Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 127 · Chapter 1304

لعان کی کتاب

یہ اس بات کا بیان ہے کہ شوہر لعان والی عورت کے اخراجات کا ذمہ دار نہیںاور اس عورت پر تہمت بھی نہیں لگائی جائے گی، اگرچہ اس کی اولاد کو باپ کی نسبت سے نہیں پکارا جائے گا۔

3 hadiths in this chapter

7206

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7206

Zaeef

(۷۲۰۶)۔عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِی ابْنِ الْمَلَاعَنَۃِ اَنْ لَّا یُدْعٰی لِاَبٍ، وَمَنْ رَمَاھَا اَوْ رَمٰی وَلَدَھَا فَاِنَّہُ یُجْلَدُ الْحَدُّ، وَقَضٰی اَنْ لاَّ قُوْتَ لَھَا وَلا سٰکْنٰی مِنْ اَجْلِ اَنَّہُمَا یَتَفَرَّقَانِ مِنْ غَیْرِ طَلَاقٍ وَلَا مُتَوَفّٰی عَنْہَا۔ (مسند احمد: ۲۱۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعان والی عورت کے بیٹے کے بارے میں فیصلہ سنایا تھا کہ اس کو اس کے باپ کی نسبت سے نہ پکارا جائے، نیز جو شخص بھی اس خاتون یا اس کی اولاد پر الزام تراشی کرے اس پر تہمت کی حد قائم کی جائے، علاوہ ازیں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ حکم بھی دیا کہ اس عورت کے شوہر کے ذمہ نہ تواس کا نان ونفقہ ہے اور نہ ہی رہائش کا بندوبست، کیونکہ ان کے مابین علیحدگی کی وجہ طلاق یا شوہر کی وفات نہیں ہے، بلکہ کچھ اور ہے۔

7207

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7207

Sahih

(۷۲۰۷)۔عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ رَجُلًا لَاعَنَ امْرَاَتَہُ وَانْتَفٰی مِنْ وَلَدِھَا، فَفَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بَیْنَہُمَا، فَاَلْحَقَ الْوَلَدَ بِالْمَرْاَۃِ۔ (مسند احمد: ۶۰۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبداللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما بیان کرتے ہیں کہ ایک آدمی نے اپنی بیوی سے لعان کیا اور اس کی اولاد سے اپنی نسبت کا بھی انکار کردیا، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے مابین علیحدگی کروا دی اور بچے کی نسبت خاتون کے ساتھ کردی۔

7208

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7208

Zaeef

(۷۲۰۸)۔عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قَضٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم فِیْ وَلَدِ الْمُتَلَاعِنَیْنِ اِنَّہُ یَرِثُ مِیْرَاثَ اُمِّہِ وَتَرِثُہُ، وَمَنَ قَفَاھَابِہِ جُلِدَ ثَمَانِیْنَ وَمَنْ دَعَاہُ وَلَدُ زِنًا جُلِدَ ثَمَانِیْنَ۔ (مسند احمد: ۷۰۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہماسے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے لعان کرنے والے میاں بیوی کی اولاد کے بارے میں فیصلہ دیا کہ ایسی اولاد اپنی ماں کی وارث بنے گی اور ماں اولاد کی وارث ہوگی۔ جو شخص لعان کے بعد عورت اور اس کی اولاد پر تہمت لگائے گا اسے اسی (۸۰) کوڑے لگائے جائیں گے۔