Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 117 · Chapter 1218

جادو، کہانت اور نجومیت کے ابواب

شریعت میں کہانت کے حکم اور اس کے مصدر کا بیان، نیز بعض امور میں کاہن کی کیسے تصدیق کی جائے گی؟

3 hadiths in this chapter

6812

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6812

Sahih

۔ (۶۸۱۲)۔ حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ثَنَا مَعْمَرٌ وَعَبْدُ الرَّزَّاقِ أَنْبَأَنَا مَعْمَرٌ أَنْبَأَنَا الزُّھْرِیُّ عَنْ عَلِیِّ بْنِ حُسَیْنٍ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم جَالِسًا فِیْ نَفَرٍ مِنْ اَصْحَابِہٖقَالَعَبْدُ الرَّزَّاقِ: مِنَ الْأَنْصَارِ، فَرُمِیَ بِنَجْمٍ عَظَیِمٍ فَاسْتَنَارَ، قَالَ: ((مَاکُنْتُمْ تَقُوْلُوْنَ إِذَا کَانَ مِثْلُ ھٰذَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ؟)) قَالَ: کُنَّا نَقُوْلُ: یُوْلَدُ عَظِیْمٌ أَوْ یَمُوْتُ عَظِیْمٌ، قُلْتُ لِلزُّھْرِیِّ: أَکَانَیُرْمٰی بِہَا فِی الْجَاھِلِیَّۃِ؟ قَالَ: نَعَمْ، وَلٰکِنْ غُلِّظَتْ حِیْنَ بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((فَاِنَّہُ لَا یُرْمٰی بِہَا لِمَوْتِ أَحَدٍ وَلَا لِحَیَاتِہِ وَلٰکِنَّ رَبَّنَا تَبَارَکَ اسْمُہُ اِذَا قَضٰی أَمْرًا سَبَّحَ (وَفِیْ لَفْظٍ: سَبَّحَہُ) حَمَلَۃُ الْعَرْشِ ثُمَّ سَبَّحَ أَھْلُ السَّمَائِ الَّذِیْنَیَلُوْنَہُمْ حَتّٰی بَلَغَ التَّسْبِیْحُ ھٰذِہٖالسَّمَائَالدُّنْیَا، ثُمَّ یَسْتَخْبِرُ أَھْلُ السَّمَائِ الَّذِیْنَیَلُوْنَ حَمَلَۃَ الْعَرْشِ فَیَقُوْلُ الَّذِیْنَ یَلُوْنَ حَمَلَۃَ الْعَرْشِ لِحَمَلَۃِ الْعَرْشِ: مَاذَا قَالَ رَبُّکُمْ؟ فَیُخْبِرُوْنَہُمْ، وَیُخْبِرُ أَھْلُ کُلِّ سَمَائٍ سَمَائً حَتّٰییَنْتَہِیَ الْخَبْرُ اِلٰی ھٰذِہِ السَّمَائِ وَیَخْطِفُ الْجِنُّ السَّمْعَ فَیُرْمَوْنَ، فَمَا جَائُ وْا بِہِ عَلٰی وَجْہِہِ فَہُوَ حَقٌّ وَلٰکِنَّہُمْ یَقْذِفُوْنَ وَیَزِیْدُوْنَ۔)) (وَفِیْ لَفْظٍ: وَیَنْقُصُوْنَ) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: (یَعْنِی ابْنَ الْاِمَامِ اَحْمَدَ) قَالَ اَبِیْ: قَالَ عَبْدُ الرَّزَّاقِ: وَیَخْطِفُ الْجِنُّ وَیُرْمَوْنَ۔ (مسند احمد: ۱۸۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم صحابہ کی جماعت میں جلوہ افروز تھے، عبد الرزاق نے کہا:یہ انصاری لوگ تھے، جن کے ساتھ آپ بیٹھے ہوئے تھے، اتنے میں ایک بہت بڑا ستارہ مارا گیا، اس سے روشنی پھیل گئی، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب جاہلیت میں ایسا ہوتا تھا تو تم کیا کہتے تھے؟ انہوں نے کہا: ہم کہا کرتے تھے کہ یا تو کوئی عظیم آدمی پیدا ہوا ہے یا کوئی عظیم انسان فوت ہوا ہے۔ میں نے زہری سے کہا: کیا جاہلیت میں بھی ستارے مارے جاتے تھے؟ انہوں نے کہا: جی ہاں، لیکن جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو ان میں شدت آگئی۔ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: یہ ستارے کسی کی موت و حیات کی وجہ سے نہیں مار جاتے، اس کی وجہ یہ ہے کہ جب ہمارا ربّ تبارک و تعالیٰ کسی کام کا فیصلہ کرتا ہے تو حاملینِ عرش فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں، پھر ان کے نزدیک والے آسمان کے فرشتے سبحان اللہ کہتے ہیں،یہاں تک کہ یہ سبحان اللہ کی دلنواز صدا آسمان دنیا تک پھیل جاتی ہے، پھر آسمان والے فرشتے، اپنے قریب والے عرش بردار فرشتوں سے اطلاع حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ وہ عرش بردار فرشتوں کے قریب والے ان سے دریافت کرتے ہیں۔ تمہارے رب نے کیا کہا ہے؟ وہ انہیں خبر دیتے ہیں اور ہر ایک آسمان والے فرشتے نچلے آسمان والوں کو بتاتے ہیں،یہاں تک کہ وہ خبر آسمانِ دنیا والے فرشتوں تک پہنچ جاتی ہے،اُدھر جن چوری کرتے ہوئے اس بات میں سے کچھ حصہ اچک لیتے ہیں اور ان پر ستارے کو گرایا جاتا ہے ،جو وہ بچ بچا کر بات لے آتے ہیں، وہ تو حق ہوتی ہے، لیکن اس میں جھوٹ ملاتے ہیں اور زیادتی کرتے ہیں اور ایک روایت کے مطابق اس میں کمی کرتے ہیں۔ عبد الرزاق نے کہا: جن وحی کی بات کو اچک لیتے ہیں، لیکن پھر ان پر ستارے کو گرا دیا جاتا ہے۔

