Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 118 · Chapter 1238

نکاح کے مسائل

نکاح کے خطبہ کے مستحب ہونے کا بیان

7 hadiths in this chapter

6908

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6908

Sahih

۔ (۶۹۰۸)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: عَلَّمَنَا خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ وَنَسْتَغْفِرُہُ وَنَعُوْذُ بِاللّٰہِ مِنْ شُرُوْرِ أَنْفُسِنَا، مَنْ یَہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ، أَشْہَدُ أَنْ لَا إِلٰہَ اِلَّا اللّٰہُ وَأَشْھَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ، ثُمَّیَقْرَأُ ثَلَاثَ آیَاتٍ: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْلَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ثُمَّ تَذْکُرُ حَاجَتَکَ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں خطبۂ حاجت کی تعلیم دی، اور وہ خطبہ یہ تھا: تمام تعریف اللہ تعالیٰ کے لئے ہیں، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، ہم اس سے بخشش مانگتے ہیں اور ہم اللہ تعالیٰ کی پناہ مانگتے ہیں اپنی جانوں کے شرور سے، اللہ تعالیٰ جس کو ہدایت دے دے، اسے کوئی گمراہ کرنے والا نہیں ہے اور وہ جسے گمراہ کردے، اسے کوئی ہدایت دینے والا نہیں ہے،میں گواہی دیتاہوں کہ اللہ تعالیٰ کے سوا کوئی معبودِ برحق نہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ محمد ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اللہ کے بندے اور اس کے رسول ہیں۔ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ان تین آیات کی تلاوت کرتے تھے: {یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْ اتَّقُوْا اللّٰہَ حَقَّ تُقَاتِہِ وَلَا تَمُوْتُنَّ اِلَّا وَأَنْتُمْ مُسْلِمُوْنَ۔ یَا أَیُّہَا النَّاسُ اتَّقُوْا رَبَّکُمُ الَّذِیْ خَلَقَکُمْ مِنْ نَفْسٍ وَاحِدَۃٍ وَخَلَقَ مِنْہَا زَوْجَہَا وَبَثَّ مِنْہُمَا رِجَالًا کَثِیْرًا وَنِسَائً، وَاتَّقُوْا اللّٰہَ الَّذِیْ تَسَائَ لُوْنَ بِہِ وَالْأَرْحَامَ اِنَّ اللّٰہَ کَانَ عَلَیْکُمْ رَقِیْبًا۔ یَا أَیُّہَا الَّذِیْنَ آمَنُوْا اتَّقُوْا اللّٰہَ وَقُوْلُوْا قُوْلًا سَدِیْدًایُصْلِحْ لَکُمْ أَعْمَالَکُمْ وَیَغْفِرْلَکُمْ ذُنُوْبَکُمْ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہُ فَقَدْ فَازَ فَوْزًا عَظِیْمًا} ایماندارو! اللہ تعالیٰ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے اور تمہیں ہرگز موت نہ آئے، مگر اسلام کی حالت میں۔ (سورۂ آل عمران:۱۰۲) اے لوگو! اپنے رب سے ڈرو، جس نے تمہیں پیدا کیا ایک جان سے اور پیدا کیا اس سے اس کی بیوی کو اور پھیلا دیئے ان دونوں سے بہت سے مرد اور عورتیں۔ تم ڈرو اس اللہ سے جس کے ساتھ تم آپس میں سوال کرتے ہو اور رشتہ داریوں کو توڑنے سے بچو، بے شک اللہ تعالیٰ تم پر نگہبان ہیں۔ (سورۂ نساء: ۱) اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ تعالیٰ سے ڈرو اور کہو بات سیدھی وہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے گناہ بخش دے گا اور جو اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتا ہے، وہ بڑی کامیابی کو پا لیتا ہے۔ (سورۂ احزاب: ۷۰)پھر تم اپنی حاجت و ضرورت کا ذکر کرو۔

6909

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6909

Sahih

۔ (۶۹۰۹)۔ (ومِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: عَلَّمَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم خُطْبَتَیْنِ خُطْبَۃَ الْحَاجَۃِ وَخُطْبَۃَ الصَّلَاۃِ، اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ أَوْ إِنَّ الْحَمْدَ لِلّٰہِ نَسْتَعِیْنُہُ، فَذَکَرَ مَعْنَاہُ۔ (مسند احمد: ۳۷۲۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں دو قسم کے خطبات سکھائے، ایک خطبۂ حاجت اور دوسرا خطبۂ نماز،خطبۂ حاجت یہ ہیں: بیشک ساری تعریف اللہ تعالی کے لیے ہے، ہم اس سے مدد طلب کرتے ہیں، … …۔ پھر مذکورہ بالا حدیث کے ہم معنی روایت ذکر کی۔

