Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 113 · Chapter 1192

زنا کا اقرار کرنے کے بارے میں ابواب

زنا کا اقرار کر لینے کے بعد دوبارہ اس کا انکاری ہو جانے کا بیان، اسی طرح اس شخص کا بیان کہ وہ تو ایک عورت سے زنا کرنے کا اقرار کرے، لیکن وہ عورت انکار کر دے

4 hadiths in this chapter

6711

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6711

Sahih

۔ (۶۷۱۱)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ قَالَ: کُنْتُ فِیْمَنْ رَجَمَ الرَّجُلَ یَعْنِی مَاعِزًا اِنَّا لَمَّا رَجَمْنَاہُ وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ فَقَالَ: أَیْ قَوْمِ! رُدُّوْنِی اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاِنَّ قَوْمِیْ قَتَلُوْنِیْ وَغَرُّوْنِی مِنْ نَفْسِی وَقَالُوْا: اِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم غَیْرُ قَاتِلِکَ، قَالَ: فَلَمْ نَنْزَعْ عَنْہُ حَتّٰی فَرَغْنَا مِنْہُ، قَالَ: فَلَمَّا رَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْنَا لَہُ قَوْلَہُ، فَقَالَ: ((اَلا تَرَکْتُمُ الرَّجُلَ وَجِئْتُمُوْنِی بِہِ؟)) اِنَّمَا أَرَادَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنْ یَتَثَبَّتَ فِیْ أَمْرِہِ۔ (مسند احمد: ۱۵۱۵۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میں ان افراد میں تھا، جنہوں نے ماعز کو سنگسار کیا تھا، جب ہم نے اس کو سنگسار کیا اور اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو کہا: لوگو! مجھے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس لوٹاؤ، کیونکہ میری قوم نے مجھے قتل کیا ہے، انھوں نے مجھے دھوکہ دیا ہے، لوگوں نے کہا: بیشک اللہ کے رسول تو تجھے قتل کرنے والے نہیں ہیں، پس ہم اس سے باز نہ آئے، یہاں تک کہ اس کو رجم کرنے سے فارغ ہو گئے، پھر جب ہم رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی طرف لوٹے اور اس کی بات آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو سنائی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا اور اسے میرے پاس کیوں نہیں لے آئے تھے؟ دراصل آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کا ارادہ یہ تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کے معاملے میں مزید تحقیق کر لیتے ۔

6712

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6712

Sahih

۔ (۶۷۱۲)۔ عَنْ اَبِی الْھَیْثَمِ بْنِ نَصْرِ بْنِ دَھْرٍ الْأَسْلَمِیِّ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: أَتٰی مَاعِزُ بْنُ خَالِدِ بْنِ مَالِکٍ رَجُلٌ مِنَّا رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَاسْتَوْدٰی عَلٰی نَفْسِہِ بِالزِّنَا فَاَمَرَنَا رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم بِرَجْمِہِ فَخَرَجْنَا اِلٰی حَرَّۃِ بَنِی نِیَارٍ فَرَجَمْنَاہُ فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ جَزِعَ جَزَعًا شَدِیْدًا، فَلَمَّا فَرَغْنَا مِنْہُ وَرَجَعْنَا اِلٰی رَسُوْلِ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ذَکَرْنَا لَہُ جَزَعَہُ، فَقَالَ: ((ھَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ،۔)) (مسند احمد: ۱۵۶۴۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ نصر بن دہراسلمی سے مروی ہے، وہ کہتے ہیں: ہماری قوم کا ایک آدمی ماعز بن خالد بن مالک ،نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس گیا اور اپنے نفس پر زنا کا اقرار کیا، رسول کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اس کو سنگسار کریں، پس ہم اس کو لے کر حرّۂ بنی نیار کی طرف نکلے اور اس کو رجم کیا، جب اس نے پتھروں کی تکلیف پائی تو وہ سخت بے قرار ہوا، پھر جب ہم اس کو سنگسار کر نے سے فارغ ہوئے اور نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس واپس آئے اور آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے اس کی بے قراری کا ذکر کیا تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟

6713

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6713

Sahih

۔ (۶۷۱۳)۔ عَنْ عَبْدِ الْعَزِیْزِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ عَمْرٍو الْقُرَشِیِّ قَالَ: حَدَّثَنِیْ مَنْ شَہِدَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم وَأَمَرَ بِرَجْمِ رَجُلٍ بَیْنَ مَکَّۃَ وَالْمَدِیْنَۃِ فَلَمَّا أَصَابَتْہُ الْحِجَارَۃُ فَرَّ (وَفِیْ لَفْظٍ: فَلَمَّا وَجَدَ مَسَّ الْحِجَارَۃِ خَرَجَ فَہَرَبَ) فَبَلَغَ ذَالِکَ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((فَہَلَّا تَرَکْتُمُوْہُ؟)) (مسند احمد: ۱۶۷۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ عبدالعزیز بن عبد اللہ قرشی کہتے ہیں: مجھے اس شخص نے بیان کیا،جو نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس موجود تھا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم مکہ اور مدینہ کے درمیان تھے کہ ایک آدمی کو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے سنگسار کر نے کا حکم دیا، جب اسے پتھر لگے تو وہ بھاگا، ایک روایت میں ہے: جب اس نے پتھروں کی تکلیف محسوس کی تو نکل پڑا اور بھاگ گیا، جب یہ بات نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم تک پہنچی تو آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: تم نے اسے چھوڑ کیوں نہیں دیا تھا؟

6714

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6714

Sahih

۔ (۶۷۱۴)۔ عَنْ سَہْلِ بْنِ سَعْدٍ اَنَّ رَجُلًا مِنْ أَسْلَمَ جَائَ اِلَی النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم فَقَالَ: اِنَّہُ زَنٰی بِامْرَأَۃٍ سَمَّاھَا، فَاَرْسَلَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اِلَی الْمَرْأَۃِ فَدَعَاھَا فَسَأَلَھَا عَمَّا قَالَ: فَاَنْکَرَتْ فَحَدَّہُ وَتَرَکَہَا۔ (مسند احمد: ۲۳۲۶۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا سہل بن سعد ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ بنو اسلم قبیلہ کا ایک آدمی، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے پاس آیا اور یہ اقرار کیا کہ اس نے ایک عورت کے ساتھ زنا کیا ہے، اس نے اس عورت کا نام بھی لیا، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس عورت کو بلا بھیجا اور اس سے اس برائی کے بارے میں پوچھا، اس نے انکار کر دیا، پس آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اس شخص کو حدّ لگائی اور اس خاتون کو چھوڑ دیا۔