Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6795
۔ (۶۷۹۵)۔ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ أَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم لَمْ یَقِتْ فِی الْخَمْرِ حَدًّا، قَالَ ابْنُ عَبَّاسٍ: شَرِبَ رَجُلٌ فَسَکَرَ فَلَقِیَیَمِیْلُ فِیْ فَجٍّ، فَانْطُلِقَ بِہِ إِلَی النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قَالَ: فَلَمَّا حَاذٰی بِدَارِ عَبَّاسٍ انْفَلَتَ فَدَخَلَ عَلیٰ عَبَّاسٍ فَالْتَزَمَہُ مِنْ وَرَائِہِ فَذَکَرُوْا ذَالِکَ لِلنَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فَضَحِکَ وَقَالَ: ((قَدْ فَعَلَہَا۔)) ثُمَّ لَمْ یَأْمُرْ ھُمْ فِیْہِ بِشَیئٍ۔ (مسند احمد: ۲۹۶۳)
اردو ترجمہ · Urdu
۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے شراب کی حد مقرر نہیں فرمائی، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کہتے ہیں کہ ایک آدمی نے شراب پی اور وہ اس میں اتنا مست تھا کہ ایک گلی میں لڑ کھڑا رہاتھا، اسے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس لے جایا گیا، جب وہ سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر کے برابر پہنچا تو وہ ہاتھوں سے نکل کر سیدنا عباس رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوگیا اور ان کے پیچھے سے ان کو چمٹ گیا، جب لوگوں نے اس بات کا ذکر نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کیا تو آپ ہنس پڑے اور فرمایا: کیا واقعتا اس نے ایسا کیا ہے؟ پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے بارے میں کوئی حکم نہ دیا۔