6910

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6910

Sahih

۔ (۶۹۱۰)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَلَّمَ رَجُلًا فِیْ شِیْئٍ فَقَالَ: ((اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ، وَنَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَـلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَـلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔)) (مسند احمد: ۳۲۷۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ایک آدمی سے کسی چیز کے بارے میں بات کی تو فرمایا: اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ نَحْمَدُہُ، وَنَسْتَعِیْنُہُ، مَنْ یَّہْدِہِ اللّٰہُ فَلَا مُضِلَّ لَہُ، وَمَنْ یُضْلِلْ فَلَا ھَادِیَ لَہُ وَأَشْھَدُ أَّنْ لَّا إِلٰہُ اِلَّا اللّٰہُ وَحْدَہُ لَا شَرِیْکَ لَہُ وَاَشْہَدُ اَنَّ مُحَمَّدًا عَبْدُہُ وَرَسُوْلُہُ۔ پھر اپنی بات پیش کی۔

6911

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6911

Sahih

۔ (۶۹۱۱)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْخُطْبَۃُ الَّتِیْ (وَفِیْ لَفْظٍ: کُلُّ خُطْبَۃٍ) لَیْسَ فِیْہَا شَہَادَۃٌ کَالْیَدِ الْجَذْمَائِ۔)) (مسند احمد: ۸۴۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ہر وہ خطبہ جس میں شہادت نہ ہو، وہ کٹے ہوئے ہاتھ کی طرح ہے ۔

6912

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6912

Sahih

۔ (۶۹۱۲)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ إِذَا رَفَّأَ الْإِنْسَانَ إِذَا تَزَوَّجَ قَالَ: ((بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ۔)) (مسند احمد: ۸۹۴۴)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے یہ بھی روایت ہے کہ جب کسی کی شادی ہوتی تو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کو ان الفاظ کے ساتھ مبارک دیتے: بَارَکَ اللّٰہُ لَکَ وَبَارَکَ عَلَیْکَ وَجَمَعَ بَیْنَکُمَا فِیْ خَیْرٍ (اللہ تعالی تیرے لیے اور تجھ پر برکت نازل کرے اور تم دونوں کو خیر و بھلائی میں اکٹھا کر دے۔)

6913

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6913

Sahih

۔ (۶۹۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مُحَّمَدِ بْنِ عَقَیْلٍ قَالَ: تَزَوَّجَ عَقِیْلُ بْنُ اَبِی طَالِبٍ فَخَرَجَ عَلَیْنَا فَقُلْنَا بِالرِّفَائِ وَالْبَنِیْنِ، فَقَالَ: مَہْ لَا تَقُوْلُوْا ذٰلِکَ، فَاِنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَدْ نَہَانَا عَنْ ذٰلِکَ، وَقَالَ: ((قُوْلُوْا بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ وَبَارَکَ لَکَ فِیْہَا۔)) (مسند احمد: ۱۵۸۳۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبد اللہ بن محمد بن عقیل سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: سیدنا عقیل بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے شادی کی، جب وہ ہمارے پاس آئے تو ہم نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، انھوں نے کہا: رک جاؤ، اس طرح نہ کہو، کیونکہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس سے منع کیا ہے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا ہے: اس طرح کہا کرو بَارَکَ اللّٰہُ فِیْکَ وَبَارَکَ لَکَ فِیْہَا (اللہ تعالی تجھ میں برکت کرے اور تیرے لیے اس خاتون میں برکت کرے)۔

6914

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6914

Sahih

۔ (۶۹۱۴)۔ (وَمِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) عَنِ الْحَسَنِ أَنَّ عَقِیْلَ بْنَ اَبِیْ طَالِبٍ تَزَوَّجَ امْرَأَۃً مِنْ بَنِیْ جُشَمٍ فَدَخَلَ عَلَیْہِ الْقَوْمُ فَقَالُوْا: بِالرِّفَائِ وَالْبَنِیْنَ، فَقَالَ: لَا تَفْعَلُوْا ذٰلِکَ، قَالُوْا: فَمَا نَقُوْلُ یَا أَبَایَزِیْدَ؟ قَالَ: قُوْلُوْا بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ، إِنَّا کَذَالِکَ کُنَّا نُؤْمَرُ۔ (مسند احمد: ۱۷۳۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا عقیل بن ابی طالب ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بنو جشم قبیلے کی ایک خاتون سے شادی کی، جب لوگ ان کے پاس گئے تو انھوں نے کہا: اتفاق و اتحاد ہو اور بیٹے ملیں، لیکن انھوں نے کہا: اس طرح نہ کہو، لوگوں نے کہا: اے ابو یزید! تو پھر ہم کیا کہیں؟ انھوں نے کہا: تم اس طرح کہو بَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ اللّٰہُ لَکُمْ وَبَارَکَ عَلَیْکُمْ (اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے، اللہ تعالی تمہارے لیے برکت کرے اور اللہ تعالی تم پر برکت کرے۔) ہمیں یہ دعائیہ کلمات کہنے کا حکم دیا جاتا تھا۔