Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 122 · Chapter 1282

میاں بیوی کے حقوق اور اچھی صحبت کا بیان

خاوند پر بیوی کے حقوق کا بیان

8 hadiths in this chapter

7117

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7117

Sahih

۔ (۷۱۱۷)۔ حَدَّثَنَا یَزِیْدُ اَنَا بَہْزُ بْنُ حَکِیْمٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ قَالَ: قُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! نِسَاؤُنَا مَا نَأْتِیْ مِنْہَا وَمَا نَذَرُ؟ قَالَ: ((حَرْثُکَ ائْتِ حَرْثَکَ أَنّٰی شِئْتَ غَیْرَ أَنْ لَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَہْجُرْ اِلاَّ فِی الْبَیْتِ وَأَطْعِمْ اِذَا طَعِمْتَ وَاکْسُ اِذَا اکْتَسَیْتَ، کَیْفَ وَقَدْ اَفْضٰی بَعْضُکُمْ اِلٰی بَعْضٍ اِلَّا بِمَا حَلَّ عَلَیْہَا۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۸۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ بہزبن حکیم اپنے باپ سے اور وہ اپنے دادا سے بیان کرتے ہیں کہ انھوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! یہ ہماری بیویاں ہیں، ان کے ساتھ ہمارا کون معاملہ کرنا درست ہے اور کونسا درست نہیں ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ تمہاری کھیتی ہے، جیسے چاہو اپنی کھیتی میں آؤ ، البتہ نہ اس کو چہرے پر مارو، نہ اس سے مکروہ باتیں کرو ، (ناراضگی کی وجہ سے) اس کو صرف گھر میں چھوڑنا ہے، جب خود کھاؤ تو اس کو بھی کھلاؤ اور جب خود پہنو تو اس کو بھی پہناؤ، اب تم یہ حقوق کیسے ادا نہیں کرو گے، جبکہ تم ایک دوسرے سے جماع کر چکے ہو، الا یہ کہ کوئی ایسی صورت پیدا ہو جائے، جس میں بیوی کو سزا دی جا سکتی ہو (یا اس کے حق میں کمی کی جا سکتی ہو)۔

7118

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7118

Sahih

۔ (۷۱۱۸)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ مُعَاوِیَۃ عَنْ اَبِیْہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، قَالَ: سَأَلَہُ رَجُلٌ مَا حَقُّ الْمَرْأَۃِ عَلَی الزَّوْجِِ؟ قَالَ: ((تُطْعِمُہَا اِذَا طَعِمْتَ وَتَکْسُوْھَا اِذَا اکْتَسَیْتَ وَلَا تَضْرِبِ الْوَجْہَ وَلَا تُقَبِّحْ وَلَا تَہْجُرْ اِلَّا فِی الْبَیْتِ۔)) (مسند احمد: ۲۰۲۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا معاویہ بن حیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ بیوی کا اپنے خاوند پر کیا حق ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب تو کھائے تو اسے بھی کھلائے، جب تو پہنے تو اسے بھی پہنائے، اس کو چہرے پر نہ مار، اس سے مکروہ بات نہ کر، اور (ناراضگی کی صورت میں) اس کو نہ چھوڑ مگر اپنے گھر میں ہی۔

7119

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7119

Sahih

۔ (۷۱۱۹)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ زَمْعَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَذْکُرُ النِّسَائَ فَوَعَظَ فِیْہِنَّ وَقَالَ: ((عَلامَ یَضْرِبُ (وَفِیْ لَفْظٍ: یَجْلِدُ) أَحَدُکُمُ امْرَأَتَہُ (زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: ضَرْبَ الْعَبْدِ) وَلَعَلَّہُ أَنْ یُضَاجِعَہَا مِنْ آخِرِ النَّہَارِ أَوْ آخِرِ اللَّیْلِ)) (مسند احمد: ۱۶۳۲۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن زمعہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنا آپ عورتوں کے حقوق کے بارے مردوں کو نصیحت کر رہے تھے، بیچ میں آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم میں سے کوئی آدمی اپنی بیوی کو اس طرح کیوں مارتا ہے، جیسے غلام کو مارا جاتا ہے، پھر ممکن ہے کہ دن کے آخر میں یا رات کے آخر میں اس کو ہم بستری بھی کرنی ہو۔

7120

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7120

Sahih

۔ (۷۱۲۰)۔ عَنْ لَقِیْطِ بْنِ صَبِرَۃَ قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّ لِی امْرَأَۃً، فَذَکَرَ مِنْ طُوْلِ لِسَانِہَا وَاِیَذَائِہَا، فَقَالَ: ((طَلِّقْہَا۔)) قَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہَا ذَاتُ صُحْبَۃٍ وَوَلَدٍ، قَالَ: ((فَأَمْسِکْہَا وَأْمُرْھَا فَاِنْ یَکُ فِیْہَا خَیْرٌ فَسَتَفْعَلْ وَلَا تَضْرِبْ ظَعِیْنَتَکَ ضَرْبَکَ اَمَتَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۶۴۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا لقیط بن صبرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں: میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! میری ایک بیوی ہے، وہ بڑی زبان دراز ہے اور مجھے اذیت دیتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اسے طلاق دے دو ،اس نے کہا: میرا اس کے ساتھ پرانا ساتھ ہے اور اس سے میری اولادبھی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھر اسے روک لو اور اسے بھلائی کی تلقین کرتے رہو، اگر اس میں بھلائی قبول کرنے کی صلاحیت ہوئی تو وہ قبول کر لے گی، بہرحال تونے اپنی بیوی کو اس طرح نہیں مارنا، جیسے لونڈی کو مارا جاتا ہے۔

