Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 120 · Chapter 1246

نکاح کے موانع کا بیان

عورت اور اس کی پھوپھی کو اور اس قسم کی محرم خواتین کو ایک نکاح میںجمع کرنے سے ممانعت کا بیان

11 hadiths in this chapter

6943

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6943

Zaeef

۔ (۶۹۴۳)۔ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ لَھَا حِیْنَمَا تَزَوَّجَہَا: ((اَمَا اِنِّیْ لَا أَنْقُصُکِ مِمَّا اَعْطَیْتُ اَخَوَاتِکِ رَحَیَیْنِ وَجَرَّۃً وَمِرْفَقَۃً مِنْ اَدَمِ حَشْوُھَا لِیْفٌ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۶۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب ان سے شادی کی تو ان سے فرمایا: میں نے جو کچھ تیری بہنوں کو دیا ہے، تیرے لیے اس سے کمی نہیں کروں گا، دو چکیاں ہیں، ایک گھڑا ہے اور چمڑے کا ایک گدا ہے، جس میں پتے بھرے گئے تھے۔

6944

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6944

Zaeef

۔ (۶۹۴۴)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْعَمَّۃِ وَالْخَالَۃِ وَبَیْنَ الْعَمَّتَیْنِ وَالْخَالَتَیْنِ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا کہ بھتیجی اور پھوپھی اور بھانجی اور خالہ کو ایک نکاح میں جمع کیا جائے۔

6945

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6945

Sahih

۔ (۶۹۴۵)۔(وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍٍ) اَنَّ نَبِیَّ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی أَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا أَوْ خَالَتِہَا۔(مسند احمد: ۳۵۳۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اسے منع فرمایا ہے کہ کسی عورت سے اس کی پھوپھی یا خالہ کی موجودگی میں شادی کی جائے۔

6946

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6946

Sahih

۔ (۶۹۴۶)۔عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ انَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نَہٰی اَنْ تُنْکَحَ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا وَالْعَمَّۃُ عَلٰی بِنْتِ أَخِیْہَا، وَالْمَرْأَۃُ عَلٰی خَالَتِہَا وَالْخَالَۃُ عَلٰی بِنْتِ اُخْتِہَا، لَا تُنْکَحُ الْکُبْرٰی عَلَی الصُّغْرٰی وَلَا الصُّغْرٰی عَلَی الْکُبْرٰی۔ (مسند احمد: ۹۴۹۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح کیا جائے۔ اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے بھی منع فرمایا کہ چھوٹی پر بڑی سے اور بڑی پر چھوٹی سے شادی کی جائے۔

6947

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6947

Sahih

۔ (۶۹۴۷)۔ عَنْ عَلِیٍّ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا۔)) (مسند احمد: ۵۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا علی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس عورت سے شادی نہ کی جائے، جس کی پھوپھی اور خالہ پہلے سے موجود ہوں۔

6948

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6948

Sahih

۔ (۶۹۴۸)۔ عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَیْبٍ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ جَدِّہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مِثْلُہ۔ (مسند احمد:۶۷۷۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمرو بن عاص ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی اسی قسم کی حدیث ِ نبوی بیان کی ہے۔

6949

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6949

Sahih

۔ (۶۹۴۹)۔ عَنْ اَبِیْ سَعِیْدِ نِ الْخُدْرِیِّ قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَنْہٰی، فَذَکَرَ خِصَالًا نَہٰی النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْہَا مِنْہَا وَأَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَخَالَتِہَا وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّتِہَا۔ (مسند احمد: ۱۱۶۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو سعید خدری ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے کچھ امور سے منع کیا، پھر انھوں نے ان امور کو شمار کیا، ان میں سے ایک چیزیہ تھی: لڑکی اور اس کی خالہ اور لڑکی اور اس کی پھوپھی کو ایک نکاح میں جمع کرنا۔ یعنی یہ ان امور میں سے تھا، جن سے آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے منع کیا تھا۔

6950

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6950

Sahih

۔ (۶۹۵۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَا تُنْکَحُ الْمَرْأَۃُ عَلٰی عَمَّتِہَا، وَلَا عَلٰی خَالَتِہَا، وَلَا الْمَرْأَۃُ عَلَی ابْنَۃِ اَخِیْہَا وَلَا عَلَی ابْنَۃِ اُخْتِہَا۔)) (مسند احمد: ۱۴۶۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: پھوپھی پر اس کی بھتیجی سے، خالہ پر اس کی بھانجی سے، بھتیجی پر اس کی پھوپھی سے اور بھانجی پر اس کی خالہ سے نکاح نہ کیا جائے۔

