Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 118 · Chapter 1232

نکاح کے مسائل

کنواری کو نکاح پر مجبور کرنے اور بیوہ سے مشورہ طلب کرنے کا بیان

10 hadiths in this chapter

6883

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6883

Sahih

۔ (۶۸۸۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((لَیْسَ لِلْوَلِیِّ مَعَ الثَّیِّبِ أَمْرٌ، وَالْیَتِیْمَۃُ تُسْتَأْمَرُ فَصَمَتُہَا إِقْرَارُھَا۔)) (مسند احمد: ۳۰۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ کی شادی کے معاملے میں ولی کو اختیار نہیں ہے اور کنواری بچی سے اجازت لی جائے گی اور اس کی خاموشی اس کا اقرار ہو گا۔

6884

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6884

Sahih

۔ (۶۸۸۴)۔ وَعَنْہُ اَیُضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْأَیِّمُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا وَالْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ فِیْ نَفْسِہَا وَإِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے اس طرح بھی روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری بچی سے اس کے نفس کے بارے میں اس سے اجازت طلب کی جائے گی اور اس کی اجازت خاموشی ہو گی۔

6885

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6885

Sahih

۔ (۶۸۸۵)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) یَبْلُغُ بِہِ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلثَّیِّبُ أَحَقُّ بِنَفْسِہَا مِنْ وَلِیِّہَا، وَالْبِکْرُ یَسْتَأْمِرُھَا أَبُوْھَا فِیْ نَفْسِہَا وَاِذْنُہَا صُمَاتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۸۹۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ اپنے ولی کی بہ نسبت اپنی ذات کا زیادہ حق رکھتی ہے اور کنواری کا باپ اس سے اس کے نفس کے بارے میں اجازت لے گا اور اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔

6886

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6886

Sahih

۔ (۶۸۸۶)۔ عَنْ اَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلْبِکْرُ تُسْتَأْمَرُ، وَالثَّیِّبُ تُشَاوَرُ۔))، قِیْلَ: یَارَسُوْلَ اللّٰـہِ! اِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْ، قَالَ: ((سُکُوْتُھَا رَضَاھَا۔)) (مسند احمد: ۷۳۹۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی اور بیوہ سے مشورہ کیا جائے گا۔ کسی نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرماتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی رضا ہے۔

6887

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6887

Sahih

۔ (۶۸۸۷)۔ (وعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَلثَّیِّبُ تُسْتَأْمَرُ فِیْ نَفْسِہَا، وَالْبِکْرُ تُسْتَأْذَنُ۔))، قَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! کَیْفَ إِذْنُہَا؟ قَالَ: ((أَنْ تَسْکُتَ۔)) (مسند احمد: ۹۴۸۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند)رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ سے اس کے بارے میں مشورہ لیا جائے اور کنواری سے اجازت طلب کی جائے گی۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اس کی اجازت کی کیفیت کیا ہوگی؟ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا۔

6888

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6888

Sahih

۔ (۶۸۸۸)۔ عَنْ عَدِیِّ بْنِ عَدِیِّ نِ الْکِنْدِیِّ عَنْ اَبِیْہِ عَنْ رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((أَشِیْرُوْا عَلَی النِّسَائِ فِیْ أَنْفُسِہِنَّ۔))، فَقَالُوْا: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْیَارَسُوْلَ اللّٰہِ! قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((الثَّیِّبُ تُعْرِبُ عَنْ نَفْسِہَا بِلِسَانِہَا وَالْبِکْرُ رَضَاھَا صَمْتُہَا۔)) (مسند احمد: ۱۷۸۷۶)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عدی بن عدی کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں کے بارے میں ان سے مشورہ طلب کیا کرو۔ لوگوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کنواری تو شرما جاتی ہے۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بیوہ بول کر اپنے نفس کے بارے میں وضاحت کرے گی اور کنواری کی رضامندی خاموشی ہو گی۔

6889

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6889

Sahih

۔ (۶۸۸۹)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اسْتَأْمِرُوْا النِّسَائَ فِیْ إِبْضَاعِہِنَّ۔)) قِیْلَ: إِنَّ الْبِکْرَ تَسْتَحْیِیْ أَنْ تَکَلَّمَ، قَالَ: ((سُکُوْتُہَا إِذْنُہَا۔)) (مسند احمد: ۲۶۱۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: عورتوں سے ان کے وجود کی شادی میں مشورہ کیا کرو۔ کسی نے کہا: کنواری بچی تو بات کرنے سے ہی شرماتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کی خاموشی اس کی اجازت ہو گی۔

