Muslim99Muslim99

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi · Book 101 · Chapter 1080

شفعہ کے مسائل

شفعہ کے حکم کا بیان

3 hadiths in this chapter

6220

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6220

Sahih

۔ (۶۲۲۰)۔ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللّٰہِ عَنِ النَّبِیِّ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((اَیُّکُمْ کَانَتْ لَہُ أَرْضٌ أَوْ نَخْلٌ فَـلَا یَبِیْعُہَا حَتّٰییَعْرِضَہَا عَلٰی شَرِیْکِہِ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۴۳)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدناجابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے روایت ہے کہ نبی کریم ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جس کی کوئی زمین یا کھجوریں ہوں، تو وہ ان کو اس وقت تک فروخت نہ کرے، جب تک کہ اپنے شریک پر پیش نہ کر دے۔

6221

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6221

Sahih

۔ (۶۲۲۱)۔ (وَعَنْہُ مِنْ طَرِیْقٍ ثَانٍ) قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ بَیْنَہُ وَبَیْنَ أَخِیْہِ مُزَارَعَۃٌ فَأَرَادَ أَنْ یَبِیْعَہَا فَلْیَعْرِضْہَا عَلٰی صَاحِبِہِ فَہُوَ أَحَقُّ بِہَا بِالثَّمَنِ۔)) (مسند احمد: ۱۵۱۶۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ (دوسری سند) سیدنا جابر بن عبد اللہ ‌رضی ‌اللہ ‌عنہما سے یہ بھی مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کسی آدمی اور اس کے بھائی کے مابین مزارعت میں شراکت ہو اور ان میں سے ایک اپنا حصہ فروخت کرنا چاہتا ہو تو وہ پہلے اسے اپنے شریک پر پیش کرے کیونکہ وہ اس کو قیمت کے ساتھ لینے کا زیادہ حق دار ہے۔

6222

Fatah Al-Rabani Musnad Ahmad Fiqhi #6222

Sahih

۔ (۶۲۲۲)۔ وَعَنْہُ أَیْضًا قَالَ: قَالَ رَسُوْلُ اللّٰہِ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم : ((مَنْ کَانَ شَرِیْکًا فِیْ رَبْعَۃٍ أَوْ نَخْلٍ فَلَیْسَ لَہُ أَنْ یَبِیْعَ حَتّٰییُؤْذِنَ شَرِیْکَہَ فَاِنْ رَضِیَ أَخَذَ وَاِنْ کَرِہَ تَرَکَ۔)) (مسند احمد: ۱۴۳۹۱)

اردو ترجمہ · Urdu

۔ سیدنا جابر ‌رضی ‌اللہ ‌عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ‌صلی ‌اللہ ‌علیہ ‌وآلہ ‌وسلم نے فرمایا: جب کوئی کسی کے گھر میں یا کھجور میں شریک ہو تو اس کے لئےیہ جائز نہیں ہے کہ وہ شریک کو بتلائے بغیر اپنے حصے کو فروخت کر دے، (اسے چاہیے کہ وہ پہلے اپنے شریک کو بتائے)، اگر وہ پسند کرے تو لے لے اور اگر ناپسند کرے تو چھوڑ دے۔