Muslim99Muslim99

Al Mustadrak · Book 5 · Chapter 5

جمعہ کا بیان

30 hadiths in this chapter

1026

Al Mustadrak #1026

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ أَبِي الزِّنَادِ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ مُوسَى بْنِ أَبِي عُثْمَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «سَيِّدُ الْأَيَّامِ يَوْمُ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُدْخِلَ الْجَنَّةَ، وَفِيهِ أُخْرِجَ مِنْهَا، وَلَا تَقُومُ السَّاعَةُ إِلَّا يَوْمَ الْجُمُعَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ اسْتَشْهَدَ بِعَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي الزِّنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَا «سَيِّدُ الْأَيَّامِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1026 - واستشهد مسلم بابن أبي الزناد

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جمعہ کا دن ، دنوں کا سردار ہے ۔ اسی میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی ، اسی میں ان کو جنت میں داخل کیا گیا ، اسی دن ان کو جنت سے نکالا گیا اور قیامت بھی جمعہ کے دن قائم ہو گی ۔

1027

Al Mustadrak #1027

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يُوسُفَ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو تَوْبَةَ الرَّبِيعُ بْنُ نَافِعٍ الْحَلَبِيُّ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ، حَدَّثَنِي أَبُو مَعْبَدٍ حَفْصُ بْنُ غَيْلَانَ، عَنْ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِي مُوسَى الْأَشْعَرِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ اللَّهَ يَبْعَثُ الْأَيَّامَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى هَيْأَتِهَا، وَيَبْعَثُ الْجُمُعَةَ زَهْرَاءَ مُنِيرَةً، أَهْلُهَا يَحُفُّونَ بِهَا كَالْعَرُوسِ تُهْدَى إِلَى كَرِيمِهَا تُضِيءُ لَهُمْ، يَمْشُونَ فِي ضَوْئِهَا، أَلْوَانُهُمْ كَالثَّلْجِ بَيَاضًا، وَرِيحُهُمْ يَسْطَعُ كَالْمِسْكِ، يَخُوضُونَ فِي جِبَالِ الْكَافُورِ، يَنْظُرُ إِلَيْهِمُ الثَّقَلَانِ لَا يُطْرِقُونَ تَعَجُّبًا حَتَّى يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، لَا يُخَالِطُهُمْ أَحَدٌ إِلَّا الْمُؤَذِّنُونَ الْمُحْتَسِبُونَ» هَذَا حَدِيثٌ شَاذُّ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ «فَإِنَّ أَبَا مُعَيْدٍ مِنْ ثِقَاتِ الشَّامِيِّينَ الَّذِينَ يُجْمَعُ حَدِيثُهُمْ، وَالْهَيْثَمُ بْنُ حُمَيْدٍ مِنْ أَعْيَانِ أَهْلِ الشَّامِ غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَانِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ عَنْهُمَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1027 - خبر شاذ صحيح السند

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ قیامت کے دن دنوں کو شکلوں میں اٹھائے گا اور جمعہ کے دن کو ایک چمکدار سیارے کی طرح اٹھائے گا ، جس کے سامنے دوسرے ماند پڑ جائیں گے جیسا کہ دلہن اپنے شوہر کی طرف روانہ ہوتی ہے تو ان کے لیے روشنی کی جاتی ہے اور اس کی روشنی میں سب لوگ چلتے ہیں ان کے رنگ برف کی طرح سفید ہوں گے ، ان کی خوشبو مشک کی طرح پھیلے گی ، کافور کے پہاڑوں میں وہ چلیں گے ، تمام جن و انس ان کی طرف دیکھیں گے ۔ یہاں تک کہ جنت میں داخل ہو جائیں گے ان کے ساتھ اور کوئی شریک نہیں ہو گا ، سوائے ان لوگوں کے جو ثواب کی نیت سے اذانیں دیتے رہے ۔

1028

Al Mustadrak #1028

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ مُوسَى الْقَاضِي إِمْلَاءً، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ الزَّهْرَانِيُّ، وَيَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ قَالَا: ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ أَبِي مَعْشَرٍ، عَنْ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ عَلْقَمَةَ، عَنْ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ، وَكَانَ قَرْثَعٌ مِنَ الْقُرَّاءِ الْأَوَّلِينَ عَنْ سَلْمَانَ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا سَلْمَانُ، مَا يَوْمُ الْجُمُعَةِ؟» قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ: «يَا سَلْمَانُ، يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ جَمَّعَ أَبُوكَ أَوْ أَبُوكُمْ، وَأَنَا أُحَدِّثُكَ عَنْ يَوْمِ الْجُمُعَةِ، مَا مِنْ رَجُلٍ يَتَطَهَّرُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَمَا أُمِرَ، ثُمَّ يَخْرُجُ مِنْ بَيْتِهِ حَتَّى يَأْتِيَ الْجُمُعَةَ فَيَقْعُدُ وَيُنْصِتُ حَتَّى يَقْضِيَ صَلَاتَهُ إِلَّا كَانَ كَفَّارَةً لِمَا قَبْلَهُ مِنَ الْجُمُعَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَاحْتَجَّ الشَّيْخَانِ بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ غَيْرَ قَرْثَعٍ، سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْقَارِئَ، يَقُولُ: أَرَدْتُ أَنْ أَجْمَعَ مَسَانِيدَ قَرْثَعٍ الضَّبِّيِّ فَإِنَّهُ مِنْ زُهَّادِ التَّابِعِينَ، فَلَمْ يُسْنِدْ تَمَامَ الْعَشَرَةِ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1028 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سلمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے سلمان ! جمعہ کا دن کیا ہے ؟ میں نے کہا : اللہ اور اس کا رسول بہتر جانتے ہیں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اے سلمان ! جمعہ کا دن وہ ہے جس میں تیرا باپ یا ( شاید یہ کہا ) تمہارا باپ پیدا ہوا اور میں تجھے جمعہ کے دن کی فضیلت بتاتا ہوں ، جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے جس طرح اس کا حکم دیا گیا پھر وہ اپنے گھر سے نکلے یہاں تک کہ جمعہ پڑھنے آئے تو وہ بیٹھا رہے اور خاموش رہے یہاں تک کہ نماز مکمل ہو جائے تو یہ عمل اس کے ان گناہوں کا کفارہ بن جائے گا جو اس نے گزشتہ جمعہ سے اس جمعہ تک کیے ۔

1029

Al Mustadrak #1029

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ مِنْ أَفْضَلِ أَيَّامِكُمْ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ قُبِضَ، وَفِيهِ النَّفْخَةُ، وَفِيهِ الصَّعْقَةُ، فَأَكْثِرُوا عَلَيَّ مِنَ الصَّلَاةِ فِيهِ فَإِنَّ صَلَاتَكُمْ مَعْرُوضَةٌ عَلَيَّ» . قَالُوا: وَكَيْفَ صَلَاتُنَا تُعْرَضُ عَلَيْكَ وَقَدْ أَرِمْتَ؟ قَالَ: «إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ قَدْ حَرَّمَ عَلَى الْأَرْضِ أَنْ تَأْكُلَ أَجْسَادَ الْأَنْبِيَاءِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1029 - على شرط البخاري

