Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 127 · Chapter 1301

لعان کی کتاب

عویمر عجلان اور ان کی بیوی کے درمیان لعان کے واقعہ کی وضاحت

3 hadiths in this chapter

7199

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7199

Sahih

(۷۱۹۹)۔عَنِ ابْنِ شِہَابٍ أَنَّ سَہْلَ بْنَ سَعْدٍ أَخْبَرَہُ أَنَّ عُوَیْمِرًا الْعَجْلَانِیَّ جَائَ إِلٰی عَاصِمِ بْنِ عَدِیٍّ الْأَنْصَارِیِّ فَقَالَ یَا عَاصِمُ أَرَأَیْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلًا أَیَقْتُلُہُ فَتَقْتُلُونَہُ أَمْ کَیْفَ یَفْعَلُ سَلْ لِی عَنْ ذٰلِکَ یَا عَاصِمُ رَسُولَ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَسَأَلَ عَاصِمٌ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ عَنْ ذَلِکَ فَکَرِہَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ الْمَسَائِلَ وَعَابَہَا حَتّٰی کَبُرَ عَلٰی عَاصِمٍ مِمَّا یَسْمَعُ قَالَ إِسْحَاقُ مَا سَمِعَ مِنْ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا رَجَعَ عَاصِمٌ إِلٰی أَہْلِہِ جَائَہُ عُوَیْمِرٌ فَقَالَ یَا عَاصِمُ مَاذَا قَالَ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَالَ عَاصِمٌ لِعُوَیْمِرٍ لَمْ تَأْتِنِی بِخَیْرٍ فَکَرِہَ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم الْمَسْأَلَۃَ الَّتِی سَأَلْتُہُ عَنْہَا فَقَالَ عُوَیْمِرٌ وَاللّٰہِ لَا أَنْتَہِی حَتّٰی أَسْأَلَہُ عَنْہَا فَأَقْبَلَ عُوَیْمِرٌ حَتّٰی أَتَی النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ وَسْطَ النَّاسِ فَقَالَ لِرَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ أَرَأَیْتَ رَجُلًا وَجَدَ مَعَ امْرَأَتِہِ رَجُلًا أَیَقْتُلُہُ فَتَقْتُلُونَہُ أَمْ کَیْفَ یَفْعَلُ فَقَالَ لَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ قَدْ أَنْزَلَ اللّٰہُ فِیکَ وَفِی صَاحِبَتِکَ فَاذْہَبْ فَأْتِ بِہَا قَالَ سَہْلُ بْنُ سَعْدٍ فَتَلَاعَنَا وَأَنَا مَعَ النَّاسِ عِنْدَ رَسُولِ اللّٰہِ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ فَلَمَّا فَرَغَا قَالَ عُوَیْمِرٌ کَذَبْتُ عَلَیْہَا یَا رَسُولَ اللّٰہِ! إِنْ أَمْسَکْتُہَا فَطَلَّقَہَا ثَلَاثًا قَبْلَ أَنْ یَأْمُرَہُ رَسُولُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ) قَالَ: فَصَارَتْ سُنَّۃً فِی الْمُتَلَاعِنَیْنِ، قَالَ: فقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((ابْصُرُوْا ھَا فَاِنْ جَائَ تْ بِہِ اَسْحَمَ اَدْعَجَ الْعَیْنَیْنِ عَظِیْمَ الْاِلْیَتَیْنِ فَلَا اَرَاہُ اِلَّا قَدْ صَدَقَ، وَاِنْ جَائَ تْ بِہِ اَحْمَرَ کَاَنَّہُ وَحْرَۃٌ فَلَا اَرَاہُ اِلَّا کَاذِبًا۔)) قَالَ: فَجَائَ تْ بِہِ عَلَی النَّعْتِ الْمَکْرُوْہِ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۱۸، ۲۳۲۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ عویمر عجلانی، عاصم بن عدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے پاس آئے اور کہا: اے عاصم! مجھے بتاؤ کہ ایک آدمی اپنی بیوی کے ساتھ کسی آدمی کو زنا کرتے پاتا ہے، کیا وہ اسے قتل کرے؟ اگر قتل کرتا ہے تو تم اسے قتل کرو گے، وہ کیاکرے، اس بارے میں مجھے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھ کر بتاؤ، عاصم نے اس بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پوچھا ،تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایسے مسائل پوچھنے کو ناپسند فرمایا اور انہیں معیوب قرار دیا، حتیٰ کہ عاصم نے اس بارے میں جو جواب سنا وہ ان پر گراں گزرا (یہ اسحاق راوی کے الفاظ ہیں)۔جب عاصم اپنے گھر لوٹا اور اس کے پاس عویمر آیا اور کہا: عاصم! بتاؤ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کیا فرمایا ہے؟ عاصم نے عویمر سے کہا: تونے مجھ تک کوئی بھلائی نہیں پہنچائی، جس مسئلہ کے متعلق تو نے دریافت کیا، اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ناپسند فرمایا ہے۔ عویمر کہنے لگے: اللہ کی قسم! میں تو آپ سے اس کے متعلق پوچھے بغیر باز نہ آؤں گا، پھر عویمر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی جانب متوجہ ہوئے حتیٰ کہ وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئے اور لوگوں کے درمیان میں آ کر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کہا: آپ بتائیں کہ ایک آدمی کسی کواپنی بیوی کے پاس پاتاہے، کیاوہ اسے قتل کر دے، اگر قتل کر دے توآپ اسے قتل کر و گے یا وہ کیا کرے؟ تو اس سے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تیرے اور تیری بیوی کے بارے میں اللہ تعالیٰ نے حکم اتاراہے، اسے میرے پاس لاؤ۔ سہل کہتے ہیں: وہ آئی اور دونوں میاں بیوی نے آپس میں لعان کیا، میں بھی ان لوگوں میں سے تھا جو لعان کے وقت رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس تھے، جب دونوں فارغ ہو گئے تو عویمر نے کہا: اے اللہ کے رسول! اب اگر میں اسے رکھوں تو پھر تو میں نے اس پر جھوٹ بولا اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم دینے سے پہلے ہی اس نے بیوی کو تین طلاقیں دے ڈالیں۔ ایک روایت میں ہے کہ یہ لعان کرنے والوں کے لیے طریقہ بن چکا ہے، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت کا خیال رکھنا، اگر اس نے سیاہ رنگ کا، سیاہ آنکھوں والا اور بڑی سرین والا بچہ جنم دیا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے سچ کہا ہے اور اگر یہ سرخ رنگت والا، جیساکہ چھوٹے جسم کا جانور ہوتا ہے، بچہ جنا تو پھر یقینا اس کے خاوند نے جھوٹ بولا ہے۔ جب اس نے بچہ جنم دیا تو وہ ناپسندیدہ صورت والا یعنی پہلی صفت والا تھا، جو تہمت زدہ آدمی کی شکل تھی۔