6890

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6890

Zaeef

۔ (۶۸۹۰)۔ حَدَّثَنَا حُسَیْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ حَدَّثَنَا أَیُّوبُ بْنُ عُتْبَۃَ عَنْ یَحْیٰی عَنْ أَبِی سَلَمَۃَ عَنْ عَائِشَۃَ قَالَتْ کَانَ رَسُولُ اللَّہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم إِذَا أَرَادَ أَنْ یُزَوِّجَ شَیْئًا مِنْ بَنَاتِہِ جَلَسَ إِلٰی خِدْرِہَا فَقَالَ إِنَّ فُلَانًایَذْکُرُ فُلَانَۃًیُسَمِّیہَا وَیُسَمِّی الرَّجُلَ الَّذِییَذْکُرُہَا فَإِنْ ہِیَ سَکَتَتْ زَوَّجَہَا وَإِنْ کَرِہَتْ نَقَرَتْ السِّتْرَ فَإِذَا نَقَرَتْہُ لَمْ یُزَوِّجْہَا۔ (مسند احمد: ۲۴۹۹۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اپنی کسی بیٹی کی شادی کرنا چاہتے تو گھر کے کونے میں اس کے پاس لٹکے ہوئے پردے کے پاس بیٹھ جاتے اور فرماتے: فلاں آدمی فلاں خاتون کا ذکر کر رہا تھا۔ ساتھ ہی آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس مرد اور اس بیٹی کا نام ذکر کرتے، اگر وہ خاموش رہتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نکاح کر دیتے اور اگر وہ ناپسند کرتی تو اپنا ہاتھ پردے پر مارتی، پس اگر وہ اپنا ہاتھ پردے پر مار دیتی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس کا نکاح نہ کرتے۔

6891

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6891

Sahih

۔ (۶۸۹۱)۔ عَنْ ذَکْوَانَ مَوْلٰی عَائِشَۃَ قَالَ: سَمِعْتُ عَائِشَۃَ تَقُوْلُ: سَأَلْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنْ جَارِیَۃٍیُنْکِحُہَا أَھْلُہَا أَتُسْتَأْمَرُ أَمْ لَا؟ فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تُسْتَأْمَرُ))، قَالَتْ عَائِشَۃُ: فَقُلْتُ لَہُ: فَاِنَّہَا تَسْتَحْیِیْ فَتَسْکُتُ، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَذَالِکَ إِذْنُہَا إِذَا ھِیَ سَکَتَتْ)) (مسند احمد: ۲۵۸۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ مولائے عائشہ ذکوان سے مروی ہے، سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کہتی ہیں: میں نے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے سوال کیا کہ ایک لڑکی کے گھر والے اس کا نکاح کرتے ہیں، کیا اس لڑکی سے مشورہ کیا جائے گا یا نہیں؟ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: بالکل مشورہ طلب کیا جائے گا۔ میں نے کہا : وہ شرم کے مارے خاموش ہو جاتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: اس کا خاموش رہنا ہی اس کی اجازت ہے۔

6892

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6892

Sahih

۔ (۶۸۹۲)۔ عَنْ عَائِشَۃَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا قَالَتْ: تَزَوَّجَنِیْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَنَا ابْنَۃُ سِتِّ سِنِیْنَ(وَفِیْ لَفْظٍ: سَبْعِ سِنِیْنَ) بِمَکَّۃَ مُتَوَفّٰی خَدِیْحَۃَ وَدَخَلَ بِیْ وَأَنَا ابْنَۃُ تِسْعِ سِنِیْنَ بِالْمَدِیْنَۃِ۔ (مسند احمد: ۲۵۳۷۹)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے، وہ کہتی ہیں: نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے جب مجھ سے نکاح کیا تو میں چھ سال کی تھی، ایک روایت میں سات برس کا ذکر ہے، یہ نکاح مکہ میں اور سیدنا خدیجہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا کی وفات کے موقع پر ہوا تھا، اور جب میری رخصتی ہوئی تو میری عمر نو برس تھی، رخصتی مدینہ منورہ میں ہوئی تھی۔