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت اوس بن اوس ثقفی کہتے ہیں : مجھے رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : فضیلت والے دنوں میں سے جمعہ کا دن بھی ہے کہ اسی میں آدم علیہ السلام کی تخلیق ہوئی ، اسی میں آپ کی روح قبض ہوئی ، اسی دن قیامت آئے گی ، اسی دن اٹھایا جائے گا ، اس لیے جمعہ کے دن مجھ پر کثرت سے درود پڑھا کرو ، اس لیے کہ تمہارا درود مجھ پر پیش کیا جاتا ہے ، صحابہ نے عرض کی جب آپ وفات پا جائیں گے تو پھر ہمارا درود آپ پر کس طرح پیش کیا جائے گا ؟ تو آپ ﷺ نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے زمین پر انبیاء کے جسموں کو کھانا حرام کر دیا ہے ۔

1030

Al Mustadrak #1030

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ الشَّافِعِيُّ، أَنْبَأَ مَالِكٌ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عِيسَى الْبَرْتِيُّ، وَإِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، قَالَا: ثنا الْقَعْنَبِيُّ، عَنْ مَالِكٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ مَالِكٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْهَادِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ فِيهِ خُلِقَ آدَمُ، وَفِيهِ أُهْبِطَ، وَفِيهِ تِيبَ عَلَيْهِ، وَفِيهِ مَاتَ، وَفِيهِ تَقُومُ السَّاعَةُ، وَمَا مِنْ دَابَّةٍ إِلَّا وَهِيَ مُصِيخَةٌ يَوْمَ الْجُمُعَةِ مِنْ حِينِ يُصْبَحُ حَتَّى الشَّمْسَ شَفَقًا مِنَ السَّاعَةِ إِلَّا الْجِنَّ وَالْإِنْسَ، وَفِيهَا سَاعَةٌ لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» قَالَ كَعْبٌ: ذَلِكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ يَوْمٌ؟ فَقُلْتُ: بَلْ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ، قَالَ فَقَرَأَ كَعْبٌ التَّوْرَاةَ، فَقَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَّامٍ، فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: «قَدْ عَلِمْتُ أَيَّةَ سَاعَةٍ هِيَ؟» قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: فَقُلْتُ لَهُ فَأَخْبَرَنِي بِهَا. فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: «هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ» . فَقُلْتُ: كَيْفَ هِيَ آخِرُ سَاعَةٍ فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ؟ وَقَدْ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا يُصَادِفُهَا عَبْدٌ مُسْلِمٌ وَهُوَ يُصَلِّي» وَتِلْكَ السَّاعَةُ لَا يُصَلَّى فِيهَا؟ فَقَالَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ سَلَامٍ: أَلَمْ يَقُلْ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ جَلَسَ مَجْلِسًا يَنْتَظِرُ الصَّلَاةَ فَهُوَ فِي صَلَاةٍ حَتَّى يُصَلِّيَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ إِنَّمَا اتَّفَقَا عَلَى أَحْرُفٍ مِنْ أَوَّلِهِ «فِي حَدِيثِ الْأَعْرَجِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ» خَيْرُ يَوْمٍ طَلَعَتْ فِيهِ الشَّمْسُ يَوْمُ الْجُمُعَةِ «، وَقَدْ تَابَعَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ يَزِيدَ بْنَ الْهَادِ عَلَى رِوَايَتِهِ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ بِالزِّيَادَاتِ فِيهِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1030 - على شرطهما

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جن دنوں میں سورج طلوع ہوتا ہے ان میں سب سے بہترین دن جمعہ ہے ، اسی میں آدم علیہ السلام کو پیدا کیا گیا ، اسی دن آپ کو زمین پر اتارا گیا ، اسی دن آپ کو توبہ قبول کی گئی ، اسی دن آپ کی وفات ہوئی اور اسی میں قیامت ہو گی اور ہر جانور جمعہ کے دن صبح سے لے کر شام تک قیامت سے گھبرا کر چیخیں مارتا ہے ، سوائے انسان اور جنات کے اور اس دن ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ اگر بندہ نماز کی حالت میں اس کو پا لے تو جو چیز اللہ سے مانگے گا ، اللہ تعالیٰ اس کو عطا فرمائے گا ۔ کعب کہتے ہیں : کیا یہ ساعت ہر سال میں ایک مرتبہ آتی ہے میں نے کہا : بلکہ ہر جمعہ میں آتی ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : اس پر کعب نے تورات پڑھی اور کہا : اللہ کے رسول ﷺ نے سچ فرمایا ۔ ابوہریرہ کہتے ہیں : پھر میری ملاقات عبداللہ بن سلام سے ہوئی تو میں نے ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس کا ذکر کیا عبداللہ بن سلام نے کہا : میں جانتا ہوں کہ وہ کان سی ساعت ہے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے ان سے کہا : کہ وہ ساعت مجھے بھی بتائیے ۔ تو عبداللہ بن سلام نے کہا : یہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت ہے ، میں نے کہا : یہ جمعہ کے دن کی آخری ساعت کیسے ہو سکتی ہے جبکہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا ہے :’’ جو بندہ حالت نماز اس ساعت کو پائے ‘‘ جبکہ اس وقت میں تو نماز پڑھی ہی نہیں جاتی ، عبداللہ بن سلام نے کہا : کیا رسول اللہ ﷺ نے نہیں فرمایا ؟ کہ جو آدمی نماز کے انتظارمیں بیٹھا ہو تو وہ نماز ہی میں ہے یہاں تک کہ وہ نماز پڑھ لے ۔

1031

Al Mustadrak #1031

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيٍّ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ حَازِمٍ الْغِفَارِيُّ، ثنا يَعْلَى بْنُ عُبَيْدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ الْحَارِثِ التَّيْمِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: جِئْتُ الطُّورَ فَلَقِيتُ هُنَاكَ كَعْبَ الْأَحْبَارِ فَحَدَّثْتُهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَحَدَّثَ عَنِ التَّوْرَاةِ، فَمَا اخْتَلَفَا حَتَّى مَرَرْتُ بِيَوْمِ الْجُمُعَةِ قَالَ: قُلْتُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ سَاعَةٌ لَا يُوَافِقُهَا مُؤْمِنٌ وَهُوَ يُصَلِّي يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا أَعْطَاهُ إِيَّاهُ» قَالَ كَعْبٌ: تِلْكَ فِي كُلِّ سَنَةٍ؟ فَقُلْتُ: مَا كَذَلِكَ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَجَعَ فَتَلَا ثُمَّ، قَالَ: صَدَقَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي كُلِّ جُمُعَةٍ قَالَ: أَبُو هُرَيْرَةَ، ثُمَّ لَقِيتُ عَبْدَ اللَّهِ بْنَ سَلَامٍ فَحَدَّثْتُهُ بِمَجْلِسِي مَعَ كَعْبٍ، «فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ مَالِكٍ»

