Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 116 · Chapter 1213

شراب کی حرمت اور شرابی کی حد کے ابواب

جس آدمی سے شراب کا نشہ یا اس کی بو محسوس کی جا رہی ہو، کیا اس پر حکم ثابت ہو جائے گی، اگرچہ وہ اعتراف نہ کرے؟

2 hadiths in this chapter

6795

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6795

Zaeef

۔ (۶۷۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یَقِتْ فِی الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَکَرَ فَلَقِیَیَمِیْلُ فِیْ فَجٍّ، فَانْطُلِقَ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: فَلَمَّا حَاذٰی بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلیٰ عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ فَذَکَرُوْا ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَضَحِکَ وَقَالَ: ((قَدْ فَعَلَہَا۔)) ثُمَّ لَمْ یَأْمُرْ ھُمْ فِیْہِ بِشَیئٍ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی، سیدنا ابن عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی اور وہ اس میں اتنا مست تھا کہ ایک گلی میں لڑ کھڑا رہاتھا، اسے نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لے جایا گیا، جب وہ سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ ہاتھوں سے نکل کر سیدنا عباس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کے پیچھے سے ان کو چمٹ گیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا: کیا واقعتا اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔

6796

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6796

Sahih

۔ (۶۷۹۶)۔ عَنْ عَلْقَمَۃَ عَنْ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ مَسْعُوْدٍ أَنَّہ، قَرَأَ سُوْرَۃَیُوْسَفَ بِحِمْصَ فَقَالَ رَجُلٌ: مَاھٰکَذَا أُنْزِلَتْ، فَدَنَا مِنْہُ عَبْدُ اللّٰہِ فَوَجَدَ مِنْہُ رِیْحَ الْخَمْرِ، فَقَالَ: أَتُکَذِّبُ بِالْحَقِّ وَتَشْرَبُ الرِّجْسَ؟ لَا أَدَعُکَ حَتّٰی أَجْلِدَکَ حَدًّا، قَالَ: فَضَرَبَہُ الْحَدَّ، وَقَالَ: وَاللّٰہِ! لَھٰکَذَا أَقْرَأَنِیْہَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ۔ (مسند احمد: ۳۵۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن مسعود ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے حمص میں سورۂ یوسف پڑھی، ایک آدمی نے کہا: یہ اس طرح نازل نہیں ہوئی، سیدنا عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ جب اس کے قریب ہوئے تو اس سے شراب کی بو محسوس کی، پھر انھوں نے اس سے کہا: کیا تو حق کو جھٹلاتا ہے اور یہ گندی چیز پیتا ہے، میں تجھے حد لگائے بغیر نہیں چھوڑوں گا، پھر انھوں نے اسے حد لگائی اور کہا: اللہ کی قسم! نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے یہ سورت مجھے اسی طرح پڑھائی تھی۔