Muslim99Muslim99

Al Mustadrak · Book 39 · Chapter 39

قربانی کے متعلق روایات

30 hadiths in this chapter

7517

Al Mustadrak #7517

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُبَيْدٍ الْقُرَشِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ عَفَّانَ الْعَامِرِيُّ، حَدَّثَنَا زَيْدُ بْنُ الْحُبَابِ، ثَنَا زَيْدُ بْنُ عُقْبَةَ الْحَضْرَمِيُّ، حَدَّثَنِي خَيْرُ بْنُ نُعَيْمٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: {وَالْفَجْرِ وَلِيَالٍ عَشْرٍ} [الفجر: 1] «عَشْرُ الْأُضْحِيَّةِ وَالْوِتْرُ يَوْمُ عَرَفَةَ وَالشَّفْعُ يَوْمُ النَّحْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ"" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7517 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت جابر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے وَالْفَجْرِ وَلَيَالٍ عَشْرٍ وَالشَّفْعِ وَالْوِتْرِ کے بارے میں فرمایا : اس میں دس راتوں سے مراد ذی الحج کی پہلی دس راتیں ہیں اور ’’ وتر ‘‘ سے مراد عرفہ کا دن ہے اور ’’ شفع ‘‘ سے مراد قربانی کا دن ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7518

Al Mustadrak #7518

See Details

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ بِبَغْدَادَ وَبَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ، بِمَرْوَ قَالَا: ثَنَا أَبُو قِلَابَةَ الرَّقَاشِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ كَثِيرِ بْنِ دِرْهَمٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ بَكْرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَنَسٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَمْرَو بْنَ مُسْلِمٍ، يَقُولُ: سَمِعْتُ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ، يَقُولُ: قَالَتْ أُمُّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ رَأَى هِلَالَ ذِي الْحِجَّةِ فَأَرَادَ أَنْ يُضَحِّيَ فَلَا يَأْخُذْ مِنْ ظُفْرِهِ وَلَا مِنْ شَعْرِهِ حَتَّى يُضَحِّيَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7518 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب عید الاضحی کا چاند طلوع ہو جائے ، تو جو شخص قربانی کرنے کی نیت رکھتا ہو ، اس کو چاہیے کہ قربانی کرنے تک اپنے بال اور ناخن نہ کاٹے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7519

Al Mustadrak #7519

See Details

أَخْبَرَنَا عَبْدَانُ بْنُ يَزِيدَ الدَّقَّاقُ، بِهَمْدَانَ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْحُسَيْنِ، ثَنَا آدَمُ بْنُ أَبِي إِيَاسٍ، ثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ، عَنِ الْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «إِذَا دَخَلَ عَشْرُ ذِي الْحِجَّةِ فَلَا تَأْخُذَنَّ مِنْ شَعْرِكَ وَلَا مِنْ أَظْفَارَكَ حَتَّى تُذْبَحُ أُضْحِيَّتِكَ» هَذَا شَاهِدٌ صَحِيحٌ لِحَدِيثِ مَالِكٍ وَإِنْ كَانَ مَوْقُوفًا "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7519 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

" ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب ذی الحجہ کا مہینہ شروع ہو جائے تو قربانی کرنے سے پہلے اپنے بال یا ناخن نہ کاٹو ۔ ٭٭ یہ حدیث اگرچہ موقوف ہے لیکن حضرت مالک کی حدیث کی شاہد ہے ۔"

7520

Al Mustadrak #7520

See Details

أَخْبَرَنِي أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَلَمَةَ الْعَنَزِيُّ، ثَنَا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ رَبِّهِ، ثَنَا الْوَلِيدُ بْنُ مُسْلِمٍ قَالَ: سَأَلْتُ مُحَمَّدُ بْنُ عَجْلَانَ عَنْ أَخْذِ الشَّعْرِ فِي الْأَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالَ: حَدَّثَنِي نَافِعٌ، أَنَّ ابْنَ عُمَرَ، مَرَّ بِامْرَأَةٍ تَأْخُذُ مِنْ شَعْرِ ابْنِهَا فِي أَيَّامِ الْعَشْرِ فَقَالَ: «لَوْ أَخَّرْتِيهِ إِلَى يَوْمِ النَّحْرِ كَانَ أَحْسَنَ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7520 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

ولید بن مسلم بیان کرتے ہیں : میں نے محمد بن عجلان سے ذی الحج کے عشرے میں بال کاٹنے کے بارے میں مسئلہ پوچھا تو انہوں نے کہا : مجھے حضرت نافع نے حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کے بارے میں بتایا ہے کہ وہ ایک عورت کے پاس سے گزرے ، وہ عورت ذی الحج کے پہلے عشرے میں اپنے بیٹے کے بال کٹوا رہی تھی ، آپ نے اس کو کہا : اگر تم دس ذی الحج تک یہ کام ملتوی کر دو تو بہت اچھی بات ہے ۔