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، میں طور پر گیا وہاں پر میری ملاقات کعب الاحبار سے ہوئی ۔ میں نے اس کو رسول اللہ ﷺ کی احادیث سنائی اور وہ مجھے تورات کی باتیں سناتا رہا اور ہمارے درمیان کسی بات پر اختلاف بھی نہ ہوا یہاں تک کہ جمعہ کا دن آ گیا ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : ہر جمعہ میں ایک ایسی ساعت آتی ہے کہ اگر بندہ مومن اس کو حالت نماز میں گزارے تو وہ اللہ سے جو مانگے گا ، اللہ تعالیٰ عطا کرے گا ۔ کعب نے کہا : یہ ساعت ہر سال میں ایک مرتبہ آتی ہے ، میں نے کہا : رسول اللہ ﷺ نے اس طرح نہی فرمایا ، اس نے دوبارہ تورات کی تلاوت کی پھر کہنے لگا : رسول اللہ ﷺ نے سچ کہا ( واقعی یہ ساعت ) ہر جمعہ میں ہوتی ہے ۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : پھر میں عبداللہ بن سلام سے ملا اور ان کو کعب کے ساتھ اپنی مجلس کے بارے میں بتایا : پھر اس کے آگے مالک کی حدیث کی طرح حدیث ذکر کی ۔

1032

Al Mustadrak #1032

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ مُحَمَّدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ صَالِحٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، أَنَّ الْجُلَاحَ بْنَ كَثِيرٍ، أَخْبَرَهُ أَنَّ أَبَا سَلَمَةَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ حَدَّثَهُ عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ قَالَ: «يَوْمُ الْجُمُعَةِ اثْنَتَا عَشْرَةَ سَاعَةً، وَلَا يُوجَدُ عَبْدٌ مُسْلِمٌ يَسْأَلُ اللَّهَ شَيْئًا إِلَّا آتَاهُ اللَّهُ، فَالْتَمِسُوهَا آخِرَ السَّاعَةِ بَعْدَ الْعَصْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِالْجُلَاحِ بْنِ كَثِيرٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1032 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جمعہ کے دن بارہ ساعتیں ایسی آتی ہیں جن کو کوئی مسلمان بندہ پا لے تو اللہ سے جو مانگے گا ، اللہ تعالیٰ عطا کرے گا ( ان ساعتوں میں سے ) آخری ساعت کو عصر کے بعد تلاش کرو ۔

1033

Al Mustadrak #1033

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي دَاوُدَ الْمُنَادِي، ثنا يُونُسُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمُؤَدِّبُ، ثنا فُلَيْحُ بْنُ سُلَيْمَانَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، قَالَ: قُلْتُ: وَاللَّهِ لَوْ جِئْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَأَلْتُهُ عَنْ هَذِهِ السَّاعَةِ لَعَلَّهُ أَنْ يَكُونَ عِنْدَهُ مِنْهَا عِلْمٌ، فَأَتَيْتُهُ فَقُلْتُ: يَا أَبَا سَعِيدٍ، إِنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ حَدَّثَنَا عَنِ السَّاعَةِ الَّتِي فِي يَوْمِ الْجُمُعَةِ فَهَلْ عِنْدَكَ مِنْهَا عِلْمٌ؟ فَقَالَ: سَأَلْنَا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْهَا، فَقَالَ: «إِنِّي كُنْتُ أَعْلَمُهَا، ثُمَّ أُنْسِيتُهَا كَمَا أُنْسِيتُ لَيْلَةَ الْقَدْرِ» ، ثُمَّ خَرَجْتُ مِنْ عِنْدِهِ فَدَخَلْتُ عَلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَامٍ، ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ «وَهَذَا شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ لِحَدِيثِ يَزِيدَ بْنِ الْهَادِ، وَمُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1033 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے کہا : خدا کی قسم ! اگر میرا کبھی ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ سے ملنا ہوا تو میں ان سے اس ساعت کے بارے میں ضرور پوچھوں گا ۔ ہو سکتا ہے ان کو اس ساعت کے بارے میں کچھ معلوم ہو ۔ ( ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ) پھر میں ان کے پاس گیا تو ان سے کہا : اے ابوسعید ! ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں اس ساعت کے بارے میں حدیث بیان کی ہے جو جمعہ کے دن کے بارے میں ہے ، کیا آپ کے پاس اس سلسلے میں کوئی معلومات ہیں ؟ انہوں نے جواب دیا : ہم نے اس کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے پوچھا تھا : تو آپ ﷺ نے ہمیں جواب دیا ۔ میں اس ساعت کو جانتا تھا لیکن پھر مجھے یہ بھلا دی گئی ، جس طرح کے لیلۃ القدر مجھے بھلا دی گئی ہے پھر میں ان کے پاس سے نکلا اور عبداللہ بن سلام کے پاس گیا پھر اس کے بعد پوری حدیث بیان کی ۔

1034

Al Mustadrak #1034

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ:، حَدَّثَنِي عَبِيدَةُ بْنُ سُفْيَانَ الْحَضْرَمِيُّ، عَنْ أَبِي الْجَعْدِ الضَّمْرِيِّ، وَكَانَتْ لَهُ صُحْبَةٌ: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَرَكَ ثَلَاثَ جُمِعٍ تَهَاوُنًا بِهَا طَبَعَ اللَّهُ عَلَى قَلْبِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1034 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوجعد ضمری رضی اللہ عنہ کو رسول پاک ﷺ کی محبت حاصل ہے ۔ آپ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص تین جمعے سستی کی وجہ سے چھوڑ دیتا ہے ، اللہ تعالیٰ اس کے دل پر مہر لگا دیتا ہے ۔

1035

Al Mustadrak #1035

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ بِمَرْوَ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ هَمَّامُ بْنُ يَحْيَى، ثنا قَتَادَةُ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ الْجُعْفِيِّ، عَنْ سَمُرَةَ بْنِ جُنْدُبٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ تَرَكَ الْجُمُعَةَ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِينَارٍ، فَإِنْ لَمْ يَجِدْ فَبِنِصْفِ دِينَارٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرَّجْ لِخِلَافٍ فِيهِ لِسَعِيدِ بْنِ بَشِيرٍ وَأَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ فَإِنَّهُمَا قَالَا: عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُرْسَلًا "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1035 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سمرہ بن جندب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جس نے بلاعذر جمعہ چھوڑا ، وہ ایک دینار صدقہ کرے اگر اتنا نہ ہو تو آدھا دینار ۔

1036

Al Mustadrak #1036

See Details

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ عَبْدِ الْوَاحِدِ، ثنا أَبُو الْجُمَاهِرِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ بَشِيرٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا أَبُو هِشَامٍ مُحَمَّدُ بْنُ يَزِيدَ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ، عَنْ أَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ قُدَامَةَ بْنِ وَبَرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ فَاتَتْهُ الْجُمُعَةُ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ فَلْيَتَصَدَّقْ بِدِرْهَمٍ، أَوْ نِصْفِ دِرْهَمٍ، أَوْ صَاعِ حِنْطَةٍ، أَوْ نِصْفِ صَاعٍ» هَذَا لَفْظُ حَدِيثِ الْعَنْبَرِيِّ، وَلَمْ يَزِدْنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ فِيهِ عَلَى الْإِرْسَالِ "

اردو ترجمہ · Urdu

" شعید بن بشیر اور ایوب بن العلاء کی مرسل سند کے ساتھ قدامہ بن وبرہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا : جو شخص بلاعذر ایک جمعہ چھوڑ دے وہ ایک یا آدھا درہم صدقہ کرے یا ایک یا آدھا صاع گندم صدقہ کرے ۔

1037

Al Mustadrak #1037

See Details

أَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ هَمَّامٍ، عَنْ قَتَادَةَ، وَخَلَّادِ بْنِ الْعَلَاءِ إِيَّاهُ فِيهِ، فَقَالَ: هَمَّامٌ عِنْدَنَا أَحْفَظُ مِنْ أَيُّوبَ بْنِ الْعَلَاءِ

