعَۃَ فَاقْبِضْہُ فَإِنَّہُ ابْنِی فَرَأَی النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ شَبَہًا بَیِّنًا بِعُتْبَۃَ قَالَ: ((ہُوَ لَکَ (وَفِیْ لَفْظٍ ھُوَاَخُوْکَ) یَا عَبْدُ! الْوَلَدُ لِلْفِرَاشِ وَاحْتَجِبِی مِنْہُ یَا سَوْدَۃُ۔)) (مسند احمد: ۲۴۵۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس عبد بن زمعہ اور سعد بن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جھگڑا کیا، عبد بن زمعہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ میرا بھائی ہے، کیونکہ یہ میرے باپ کی لونڈی کا بیٹا ہے اور اس کے بستر پر پیدا ہوا ہے، سیدنا سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میرے بھائی نے جب میں مکہ میں آیا تھا تو کہا تھا کہ جب تو مکہ میں آئے تو زمعہ کی لونڈی کے بیٹے کو دیکھنا وہ میرا بیٹا ہے۔نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس بچے کی مشابہت تو عتبہ کے ساتھ دیکھی، لیکن آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے عبد! یہ تیرا بھائی ہے، بچہ اس کا ہے جس کے بستر پر پیدا ہوا ہو۔ نیز آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اے سودہ! اس سے پردہ کیا کرو۔

7216

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7216

Zaeef

(۷۲۱۶)۔عَنْ مُجَاہِدٍ عَنْ مَوْلًی لِاٰلِ الزُّبَیْرِ قَالَ: اِنَّ بِنْتَ زَمْعَۃَ قَالَتْ: اَتَیْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فَقُلْتُ: اِنَّ اَبِیْ زَمْعَۃَ مَاتَ وَتَرَکَ اُمَّ وَلَدٍ لَہٗ وَاِنَّا کُنَّا نَظُنُّہَا بِرَجُلٍ، اَنَّہَا وَلَدَتْ فَخَرَجَ وَلَدُھَا بِشِبْہِ الرَّجُلِ الَّذِیْ طَنَنَّاھَا بِہِ، قَالَتْ: فَقَالَ صلى الله عليه وآله وسلم لَھَا: ((اَمَّا اَنْتِ فَاحْتَجِبِیْ مِنْہُ فَلَیْسَ بِاَخِیْکِ وَلَہُ الْمِیْرَاثُ))۔ (مسند احمد: ۲۷۹۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ آل زبیر کے مولی مجاہد بیان کرتے ہیں، زمعہ کی بیٹی یعنی ام المومنین سیدہ سودہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ کہتی ہیں: میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئی اور میں نے کہا: میرے باپ زمعہ فوت ہو چکے اور ایک لونڈی ام ولد جس سے بچہ پیداہوا ہے، چھوڑ گئے ہیں، ہم اسے ایک آدمی (عتبہ بن ابی وقاص) کے ساتھ تہمت لگاتے تھے کہ اس نے اس سے زنا کیا ہے، اتفاق ایسا ہے کہ جو بچہ اس نے جنم دیا ہے، وہ اسی عتبہ کے مشابہ ہے، جس کے ساتھ ہم نے تہمت لگائی تھی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے حکم دیا: تم اس سے پردہ کیا کرو، وہ تیرا بھائی نہیں ہے، البتہ اسے وراثت ملے گی۔