7521

Al Mustadrak #7521

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ الْآدَمِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مَاهَانَ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثَنَا شُعْبَةُ، قَالَ: سَمِعْتُ قَتَادَةَ يُحَدِّثُ قَالَ: جَاءَ رَجُلٌ مِنَ الْعَتِيكِ فَحَدَّثَ سَعِيدَ بْنَ الْمُسَيَّبِ أَنَّ يَحْيَى بْنَ يَعْمَرَ يَقُولُ: «مَنِ اشْتَرَى أُضْحِيَّةَ فِي الْعَشْرِ فَلَا يَأْخُذُ مِنْ شَعْرِهِ وَأَظْفَارِهِ» قَالَ سَعِيدٌ: نَعَمْ فَقُلْتُ: عَنْ مَنْ يَا أَبَا مُحَمَّدٍ؟ قَالَ: عَنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ، صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7521 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

شعبہ بیان کرتے ہیں کہ قتادہ نے انہیں بتایا کہ عتیک سے ایک آدمی آیا اور اس نے سعید بن مسیب کو بتایا کہ حضرت یحیی بن یعمر رضی اللہ عنہ فرمایا کرتے تھے کہ جو شخص ذی الحج میں قربانی خریدے ، وہ اپنے بال اور ناخن نہ کٹوائے ۔ سعید نے کہا : جی ہاں ۔ میں نے کہا : اے ابومحمد ! تم یہ بات کس کے حوالے سے بیان کر رہے ہو ؟ انہوں نے کہا : رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کے حوالے سے ۔

7522

Al Mustadrak #7522

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا يَحْيَى، عَنْ ثَوْرِ بْنِ يَزِيدَ، عَنْ رَاشِدِ بْنِ سَعْدٍ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ يَحْيَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُرْطٍ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أَعْظَمُ الْأَيَّامِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمُ النَّحْرِ ثُمَّ يَوْمُ الْقُرَّ» وَقَدِمَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَدَنَاتٌ خَمْسٌ أَوْ سِتٌّ فَطَفِقْنَ يَزْدَلِفْنَ بِأَيَّتِهِنَّ يَبْدَأُ بِهَا فَلَمَّا وَجَبَتْ جُنُوبُهَا - قَالَ كَلِمَةً خَفِيفَةً لَمْ أَفْهَمْهَا فَسَأَلْتُ مَنْ يَلِيهِ فَقَالَ - قَالَ: «مَنْ شَاءَ اقْتَطَعَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7522 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن قرط فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں سب سے مقرب ترین دن قربانی کا دن ہے ، اس کے بعد ’’ قربانی سے اگلا دن ‘‘ ہے ۔ نبی اکرم ﷺ کے پاس پانچ یا چھ اونٹ آئے ، وہ ایک دوسرے کے اوپر گر رہے تھے کہ حضور ﷺ سب سے پہلے اس کو ذبح کریں ۔ جب وہ ذبح ہو گئے اور ان کے جسموں کی حرکت ختم ہو گئی تو آپ ﷺ نے آہستگی کے ساتھ کوئی بات بولی ، جس کو میں سمجھ نہیں سکا ، میں نے ساتھ والے آدمی سے پوچھا تو اس نے بتایا کہ حضور ﷺ فرما رہے تھے کہ ’’ اب جو چاہے ان کا گوشت کاٹ لے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7523

Al Mustadrak #7523

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثَنَا صَالِحُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثَنَا أَبُو سَلَمَةَ يَحْيَى بْنِ الْمُغِيرَةِ الْمَدِينِيُّ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ نَافِعٍ، حَدَّثَنِي أَبُو الْمُثَنَّى سُلَيْمَانُ بْنُ يَزِيدَ، عَنْ هِشَامِ بْنِ عُرْوَةَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَا تُقُرِّبَ إِلَى اللَّهِ تَعَالَى يَوْمَ النَّحْرِ بِشَيْءٍ هُوَ أَحَبُّ إِلَى اللَّهُ تَعَالَى مِنْ إِهْرَاقِ الدَّمِ وَأَنَّهَا لَتَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِقُرُونِهَا وَأَشْعَارِهَا وَأَظْلَافِهَا وَأَنَّ الدَّمَ لَيَقَعُ مِنَ اللَّهُ تَعَالَى بِمَكَانٍ قَبْلَ أَنْ يَقَعَ عَلَى الْأَرْضِ فَيَطِيبُوا بِهَا نَفْسًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7523 - سليمان واه