اردو ترجمہ · Urdu

( امام حاکم رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں ) ابوبکر محمد بن احمد بن بالویہ کہتے ہیں : کہ ہمیں عبداللہ بن احمد بن حنبل رحمۃ اللہ علیہ نے بتایا کہ میں نے یہ بات اپنے والد سے سنی ہے ، جب ان سے ہمام کی قتادہ سے اور خلاد بن العلاء کی ، ان سے روایت کے سلسلے میں پوچھا گیا تو انہوں نے فرمایا : ہمارے نزدیک ایوب بن العلاء کی بہ نسبت ہمام زیادہ حافظ ہیں ۔

1038

Al Mustadrak #1038

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ أَبِي عَمْرٍو، مَوْلَى الْمُطَّلِبِ، عَنْ عِكْرِمَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، أَنَّ رَجُلَيْنِ مِنْ أَهْلِ الْعِرَاقِ أَتَيَاهُ فَسَأَلَا عَنِ الْغُسْلِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ أَوَاجِبٌ هُوَ؟ فَقَالَ لَهُمَا ابْنُ عَبَّاسٍ: مَنِ اغْتَسَلَ فَهُوَ أَحْسَنُ وَأَطْهَرُ، وَسَأُخْبِرُكُمَا: لَمَّا بَدَأَ الْغُسْلُ كَانَ النَّاسُ فِي عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُحْتَاجِينَ يَلْبَسُونَ الصُّوفَ، يَسْقُونَ النَّخْلَ عَلَى ظُهُورِهِمْ، وَكَانَ الْمَسْجِدُ ضَيِّقًا مُقَارِبَ السَّقْفِ، فَخَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فِي يَوْمٍ صَائِفٍ شَدِيدِ الْحَرِّ، وَمِنْبَرُهُ قَصِيرٌ، إِنَّمَا هُوَ ثَلَاثُ دَرَجَاتٍ فَخَطَبَ النَّاسَ فَعَرِقَ النَّاسُ فِي الصُّوفِ، فَثَارَتْ أَبْدَانُهُمْ رِيحَ الْعَرَقِ وَالصُّوفِ حَتَّى كَادَ يُؤْذِيَ بَعْضُهُمْ بَعْضًا حَتَّى بَلَغَتْ أَرْوَاحُهُمْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى الْمِنْبَرِ، فَقَالَ: «أَيُّهَا النَّاسُ إِذَا كَانَ هَذَا الْيَوْمُ فَاغْتَسِلُوا، وَلْيَمَسَنَّ أَحَدُكُمْ أَطْيَبَ مَا يَجِدُ مِنْ طِيبِهِ أَوْ دُهْنِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1038 - على شرط البخاري

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ عراق سے دو آدمی ان کے پاس آئے اور جمعہ کے دن غسل کے متعلق پوچھا : کہ یہ غسل واجب ہے ؟ ابن عباس رضی اللہ عنہما نے ان کو کہا : جس نے غسل کیا ، اس نے بہت اچھا کام کیا اور اچھی طہارت حاصل کی ( مزید ) ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا : میں تمہیں بتاتا ہوں کہ یہ غسل کیسے شروع ہوا ۔ رسول اللہ ﷺ کے زمانے میں لوگ غریب ہوا کرتے تھے ۔ وہ اون کا لباس پہنتے تھے اور اپنی کمر پر لاد لاد کر باغات کو پانی لگاتے تھے اور مسجد تنگ تھی چھت بھی بہت نیچی تھی ایک مرتبہ جمعہ کے دن شدید گرمیوں میں آپ مسجد می تشریف لائے ، آپ کا منبر چھوٹا سا تھا جس کے صرف تین زینے تھے ، آپ نے لوگوں کو خطبہ دیا لوگوں کا پسینہ صفوں پر گر رہا تھا تو ان کے جسم سے پسینے اور اون کی بدبو آنے لگی ، یہاں تک کہ ان کو ایک دوسرے سے الجھن ہونے لگی ، ان کی بو رسول اللہ ﷺ کے منبر تک پہنچ گئی تو آپ ﷺ نے فرمایا : اے لوگو ! جب یہ دن آئے تو اچھے طریقے سے غسل کیا کرو اور اچھا تیل یا خوشبو جو میسر ہو وہ لگا کر آیا کرو ۔

1039

Al Mustadrak #1039

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو عَمْرٍو عُثْمَانُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ السَّمَّاكِ بِبَغْدَادَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْوَاسِطِيُّ، ثنا وَهْبُ بْنُ جَرِيرٍ، ثنا أَبِي، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، قَالَ: حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ كَعْبٍ، قَالَ: كُنْتُ قَائِدَ أَبِي حِينَ ذَهَبَ بَصَرُهُ، إِذْ خَرَجْتُ بِهِ إِلَى الْجُمُعَةِ فَسَمِعَ الْأَذَانَ صَلَّى عَلَى أَبِي أُمَامَةَ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ وَاسْتَغْفَرَ لَهُ، فَمَكَثْتُ كَثِيرًا لَا يَسْمَعُ أَذَانَ الْجُمُعَةِ إِلَّا فَعَلَ ذَلِكَ، فَقُلْتُ: يَا أَبِي أَرَأَيْتَ اسْتِغْفَارَكَ لِأَبِي أُمَامَةَ كُلَّمَا سَمِعْتَ الْأَذَانَ لِلْجُمُعَةِ مَا هُوَ؟ قَالَ: «أَيْ بُنَيُّ، كَانَ أَوَّلَ مَنْ جَمَّعَ بِنَا بِالْمَدِينَةِ فِي هَزْمِ النَّبْتِ مِنْ حَرَّةِ بَنِي بَيَاضَةَ يُقَالُ لَهَا نَقِيعُ الْخَضَمَاتِ» . قَالَ: قُلْتُ: كَمْ كُنْتُمْ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «أَرْبَعِينَ رَجُلًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1039 - على شرط مسلم وَهُوَ شَاهِدُ الْحَدِيثِ الَّذِي تَفَرَّدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ حَدِيثِ إِبْرَاهِيمَ بْنِ طَهْمَانَ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ: «أَوَّلُ جُمُعَةٍ فِي الْإِسْلَامِ بَعْدَ جُمُعَةٍ بِالْمَدِينَةِ جُمُعَةٌ بِجُوَاثَا عَبْدِ الْقَيْسِ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبدالرحمن بن کعب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میرے والد صاحب کی بینائی ختم ہو گئی تو میں ان کو ساتھ لے جایا کرتا تھا ایک دفعہ جب میں ان کو جمعہ کے لیے لے کر نکلا ، جمعہ کی اذان کے بعد ابوامامہ رضی اللہ عنہ نے اسعد بن زرارہ رضی اللہ عنہ کی نماز جنازہ پڑھی اور ان کے لیے دعائے مغفرت کی ۔ اس کے بعد ایک عرصہ تک ( ان کی عادت رہی ) جب کبھی وہ جمعہ کی اذان سنتے تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا مانگتے ( ایک مرتبہ ) میں نے پوچھا : ابا جی آپ جب بھی اذان جمعہ سنتے ہیں تو ابوامامہ رضی اللہ عنہ کے لیے دعا کرتے ہیں اس کی کیا وجہ ہے ؟ انہوں نے جواب دیا ابوامامہ رضی اللہ عنہ وہ پہلے شخص تھے جنہوں نے بنی بیاضہ کے نشیبی علاقے میں ہمیں نماز جمعہ پڑھائی ۔ عبدالرحمن کہتے ہیں : میں نے پوچھا : اس دن آپ لوگ کتنے تھے ؟ انہوں نے جواب دیا ۔ چالیس ۔