7121

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7121

Sahih

۔ (۷۱۲۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَایَفْرَکُ مُؤْمِنٌ مُؤْمِنَۃً اِنْ کَرِہَ مِنْہَا خُلُقًا رَضِیَ مِنْہَا آخَرَ)) (مسند احمد:۸۳۴۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کوئی ایماندار خاوند اپنی ایمانداری بیوی سے بغض وعداوت نہیں رکھتا، کیونکہ اگر وہ اپنی بیوی کی ایک عادت ناپسند کرتا ہے تو کسی دوسری صفت کی وجہ سے راضی اور خوش ہو جاتا ہے۔

7122

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7122

Sahih

۔ (۷۱۲۲)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اَللّٰھُمَّ إِنِّیْ اُحَرِّجُ حَقَّ الضَّعِیْفَیْنِ الْیَتِیْمِ وَالْمَرْأَۃِ۔)) (مسند احمد: ۹۶۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ حضرت ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں دو کمزوروں یعنی عورت اور یتیم کے حق کو ممنوع اور حرام قرار دیتا ہوں۔

7123

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7123

Sahih

۔ (۷۱۲۳)۔ عَنْ سَعْدِ بْنِ اَبِیْ وَقَّاصٍ أَنَّہ، قَالَ: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ یَطْرُقَ الرَّجُلُ أَھْلَہُ بَعْدَ صَلَاۃِ الْعِشَائِ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناسعدبن ابی وقاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مسافر آدمی کو نمازِ عشاء کے بعداپنے اہل کے پاس آنے سے منع کیا ہے۔

7124

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7124

Sahih

۔ (۷۱۲۴)۔ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ: دَخَلَتْ عَلَیَّ خُوَیْلَۃُ بِنْتُ حَکِیْمِ بْنِ أُمَیَّۃَ بْنِ حَارِثَۃَ بْنِ الْأَوْقَصِ السُّلَمِیَّۃُ وَکَانَتْ تَحْتَ عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ قَالَتْ: فَرَأٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بَذَاذَۃَ ھَیْئَتِہَا، فَقَالَ لِیْ: ((یَا عَائِشَۃُ! مَا أَبَذَّ ھَیْئَۃَ خُوَیْلَۃَ؟)) قَالَتْ: فَقُلْتُ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! امْرَأَۃٌ لَا زَوْجَ لَھَا، یَصُوْمُ النَّہَارَ وَیَقُوْمُ اللَّیْلَ فَہِیَ کَمَنْ لَا زَوْجَ لَہَا فَتَرَکَتْ نَفْسَہَا وَأَضَاعَتْہَا، قَالَتْ: فَبَعَثَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی عُثْمَانَ بْنِ مَظْعُوْنٍ فَجَائَ فَقَالَ: ((یَا عُثْمَانُ! اَ رَغْبَۃٌ عَنْ سُنَّتِیْ؟)) قَالَ: لَا، وَاللّٰہِ! یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! وَلٰکِنْ سُنَّتَکَ أَطْلُبُ، وَقَالَ: ((فَاِنِّیْ أَنَامُ وَأُصَلِّیْ وَأَصُوْمُ وَأُفْطِرُ وَأُنْکِحُ النِّسَائَ، فَاتَّقِ اللّٰہَ یَا عُثْمَانُ! فَاِنَّ لِأَھْلِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِضَیْفِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، وَاِنَّ لِنَفْسِکَ عَلَیْکَ حَقًّا، فَصُمْ وَأَفْطِرْ وَصَلِّ وَنَمْ۔)) (مسند احمد: ۲۶۸۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:سیدہ خویلہ بنت حکیم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا میرے پاس آئی،یہ سیدنا عثمان بن مظعون ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی بیوی تھی، جب رسول اللہ نے اس کی حالت کی پراگندگی دیکھی تو مجھ سے فرمایا: عائشہ! خویلہ کی حالت تو بڑی پراگندہ ہے، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! بس یوں سمجھیں کہ اس خاتون کا خاوند کوئی نہیں ہے، کیونکہ وہ دن کو روزہ رکھتا ہے اور رات کو قیام کرتا ہے، اس لیے خویلہ اس خاتون کی طرح ہے کہ جس کا خاوند نہیں ہوتا ہے، اس لیے اس نے اپنے نفس کی طرف کوئی توجہ نہیں کی اور اس کو ضائع کر دیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سیدنا عثمان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو بلا بھیجا، پس وہ آگئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: اے عثمان! کیا میری سنت سے بے رغبتی کررہے ہو؟ انھوں نے کہا: اللہ کی قسم! نہیں، اے اللہ کے رسول! میں تو آپ کی سنت کو طلب کرنے والا ہوں۔ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ ہے تو میں سوتا بھی ہوں اور نماز بھی پڑھتا ہوں اور روزہ بھی رکھتا ہوں اور افطار بھی کرتا ہوں، میں نے عورتوں سے شادی بھی کر رکھی ہے، اے عثمان! اللہ سے ڈرو، تم پر تیری بیوی کا حق ہے، تم پر تیرے مہمان کا حق ہے اور تجھ پر تیرے نفس کا حق ہے، اس لیے روزے بھی رکھا کر اور ان کو ترک بھی کیا کر اور نماز بھی پڑھا کر اور سویا بھی کرو۔