اردو ترجمہ · Urdu

" ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : قربانی کے دن خون بہانے سے بڑھ کر کوئی عمل ایسا نہیں ہے جو اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قرب کا باعث ہو ، قیامت کے دن قربانی کا جانور اپنے کھروں ، بالوں اور سینگوں سمیت آئے گا ، جانور کا خون زمین پر گرنے سے پہلے اس کی قربانی اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول کر لی جاتی ہے ۔ اس لیے خوشدلی کے ساتھ قربانی کیا کرو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7524

Al Mustadrak #7524

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا النَّضْرُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْبَجَلِيُّ، ثَنَا أَبُو حَمْزَةَ الثُّمَالِيُّ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ حُصَيْنٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: "" يَا فَاطِمَةُ قَوْمِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّهُ يُغْفَرُ لَكِ عِنْدَ أَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا كُلُّ ذَنْبٍ عَمِلْتِيهِ وَقُولِي: إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ "" قَالَ عِمْرَانُ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَكَ وَلِأَهْلِ بَيْتِكِ خَاصَّةً فَأَهَلَّ ذَاكَ أَنْتُمْ أَمْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «لَا بَلْ لِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الَّذِي [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7524 - بل أبو حمزة ضعيف جدا

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عمران بن حصین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اے فاطمہ ! اپنی قربانی ( کے جانور ) کے پاس کھڑی ہو جاؤ اور اس کی قربان ہوتے ہوئے دیکھو ، کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرتے ہی تیری زندگی کے تمام گناہوں کو معاف کر دیا جائے گا ۔ اور قربانی کے وقت یہ دعا مانگو إِنَّ صَلَاتِي وَنُسُكِي وَمَحْيَايَ وَمَمَاتِي لِلَّهُ رَبِّ الْعَالَمِينَ لَا شَرِيكَ لَهُ وَبِذَلِكَ أُمِرْتُ وَأَنَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ ’’ تم فرماؤ بے شک میری نماز اور میری قربانیاں اور میرا جینا اور میرا مرنا سب اللہ کے لیے ہے ، جو رب سارے جہان کا ، اس کا کوئی شریک نہیں مجھے یہی حکم ہوا ہے اور میں سب سے پہلا مسلمان ہوں ‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ) عمران کہتے ہیں : میں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ یہ عمل صرف آپ کے خاندان کے لیے خاص ہے یا عام مسلمانوں کو بھی اس کی اجازت ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : ہر مسلمان کو اس کی اجازت ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7525

Al Mustadrak #7525

See Details

حَدَّثَنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَالَوَيْهِ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ شَبِيبٍ الْمَعْمَرِيُّ، ثَنَا دَاوُدُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، ثَنَا عَمْرُو بْنُ قَيْسٍ الْمُلَائِيُّ، عَنْ عَطِيَّةَ، عَنْ أَبِي سَعِيدٍ الْخُدْرِيِّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِفَاطِمَةَ عَلَيْهَا الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: «قَوْمِي إِلَى أُضْحِيَّتِكَ فَاشْهَدِيهَا فَإِنَّ لَكِ بِأَوَّلِ قَطْرَةٍ تَقْطُرُ مِنْ دَمِهَا يُغْفَرُ لَكِ مَا سَلَفَ مِنْ ذُنُوبُكَ» قَالَتْ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، هَذَا لَنَا أَهْلَ الْبَيْتِ خَاصَّةً أَوْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً؟ قَالَ: «بَلْ لَنَا وَلِلْمُسْلِمِينَ عَامَّةً» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7525 - عطية واه

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوسعید خدری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے سیدہ کائنات حضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا : اٹھو ، اپنا جانور قربان ہوتے ہوئے دیکھو ، کیونکہ اس کے خون کا پہلا قطرہ زمین پر گرنے سے پہلے تیرے سابقہ تمام گناہ بخش دیئے جائیں گے ۔ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ کیا یہ حکم صرف ہمارے گھرانے کے لیے ہے یا باقی تمام مسلمانوں کے لیے بھی ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : یہ حکم تمام مسلمانوں کے لیے ہے ۔