7217

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7217

Zaeef

(۷۲۱۷)۔عَنِ الْحَسَنِ بْنِ سَعْدٍ مَوْلَی حَسَنِ بْنِ عَلِیٍّ عَنْ رَبَاحٍ قَالَ زَوَّجَنِی أَہْلِی أَمَۃً لَہُمْ رُومِیَّۃً فَوَقَعْتُ عَلَیْہَا فَوَلَدَتْ لِی غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِی فَسَمَّیْتُہُ عَبْدَ اللّٰہِ ثُمَّ وَقَعْتُ عَلَیْہَا فَوَلَدَتْ لِی غُلَامًا أَسْوَدَ مِثْلِی فَسَمَّیْتُہُ عُبَیْدَ اللّٰہِ ثُمَّ طَبِنَ لَہَا غُلَامٌ لِأَہْلِی رُومِیٌّ یُقَالُ لَہُ یُوحَنَّسُ فَرَاطَنَہَا بِلِسَانِہِ قَالَ فَوَلَدَتْ غُلَامًا کَأَنَّہُ وَزَغَۃٌ مِنْ الْوَزَغَاتِ فَقُلْتُ لَہَا: مَا ہٰذَا؟ قَالَتْ ہُوَ لِیُوحَنَّسَ قَالَ فَرُفِعْنَا إِلَی أَمِیرِ الْمُؤْمِنِینَ عُثْمَانَ رَضِیَ اللّٰہُ عَنْہُ قَالَ مَہْدِیٌّ أَحْسَبُہُ قَالَ سَأَلَہُمَا فَاعْتَرَفَا فَقَالَ: أَتَرْضَیَانِ أَنْ أَقْضِیَ بَیْنَکُمَا بِقَضَائِ رَسُولِ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم؟ قَالَ فَإِنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم قَضَی أَنَّ الْوَلَدَ لِلْفِرَاشِ وَلِلْعَاہِرِ الْحَجَرُ قَالَ مَہْدِیٌّ وَأَحْسَبُہُ قَالَ جَلَدَہَا وَجَلَدَہُ وَکَانَا مَمْلُوکَیْنِ۔ (مسند احمد: ۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ رباح کہتے ہیں: میرے گھر والوں نے ایک رومی لونڈی کے ساتھ میری شادی کر دی، اس سے ایک سیاہ رنگ کا لڑکا پیدا ہوا جو میری ہی مانند تھا، میں نے اس کا نام عبد اللہ رکھا۔ میں پھر اس سے ملا، اس نے میری مانند ہی ایک اور سیاہ فام لڑکا جنم دیا اس کا نام میں نے عبید اللہ رکھا، ہمارے گھروالوں کا ایک رومی غلام تھا، اس نے اسے ورغلایا، اس کا نام یوحنس تھا، اس غلام نے اس لونڈی سے منہ کالا کیا، اس لونڈی نے بچہ جنم دیا جس طرح کہ چھپکلی ہوتی ہے، یعنی سرخ سفید رنگ کاتھا، میں نے اس لونڈی سے کہا: یہ کیا ہے؟ اس نے صاف بتا دیا کہ یہ یوحنس کا ہے، معاملہ ہم نے امیر المومنین سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی جانب اٹھایا، مہدی بن میمون کہتے ہیں: ان دونوں نے اعتراف گناہ کیا، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: میں تمہارے درمیان نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم والا فیصلہ کروں؟ تو تم پسند کروں، انہوں نے کہا: ٹھیک ہے، سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فیصلہ فرمایا ہے کہ بچہ بستر والے کے لیے ہے اور زانی کو پتھر ملے گا۔ مہدی کہتے ہیں: یہ دونوں چونکہ غلام تھے ،اس لیے ان دونوں کو کوڑے لگائے گئے۔

7218

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7218

Zaeef

(۷۲۱۸)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ اَبِیْ یَعْقُوْبَ یُحَدِّثُ عَنْ رِبَاحٍ بِنَحْوِہٖ وَفِیْہِ: قَالَ: فَأَلْحَقَہُ بِی، قَالَ: فَجَلَدَہُمَا فَوَلَدَتْ لِی بَعْدُ غُلَامًا أَسْوَدَ۔ (مسند احمد: ۴۶۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)رباح سے اسی طرح کی حدیث مروی ہے، البتہ اس میں ہے: انھوں نے وہ لڑکا میرے نسب کے ساتھ ملا دیا تھا اور ان دونوں کوکوڑے لگائے اور رباح کہتے ہیں: اس کے بعد اس لونڈی نے بچہ جنم دیا تھا، وہ بھی سیاہ رنگ کا تھا (جیسا کہ میرا رنگ تھا۔)