1040

Al Mustadrak #1040

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَبُو جَعْفَرٍ أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحَارِثِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْجُعْفِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ يَزِيدَ بْنِ جَابِرٍ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَذَكَرَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ: «مَنْ غَسَلَ وَاغْتَسَلَ، وَغَدَا وَابْتَكَرَ، وَدَنَا، وَأَنْصَتَ وَاسْتَمَعَ غُفِرَ لَهُ مَا بَيْنَهُ وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ، وَزِيَادَةُ ثَلَاثَةِ أَيَّامٍ، وَمَنْ مَسَّ الْحَصَى فَقَدْ لَغَا» رَوَاهُ يَحْيَى بْنُ الْحَارِثِ الذِّمَارِيُّ وَحَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1040 - تفرد به عن الأشجعي إبراهيم بن أبي الليث وهو واه ولفظه منكر لكن تابعه عليه غيره أَمَّا حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ الْحَارِثِ

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت اوس بن اوس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اور جمعہ کے دن کا ذکر کیا جو شخص غسل کرے اور اچھی صبح کرے اور مسجد کے قریب رہنے خاموش رہے اور توجہ سے سنتا رہے اس کے اس اور گزشتہ جمعہ کے درمیان والے تمام گناہوں کو بخص دیا جاتا ہے اور تین دن مزید بھی اور جو کنکریوں کو ہاتھ لگائے اس نے فضول کام کیا ۔

1041

Al Mustadrak #1041

See Details

فَحَدَّثَنِي عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ الْعَدْلُ، ثنا يَزِيدُ بْنُ الْهَيْثَمِ الْقَطِيعِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي اللَّيْثِ، ثنا الْأَشْجَعِيُّ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عِيسَى، عَنْ يَحْيَى، عَنْ أَبِي الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيِّ، عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَسَلَ وَاغْتَسَلَ، ثُمَّ غَدَا وَابْتَكَرَ، فَجَلَسَ مِنَ الْإِمَامِ قَرِيبًا فَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ، كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ أَجْرُ سَنَةٍ صِيَامُهَا وَقِيَامُهَا» وَأَمَّا حَدِيثُ حَسَّانَ بْنِ عَطِيَّةَ

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت یحیی بن حارث رضی اللہ عنہ کی سند سے اوس بن اوس ثقفی کا یہ فرمان منقول ہے : کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جو شخص صبح سویرے غسل کر کے ( مسجد میں آنے میں ) پہلے کرے اور امام کے قریب ہو کر بیٹھے اور ( خطبہ کو ) توججہ سے سنیں اور خاموش رہے اس کو ہر قدم کے بدلے ایک سال کے روزوں اور شب بیداریوں کا ثواب ملے گا ۔ حسان بن عطیہ کی حدیث :"

1042

Al Mustadrak #1042

See Details

أَخْبَرْنَاهُ الْحَسَنُ بْنُ حَلِيمٍ الْمَرْوَزِيُّ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا عَبْدَانُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ، ثنا الْأَوْزَاعِيُّ، ثنا حَسَّانُ بْنُ عَطِيَّةَ، حَدَّثَنِي أَبُو الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيُّ، حَدَّثَنِي أَوْسُ بْنُ أَوْسٍ الثَّقَفِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنْ غَسَلَ وَاغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، ثُمَّ بَكَّرَ وَابْتَكَرَ، فَدَنَا وَاسْتَمَعَ وَلَمْ يَلْغُ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا عَمَلُ سَنَةٍ أَجْرُ قِيَامِهَا وَصِيَامِهَا» قَدْ صَحَّ هَذَا الْحَدِيثُ بِهَذِهِ الْأَسَانِيدِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَأَظُنُّهُ لِحَدِيثٍ وَاهٍ لَا يُعَلَّلُ مِثْلُ هَذِهِ الْأَسَانِيدِ بِمِثْلِهِ» وَهُوَ حَدِيثُ: [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1042 - له علة مهدرة

اردو ترجمہ · Urdu

" حسان بن عطیہ کی سند کے ہمراہ بھی مذکورہ حدیث جیسی حدیث منقول ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث مذکورہ سندوں کے ہمراہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔"

1043

Al Mustadrak #1043

See Details

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ الْوَلِيدِ الْفَحَّامُ، ثنا رَوْحُ بْنُ عُبَادَةَ، ثنا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ عُثْمَانَ الشَّيْبَانِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا الْأَشْعَثِ الصَّنْعَانِيَّ، يُحَدِّثُ عَنْ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ الثَّقَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ غَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، وَاغْتَسَلَ وَدَنَا مِنَ الْإِمَامِ وَاقْتَرَبَ، وَاسْتَمَعَ وَأَنْصَتَ كَانَ لَهُ بِكُلِّ خُطْوَةٍ يَخْطُوهَا أَجْرُ صِيَامِ سَنَةٍ وَقِيَامِهَا» هَذَا لَا يُعَلِّلُ الْأَحَادِيثَ الثَّابِتَةَ الصَّحِيحَةَ مِنْ أَوْجُهٍ: أَوَّلُهَا: أَنَّ حَسَّانَ بْنَ عَطِيَّة /63َ قَدْ ذَكَرَ سَمَاعَ أَوْسِ بْنِ أَوْسٍ مِنَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَثَانِيهَا: أَنَّ ثَوْرَ بْنَ يَزِيدَ دُونَ أُولَئِكَ فِي الِاحْتِجَاجِ بِهِ، وَثَالِثُهَا: أَنَّ عُثْمَانَ الشَّيْبَانِيَّ مَجْهُولٌ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1043 - عثمان مجهول

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور امام کے قریب ہو کر بیٹھے اور توجہ سے سنے اور خاموش ہو کر بیٹھا رہے ، اس کو ہر قدم کے عوض جو اس نے مسجد کی طرف اٹھایا ایک سال کے روزوں اور شب بیداریوں کا ثواب ملے گا ۔ ٭٭ اس کی وجہ سے صحیح ثابت احادیث کو معلل نہیں کہہ سکتے ، اس کی متعدد وجوہات ہیں ( 1 ) حصان بن عطیہ نے اوس بن اوس کے رسول اللہ ﷺ سے سماع کا ذکر کیا ہے ( 2 ) ثور بن یزید دوسروں کی بہ نسبت کم درجے کے راوی ہیں ۔ ( 3 ) عثمان شعبانی مجہول راوی ہیں ۔"

