Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 120 · Chapter 1264

نکاح کے موانع کا بیان

آزاد ہونے کے بعد لونڈی کو اختیار مل جانے کا بیان، جب وہ کسی غلام کی بیوی ہو

7 hadiths in this chapter

7021

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7021

Sahih

۔ (۷۰۲۱)۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ عَمْرِو بْنِ اُمَیَّۃَ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا یَتَحَدَّثُوْنَ عَنِ النَّبِیِّa قَالَ: ((إِذَا عُتِقَتِ الْأَمَۃُ فَہِیَ بِالْخِیَارِ مَالَمْ یَطَأْھَا إِنْ شَائَتْ فَارَقَتْہُ، وَإِنْ وَطِئَہَا فَـلَا خِیَارَلَھَا وَلَا تَسْتَطِیْعُ فِرَاقَہُ۔)) (مسند احمد: ۲۳۵۹۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں نے کچھ لوگوں کو سنا، وہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بیان کر رہے تھے کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزاد کر دیا جاتا ہے تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، جب تک اس کا خاوند اس سے جماع نہ کر لے، اگر وہ چاہے تو اس سے جدا ہو سکتی ہے اور اگر اس نے اس سے جماع کر لیا تو اس کا اختیار ختم ہو جائے گا اور اس کو اس سے جدا ہونے کی طاقت نہیں رہے گی۔

7022

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7022

Sahih

۔ (۷۰۲۲)۔ عَنِ الْفَضْلِ بْنِ الْحَسَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ أُمَیَّۃَ الضَّمْرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رِجَالًا مِنْ أَصْحَابِ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَتَحَدَّثُوْنَ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا أُعْتِقَتِ الْأَمَۃُ وَھِیَ تَحْتَ الْعَبْدِ فَأَمْرُھَا بِیَدِھَا فَاِنْ ھِیَ أَقَرَّتْ حَتّٰییَطَأَھَا فَہِیَ امْرَأَتُہُ لَا تَسْتَطِیْعُ فِرَاقَہُ۔)) (مسند احمد: ۱۶۷۳۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عمرو بن امیہ ضمری رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: میں نے کچھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے سنا،انھوں نے بیان کیا کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب لونڈی کو آزادی کر دیا جاتا ہے، جبکہ وہ پہلے کسی غلام کی بیوی ہو تو اس کو اختیار مل جاتا ہے، اگر وہ اسی کے گھر برقرار رہی،یہاں تک کہ اس نے اس سے جماع کر لیا تو وہ اسی کی بیوی رہے گی اور اس سے جدا نہیں ہو سکے گی۔

7023

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7023

Sahih

۔ (۷۰۲۳)۔ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ مَنْصُوْرٍ عَنْ اِبْرَاھِیْمَ عَنِ الْاَسْوَدِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: اِشْتَرَیْتُ بَرِیْرَۃَ فَاشْتَرَطَ أَھْلُہَا وَلَائَ ھَا، فَذَکَرْتُ ذَالِکَ لِرَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اشْتَرِیْہَا فَأَعْتِقِیْہَا فَاِنَّمَا الْوَلَائُ لِمَنْ أَعْطَی الْوَرِقَ)) قَالَتْ: فَاشْتَرَیْتُہَا فَأَعْتَقْتُہَا، قَالَتْ: فَدَعَاھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَخَیَّرَھَا مِنْ زَوْجِہَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا۔ وَکَانَ زَوْجُہَا حُرًّا۔ (مسند احمد: ۲۵۸۸۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں:میں نے بریرہ کوآزاد کرنا چاہا، لیکن اس کے مالکوں نے یہ شرط لگا دی کہ ولاء ان کی رہے گی، جب میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ بات بتلائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تو بیشک اس کو خرید کر آزاد کر دے، ولاء تو صرف اس کی ہوتی ہے، جو چاندی (یعنی قیمت) خرچ کر تا ہے۔ پس میں نے اس کو خرید کر آزاد کر دیا، پھر رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو بلایا اور اس کو اس کے خاوند کے بارے میں اختیار دے دے، اس نے یہ اختیار قبول کیا، اس کا خاوند آزاد تھا۔

