Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7206
(۷۲۰۶)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِی ابْنِ الْمَلَاعَنَۃِ اَنْ لَّا یُدْعٰی لِاَبٍ، وَمَنْ رَمَاھَا اَوْ رَمٰی وَلَدَھَا فَاِنَّہُ یُجْلَدُ الْحَدُّ، وَقَضٰی اَنْ لاَّ قُوْتَ لَھَا وَلا سٰکْنٰی مِنْ اَجْلِ اَنَّہُمَا یَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَیْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفّٰی عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے لعان والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا کہ اس کو اس کے باپ کی نسبت سے نہ پکارا جائے، نیز جو شخص بھی اس خاتون یا اس کی اولاد پر الزام تراشی کرے اس پر تہمت کی حد قائم کی جائے، علاوہ ازیں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہ حکم بھی دیا کہ اس عورت کے شوہر کے ذمہ نہ تواس کا نان ونفقہ ہے اور نہ ہی رہائش کا بندوبست، کیونکہ ان کے مابین علیحدگی کی وجہ طلاق یا شوہر کی وفات نہیں ہے، بلکہ کچھ اور ہے۔