7526

Al Mustadrak #7526

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بُرْدٍ الْأَنْطَاكِيُّ، ثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، ثَنَا هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: نَزَلَ جِبْرِيلُ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا جِبْرِيلُ كَيْفَ رَأَيْتَ عِيدَنَا؟» فَقَالَ: لَقَدْ تَبَاهَى بِهِ أَهْلُ السَّمَاءِ. اعْلَمْ يَا مُحَمَّدُ أَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ، وَأَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْبَقَرِ، وَأَنَّ الْجَذَعَ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْإِبِلِ، وَلَوْ عَلِمَ اللَّهُ ذَبْحًا خَيْرًا مِنْهُ فَدَى بِهِ إِبْرَاهِيمَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7526 - إسحاق هالك

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت جبریل امین علیہ السلام رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں حاضر ہوئے ، نبی اکرم ﷺ نے ان سے فرمایا : اے جبریل تم نے ہماری عید کیسی دیکھی ؟ جبریل امین علیہ السلام نے بتایا کہ آسمان والے اس پر خوشی منا رہے ہیں ، اے محمد ! جان لیجیے ، دنبہ چھوٹا بھی ہو ، وہ بڑے بکرے سے بہتر ہے ۔ دنبہ چھوٹا بھی ہو ، وہ بڑے بکرے سے بہتر ہے ۔ دنبہ چھوٹا بھی ہو ، وہ بڑے بکرے سے بہتر ہے ۔ اور اگر اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں اس سے بہتر کوئی قربانی ہوتی تو ابراہیم علیہ السلام کو فدئیے کے طور پر وہی دی جاتی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7527

Al Mustadrak #7527

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، عَنِ الْأَوْزَاعِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَامِرٍ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ أَبِي حَبِيبٍ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا قَالَ لَهُ: إِنَّا نَكْرَهُ النَّقْصَ فِي الْقُرُونِ وَالْأُذُنِ، فَقَالَ لَهُ الْبَرَاءُ: اكْرَهْ لِنَفْسِكَ مَا شِئْتَ وَلَا تُحَرِّمْهُ عَلَى النَّاسِ. قَالَ الْبَرَاءُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " أَرْبَعٌ لَا يَجْزِي فِي الضَّحَايَا: الْعَوْرَاءُ الْبَيِّنُ عَوَرُهَا، وَالْمَكْسُورَةُ بَعْضُ قَوَائِمِهَا بَيِّنٌ كَسْرُهَا، وَالْمَرِيضَةُ بَيِّنٌ مَرَضُهَا، وَالْعَجْفَاءُ الَّتِي لَا تَنْقَى"

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت براء بن عازب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی نے ان سے کہا : ہم ایسے جانور کو پسند نہیں کرتے جس کے سینگوں یا کانوں میں کوئی نقص ہو ، حضرت براء رضی اللہ عنہ نے اس سے کہا : تم اپنے لیے جو چاہو ناپسند کرو لیکن اس کو لوگوں پر حرام مت کرو ، حضرت براء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : چار جانور ایسے ہیں جن کی قربانی جائز نہیں ہے ۔ اندھا ، جس کا اندھا پن بہت واضح ہو ۔ جس کی کوئی ٹانگ ٹوٹی ہو اور واضح نظر آئے ۔ بیمار ، جس کی بیماری بہت واضح ہو ۔ ایسا لاغر جانور جس کی ہڈیوں سے گودا ختم ہو گیا ہو ۔"

7528

Al Mustadrak #7528

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ عُقْبَةُ، ثَنَا الرَّبِيعُ، ثَنَا أَيُّوبُ بْنُ سُوَيْدٍ، ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمِثْلِهِ قَالَ الرَّبِيعُ فِي كِتَابِهِ بِالْإِسْنَادَيْنِ قَالَ: ثَنَا الْأَوْزَاعِيُّ حَدِيثُ أَبِي سَلَمَةَ، عَنِ الْبَرَاءِ بْنِ عَازِبٍ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، إِنَّمَا أَخْرَجَ مُسْلِمٌ رَحِمَهُ اللَّهُ تَعَالَى حَدِيثَ سُلَيْمَانَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ عُبَيْدِ بْنِ فَيْرُوزٍ، عَنِ الْبَرَاءِ، وَهُوَ فِيمَا أُخِذَ عَلَى مُسْلِمٍ رَحِمَهُ اللَّهُ لِاخْتِلَافِ النَّاقِلِينَ فِيهِ وَأَصَحُّهُ حَدِيثُ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ"" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7527 - أيوب بن سويد ضعفه أحمد

