Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 104 · Chapter 1098

وقف کی کتاب

وقف کے جواز، اس کی فضیلت اورغیر منقسم اور منقول چیز کے وقف کا بیان

5 hadiths in this chapter

6312

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6312

Sahih

۔ (۶۳۱۲)۔ عَنْ أَبِیْ ھُرَیْرَۃَ اَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم قَالَ: ((اِذَا مَاتَ ابْنُ آدَمَ انْقَطَعَ عَمَلُہُ اِلَّا مِنْ ثَلَاثَۃٍ، اِلَّا مِنْ صَدَقَۃٍ جَارِیَۃٍ، أَوْ عِلْمٍ یُنْتَفَعُ بِہٖأَوْوَلَدٍصَالِحٍیَدْعُوْ لَہُ۔)) (مسند احمد: ۸۸۳۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا ابو ہریرہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب ابن آدم فوت ہو جاتا ہے تو تین اعمال کے علاوہ اس کے تمام اعمال کا سلسلہ منقطع ہو جاتا ہے، ایک صدقہ جاریہ، دوسرا وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور تیسرا وہ نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔

6313

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6313

Sahih

۔ (۶۳۱۳)۔ عَنِ ابْنِ عُمَرَ اَنَّ عُمَرَ بْنَ الْخَطَّابِ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ ‌ أَصَابَ أَرْضًا مِنْ یَہُوْدِ بَنِیْ حَارِثَۃَیُقَالُ لَھَا: ثَمْغٌ، فَقَالَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنِّیْ أَصَبْتُ مَالًا نَفِیْسًا اُرِیْدُ أَنْ أَتَصَدَّقَ بِہٖ،قَالَ: فَجَعَلَہَاصَدَقَۃً لَا تُبَاعُ وَلَا تُوْھَبُ وَلَا تُوْرَثُ، یَلِیْہَا ذَوُوْ الرَّأْیِ مِنْ آلِ عُمَرَ، فَمَا عَفَا مِنْ ثَمَرَتِہَا جَعَلَھَا فِیْ سَبِیْلِ اللّٰہِ تَعَالٰی وَابْنِ السَّبِیْلِ وَفِی الرِّقَابِ وَالْفُقَرَائِ وَلِذِی الْقُرْبٰی وَالضَّیْفِ، وَلَیْسَ عَلٰی مَنْ وَلِیَہَا جُنَاحٌ اَنْ یَاْکُلَ بِالْمَعْرُوْفِ أَوْ یُؤْکِلَ صَدِیْقًا غَیْرَ مُتَمَوِّلٍ مِنْہُ، قَالَ حَمَّادٌ: فَزَعَمَ عَمْرُو بْنُ دِیْنَارٍ أَنَّ عَبْدَ اللّٰہِ بْنَ عُمَرَ کَانَ یُہْدِیْ إِلٰی عَبْدِ اللّٰہِ بْنِ صَفْوَانَ مِنْہُ، قَالَ: فَتَصَدَّقَتْ حَفْصَۃُ بِأَرْضٍ لَھَا عَلٰی ذٰلِکَ وَتَصَدَّقَ ابْنُ عُمَرَ بِأَرْضٍ لَہُ عَلٰی ذٰلِکَ وَوَلِیَتْہَا حَفْصَۃُ۔ (مسند احمد: ۶۰۷۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے بنی حارثہ کے یہودیوں سے ثمغ نامی جو زمین حاصل کی تھی، اس کے بارے میں انھوں نے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کی خدمت میں یہ گزارش کی: اے اللہ کے رسول! مجھے بڑا نفیس اور عمدہ مال ملا ہے، میں اس کو صدقہ کرنا چاہتا ہوں، پھر آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم کے حکم کے مطابق انھوں نے اس کو اس طرح صدقہ کیا کہ نہ اس کو بیچا جائے گا، نہ ہبہ کیا جائے گا اور نہ یہ کسی کے ورثے میں آئے گی، سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی آل کے سمجھ دار لوگ اس کی سرپرستی کریں گے، جو مال اس کے خرچ سے زائد ہوگا، اس کو اللہ تعالیٰ کی راہ، مسافروں، غلاموں کو آزاد کرنے، فقراء، رشتہ داروں اور مہمانوں پر خرچ کیا جائے گا۔ اس کا نگران اچھے طریقے سے اس سے خود بھی کھا لے اور مہمان کو بھی کھلا لے، لیکن اس سے مال بنانے کی کوشش نہ کرے۔ حماد کہتے ہیں کہ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما ، سیدنا عبد اللہ بن صفوان ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کو اسی زمین سے تحفہ بھیجا کرتے تھے۔ سیدہ حفصہ بنت عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما اور سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما نے بھی اپنے باپ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کی طرح اپنی اپنی زمین صدقہ کر دی تھیں، سیدنا ابن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما کی زمین کی نگران خود سیدہ حفصہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہا ہی تھیں۔