1044

Al Mustadrak #1044

See Details

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذٍ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، وَصَالِحُ بْنُ مُحَمَّدٍ الرَّازِيُّ، وَالْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، قَالُوا: ثنا سُرَيْجُ بْنُ يُونُسَ، ثنا هَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ، ثنا أَبَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي قَتَادَةَ، قَالَ: دَخَلَ عَلَيَّ أَبِي وَأَنَا أَغْتَسِلُ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَالَ: غُسْلٌ مِنْ جَنَابَةٍ أَوْ لِلْجُمُعَةِ؟ قَالَ: قُلْتُ: مِنْ جَنَابَةٍ. قَالَ: أَعِدْ غُسْلًا آخَرَ فَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ كَانَ فِي طَهَارَةٍ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَهَارُونُ بْنُ مُسْلِمٍ الْعِجْلِيُّ شَيْخٌ قَدِيمٌ لِلْبَصْرِيِّينَ يُقَالُ لَهُ الْحِنَّائِيُّ ثِقَةٌ قَدْ رَوَى عَنْهُ أَحْمَدُ بْنُ حَنْبَلٍ وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ الْقَوَارِيرِيُّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1044 - على شرطهما

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن ابی قتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ( ایک مرتبہ ) میں جمعہ کے دن غسل کر رہا تھا کہ میرے والد صاحب تشریف لے آئے ، انہوں نے مجھ سے پوچھا : ( تم نے ) یہ غسل جنابت کیا ہے یا جمعہ کا ؟ ( عبداللہ ) کہتے ہیں : میں نے جواب دیا : جنابت کا ۔ انہوں نے فرمایا : ایک مرتبہ پھر غسل کرو کیونکہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو یہ فرماتے سنا ہے جو شخص جمعہ کے لیے غسل کرے وہ اگلے جمعہ تک طہارت میں شمار کیا جائے گا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور ہارون بن مسلم عجلی بصریوں نے پرانے استاد ہیں ۔ ان کو حنانی کہتے ہیں : یہ ثقہ ہیں ان سے احمد بن حنبل اور عبداللہ بن عمر القواریری نے بھی حدیث روایت کی ہے ۔"

1045

Al Mustadrak #1045

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، ثنا حَجَّاجُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «مَنْ غَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَاكَ، وَلَبِسَ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ، وَتَطَيَّبَ بِطِيبٍ إِنْ وَجَدَهُ، ثُمَّ جَاءَ وَلَمْ يَتَخَطَّ النَّاسَ فَصَلَّى مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يُصَلِّيَ، فَإِذَا خَرَجَ الْإِمَامُ سَكَتَ فَذَلِكَ كَفَّارَةٌ إِلَى الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدْ رَوَاهُ أَيْضًا إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ» مِثْلُ رِوَايَةِ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ، وَقَيَّدَهُ بِأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ مَقْرُونًا بِأَبِي سَلَمَةَ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1045 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے ، اچھے کپڑے پہنے اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائے پھر مسجد میں آئے اور لوگوں کی گردنیں نہ پھلانگے پھر اللہ کی توفیق سے نماز پڑھے پھر جب امام منبر پر بیٹھ جائے تو وہ خاموش ہو جائے تو اس کا یہ عمل اگلے جمعہ تک کے گناہوں کے لیے کفارہ ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور اس حدیث کو اسماعیل بن علیہ نے بھی حماد بن سلمہ کی روایت کی طرح محمد بن اسحاق سے روایت کیا ہے اور اس میں ابوسلمہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ ابوامامہ بن سہل کا ذکر ہے ۔"

1046

Al Mustadrak #1046

See Details

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، وَأَبِي أُمَامَةَ بْنِ سَهْلٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، وَأَبِي سَعِيدٍ قَالَا: سَمِعْنَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «مَنِ اغْتَسَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَاسْتَنَّ وَمَسَّ مِنْ طِيبٍ، إِنْ كَانَ عِنْدَهُ وَلَبِسَ أَحْسَنَ ثِيَابِهِ، ثُمَّ جَاءَ إِلَى الْمَسْجِدِ، وَلَمْ يَتَخَطَّ رِقَابَ النَّاسِ، ثُمَّ رَكَعَ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَرْكَعَ، ثُمَّ أَنْصَتَ إِذَا خَرَجَ إِمَامُهُ حَتَّى يُصَلِّيَ كَانَتْ لَهُ كَفَّارَةً لِمَا بَيْنَهَا وَبَيْنَ الْجُمُعَةِ الَّتِي كَانَتْ قَبْلَهَا» يَقُولُ أَبُو هُرَيْرَةَ: «وَثَلَاثَةُ أَيَّامٍ زِيَادَةٌ، إِنَّ اللَّهَ قَدْ جَعَلَ الْحَسَنَةَ بِعَشْرِ أَمْثَالِهَا» إِسْمَاعِيلُ ابْنُ عُلَيَّةَ مِنَ الثِّقَاتِ الَّذِي أَجْمَعَا عَلَى إِخْرَاجِهِ "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ اور ابوسعید رضی اللہ عنہما رسول اللہ ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : جو شخص جمعہ کے دن غسل کرے اور اگر میسر ہو تو خوشبو لگائے اور اچھے کپڑے پہنے پھر مسجد کی طرف آئے اور لوگوں کی گردنوں کو نہ پھلانگے پھر اللہ کی دی ہوئی توفیق کے مطابق نماز پڑھے پھر امام سے نکلنے سے لے کر امام کے نماز پڑھانے تک خاموش رہے ( تو اس کا یہ عمل ) اس جمعہ اور اس سے پچھلے جمعہ کے درمیان ہونے والے تمام گناہوں کا کفارہ ہے ، ابوہریرہ رضٰ اللہ عنہ کہتے ہیں اور تین دن زیادہ ہیں کیونکہ اللہ تعالیٰ نے ہر نیکی کا ثواب دس گنا کیا ہے اور اسماعیل بن علیہ ثقہ راوی ہیں اور شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے ان کی روایات نقل کی ہیں ۔

1047

Al Mustadrak #1047

See Details

حَدَّثَنَا الْحَاكِمُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْحَافِظُ إِمْلَاءً فِي شَهْرِ رَبِيعٍ الْأَوَّلِ سَنَةَ خَمْسٍ وَتِسْعِينَ وَثَلَاثِ مِائَةٍ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي، ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعُ، ثنا مُصْعَبُ بْنُ سَلَّامٍ، عَنْ هِشَامِ بْنِ الْغَازِ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «إِذَا خَرَجَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ فَقَعَدَ عَلَى الْمِنْبَرِ أَذَّنَ بِلَالٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، فَإِنَّ هِشَامَ بْنَ الْغَازِ مِمَّنْ يُجْمَعُ حَدِيثُهُ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1047 - مصعب ليس بحجة

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابن عمر رضی اللہ عمہما فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ جب جمعہ کے دن آ کر منبر پر بیٹھ جاتے تو حضرت بلال رضی اللہ عنہ اذان دیتے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا کیونکہ ہشام بن غاز وہ راوی ہیں جن کی احادیث جمع کی جاتی ہیں ۔"

1048

Al Mustadrak #1048

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْفَضْلِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْمُزَكِّي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ مِهْرَانَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَمَّارٍ، ثنا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ أَبِي رَبَاحٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: اسْتَوَى النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمِنْبَرِ يَوْمَ الْجُمُعَةِ، فَقَالَ لِلنَّاسِ: «اجْلِسُوا» . فَسَمِعَهُ ابْنُ مَسْعُودٍ وَهُوَ عَلَى بَابِ الْمَسْجِدِ فَجَلَسَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «تَعَالَ يَا ابْنَ مَسْعُودٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1048 - على شرطهما