اردو ترجمہ · Urdu

" ابوسلمہ نے براء بن عازب رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ ﷺ کا ایسا ہی ارشاد نقل کیا ہے ۔ ٭٭ ربیع نے دو اسنادوں کے ہمراہ اپنی کتاب میں لکھا ہے کہ ’’ ہمیں اوزاعی نے ابوسلمہ کے واسطے سے حضرت براء رضی اللہ عنہ کی روایت بیان کی ہے ۔ اور یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ تاہم امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سلیمان بن عبدالرحمن کے حوالے سے حضرت عبید بن فیروز سے پھر حضرت براء رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث نقل کی ہے ۔ اس روایت کی بناء پر امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ پر گرفت بھی ہوئی ہے کیونکہ اس میں ناقلین کا اختلاف ہے ، اور اس معاملہ میں سب سے صحیح حدیث وہ ہے جو یحیی بن ابی کثیر نے حضرت ابوسلمہ سے روایت کی ہے ۔"

7529

Al Mustadrak #7529

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَمْرُو بْنُ الْحَارِثِ، وَسَعِيدُ بْنُ أَبِي أَيُّوبَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَيَّاشِ بْنِ عَبَّاسٍ، حَدَّثَهُمْ عَنْ عِيسَى بْنِ هِلَالٍ الصَّدَفِيِّ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا أَنَّ رَجُلًا أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ بِيَوْمِ الْأَضْحَى عِيدًا جَعَلَهُ اللَّهُ لِهَذِهِ الْأُمَّةِ» قَالَ الرَّجُلُ: فَإِنْ لَمْ أَجِدْ إِلَّا مَنِيحَةً أُنْثَى أَوْ شَاةَ أَهْلِي أَوْ مَنِيحَتَهُمْ أَذْبَحُهَا قَالَ: «لَا، وَلَكِنْ قَلِّمْ أَظْفَارَكَ، وَقُصَّ شَارِبَكَ، وَاحْلِقْ عَانَتَكَ فَذَاكَ تَمَامُ أُضْحِيَّتِكَ عِنْدَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7529 - هذا حديث صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : ایک آدمی رسول اللہ ﷺ کی بارگاہ میں آیا ، رسول اللہ ﷺ نے اس کو فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں قربانی کے دن کو عید بناؤں ، اللہ تعالیٰ نے یہ دن اس امت کے لیے عید بنا دیا ہے ۔ اس آدمی نے کہا : اگر میرے پاس منیحہ ( ایسی اونٹنی جو کسی سے فائدہ اٹھانے کے لیے لی گئی ہو ) یا گھر والوں کی بکری یا گھر والوں کی منیحہ کے علاوہ میرے پاس کوئی جانور نہ ہو ، تو کیا میں اس کو ذبح کر لوں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : نہیں ۔ لیکن ( قربانی کے دن ) اپنے ناخن کاٹ لے ، اپنی مونچھیں پست کروا لے ، اور بال کاٹ لے ، تجھے اللہ تعالیٰ کی بارگاہ سے اسی عمل کی بدولت قربانی کا ثواب مل جائے گا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7530

Al Mustadrak #7530

See Details

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ الْخُرَاسَانِيِّ الْعَدْلُ بِبَغْدَادَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُلَاعِبِ بْنِ حَيَّانَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، أَنْبَأَ شُعْبَةُ، وَسَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، قَالَ: سَمِعْتُ جُرَيَّ بْنَ كُلَيْبٍ، رَجُلًا مِنْهُمْ عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى أَنَّ يُضَحَّى بِأَعْضَبِ الْقَرْنِ وَالْأُذُنِ» قَالَ قَتَادَةُ: وَذَكَرْتُ ذَلِكَ لِسَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ قَالَ: «الْعَضْبُ النِّصْفُ فَمَا فَوْقَ ذَلِكَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7530 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ایسا جانور قربان کرنے سے منع فرمایا ہے جس کے کان یا سینگ کٹے ہوئے ہوں ۔ قتادہ کہتے ہیں : میں نے یہ بات حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ کو بتائی تو انہوں نے بتایا کہ اعضب ، اس جانور کو کہتے ہیں جس کا آدھا یا اس سے زیادہ سینگ کٹا ہوا ہو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7531

Al Mustadrak #7531

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَيَّاشٍ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ أَبِي طَالِبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُضَحَّى بِالْمُقَابَلَةِ وَالْمُدَابَرَةِ أَوْ شَرْقَاءَ أَوْ خَرْقَاءَ أَوْ جَدْعَاءَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7531 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مقابلہ ( جس کا کان اگلی جانب سے کٹا ہوا ہو ) مدابرہ ( جس کا کان پچھلی جانب سے کٹا ہوا ہوا ) شرقاء ( جس کے کان پھٹے ہوئے ہوں ) خرقاء ( جس کے کانوں میں سوراخ ہے ) جدعاء ( جس کا کان ، ناک یا ہونٹ کٹے ہوئے ہوں ) جانور کی قربانی کرنے سے منع کیا ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7532

