Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 105 · Chapter 1100

وصیتوں کے مسائل

وصیت کرنے پر رغبت دلانے، اس میںظلم کرنے کی ممانعت اور زندگی میں ہی اس کا اہتمام کرلینے کی فضیلت کا بیان

6 hadiths in this chapter

6318

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6318

Sahih

۔ (۶۳۱۸)۔ عَنْ نَافِعٍ عَنِ ابْنِ عُمَرَ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((مَاحَقُّ امْرِیئٍیَبِیْتُ لَیْلَتَیْنِ وَلَہُ مَالٌ یُرِیْدُ أَنْ یُوْصِیَ فِیْہِ اِلَّا وَوَصِیَّتُہُ مَکْتُوْبَۃٌ عِنْدَہُ۔)) (مسند احمد: ۵۱۱۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس آدمی کے پاس مال ہو اور وہ اس کے بارے میں کوئی وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کے لیے مناسب نہیں کہ وہ دو راتیں گزرنے دے، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی ہونی چاہیے۔

6319

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6319

Sahih

۔ (۶۳۱۹)۔ عَنْ سَالِمٍ عَنْ اَبِیْہِ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَا حَقُّ امْرِیئٍ مُسْلِمٍ لَہُ مَالٌ یُوْصِیْ فِیْہِیَبِیْتُ ثَلَاثًا اِلَّا وَوَصِیَّتُہُ عِنْدَہُ مَکْتُوْبَۃٌ۔)) قَالَ عَبْدُ اللّٰہِ: فَمَا بِتُّ لَیْلَۃً مُنْذُ سَمِعْتُہَا اِلَّا وَوَصِیَّتِیْ عِنْدِیْ مَکْتُوْبَۃٌ۔ (مسند احمد: ۶۱۰۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس مسلمان کے پاس مال ہو اور وہ اس میں وصیت کرنا چاہتا ہو تو اس کا یہ حق نہیں ہے کہ تین راتیں گزرنے پائیں، مگر اس کی وصیت اس کے پاس لکھی ہوئی موجود ہونی چاہیے۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کہتے ہیں: جب سے میں نےیہ حدیث سنی تو میں نے ایک رات بھی نہ گزرنے دی، مگر میری وصیت میرے پاس لکھی ہوئی موجود رہی۔

6320

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6320

Sahih

۔ (۶۳۲۰)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: سُئِلَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم أَیُّ الصَّدَقَۃِ أَفْضَلُ؟ قَالَ: ((لَتُنَبَّأَنَّ، أَنْ تَتَصَدَّقَ وَأَنْتَ صَحِیْحٌ شَحِیْحٌ َتأْمُلُ الْبَقَائَ وَتَخَافُ الْفَقْرَ وَلَاتُمْہِلْ حَتّٰی اِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُوْمَ قُلْتَ: لِفُلَانٍ کَذَا وَلِفُـلَانٍ کَذَا، اَلاَ وَقَدْ کَانَ لِفُـلَانٍ۔)) (مسند احمد: ۷۴۰۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم سے یہ سوال کیا گیا کہ کونسا صدقہ سب سے افضل ہے، آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ضرور ضرور تجھے خبر دی جاتی ہے، اس کی صورت یہ ہے کہ جب تو صدقہ کرے تو تو صحت مند ہو، لالچی ہو، زندگی کی امید ہو اور فقر و فاقے کا ڈر ہو، اور اس کام میں اتنی تاخیر نہ کر کہ جب جان حلق تک پہنچ جائے تو تو کہنا شروع کر دے کہ فلاں کو اتنا دے دو، فلاں کو اتنا دے دو، خبردار، وہ مال تو فلاں فلاں کا ہو چکا ہوتا ہے۔

6321

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6321

Zaeef

۔ (۶۳۲۱)۔ عَنْ شَہْرِ بْنِ حَوْشَبٍ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((إِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الْخَیْرِ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَاِذَا أَوْصٰی حَافَ فِیْ وَصِیَّتِہٖ فَیُخْتَمُ لَہُ بِشَّرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ النَّارَ، وَإِنَّ الرَّجُلَ لَیَعْمَلُ بِعَمَلِ أَھْلِ الشَّرِّ سَبْعِیْنَ سَنَۃً فَیَعْدِلُ فِیْ وَصِیَّتِہِ فَیُخْتَمُ لَہُ بِخَیْرِ عَمَلِہِ فَیَدْخُلُ الْجَنَّۃَ۔)) قَالَ: ثُمَّ یَقُوْلُ أَبُوْہُرَیْرَۃَ: وَاقْرَئُ وْا إِنْ شِتْمُ: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ} اِلٰی قَوْلِہِ: {وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ} (مسند احمد: ۷۷۲۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ایک آدمی ستر برس تک نیکوکار لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر جب وہ وصیت کرتا ہے اوراس میں ظلم کر جاتا ہے تواس کا خاتمہ بدتر عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ دوزخ میں داخل ہو جاتا ہے اورایک آدمی ستر برس تک برے لوگوں والے عمل کرتا ہے، مگر وہ وصیت کرنے میں عدل کر جاتا ہے، تو اس کا خاتمہ بہترین عمل پر ہوتا ہے، جس کی وجہ سے وہ جنت میں داخل ہو جاتا ہے۔ پھر سیدنا ابوہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر چاہتے ہو تو یہ آیت پڑھ لو: {تِلْکَ حُدُوْدُ اللّٰہِ وَمَنْ یُّطِعِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہ ٗیُدْخِلْہُ جَنّٰتٍ تَجْرِیْ مِنْ تَحْتِھَا الْاَنْھَارُ خَالِدِیْنَ فِیْھَا وَذَالِکَ الْفَوْزُ الْعَظِیْمُ۔ وَمَنْ یَّعْصِ اللّٰہَ وَرَسُوْلَہٗ وَیَتَعَدَّ حُدُوْدَہٗ یُدْخِلْہُ نَارًا خَالِدًا فِیْھَا وَلَہُ عَذَابٌ مُہِیْنٌ۔} یہ حدیں اللہ تعالی کی مقرر کی ہوئی ہیں اور جو اللہ تعالی کی اور اس کے رسول ( ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم ) کی فرمانبرداری کرے گا، اسے اللہ تعالی جنتوں میں لے جائے گا، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔ اور جو شخص اللہ تعالی کی اور اس کے رسول کی نافرمانی کرے اور اس کی مقررہ حدوں سے آگے نکلے اسے وہ جہنم میں ڈال دے گا، جس میں وہ ہمیشہ رہے گا، ایسوں ہی کے لیے رسوا کن عذاب ہے۔ (سورۂ نساء: ۱۳، ۱۴)

