Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 106 · Chapter 1112

فرائض کے ابواب

ذوی الارحام کی میراث کا بیان

2 hadiths in this chapter

6368

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6368

Sahih

۔ (۶۳۶۸)۔ عَنِ الْمِقْدَامِ بْنِ مَعْدِیْکَرِبَ الْکِنْدِیِّ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَنَّہُ قَالَ: ((مَنْ تَرَکَ مَالًا فَلِوَرَثَتِہِ، وَمَنْ تَرَکَ دَیْنًا أَوْضَیْعَۃً فَإِلَیَّ، وَأَنَا وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ، أَفُکُّ عَنْہُ وَأَرِثُ مَالَہُ، وَالْخَالُ وَلِیُّ مَنْ لَا وَلِیَّ لَہُ، یَفُکُّ عَنْہُ وَیَرِثُ مَالَہُ (وَفِیْ لَفْظٍ) وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَاوَارِثَ لَہُ وَأَنَا وَارِثُ مَنْ لَاوَارِثَ لَہُ أَرِثُہُ وَأَعْقِلُ عََنْہُ۔)) (مسند احمد: ۱۷۳۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا مقدام بن معدی کرب کندی ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جو ترکہ میں مال چھوڑ جائے وہ اس کے ورثاء کا ہوگا اور جس نے قرض یا چھوٹے چھوٹے بچے چھوڑے، تو میں اس کا ذمہ دار ہوں گا، جس کا کوئی سرپرست نہیں ہو گا، میں اس کا سرپرست ہوں،میں اس کی طرف سے ادائیگی کروں گا اور اس کاوارث بنوں گا، اور جس کا کوئی وارث نہیں ہوگا، اس کا ماموں اس کا وارث بنے گا اور وہی اس کی طرف سے ادائیگی کرے گا، اور اس کا وارث بنے گا۔ ایک روایت میں ہے: ماموں اس کا وارث ہو گا، جس کا کوئی وارث نہیں ہو گا اورجس کا بالکل کوئی وارث نہیں ہو گا، میں اس کا وارث بنوں گا اور اس کی طرف سے دیت ادا کروں گا۔

6369

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6369

Sahih

۔ (۶۳۶۹)۔ عَنْ اَبِیْ أُمَامَۃَ بْنِ سَہْلٍ قَالَ: کَتَبَ عُمَرُ اِلٰی اَبِیْ عُبَیْدَۃَ بْنِ الْجَرَّاحِ أَنْ عَلِّمُوْا غِلْمَانَکُمُ الْعَوْمَ وَمُقَاتِلَتَکُمُ الرَّمْیَ، فَکَانُوْا یَخْتَلِفُوْنَ اِلَی الْأَغْرَاضِ فَجَائَ سَہْمٌ غَرْبٌ اِلٰی غُلَامٍ فَقَتَلَہُ فَلَمْ یُوْجَدْ لَہُ أَصْلٌ وَکَانَ فِیْ حَجْرِ خَالٍ لَہُ فَکَتَبَ فِیْہِ اَبُوْ عُبَیْدَۃَ اِلٰی عُمَرَ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ اِلٰی مَنْ أَدْفَعُ عَقْلَہُ؟ فَکَتَبَ اِلَیْہِ عُمَرُ اَنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کَانَ یَقُوْلُ: ((اَللّٰہُ وَرَسُوْلُہُ مَوْلٰی مَنْ لَا مَوْلٰی لَہُ وَالْخَالُ وَارِثُ مَنْ لَا وَارِثَ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۳۲۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو امامہ بن سہل ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا ابو عبیدہ بن جراح ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہ طرف یہ تحریری حکم بھیجا کہ اپنے لڑکوں کو تیراکی اور جنگجوؤں کو تیر اندازی کی تعلیم دو،پس وہ لوگ اپنے اہداف کو سامنے رکھ کر نشانہ بازی کرتے تھے، ایک دن ایک تیر ایک لڑکے کو لگا اور وہ فوت ہو گیا، کوئی پتہ نہ چل سکا کہ وہ کس کی نسل سے ہے، البتہ وہ اپنے ایک ماموں کی پرورش میں تھا، سیدنا ابو عبیدہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو لکھا کہ اس لڑکے کی دیت کس کے سپرد کروں، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے جوابی خط میں لکھا کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کا کوئی سرپرست نہ ہو، اللہ اور اس کا رسول اس کے سرپرست ہوں گے اور ماموں اس کا وارث بنے گا، جس کا کوئی وارث نہ ہو۔