Al Mustadrak #7532

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثَنَا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحِ بْنِ النُّعْمَانِ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ وَلَا يُضَحَّى بِمُقَابَلَةٍ وَلَا مُدَابَرَةٍ وَلَا شَرْقَاءَ وَلَا خَرْقَاءَ» قَالَ أَبُو إِسْحَاقَ: " الْمُقَابَلَةُ: مَا قُطِعَ طَرَفُ أُذُنِهَا، وَالْمُدَابَرَةُ: مَا قُطِعَ مِنْ جَانِبِ الْأُذُنِ، وَالشَّرْقَاءُ: الْمَشْقُوقَةُ، وَالْخَرْقَاءُ: الْمَثْقُوبَةُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ أَسَانِيدُهُ كُلُّهَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ وَأَظُنُّهُ لِزِيَادَةٍ ذَكَرَهَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ عَلَى أَنَّهُمَا لَمْ يَحْتَجَّا بِقَيْسٍ» حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الزَّكِيُّ، ثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَذَكَرَ بِنَحْوِهِ. قَالَ قَيْسٌ: قُلْتُ لِأَبِي إِسْحَاقَ: سَمِعْتُهُ مِنْ شُرَيْحٍ؟ قَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ أَشْوَعَ، عَنْهُ

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ آنکھ اور کان کا اچھی طرح مشاہدہ کر لیں ۔ اور ہم مقابلہ ، مدابرہ ، شرقاء ، اور خرقاء جانور کی قربانی نہ کریں ۔ ابواسحاق کہتے ہیں : مقابلہ ایسے جانور کو کہتے ہیں ، جس کا کان کٹا ہوا ہوا ۔ مدابرہ اس کو کہتے ہیں جس کے کان کا ایک حصہ کٹا ہوا ہو ۔ شرقاء ، اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان پھٹے ہوئے ہوں ۔ اور خرقاء اس جانور کو کہتے ہیں جس کے کان میں سوراخ ہو ۔ ٭٭ اس حدیث کی تمام اسانید صحیح ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ میرا خیال ہے کہ اس میں قیس بن الربیع کے واسطے سے ابواسحاق سے روایت موجود ہے اور شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے قیس کی روایات نقل نہیں کیں ۔ ان کی روایت کردہ حدیث کی سند یوں ہے حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ كَامِلٍ الْقَاضِي، ثَنَا أَحْمَدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الزَّكِيُّ، ثَنَا أَبُو كَامِلٍ مُظَفَّرُ بْنُ مُدْرِكٍ، ثَنَا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثَنَا أَبُو إِسْحَاقَ، عَنْ شُرَيْحٍ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ اس سند کے بعد کے پوری حدیث روایت کی ہے ۔ قیس کہتے ہیں : میں نے ابواسحاق سے کہا : کیا تم نے یہ حدیث شریح سے خود سنی ہے ؟ انہوں نے کہا : مجھے ابن اشوع نے شریح کے حوالے سے یہ حدیث سنائی ہے ۔"

7533

Al Mustadrak #7533

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عَتَّابٍ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ جَعْفَرِ بْنِ. . . . .، أَنْبَأَ وَهْبُ بْنُ جُرَيْجٍ، ثَنَا أَبِي، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ، أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ عَلِيًّا، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ عَنِ الْبَقَرَةِ؟ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، قَالَ: مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ؟ قَالَ: لَا تَضُرُّكَ، قَالَ: الْعَرْجَاءُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ، قَالَ: «وَكَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَمَرَنَا أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ» رَوَاهُ سُفْيَانُ الثَّوْرِيُّ، وَشُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، عَنْ حُجَيَّةَ بْنِ عَدِيٍّ

اردو ترجمہ · Urdu

" حجیہ بن عدی سے مروی ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گائے کے بارے میں پوچھا تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گائے سات آدمیوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے ، اس نے پوچھا : جس کا سینک ٹوٹا ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس کی قربانی کرنے میں تجھے کوئی حرج نہیں ہے ۔ اس نے پوچھا : عرجاء ( لنگڑا جانور ) ؟ آپ نے فرمایا : جب وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک پہنچ جائے تو جائز ہے ۔ اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ ہمیں حکم دیا کرتے تھے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں ۔ ٭٭ سفیان ثوری اور شعبہ نے اس کو سلمہ بن کہیل کے واسطے سے حجیہ بن عدی سے روایت کیا ہے ۔"