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں ، نبی اکرم ﷺ جمعہ کے دن منبر پر بیٹھے اور لوگوں سے فرمایا : بیٹھ جاؤ ! ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو وہ مسجد کے دروازے میں تھے وہ وہیں بیٹھ گئے ۔ نبی اکرم ﷺ نے ان سے کہا : اے ابن مسعود ( رضی اللہ عنہ ) تم آگے آ جاؤ ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔"

1049

Al Mustadrak #1049

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا إِسْمَاعِيلُ، ثنا عَبْدُ الْحَمِيدِ، صَاحِبُ الزِّيَادِيِّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحَارِثِ ابْنُ عَمِّ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ، أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ، قَالَ لِمُؤَذِّنِهِ فِي يَوْمٍ مَطِيرٍ: إِذَا قُلْتَ أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ فَلَا تَقُلْ حَيَّ عَلَى الصَّلَاةِ، قُلْ: صَلُّوا فِي بُيُوتِكُمْ، فَكَأَنَّ النَّاسَ اسْتَنْكَرُوا ذَلِكَ، فَقَالَ: "" قَدْ فَعَلَ ذَا مَنْ هُوَ خَيْرٌ مِنِّي: إِنَّ الْجُمُعَةَ عَزْمَةٌ، وَإِنِّي كَرِهْتُ أَنْ أُخْرِجَكُمْ فَتَمْشُونَ فِي الطِّينِ وَالْمَاءِ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1049 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

محمد بن سیرین کے چچازاد بھائی یحیی بن محمد بن یحیی کہتے ہیں : ابن عباس رضی اللہ عنہما نے اپنے موذن کو بارش والے دن کہا : جب ’’ اشھد ان محمد رسول اللہ پڑھ لو تو اس کے بعد ’’ حیی الاعلی الصلوۃ ‘‘ مت کہو بلکہ کہو ’’ صلو فی بیوتکم ‘‘ ( اپنے گھروں میں نماز پڑھ لو ) لوگوں نے یہ بات ناپسند کی تو آپ نے فرمایا : یہ عمل اس نے کیا ہے جو مجھ سے افضل ہے ، بے شک جمعہ واجب ہے اللہ کا حق ہے ۔ مجھے یہ بات ناپسند ہے کہ تمہیں گھروں سے نکالوں اور تم کیچڑ میں چلتے ہوئے آؤ ۔

1050

Al Mustadrak #1050

See Details

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ الْحَسَنِ الْقَاضِي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثنا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثنا شُعْبَةُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثنا شُعْبَةُ، عَنْ خُبَيْبِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ مَعْنٍ، عَنِ ابْنَةِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: «مَا حَفِظْتُ ق إِلَّا مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقْرَأُ بِهَا فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ» ، قَالَتْ: «وَكَانَتْ تَنُّورُنَا وَتَنُّورُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَاحِدًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَابْنَةُ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ قَدْ سَمَّاهَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ يَسَارٍ فِي رِوَايَةِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1050 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

حارثہ بن نعمان کی بیٹی کہتی ہیں : میں نے سورۃ ق رسول اللہ ﷺ سے سن سن کر یاد کی ہے ۔ آپ ہر جمعہ کے دن سورۃ پڑھتے تھے ۔ ہمارا اور آپ کا ایک ہی تنور تھا ۔

1051

Al Mustadrak #1051

See Details

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ أَيُّوبَ، ثنا يَحْيَى بْنُ الْمُغِيرَةِ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أُمِّ هِشَامٍ بِنْتِ حَارِثَةَ بْنِ النُّعْمَانِ، قَالَتْ: «قَرَأْتُ ق وَالْقُرْآنِ الْمَجِيدِ مِنْ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يَقْرَأْهَا فِي كُلِّ يَوْمِ جُمُعَةٍ إِذَا خَطَبَ النَّاسَ» يَحْيَى بْنُ عَبْدِ اللَّهِ هُوَ ابْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَسْعَدَ بْنِ زُرَارَةَ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حارثہ بن نعمان کی بیٹی ام ہشام کہتی ہیں : میں نے سورۃ ق و القرآن المجید رسول اللہ ﷺ کے منہ سے سن کر یاد کی ہے ۔ آپ ﷺ جمعہ کے خطبہ میں یہ سورۃ پڑھا کرتے تھے ۔ ٭٭ یحیی بن عبداللہ عبدالرحمن بن اسعد بن زرارہ کے بیٹے ہیں ۔"

1052

Al Mustadrak #1052

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، ثنا أَبِي وَشُعَيْبٌ، قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، ثنا خَالِدُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ أَبِي هِلَالٍ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ، أَنَّهُ قَالَ: خَطَبَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمًا فَقَرَأَ ص، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ نَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا، وَقَرَأَهَا مَرَّةً أُخْرَى، فَلَمَّا مَرَّ بِالسَّجْدَةِ تَبَشَّرْنَا بِالسُّجُودِ، فَلَمَّا رَآنَا قَالَ: «إِنَّمَا هِيَ تَوْبَةُ نَبِيٍّ، وَلَكِنِّي أَرَاكُمْ قَدِ اسْتَعْدَدْتُمْ لِلسُّجُودِ فَنَزَلَ فَسَجَدَ وَسَجَدْنَا» وَهَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، فَأَمَّا السُّجُودُ فِي ص فَقَدْ أَخْرَجَهُ الْبُخَارِيُّ، وَإِنَّمَا الْغَرَضُ فِي إِخْرَاجِهِ هَكَذَا فِي كِتَابِ الْجُمُعَةِ أَنَّ الْإِمَامَ إِذَا قَرَأَ السَّجْدَةَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ عَلَى الْمِنْبَرِ فَمِنَ السُّنَّةِ أَنْ يَنْزِلَ فَيَسْجُدَ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1052 - على شرطهما

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوسعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : ایک دن رسول اللہ ﷺ نے ہمیں خطبہ دیا تو خطبہ میں سورۃ ( ص ) پڑھی ۔ جب آیت سجدہ پر پہنچے تو آپ نے مبر سے نیچے اتر کر سجدہ کیا ، ہم نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا ، آپ نے یہ سورۃ دوبارہ پڑھی پھر جب آیت سجدہ پر پہنچے تو سجدہ پر خوش ہوئے ، جب آپ نے ہمیں دیکھا تو فرمایا : یہ نبی کی توبہ ہے لیکن میں تمہیں دیکھتا ہوں کہ تم سجدے کے لیے تیار ہو ۔ پھر آپ اترے اور سجدہ کیا اور ہم نے بھی سجدہ کیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہما دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔ اور سورۃ ص میں سجدہ کے حوالے سے امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے حدیث نقل کی اور اس حدیث کو کتاب الجمعہ میں نقل کرنے کی غرض یہ تھی کہ امام اگر جمعہ کے دن منبر پر آیت سجدہ پڑھے تو سنے یہ ہے کہ وہ منبر سے اتر کر سجدہ کرے ۔"