7200

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7200

Sahih

(۷۲۰۰)۔عَنْ سَعِیْدِ بْنِ جُبَیْرٍ قَالَ: قُلْتُ لِاِبْنِ عُمَرَ: رَجُلٌ لَاعَنَ اِمْرَاَتَہُ، فَقَال: فَرَّقَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم بَیْنَ اَخَوَیِ الْعَجَلَانِ، وَقَالَ: ((اِنَّ اَحَدَکُمَا کَاذِبٌ فَہَلْ مِنْکُمَا تَائِبٌ۔)) ثَلَاثًا۔ (مسند احمد: ۴۹۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سعید بن جبیر کہتے ہیں: میں نے سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے پوچھا: کوئی شخص اپنی بیوی سے لعان کرلے تو کیا دونوں میں علیحدگی ہوجائے گی؟ انہوں نے جواب دیا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے قبیلہ عجلان سے تعلق رکھنے والے میاں بیوی کے مابین علیحدگی کروا دی تھی اورساتھ ہی تین مرتبہ ان سے یہ بھی دریافت فرمایا تھا: تم میں سے ایک توجھوٹا ہے، توکیا تم دونوں میں کوئی ایک توبہ کرے گا؟

7201

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7201

Sahih

(۷۲۰۱)۔عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ السَّاعِدِیِّ قَالَ: لَمَّا لَاعَنَ عُوَیْمِرٌ اَخُوْ بَنِی الْعَجَلَانِ اِمْرَاَتَہُ، قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ظَلَمْتُہَا اِنْ اَمْسَکْتُہَا ھَیِ الطَّلَاقُ وَھِیَ الطَّلَاقُ وَھِیَ الطَّلَاقُ۔ (مسند احمد: ۲۳۲۱۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ساعدی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ جب عویمر عجلانی نے اپنی بیوی سے لعان کیا تو وہ کہنے لگے: اے اللہ کے رسول! اگر اب میں اپنی بیوی کو اپنے پاس رکھتا ہوں تو گویا اس پر ظلم کرتا ہوں، لہٰذا اسے طلاق ہے، اسے طلاق ہے،اسے طلاق ہے۔