7534

Al Mustadrak #7534

See Details

أَمَّا حَدِيثُ سُفْيَانَ، قَالَ: سَأَلَ رَجُلٌ عَلِيًّا، عَنِ الْبَقَرَةِ قَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، فَقَالَ: مَكْسُورَةُ الْقَرْنِ؟ قَالَ: لَا بَأْسَ، قَالَ: الْعَرْجَاءُ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغَتِ الْمَنْسَكَ، وَقَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ»

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت سفیان کی حدیث یہ ہے کہ ایک آدمی نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے گائے کی قربانی کے بارے میں پوچھا آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : گائے ، سات لوگوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے ۔ اس نے پوچھا : جس کا سینگ ٹوٹا ہو ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ۔ اس نے پوچھا : عرجاء ( لنگڑا جانور ) ؟ آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اگر وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک پہنچ جائے تو کوئی حرج نہیں ۔ فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں ۔

7535

Al Mustadrak #7535

See Details

فَحَدَّثَنَاهُ عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثَنَا أَبُو الْوَلِيدِ الطَّيَالِسِيُّ، وَأَبُو عُمَرَ الْحَوْضِيُّ، قَالَا: ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ كُهَيْلٍ، قَالَ: سَمِعْتُ حُجَيَّةَ بْنَ عَدِيٍّ، يَقُولُ: سَمِعْتُ عَلِيًّا، وَسَأَلَهُ رَجُلٌ عَنِ الْبَقَرَةِ فَقَالَ: عَنْ سَبْعَةٍ، قَالَ: وَسَأَلَهُ عَنْ مَكْسُورَةِ الْقَرْنِ؟ قَالَ: لَا تَضُرُّكَ. قَالَ: وَسَأَلَهُ عَنِ الْعَرْجِ؟ قَالَ: إِذَا بَلَغَ الْمَنْسَكَ، وَقَالَ: «أَمَرَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نَسْتَشْرِفَ الْعَيْنَ وَالْأُذُنَ» هَذِهِ الْأَسَانِيدُ كُلُّهَا صَحِيحَةٌ وَلَمْ يَحْتَجَّا بِحُجَّيَةَ ابْنِ عَدِيٍّ وَهُوَ مِنْ كِبَارِ أَصْحَابِ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7535 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حجیہ بن عدی فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی نے گائے کی قربانی کے بارے میں پوچھا آپ نے فرمایا : ایک گائے سات آدمیوں کی جانب سے قربان کی جا سکتی ہے ۔ پھر اس شخص نے ایسے جانور کے بارے میں پوچھا جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہو ؟ آپ نے فرمایا : کوئی حرج نہیں ۔ اس نے عرجاء ( لنگڑے جانور ) کے بارے میں پوچھا تو آپ نے فرمایا : اگر وہ اپنے قدموں پر چل کر قربان گاہ تک جا سکتا ہو تو جائز ہے ۔ اور فرمایا : رسول اللہ ﷺ نے ہمیں حکم دیا ہے کہ ہم آنکھ اور کان کا اچھی طرح معاینہ کر لیا کریں ۔ ٭٭ یہ تمام اسانید صحیح ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے حجیہ بن عدی کی روایات نقل نہیں کیں ۔ حالانکہ وہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے قریبی ساتھیوں میں سے ہیں ۔"

7536

Al Mustadrak #7536

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزَّاهِدُ، ثَنَا الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ بَحْرٍ الْبُرِّيُّ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثَنَا عِيسَى بْنُ يُونُسَ، ثَنَا ثَوْرُ بْنُ يَزِيدَ، حَدَّثَنِي أَبُو حُمَيْدٍ الرُّعَيْنِيُّ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ خَالِدٍ الْمِصْرِيُّ، قَالَ: أَتَيْتُ عُتْبَةَ بْنَ عَبْدٍ السُّلَمِيَّ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا الْوَلِيدِ إِنِّي خَرَجْتُ ألْتَمِسُ الضَّحَايَا فَلَمْ أَجِدٍ شَيْئًا يُعْجِبُنِي غَيْرَ ثَرْمَاءَ فَكَرِهْتُهَا فَمَا تَقُولُ؟ قَالَ: أَفَلَا جِئْتَنِي بِهَا فَقُلْتُ: سُبْحَانَ اللَّهِ تَجُوزُ عَنْكَ وَلَا تَجُوزُ عَنِّي؟ قَالَ: نَعَمْ إِنَّكَ تَشُكُّ وَلَا أَشُكُّ إِنَّمَا «نَهَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْمُصْفَرَّةِ وَالْمُسْتَأْصَلَةِ وَالنَّحْفَاءِ وَالْمُشَيَّعَةِ وَالْكَسْرَاءِ» وَالْمُصْفَرَّةُ الَّتِي تُسْتَأْصَلُ أُذُنُهَا حَتَّى يَبْدُوَ صِمَاخُهَا، وَالْمُسْتَأْصَلَةُ الَّتِي أُخِذَ قَرْنُهَا، وَالنَّحْفَاءُ الَّتِي تُنْحَفُ عَيْنُهَا، وَالْمُشَيَّعَةُ الَّتِي لَا تَتْبَعُ الْغَنَمَ عَجَفًا وَضَعْفًا، وَالْكَسْرَاءُ الْكَسِيرُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7536 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