1053

Al Mustadrak #1053

See Details

حَدَّثَنَا حَمْزَةُ بْنُ الْعَبَّاسِ الْقَعْنَبِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ حِبَّانَ، ثنا شَبَابَةُ بْنُ سَوَّارٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ، وَأَخْبَرَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي نَصْرٍ الْمَرْوَزِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، ثنا أَبُو الْمُوَجِّهِ، ثنا أَبُو عَمَّارٍ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُوسَى، ثنا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ السَّبِيعِيُّ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شِبْلٍ، عَنْ جَرِيرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَ: لَمَّا دَنَوْتُ مِنْ مَدِينَةِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَخْتُ رَاحِلَتِي، وَحَلَلْتُ عَيْبَتِي، فَلَبِسْتُ حُلَّتِي، فَدَخَلْتُ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَسَلَّمَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَمَانِي النَّاسُ بِالْحَدَقِ فَقُلْتُ لِجَلِيسِي: يَا عَبْدَ اللَّهِ، هَلْ ذَكَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ أَمْرِي شَيْئًا؟ قَالَ: نَعَمْ ذَكَرَكَ بِأَحْسَنِ الذِّكْرِ قَالَ: «إِنَّهُ سَيَدْخُلُ عَلَيْكُمْ مِنْ هَذَا الْبَابِ - أَوْ مِنْ هَذَا الْفَجِّ - مِنْ خَيْرِ ذِي يُمْنٍ، وَإِنَّ عَلَى وَجْهِهِ مَسْحَةُ مَلَكٍ» فَحَمِدْتُ اللَّهَ عَلَى مَا أَبْلَانِي «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَهُوَ أَصْلٌ فِي كَلَامِ الْإِمَامِ فِي الْخُطْبَةِ فِيمَا يَبْدُو لَهُ فِي الْوَقْتِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1053 - على شرطهما

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : جب میں رسول اللہ ﷺ کے شہر کے قریب ہوا تو اپنے اونٹ کو بٹھایا ، کپڑوں کا صندوق کھولا ( اس میں سے جبہ نکال کر ) پہنا پھر آپ کے پاس حاضر ہوا ، اس وقت آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ تو میں نے رسول اللہ ﷺ پر سلام پڑھا ۔ اس پر لوگوں نے مجھے غور سے دیکھنا شروع کر دیا ، میں نے اپنے ساتھی سے پوچھا : اے عبداللہ ! کیا رسول اللہ ﷺ نے میرے متعلق بھی کچھ ارشاد فرمایا : اس نے کہا : ہاں ! آپ ﷺ نے تیرا بڑے اچھے لفظوں میں ذکر کیا اور فرمایا : ابھی ابھی اس دروازے سے یا ( شاید یہ فرمایا ) اس درے سے ایسا شخص داخل ہونے والا ہے جو تمام اہل یمن میں سے بہتر ہے اور بے شک اس کے چہرے پر فرشتے کی چمک ہے تو میں نے اس آزمائش پر اللہ تعالیٰ کا شکر ادا کیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔ اور یہ حدیث دلیل ہے کہ امام خطبہ کے دوران اس معاملے میں گفتگو کر سکتا ہے جو اسی وقت کے لیے ظاہر ہوا ۔"

1054

Al Mustadrak #1054

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنْ عِيَاضِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَعْدِ بْنِ أَبِي سَرْحٍ، أَنَّ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ، دَخَلَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَمَرْوَانُ بْنُ الْحَكَمِ يَخْطُبُ، فَقَامَ يُصَلِّي فَجَاءَ الْأَحْرَاسُ لِيُجْلِسُوهُ فَأَبَى حَتَّى صَلَّى، فَلَمَّا انْصَرَفَ مَرْوَانُ أَتَيْنَاهُ فَقُلْنَا لَهُ: يَرْحَمُكَ اللَّهُ إِنْ كَادُوا لَيَفْعَلُونَ بِكَ. قَالَ: مَا كُنْتُ أَتْرُكُهَا بَعْدَ شَيْءٍ رَأَيْتُهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ ذَكَرَ رَجُلًا جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، ثُمَّ جَاءَ يَوْمَ الْجُمُعَةِ الْأُخْرَى وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَخْطُبُ، فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ أَنْ يَتَصَدَّقُوا فَأَلْقَى الرَّجُلُ أَحَدَ ثَوْبَيْهِ فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ زَجَرَهُ وَقَالَ: «خُذْ ثَوْبَكَ» . ثُمَّ قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ هَذَا دَخَلَ فِي هَيْئَةٍ بَذَّةٍ فَأَمَرْتُ النَّاسَ أَنْ يَتَصَدَّقُوا» . فَأَلْقَى هَذَا أَحَدُ ثَوْبَيْهِ، ثُمَّ أَمَرَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُصَلِّيَ رَكْعَتَيْنِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَهُوَ شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ الَّذِي قَبْلَهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ آخَرُ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1054 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں ، جمعہ کے دن آپ ( جمعہ پڑھنے کے لیے مسجد میں ) داخل ہوئے تو اس وقت مروان بن حکم خطبہ دے رہا تھا آپ نماز پڑھنے کے لیے کھڑے ہوئے تو محافظوں نے آ کر ان کو بٹھانا چاہا لیکن ابوسعید نہ مانے اور نماز پڑھ لی ، جب مروان نماز سے فارغ ہوا تو ہم اس کے پاس آئے اور اسے کہا : اللہ تجھ پر رحم کرے اگر وہ لوگ تیرے ساتھ بداخلاقی کرتے ، اس نے کہا : میں نے رسول اللہ ﷺ سے جو چیز دیکھی ہے اس کو ترک نہیں کیا ۔ پھر اس نے ایک شخص کا ذکر کیا کہ وہ جمعہ کے دن اس وقت مسجد میں آیا جب رسول اللہ ﷺ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے ۔ پھر اگلے جمعہ کو بھی وہ خطبہ کے دوران آیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ سے کہا : کہ اس کے ساتھ تعاون کرو ۔ تو ایک آدمی نے اس کا ایک کپڑا اٹھا لیا ۔ پھر رسول اللہ ﷺ نے نماز پڑھائی پھر اس کو ڈانٹا اور فرمایا : لے لو اپنا کپڑا حضور ﷺ نے فرمایا : یہ شخص تاجرانہ انداز میں آیا تھا تو میں نے لوگوں کو کہا تھا اس سے تعاون کیا کرو تو اس شخص نے اس کا کپڑا اٹھا دیا پھر رسول اللہ ﷺ نے اس کو دو رکعتیں پڑھنے کا حکم دیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور یہ گزشتہ حدیث کی شاہد ہے اور اس کا ایک دوسرا شاہد بھی ہے جو امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر ہے ۔"

1055

Al Mustadrak #1055

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ، بِمَكَّةَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ زَكَرِيَّا الْمَكِّيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ، قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ؟ «فَأَقْبَلَ إِلَيَّ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ، فَأُتِيَ بِكُرْسِيٍّ خَلَتْ قَوَائِمَهُ حَدِيدٍ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَمَّهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَى خُطْبَتَهُ، وَأَتَمَّ آخِرَهَا» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 1055 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابورفاعہ العدوی کہتے ہیں : میں نبی اکرم ﷺ کے پاس پہنچا تو آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! ایک مسافر اپنے دین کے متعلق کچھ پوچھنے آیا ہے جس کو اس سے قبل دین کے بارے میں معلومات نہیں ہیں ۔ تو رسول اللہ ﷺ خطبہ چھوڑ کر میری طرف متوجہ ہو گئے ۔ آپ نے ایک خالی کرسی منگوائی جس کے پائے لوہے کے تھے پھر آپ مجھے وہ کچھ سکھانے لگے جو اللہ نے آپ کو سکھایا ہے ( جب مجھے مسائل بتا کر فارغ ہوئے ) تو خطبہ کی طرف آئے اور خطبہ پورا کیا ۔