Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 124 · Chapter 1295

خلع کا بیان

بغیر ضرورت خلع لینے والیوں کی سزا

3 hadiths in this chapter

7172

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7172

Zaeef

(۷۱۷۲)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ عَنِ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم قَالَ:(( اَلْمُخْتَلِعَاتُ وَالْمُنْتَزِعَاتُ ھُنَّ الْمُنَافِقَاتِ))۔ (مسند احمد: ۹۳۴۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: خلع لینے والی اور خاوند سے علیحدگی کا مطالبہ کرنے والی عورتیں منافق ہیں۔

7173

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7173

Sahih

(۷۱۷۳)۔عَنْ سَہْلِ بْنِ اَبِیْ حَثْمَۃَ قَالَ: کَانَتْ حَبِیْبَۃُ اِبْنَۃُ سَہْلٍ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ الْاَنْصَارِیِّ فَکَرِھَتْہُ وَکَانَ رَجُلًا دَمِیْمًا، فَجَائَ تْ اِلیَ النَّبِیِّ صلى الله عليه وآله وسلم فَقَالَتْ: یَارَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنِّیْ لَاَرَاہُ، فَلَوْ لَا مَخَافَۃُ اللّٰہِ عَزَّوَجَلَّ لَبَزَقْتُ فِیْ وَجْہِہِ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ صلى الله عليه وآله وسلم: ((اَتُرَدِّیْنَ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہُ الَّتِی اَصْدَقَکَ؟)) قَالَتْ: نَعَمْ، فَاَرْسَلَ اِلَیْہِ فَرَدَّتْ عَلَیْہِ حَدِیْقَتَہُ وَفَرَّقَ بَیْنَہُمَا، قَالَ: فَکَانَ ذٰلِکَ اَوَّلَ خُلْعٍ کَانَ فِی الْاِسْلَامِ۔ (مسند احمد: ۱۶۱۹۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن ابی حثمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدہ حبیبہ بنت سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، سیدنا ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نکاح میں تھیں، سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ خوش شکل نہ تھے، اس لیے سیدہ حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! اگر میرے سامنے اللہ تعالیٰ کا ڈر آڑے نہ آتا ہو تو میں ثابت کودیکھ کر اس کے چہرے پر تھوک دوں، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: حبیبہ! کیا تو وہ باغ، جو ثابت نے حق مہر کے طور پر دیا تھا، وہ اسے واپس کر دو گی؟ انہوں نے کہا: جی ہاں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثابت رضی ‌اللہ ‌عنہ کے ہاں پیغام بھیجا، وہ آئے، سیدہ حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے ان کو وہ باغ لوٹا دیا اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان کے درمیان جدائی کروا دی، یہ اسلام میں سب سے پہلا پیش آنے والا خلع تھا۔

7174

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7174

Sahih

(۷۱۷۴)۔عَنْ یَحْیَی بْنِ سَعِیدٍ عَنْ عَمْرَۃَ بِنْتِ عَبْدِ الرَّحْمٰنِ بْنِ سَعْدِ بْنِ زُرَارَۃَ الْأَنْصَارِیَّۃِ أَنَّہَا أَخْبَرَتْہُ عَنْ حَبِیبَۃَ بِنْتِ سَہْلٍ الْأَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ إِنَّہَا کَانَتْ تَحْتَ ثَابِتِ بْنِ قَیْسِ بْنِ شَمَّاسٍ وَأَنَّ النَّبِیَّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ خَرَجَ إِلَی الصُّبْحِ فَوَجَدَ حَبِیبَۃَ بِنْتَ سَہْلٍ عَلٰی بَابِہِ بِالْغَلَسِ فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَنْ ہٰذِہِ؟)) قَالَتْ: أَنَا حَبِیبَۃُ بِنْتُ سَہْلٍ فَقَالَ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((مَا لَکِ؟)) قَالَتْ: لَا أَنَا وَلَا ثَابِتُ بْنُ قَیْسٍ لِزَوْجِہَا، فَلَمَّا جَائَ ثَابِتٌ قَالَ لَہُ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ: ((ہٰذِہِ حَبِیبَۃُ بِنْتُ سَہْلٍ قَدْ ذَکَرَتْ مَا شَائَ اللّٰہُ أَنْ تَذْکُرَ۔)) قَالَتْ حَبِیبَۃُ: یَا رَسُولَ اللّٰہِ! کُلُّ مَا أَعْطَانِی عِنْدِی، فَقَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللّٰہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لِثَابِتٍ: ((خُذْ مِنْہَا۔)) فَأَخَذَ مِنْہَا وَجَلَسَتْ فِی أَہْلِہَا۔ (مسند احمد: ۲۷۹۹۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ حبیبہ بنت سہل انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، وہ ثابت بن قیس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے نکاح میں تھیں، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نمازِ فجر کے لیے باہر تشریف لائے تو حبیبہ کو اپنے دروازے پر پایا، جبکہ ابھی تک اندھیرا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ کون ہے؟ انھوں نے کہا: جی میں حبیبہ بنت سہل ہوں، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تمہیں کیا ہو گیا ہے، خیر تو ہے؟ انھوں نے کہا:میں اور میرا خاوند ثابت، بس اب اکٹھے نہیں رہ سکتے، یہ سن کر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثابت کو بلایا، وہ آئے تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: یہ حبیبہ بنت سہل ہے، اس نے مجھے اپنی دلی کیفیت بتائی ہے، یہ تمہارے پاس نہیں رہنا چاہتی۔ اتنے میں سیدہ حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا نے کہا: اے اللہ کے رسول! ثابت نے جو کچھ مجھے دیا ہے، وہ میرے پاس موجود ہے،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا ثابت ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: یہ اپنا مال لے لو۔ پس انھوں نے اس سے مال لے لیا اور وہ اپنے گھر والوں کے پاس چلی گئیں۔