6314

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6314

Sahih

۔ (۶۳۱۴)۔ وَ عَنْہُ اَیْضًا قَالَ: اَوَّلُ صَدَقَۃٍ کَانَتْ فِیْ الْاِسْلَامِ صَدَقَۃُ عُمَرَ، فَقَالَ لَہُ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((احْبِسْ اُصُوْلَھَا وَسَبِّلْ ثَمَرَتَہَا۔)) (مسند احمد: ۶۴۶۰)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ اسلا م میں سب سے پہلا صدقہ سیدنا عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کا کیا ہوا تھا، ان سے رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: ان کھجوروں کی اصل کو روک لواور ان کے پھلوں کو اللہ تعالیٰ کے راستے میں خیرات کر دو۔

6315

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6315

Sahih

۔ (۶۳۱۵)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا أَنَّ النَّبِیَّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم حَمَی النَّقِیْعَ لِلْخَیْلِ، قَالَ حَمَّادٌ: فَقُلْتُ لَہُ: لِخَیْلِہِ؟ قَالَ: لَا، لِخَیْلِ الْمُسْلِمِیْنَ۔ (مسند احمد: ۶۴۳۸)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا عبد اللہ بن عمر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے نقیع کی چراگاہ کو گھوڑوں کے لئے خاص کر دیا تھا۔ حماد کہتے ہیں: میں نے پوچھا کہ کیا آپ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے اپنے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی، انھوں نے کہا: جی نہیں، مسلمانوں کے گھوڑوں کے لئے خاص کی تھی۔

6316

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6316

Sahih

۔ (۶۳۱۶)۔ عَنْ اَنَسِ بْنِ مَالِکٍ قَالَ: کَانَ اَبُوْطَلْحَۃَ أَکْثَرَ الْأَنْصَارِ بِالْمَدِیْنَۃِ مَالًا وَکَانَ أَحَبَّ أَمْوَالِہِ إِلَیْہِ بَیْرُحَائُ وَکَانَتْ مُسْتَقْبِلَۃَ الْمَسْجِدِ، وَکَانَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم یَدْخُلُہَا وَیَشْرَبُ مِنْ مَائٍ فِیْہَا طَیِّبٍ، قَالَ أَنَسٌ: فَلَمَّا نَزَلَتْ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} قَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! إِنَّ اللّٰہَ تَعَالٰییَقُوْلُ: {لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} وَإِنَّ أَحَبَّ أَمْوَالِیْ إِلَیَّ بَیْرُحَائُ وَاِنَّہَا صَدَقَۃٌ لِلّٰہِ، أَرْجُوْ بِہَا بِرَّھَا وَذُخْرَھَا عِنْدَ اللّٰہِ تَعَالٰی، فَضَعْہَا یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! حَیْثُ أَرَاکَ اللّٰہُ، فَقَالَ النَّبِیُّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((بَخٍ، بَخٍ ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ، ذَاکَ مَالٌ رَابِحٌ وَقَدْ سَمِعْتُ، وَأَنَا أَرٰی أَنْ تَجْعَلَہَا فِی الْاَقْرَبِیْنَ۔)) فَقَالَ اَبُوْ طَلْحَۃَ: اَفْعَلُ یَا رَسُوْلَ اللّٰہِ! فَقَسَمَہَا اَبُوْ طَلْحَۃَ فِیْ أَقَارِبِہِ وَبَنِیْ عَمِّہِ۔ (مسند احمد: ۱۲۴۶۵)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا انس بن مالک ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے روایت ہے کہ مدینہ کے انصاریوں میں سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سب سے زیادہ مال والے تھے اورانہیں بیرحاء والا مال سب سے زیادہ پسند تھا، یہ مسجد نبوی کے بالکل سامنے تھا، نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم اس میں جاتے اور اس کا شیریں پانی پیتے رہتے تھے۔ سیدنا انس ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ کہتے ہیں: جب یہ آیت نازل ہوئی کہ تم اس وقت تک نیکی کو نہیں پہنچ سکتے، جب تک تم اپنی پسندیدہ چیز کو خرچ نہیں کرو گے۔ سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے کہ {لَنْ تَنَالُو الْبِرَّ حَتّٰی تُنْفِقُوْا مِمَّا تُحِبُّوْنَ} اور بیرحاء کا مال مجھے سب سے زیادہ پسند ہے، لہٰذا میں اسے رضائے الٰہی کے لئے صدقہ کر تا ہوں اورمجھے اس کی نیکی اور اللہ تعالی کے ہاں ذخیرۂ آخرت بننے کی امید ہے۔ اے اللہ کے رسول! جہاں آپ اللہ تعالی کی توفیق سے مناسب سمجھتے ہیں، اس کو خرچ کر دیں۔ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: واہ، واہ، یہ تو بہت نفع بخش مال ہے، میں نے اس کے بارے میں سن لیا تھا، اب میرا خیال یہ ہے کہ تو اس کو قریبی رشتہ داروں میں تقسیم کر دے۔ یہ سن کر سیدنا ابو طلحہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ نے کہا: جی اے اللہ کے رسول! میں ایسے ہی کروں گا، پھر اس باغ کو اپنے رشتہ داروں اور چچوں کے بیٹوں میں تقسیم کر دیا۔