7219

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7219

Sahih

(۷۲۱۹)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ أَبِیہِ عَنْ جَدِّہِ أَنَّ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَضٰی أَنَّ کُلَّ مُسْتَلْحَقٍ یُسْتَلْحَقُ بَعْدَ أَبِیہِ الَّذِی یُدْعٰی لَہُ ادَّعَاہُ وَرَثَتُہُ مِنْ بَعْدِہِ فَقَضَی إِنْ کَانَ مِنْ أَمَۃٍ یَمْلِکُہَا یَوْمَ أَصَابَہَا فَقَدْ لَحِقَ بِمَنْ اسْتَلْحَقَہُ وَلَیْسَ لَہُ فِیمَا قُسِمَ قَبْلَہُ مِنْ الْمِیرَاثِ شَیْئٌ وَمَا أَدْرَکَ مِنْ مِیرَاثٍ لَمْ یُقْسَمْ فَلَہُ نَصِیبُہُ وَلَا یُلْحَقُ إِذَا کَانَ أَبُوہُ الَّذِی یُدْعٰی لَہُ أَنْکَرَہُ وَإِنْ کَانَ مِنْ أَمَۃٍ لَا یَمْلِکُہَا أَوْ مِنْ حُرَّۃٍ عَاہَرَ بِہَا فَإِنَّہُ لَا یُلْحَقُ وَلَا یَرِثُ وَإِنْ کَانَ أَبُوہُ الَّذِی یُدْعَی لَہُ ہُوَ الَّذِی ادَّعَاہُ وَہُوَ وَلَدُ زِنًا لِأَہْلِ أُمِّہِ مَنْ کَانُوا حُرَّۃً أَوْ أَمَۃً۔ (مسند احمد: ۷۰۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ فیصلہ جاری فرمایا ہے کہ ایک لڑکا یا لڑکی جس کے نسب کو اس کے باپ کے ساتھ ملایا گیا ہو، جس کے نام پر اسے پکارا جاتا ہے اور ملایا گیا ہو، اس کے باپ کے مرنے کے بعد اور پھر اس مرنے والے باپ کے اس کے بعد اس لڑکے یا لڑکی کے دعویدار بھی ہوں کہ یہ اس کا ہے اور اس لونڈی کے بارے میں بھی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہی فیصلہ کیا گیا کہ جس کا وہ اس دن مالک بنا ہو جس دن اس سے جماع کیا تھا اس اولاد کے نسب کو اس کے ساتھ ہی ملایا جائے گا، جس نے اس کے نسب ملانے کا مطالبہ کیا ہے، لیکن اس کے نسب کے ملانے سے پہلے جو اس کے باپ کی وراثت تقسیم ہو چکی ہو، اس میں سے اس ملائے گئے کو کچھ حصہ نہ ملے گا اور جو وارثت ابھی تقسیم نہیں ہوئی اس کو اگر پا لے تو اس میں سے اس ملائے گئے کوحصہ ملے گا اور اس لڑکے یا لڑکی کے ملانے کا اگر وہ شخص جس کے لیے پکارا جاتا ہے انکار کر دے اور اگر وہ اس کی اس لونڈی سے ہو جس کا وہ مالک نہ تھا یا آزاد عورت سے ہو جس سے اس نے زنا کیا تھا تو اس صورت میں اسے نہ تو اس کے نسب سے ملایا جائے گا اور نہ ہی لڑکا یا لڑکی اس کا وارث ہو گا۔ اور اگر اس لڑکی یا لڑکے کا وہ باپ جس کے لیے اسے پکارا جاتا ہے اس کا دعویٰ کرے تو وہ لونڈی سے ہو یا آزاد سے ہو تو وہ ولد الزنا ہے۔

7220

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7220

Sahih

(۷۲۲۰)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((لَا مُسَاعَاۃَ فِی الْإِسْلَامِ مَنْ سَاعٰی فِی الْجَاہِلِیَّۃِ فَقَدْ أَلْحَقْتُہُ بِعَصَبَتِہِ وَمَنِ ادَّعٰی وَلَدَہُ مِنْ غَیْرِ رِشْدَۃٍ فَلَا یَرِثُ وَلَا یُورَثُ))۔ (مسند احمد: ۳۴۱۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما روایت کرتے ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسلام میں اجرت پر زنا کاری کا کوئی وجود نہیں،جس نے جاہلیت میں ایسا کیا ہے تو میں اس کا نسب اس کے باپ کے رشتہ داروں سے جوڑتا ہوں اور جو کوئی بغیر نکاح کے کسی کا باپ ہونے کا دعوی کرے تو نہ بچہ اس کا وارث ہوگا اور نہ ہی وہ اس بچے کا وارث ہوگا۔