6813

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6813

Sahih

۔ (۶۸۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: کَانَ الْجِنُّ یَسْمَعُوْنَ الْوَحْیَ فَیَسْتَمِعُوْنَ الْکَلِمَۃَ فَیَزِیْدُوْنَ فِیْہَا عَشَرًا فَیَکُوْنَ مَاسَمِعُوْا حَقًّا وَمَا زَادُوْہُ بِاطِلًا وَکَانَتِ النُّجُوْمُ لَا یُرْمٰی بِہَا قَبْلَ ذَالِکَ، فَلَمَّا بُعِثَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ أَحَدُھُمْ لَا یَأْتِی مَقْعَدَہُ اِلَّا رُمِیَ بِشِہَابٍ یُحْرِقُ مَا أَصَابَ، فَشَکَوْا ذَالِکَ اِلٰی اِبْلِیْسَ فَقَالَ: مَا ھٰذَا اِلَّا مِنْ أَمْرٍ قَدْ حَدَثَ، فَبَثَّ جُنُوْدَہُ، فاِذَا ھُمْ بِالنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یُصَلِّی بَیْنَ جَبَلَیْ نَخْلَۃَ، فَأَتَوْہُ، فَأَخْبَرُوْہُ فَقَالَ: ھٰذَا الْحَدَثُ الَّذِیْ حَدَثَ فِیْ الْاَرْضِ۔ (مسند احمد: ۲۴۸۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ جن وحی سن لیا کرتے تھے اور ایک بات سن کر اس کے ساتھ دس باتوں کا ضافہ کرتے تھے، جو کچھ سنا ہوتا تھا وہ سچ ہوتا تھا اور جو اپنی طرف سے اضافہ کرتے تھے، وہ باطل ہوتا تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے پہلے شہاب ثاقب نہیں گرتے تھے، جب نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو مبعوث کیا گیا تو جنوں میں سے جو بھی اپنے ٹھکانے پر آتا تھا،شہاب ثاقب جس کو لگتا اسے جلا دیتا تھا، انہوں نے ابلیس سے اس کی شکایت کی، اس نے کہا: ضرورکوئی نئی صورت پیدا ہو گئی ہے، تب ہی ایسے ہو رہا ہے، اس نے تحقیق کے لیے اپنے لشکر پھیلا دئیے، اچانک انہوں نے دیکھا کہ آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم دو پہاڑوں کے درمیان نخلہ وادی میں نماز ادا کر رہے ہیں، وہ ابلیس کے پاس آئے اور اسے اس کی اطلاع دی، اس نے کہا: یہی وہ واقعہ ہے جو زمین میں نیا رونما ہوا ہے۔

6814

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6814

Sahih

۔ (۶۸۱۴)۔ عَنْ عَائِشَۃَ زَوْجِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَتْ: سَأَلَ اُنَاسٌ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم عَنِ الْکُہَّانِ، فَقَالَ لَھُمْ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((لَیْسُوْا بِشَیْئٍ۔)) فَقَالُوْا: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! اِنَّہُمْ یُحَدِّثُوْنَ أَحْیَانًا بِشَیْئٍیَکُوْنُ حَقًّا، فَقَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((تِلْکَ الْکَلِمَۃُ مِنَ الْحَقِّ یَخْطِفُہَا الْجِنِّیُّ فَیُقِرُّھَا فِی أُذُنِ وَلِیِّہِ قَرَّ الدَّجَاجَۃِ فَیَخْلِطُوْنَ فِیْہَا مِائَۃَ کَذْبَۃٍ۔)) (مسند احمد: ۲۵۰۷۷)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ زوجۂ رسول سیدہ عائشہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا سے روایت ہے کہ لوگوں نے رسو ل اکرم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کاہنوں کے متعلق دریافت کیاآپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ان سے فرمایا: ان کی کوئی حقیقت نہیں ہے۔ انہوں نے کہا: اے اللہ کے رسول! کبھی کبھی یہ ایسی بات کہہ جاتے ہیں، جو سچ ہوتی ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: وہ حق بات ہوتی ہے، جس کو جن اچک لیتا ہے، پھر وہ اپنے دوست کے کان میں اس طرح کڑ کڑاتے ہیں، جیسے مرغی کرتی ہے اور وہ اس میں سو جھوٹ ملاتے ہیں۔