Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 122 · Chapter 1285

میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان

بیویوں کے درمیان واجبی اور غیر واجبی عدل کا بیان

6 hadiths in this chapter

7140

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7140

Sahih

۔ (۷۱۴۰)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَتْ لَہُ امْرَأَتَانِ یَمِیْلُ لِاِحْدَاھُمَا عَلَی الْأُخْرٰی جَائَ یَوْمَ الْقِیَامَۃِ وَأَحَدُ شِقَّیْۃِ سَاقِطٌ۔)) (مسند احمد: ۱۰۰۹۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس شخص کی دو بیویاں ہوں اور وہ ایک کی طرف زیادہ میلان رکھتا ہو تو وہ قیامت کے روز اس حال میں آئے گا کہ اس کا ایک پہلو فالج زدہ ہوگا۔

7141

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7141

Zaeef

۔ (۷۱۴۱)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقْسِمُ بَیْنَ نِسَائِہِ فَیَعْدِلُ وَیَقُوْلُ: ((ھٰذِہٖقِسْمَتِیْ، (ثُمَّ یَقُوْلُ) اَللّٰھُمَّ ھٰذَا فِعلِیْ فِیْمَا أَمْلِکُ فَـلَا تَلُمْنِیْ فِیْمَا تَمْلِکُ وَلَا أَمْلِکُ۔)) (مسند احمد: ۲۵۶۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی بیویوں کے درمیان عادلانہ تقسیم کرتے اور پھر فرماتے: یہ میری تقسیم ہے، اے اللہ! یہ میری تقسیم ہے اور یہ میرے بس میں ہے، لہذا مجھے اس تقسیم میں ملامت نہ کرنا، جس کا تو مالک ہے اور میں مالک نہیں ہوں۔

7142

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7142

Sahih

۔ (۷۱۴۲)۔ عَنْ عَطَائٍ قَالَ: حَضَرْنَا مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ جَنَازَۃَ مَیْمُوْنَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِسَرِفَ، قَالَ: فَقَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: ھٰذِہٖمَیْمُوْنَۃُ اِذَا رَفَعْتُمْ نَعْشَہَا فَـلَا تُزَعْزِعُوْھَا وَلَا تُزَلْزِلُوْھَا فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ عِنْدَہُ تِسْعُ نِسْوَۃٍ وَکَانَ یَقْسِمُ لِثَمَانٍ وَوَاحِدَۃٌ لَمْ یَکُنْ لِیَقْسِمَ لَھَا، قَالَ عَطَائٌ: الَّتِیْ لَمْ یَکُنْیَقْسِمُ لَھَا صَفِیَّۃُ۔ (مسند احمد: ۲۰۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔عطا کہتے ہیں: ہم سیدہ میمونہ عضی اللہ عنہا کے جنازے کے موقع پر سرف مقام پر سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس موجود تھے ، انھوں نے کہا: یہ میمونہ رضی اللہ عنہا ہیں، جب ان کی میت کی چارپائی اٹھاؤ تو زیادہ حرکت نہ دینا (بلکہ نرمی سے میت کو اٹھانا ، تاکہ ان کی کرامت متاثر نہ ہو)، کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی نو (9) بیویاں تھیں ، آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کی باری مقرر کر رکھی تھی اور ایک کی نہیں کی تھی۔ عطا کہتے ہیں: جس کی باری مقرر نہیں کی تھی ، وہ سیدہ صفیہ رضی اللہ عنہا تھیں۔

7143

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7143

Zaeef

۔ (۷۱۴۳)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: کَانَ رَسَوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مَا مِنْ یَوْمٍ اِلَّا وَ ھُوَ یَطُوْفُ عَلَیْنَا جَمِیْعًا امْرَأَۃً امْرَأَۃً فَیَدْنُوْا وَیَلْمِسُ مِنْ غَیْرِ مَسِیْسٍ حَتّٰییُفْضِیَ اِلَی الَّتِیْ ھُوَ یَوْمُہَا فَیَبِیْتُ عِنْدَھَا۔ (مسند احمد: ۲۵۲۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ہر روز ایک ایک کر کے اپنی تمام بیویوں کے پاس تشریف لے جاتے تھے، پھر ہر ایک کے قریب ہوتے اور اس کو مسّ کرتے، البتہ جماع نہیں کرتے تھے، یہاں تک کہ اس بیوی کے پاس پہنچ جاتے تھے، جس کی باری ہوتی تھی، پھر اس کے پاس رات گزارتے تھے۔

7144

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7144

Sahih

۔ (۷۱۴۴)۔ عَنْ قَتَادَۃَ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَدُوْرُ عَلٰی نِسَائِہِ فِی السَّاعَۃِ الْوَاحِدَۃِ مِنَ اللَّیْلِ وَالنَّہَارِ وَھُنَّ اِحْدٰی عَشَرَۃَ، قَالَ: قُلْتُ لِأَنَسٍ: وَھَلْ کَانَ یُطِیْقُ ذَالِکَ قَالَ: کُنَّا نَتَحَدَّثُ أَنَّہُ، أُعْطِیَ قُوَّۃَ ثَلَاثِیْنَ۔ (مسند احمد: ۱۴۱۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم رات اور دن میں ایک گھڑی میں اپنی تمام بیویوں سے جماع کر لیتے تھے، ان کی تعداد گیارہ تھی، قتادہ کہتے ہیں میں نے سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے کہا: کیا آپ میں اتنی قوت تھی؟ انھوں نے کہا: ہم یہ بات کیا کرتے تھے کہ آپ کو تیس آدمیوں کی قوت دی گئی ہے۔

7145

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7145

Sahih

۔ (۷۱۴۵)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: لَمَّا ثَقُلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَاشْتَدَّ وَجْعُہُ اسْتَأْذَنَ أَزْوَاجَہُ أَنْ یُمَرَّضَ فِیْ بَیْتِیْ فَأَذِنَّ لَہُ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طبیعت بوجھل ہوئی اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی تکلیف شدت اختیار کر گئی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنی بیویوں سے اجازت طلب کی کہ آپ بیماری کے دن میرے گھر میں گزارنا چاہتے ہیں، پس انھوں نے اجازت دے دی۔