7221

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7221

Sahih

(۷۲۲۱)۔عَنْ زَیْدِ بْنِ أَرْقَمَ قَالَ کَانَ عَلِیٌّ رَضِیَ اللّٰہُ تَعَالٰی عَنْہُ بِالْیَمَنِ فَأُتِیَ بِامْرَأَۃٍ وَطِئَہَا ثَلَاثَۃُ نَفَرٍ فِی طُہْرٍ وَاحِدٍ فَسَأَلَ اثْنَیْنِ أَتُقِرَّانِ لِہٰذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ یُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَیْنِ أَتُقِرَّانِ لِہَذَا بِالْوَلَدِ فَلَمْ یُقِرَّا ثُمَّ سَأَلَ اثْنَیْنِ حَتّٰی فَرَغَ یَسْأَلُ اثْنَیْنِ اثْنَیْنِ عَنْ وَاحِدٍ فَلَمْ یُقِرُّوا ثُمَّ أَقْرَعَ بَیْنَہُمْ فَأَلْزَمَ الْوَلَدَ الَّذِی خَرَجَتْ عَلَیْہِ الْقُرْعَۃُ وَجَعَلَ عَلَیْہِ ثُلُثَیِ الدِّیَۃِ فَرُفِعَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَضَحِکَ حَتّٰی بَدَتْ نَوَاجِذُہُ۔ (مسند احمد: ۱۹۵۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا زید بن ارقم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ یمن میں تھے، آپ کے پاس ایک عورت لائی گئی، جس کے ساتھ ایک طہر میں تین افراد نے جماع کیا تھا، آپ نے ان میں سے دو افراد سے کہا: کیا تم دونوں اس بچے کا تیسرے کے حق میں اقرار کرتے ہو؟ انہوں نے اقرار نہیں کیا، پھر دو سے سوال کیا کہ کیا تم تیسرے کے لیے اس بچے کا اقرارکرتے ہو، انہوں نے بھی یہ اقرار نہ کیا، پھردو سے پوچھا،لیکن انھوں نے بھی اقرار نہ کیا، پھر انھوں نے ان کے درمیان قرعہ ڈالا اور بچہ اس کے لیے لازم قرار دے دیا، جس کے نام قرعہ نکلا تھا اور اس کے ذمہ دیت کے تین حصوں میں سے دو حصے ادا کرنا لازم کر دیے، یہ معاملہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے سامنے پیش کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اتنا مسکرائے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی داڑھیں نمایاں ہو نے لگیں۔

7222

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7222

Sahih

(۷۲۲۲)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ بِنَحْوِہِ) وَفِیْہِ: اِنَّ عَلِیًّا رضي الله عنه قَالَ لَھُمْ بَعْدَ اِنْکَارِ ھِمْ: اِنَّکُمْ شُرَکَائُ مُتَشَاکِسُوْنَ وَقَالَ: اِنِّیْ مُقْرِعٌ بَیْنَکُمْ فَاَیُّکُمْ قُرِعَ اَغْرَمْتُہُ ثُلُثَیِ الدِّیَّۃِ وَاَلْزَمْتُہُ الْوَلَدَ، فَذْکِرَ ذٰلِکَ لِلنَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَ: ((لَا اَعْلَمُ اِلَّا مَا قَالَ عَلِیٌّ))۔ (مسند احمد: ۱۹۵۵۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) اسی طرح کی روایت مروی ہے، البتہ اس میں ہے: سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے ان کے انکار کے بعد ان سے کہا: تم ایسے شریک ہو، جو آپس میں جھگڑنے والے ہو، اب میں تمہارے درمیان قرعہ ڈالوں گا، تم میں سے جس کے نام بھی قرعہ نکلے گا، اسے دیت کے تین میں سے دو حصے ادا کرنے کی چٹی ڈالوں گا اور بچہ بھی لازمی اسے ہی لینا پڑے گا، جب اس فیصلہ کا نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے ذکر کیا گیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو فیصلہ علی نے کیا ہے، وہی سمجھ آتا ہے۔