Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 121 · Chapter 1277

ولیمہ کے ابواب

غیلہ کی کراہت اور اس کی وجہ سے عزل کی رخصت کا بیان غیلہ: دودھ پلانے کی مدت میں بیوی سے مباشرت کرنا غیلہ کہلاتا ہے۔

4 hadiths in this chapter

7087

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7087

Zaeef

۔ (۷۰۸۷)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ بنِ سَکَنٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَکُمْ سِرًّا، فَاِنَّ الْغِیْلَیُدْرِکُ الْفَارِسَ فَیُدَعْثِرُہُ مِنْ فَوْقِ رَأْسِہِ۔))، قَالَ عَلِیٌّ: أَسْمَائُ بِنْتُ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّۃُ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ مِثْلَہ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ اسماء بنت یزید انصاریہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اپنی اولاد کو خفیہ طور پر قتل نہ کرو، بے شک غیلہ شہسوار پر اثر انداز ہوتا ہے اور اسے سر کے بل گرا دیتا ہے۔

7088

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7088

Sahih

۔ (۷۰۸۷)۔ عَنْ اَسْمَائَ بِنْتِ یَزِیْدَ بنِ سَکَنٍ الْاَنْصَارِیَّۃِ قَالَتْ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((لَا تَقْتُلُوْا أَوْلَادَکُمْ سِرًّا، فَاِنَّ الْغِیْلَیُدْرِکُ الْفَارِسَ فَیُدَعْثِرُہُ مِنْ فَوْقِ رَأْسِہِ۔))، قَالَ عَلِیٌّ: أَسْمَائُ بِنْتُ یَزِیْدَ الْاَنْصَارِیَّۃُ قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ، فَذَکَرَ مِثْلَہ۔ (مسند احمد: ۲۸۱۴۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ جدامہ بنت وہب اسدیہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا بیان کرتی ہیں کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں نے ارادہ کیا کہ غیلہ سے روک دوں، حتیٰ کہ مجھے یہ بات یاد آئی کہ فارس اورروم والے غیلہ کرتے ہیں اور اس سے ان کی اولاد کا کوئی نقصان نہیں ہوتا۔

7089

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7089

Sahih

۔ (۷۰۸۹)۔ عَنْ اُسَامَۃَ بْنِ زَیْدٍ اَنَّ رَجُلًا جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنِّیْ اَعْزِلُ عَنِ امْرَأَتِیْ، قَالَ: ((لِمَ؟)) قَالَ: شَفَقًا عَلٰی وَلَدِھَا اَوْ عَلٰی أَوْلَادِھَا، فَقَالَ: ((اِنْ کَانَ لِذَالِکَ فَـلَا مَاضَارَّ ذَالِکَ فَارِسَ وَلَا الرُّوْمَ۔)) (مسند احمد: ۲۲۱۱۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا اسامہ بن زید ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ ایک آدمی نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور اس نے کہا : میں اپنی بیوی سے عزل کرتا ہوں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیوں؟ اس نے کہا: اس کی اولاد پر شفقت کرتے ہوئے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر یہ بات ہے تو بیشک عزل نہ کر، کیونکہ اس چیز نے فارس اور روم کو کوئی نقصان نہیں دیا۔

7090

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7090

Sahih

۔ (۷۰۹۰)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الزُّرَقِیِّ اَنَّ رَجُلًا مِنَ اَشْجَعَ سَأَلَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْعَزْلِ، فَقَالَ: اِنَّ امْرَأَتِیْ تُرْضِعُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّ مَا یُقَدَّرُ فِی الرَّحِمِ فَسَیَکُوْنُ۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۲۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید زرقی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ اشجع قبیلے کے ایک آدمی نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے عزل کے متعلق سوال کیا اور کہا: میری بیوی دودھ پلاتی ہے (اور میں ڈرتا ہوں کہ وہ حاملہ نہ ہو جائے)، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو رحم کی تقدیر میں لکھ دیا گیا ہے، وہ ہو کر رہے گا۔