6951

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6951

Sahih

۔ (۶۹۵۱)۔ عَنِ ابْنِ شِہَابٍ اَنَّہ سُئِلَ عَنِ الرَّجُلِ یَجْمَعُ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَبَیْنَ خَالَۃِ اَبِیْہَا وَالْمَرْأَۃِ وَخَالَۃِ أُمِّہَا وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّۃِ اَبِیْہَا وَالْمَرْأَۃِ وَعَمَّۃِ اُمِّہَا، فَقَالَ: قَالَ قَبِیْصَۃُ بْنُ ذُؤَیْبٍ: سَمِعْتُ أَبَا ھُرَیْرَۃَیَقُوْلُ: نَہٰی رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اَنْ یُجْمَعَ بَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَخَالَتِہَا وَبَیْنَ الْمَرْأَۃِ وَعَمَّتِہا، فَنَرٰی خَالَۃَ أُمِّہَا بِتِلْکَ الْمَنْزِلَۃِ وَاِنْ کَانَ مِنَ الرِّضَاعِ یَکُوْن مِنْ ذَالِکَ بِتِلْکَ الْمَنْزِلَۃِ۔ (مسند احمد: ۹۸۳۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابن شہاب سے مروی ہے کہ ان سے ایک آدمی کے متعلق سوال کیا گیا جو اپنے نکاح میں ایک عورت اور اس کے باپ کی خالہ یا اس کی ماں کی خالہ کو جمع کرتا ہے اور عورت اور اس کے باپ کی پھوپھی یا اس کی ماں کی پھوپھی کو جمع کرتا ہے۔ انھوں نے جواباً کہا: قبیصہ بن ذؤیب نے بیان کیا کہ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع فرمایا ہے کہ ایک نکاح میں عورت اور اس کی خالہ کو اور عورت اور اس کی پھوپھی کوجمع کیا جائے۔ ہمارا خیال ہے کہ عورت کی ماں کی خالہ اس کی اپنی خالہ کے قائم مقام ہے اور اگر اس طرح کا رضاعی رشتہ ہو تو اس کا بھی یہی حکم ہے۔

6952

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6952

Sahih

۔ (۶۹۵۲)۔ عَنْ زَیْنَبَ بِنْتِ اَبِیْ سَلَمَۃَ عَنْ اُمِّ سَلَمَۃَ قَالَتْ: جَائَ تْ اُمُّ حَبِیْبَۃَ فَقَالَتْ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! ھَلْ لَکَ فِیْ اُخْتِیْ؟ قَالَ: ((فَأَصْنَعُ بِہَا مَاذَا؟)) قَالَتْ: تَزَوَّجْہَا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((وَتُحِبِّیْنَ ذٰلِکِ؟)) فَقَالَتْ: نَعَمْ، لَسْتُ لَکَ بِمُخْلِیَۃٍ وَأَحَقُّ مَنْ شَرِکَنِیْ فِیْ خَیْرٍ أُخْتِیْ، فَقَالَ لَھَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اِنَّہَا لَاتَحِلُّ لِیْ)) قَالَتْ: فَوَاللّٰہِ! لَقَدْ بَلَغَنِیْ أَنَّکَ تَخْطُبُ دُرَّۃَ ابْنَۃَ اُمِّ سَلَمَۃَ بِنْتَ اَبِیْ سَلَمَۃَ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَوْ کَانَتْ تَحِلُّ لِیْ لَمَا تَزَوَّجْتُہَا، قَدْ اَرْضَعَتْنِیْ وَأَبَاھَا ثُوَیْبَۃُ مَوْلَاۃُ بَنِیْ ھَاشِمٍ فَـلَا تَعْرِضْنَ عَلَیَّ اَخَوَاتِکُنَّ وَ لا بَنَاتِکُنَّ۔)) (مسند احمد: ۲۷۰۲۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ام سلمہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ سیدہ ام حبیبہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا آئیں اور کہا: اے اللہ کے رسول! کیا آپ کو میری بہن کی رغبت ہے؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: میں اس کو کیا کروں؟انھوں نے کہا: آپ اس سے شادی کرلیں، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کیا تم یہ پسند کرتی ہو؟ انھوں نے کہا: جی ہاں اورپہلے کون سی اکیلی ہوں، اور میری بہن سب سے زیادہ حقدار ہے کہ وہ اس خیر وبھلائی میں میرے ساتھ شریک ہو، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ میرے لئے حلال نہیں۔ انہوں نے کہا: اللہ کی قسم! مجھے تو یہ بات معلوم ہوئی ہے کہ آپ نے درہ بنت ام سلمہ کو منگنی کا پیغام بھیجا ہے، رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اگر وہ میرے لیے حلال ہوتی تو پھر بھی میں اس سے شادی نہ کر سکتا، کیونکہ بنو ہاشم کی لونڈی ثویبہ نے مجھے اور اس کے باپ کو دودھ پلایا ہے، پس اپنی بہنوں اور بیٹیوں کو مجھ پر پیش نہ کرو۔

6953

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6953

Sahih

۔ (۶۹۵۳)۔ عَنِ الْبَرَائِ بْنِ عَازِبٍ قَالَ: لَقِیْتُ خَالِیْ وَمَعَہُ الرَّاْیَۃُ فَقُلْتُ: أَیْنَ تُرِیْدُ؟ قَالَ: بَعَثَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلٰی رَجُلٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃَ اَبِیْہِ مِنْ بَعْدِہِ أَنْ أَضْرِبَ عُنُقَہُ أَوْ أَقْتُلَہُ وَ آخُذَ مَالَہُ۔ (مسند احمد: ۱۸۷۵۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا براء بن عازب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں:میں اپنے ماموں کو اس حال میں ملا کہ ان کے پاس ایک جھنڈا تھا، میں نے کہا: آپ کہاں جا رہے ہیں: انھوں نے کہا: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے ایک ایسے آدمی کی طرف بھیجا ہے، جس نے اپنے باپ کی وفات کے بعد اس کی بیوی سے نکاح کر لیا ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے مجھے اس لئے بھیجا کہ میں اس کی گردن اڑا دو، یا اس کو قتل کر دوں اور اس کا مال لوٹ لاؤں۔