7024

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7024

Sahih

۔ (۷۰۲۴)۔ حَدَّثَنَا جَرِیْرٌ عَنْ ھِشَامِ بْنِ عُرْوَۃَ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا مِثْلُ حَدِیْثِ مَنْصُوْرٍ اِلَّا أَنَّہُ، قَالَ: کَانَ زَوْجُہَا عَبْدًا، وَلَوْ کَانَ حُرًّا لَمْ یُخَیِّرْھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۲۵۸۸۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، … یہ حدیث منصور کی حدیث کی طرح ہے، البتہ اس میں ہے : اور اس کا خاوند غلام تھا، اگر وہ آزاد ہوتا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو اختیار نہ دیتے۔

7025

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7025

Sahih

۔ (۷۰۲۵)۔ عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ فِیْ حَدِیْثٍ طَوِیْلٍ عَنْ عَائِشَۃَ اَیْضًا قَالَتْ: وَکَانَتْ۔ أَیْ بَرِیْرَۃُ۔ تَحْتَ عَبْدٍ فَلَمَّا أَعْتَقْتُہَا، قَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اخْتَارِیْ، فَاِنْ شِئْتِ أَنْ تَمْکُثِیْ تَحْتَ ھٰذَا الْعَبْدِ وَاِنْ شِئْتِ أَنْ تُفَارِقِیْہِ۔)) (مسند احمد: ۲۵۹۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے، یہ ایک طویل حدیث ہے، بیچ میں ایک بات یہ تھی: سیدہ بریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ایک غلام کی بیوی تھی، جب میں (عائشہ) نے اس کو آزاد کر دیا تو رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے فرمایا: تجھے اختیار مل گیا ہے، اگر تو چاہے تو اس غلام کے ماتحت رہ سکتی ہے اور چاہے تو علیحدہ ہو سکتی ہے۔

7026

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7026

Sahih

۔ (۷۰۲۶)۔ وَعَنْہُ اَیْضًا عَنْ عَائِشَۃَ أَنَّ بَرِیْرَۃَ کَانَتْ مُکَاتَبَۃً وَکَانَ زَوْجُہَا مَمْلُوْکًا، فَلَمَّا أُعْتِقَتْ خُیِّرَتْ۔ (مسند احمد: ۲۶۲۷۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے اس طرح بھی مروی ہے کہ سیدہ بریرہ نے مکاتبت کی ہوئی تھی اور ان کا خاوند غلام تھا، جب اس کو آزاد کر دیا گیا تو اس کو اختیار دے دیا گیا۔

7027

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #7027

Sahih

۔ (۷۰۲۷)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: لَمَّا خُیِّرَتْ بَرِیْرَۃُ رَاَیْتُ زَوْجَہَا یَتْبَعُہَا فِیْ سِکَکِ الْمَدِیْنَۃِ وَدُمُوْعُہُ تَسِیْلُ عَلٰی لِحْیَتِہِ، فَکُلِّمَ الْعَبَّاسُ لِیُکَلِّمَ فِیْہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لِبَرِیْرَۃَ: ((إِنَّہُ زَوْجُکِ۔))، فَقَالَتْ: تَأْمُرُنِیْ بِہِ یَارَسُوْلَ اللّٰہِ؟ قَالَ: ((إِنَّمَا اَنَا شَافِعٌ۔))، قَالَ: فَخَیَّرَھَا فَاخْتَارَتْ نَفْسَہَا، وَکَانَ عَبْدًا لِاٰلِ الْمُغِیْرَۃِ۔ (مسند احمد: ۱۸۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: جب بریرہ کو اختیار ملا تو میں نے دیکھا کہ اس کا خاوند مدینہ کی گلیوں میں اس کے پیچھے پیچھے پھرتا تھا اور اس کے آنسو اس کی داڑھی پر بہتے تھے، کسی نے سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے بات کی کہ بریرہ کے بارے میں نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے بات کریں، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے کہا: بریرہ! یہ تیرا خاوند ہے۔ سیدہ بریرہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! آپ مجھے حکم دے رہے ہیں؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں تو سفارش کر رہا ہوں۔ پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کو اختیار دیا اور اس نے یہ اختیار قبول کر لیا، ان کا خاوند آل مغیرہ کا غلام تھا۔