6322

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6322

Zaeef

۔ (۶۳۲۲)۔ عَنْ اَبِیْ حَبِیْبَۃَ الطَّائِیِّ قَالَ: أَوْصٰی اِلَیَّ اَخِیْ بِطَائِفَۃٍ مِنْ مَالِہِ قَالَ: فَلَقِیْتُ أَبَا الدَّرْدَائِ فَقُلْتُ: اِنَّ أَخِیْ أَوْصَانِیْ بِطَائِفَۃٍ مِنْ مَالِہِ فَأَیْنَ أَضَعُہُ؟ أَفِیْ الْفُقَرَائِ أَوْ فِی الْمُجَاہِدِیْنَ أَوْ فِی الْمَسَاکِیْنِ؟ قَالَ: أَمَّا أَنَا فَلَوْ کُنْتُ لَمْ أَعْدِلْ بِالْمُجَاھِدِیْنَ، سَمِعْتُ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَقُوْلُ: ((مَثَلُ الَّذِیْیُعْتِقُ عِنْدَ الْمَوْتِ (وَفِیْ لَفْظٍ: مَثَلُ الَّذِیْیُعْتِقُ أَوْ یَتَصَدَّقُ عِنْدَ مَوْتِہِ) مَثَلُ الَّذِیْیُہْدِیْ اِذَا شَبِعَ)) زَادَ فِیْ رِوَایَۃٍ: قَالَ اَبُوْ حَبِیْبَۃَ: فَأَصَابَنِیْ مِنْ ذٰلِکَ شَیْئٌ۔ (مسند احمد:۲۲۰۶۲)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ ابو حبیبہ طائی سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں: میرے بھائی نے کچھ مال صدقہ کرنے کی وصیت کی، میں نے سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے ملاقات کی اور ان سے دریافت کیا کہ میرے بھائی نے مجھے کچھ مال کا صدقہ کرنے کی وصیت کی تھی، اب میں وہ کس کو دوں، فقیروں کو یا مجاہدوں پر یا مسکینوں کو؟ سیدنا ابو درداء ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اگر یہ مال میرا ہوتا تو میں کسی کو مجاہدوں کے برابر نہ قرار دیتا۔ میں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے: جو شخص موت کے قریب جا کر غلام آزاد کرتا ہے یا صدقہ کرتا ہے، تو وہ اس شخص کی طرح ہے جو پہلے خود سیر ہو تا ہے اور پھر دوسروں کو دیتا ہے۔ ابو حبیبہ نے کہا: مجھے بھی اس مال میں سے کچھ ملا تھا۔

6323

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6323

Sahih

۔ (۶۳۲۳)۔ عَنْ حَکِیْمِ بْنِ قَیْسِ بْنِ عَاصِمٍ عَنْ اَبِیْہِ أَنَّہُ أَوْصٰی وَلَدَہُ عِنْدَ مَوْتِہِ قَالَ: اِتَّقُوْا اللّٰہَ عَزَّوَجَلَّ وَسَوِّدُوْا أَکْبَرَکُمْ، فَاِنَّ الْقَوْمَ اِذَا سَوَّدُوْا أَکْبَرَھُمْ خَلَفُوْا أَبَاھُمْ، فَذَکَرَ الْحَدِیْثَ، وَاِذَا مُتُّ فَـلَا تَنُوْحُوْا عَلَیَّ فَاِنَّ رَسُوْلَ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم لَمْ یُنَحْ عَلَیْہِ۔ (مسند احمد: ۲۰۸۸۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا قیس بن عاصم ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے موت کے قریب اپنے بیٹوں کو یہ وصیت کی کہ: اللہ تعالی سے ڈرتے رہنااور اپنے میں سے سب سے بڑے آدمی کو سردار مقرر کرنا، بیشک لوگ جب بڑے کو سردار مقرر کرتے ہیں، تو وہ اپنے باپ کا جانشین بنا لیتے ہیں اور جب مجھے موت آ جائے تو مجھ پر نوحہ نہ کرنا، کیونکہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم پر نوحہ نہیں کیا گیا تھا۔