" یزید بن خالد مصری فرماتے ہیں : میں عتبہ بن عبد سلمی کے پاس گیا اور کہا : اے ابوالولید میں قربانی کا جانور لینے نکلا ہوں ، لیکن مجھے کوئی جانور پسند نہیں آیا ، ایک ثرماء ( ٹوٹے ہوئے دانت والا ) جانور ملا ہے ، وہ مجھے پسند نہیں ہے ۔ آپ اس کے بارے میں کیا فرماتے ہیں ؟ انہوں نے کہا : کیا تم اس کو میرے پاس نہیں لا سکتے ؟ میں نے کہا : سبحان اللہ وہ آپ کے لیے جائز اور میرے لیے ناجائز ہے ؟ انہوں نے کہا : جی ہاں تم شک کر رہے ہو اور مجھے کوئی شک نہیں ہے ۔ رسول اللہ ﷺ نے مصفرہ ، مستاصلہ ، نحفاء ، مشیعہ اور کسراء سے منع فرمایا ہے ۔ ٭ مصفرہ اس جانور کہتے ہیں جس کا کان جڑ سے کٹ گیا ہو اور اس کا سوراخ نظر آ رہا ہو ۔ ٭ مستاصلہ اس جانور کو کہتے ہیں ، جس کا سینگ ٹوٹا ہوا ہے ۔ ٭ نحفاء ایسے جانور کو کہتے ہیں جس کی آنکھیں بھینگی ہوں ۔ ٭ مشیعہ ایسے جانور کو کہتے ہیں جو لاغری اور لنگڑے پن کی وجہ سے ریوڑ کے ساتھ نہ چل سکتا ہو ۔ ٭ اور کسراء اس جانور کو کہتے ہیں ، جس کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7537

Al Mustadrak #7537

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَاصِمٍ، حَدَّثَنِي ابْنُ طَاوُسٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا تَجُوزُ فِي النَّذْرِ الْعَوْرَاءُ وَالْعَجْفَاءُ وَالْجَرْبَاءُ وَالْمُصْطَلِمَةُ أَطْبَاؤُهَا كُلُّهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7537 - علي بن عاصم ضعفوه

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : نذر میں عوراء ( اندھا جانور ) ، عجفاء ( کمزور جانور ) ، جرباء ( خارش زدہ ) اور جس کے سارے تھن کٹے ہوئے ہوں جائز نہیں ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7538

Al Mustadrak #7538

See Details

أَخْبَرَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْأَنْصَارِيُّ، أَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِدْرِيسَ، ثَنَا عَاصِمُ بْنُ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا نُؤَمِّرُ عَلَيْنَا فِي الْمَغَازِي أَصْحَابَ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَكُنَّا بِفَارِسَ فَغَلَتْ عَلَيْنَا يَوْمَ النَّحْرِ الْمَسَانُّ فَكُنَّا نَأْخُذُ الْمُسِنَّةُ بِالْجَذَعَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَامَ فِينَا رَجُلٌ مِنْ مُزَيْنَةَ فَقَالَ: كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَصَابَنَا مِثْلُ هَذَا الْيَوْمِ فَكُنَّا نَأْخُذُ الْمُسِنَّةَ بِالْجَذَعَيْنِ وَالثَّلَاثَةِ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْجَذَعُ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ» رَوَاهُ الثَّوْرِيُّ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، وَسَمَّى الصَّحَابِيَ فِيهِ مُجَاشِعَ بْنَ مَسْعُودٍ السُّلَمِيَّ

اردو ترجمہ · Urdu

" عاصم بن کلیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ( وہ فرماتے ہیں کہ ) جہاد میں رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام کو ہمارا امیر بنایا جاتا تھا ۔ ہم ایران میں ہوتے تھے ، قربانی کے موقع پر بڑی عمر والے جانور ہمارے لیے دشوار ہو گیا تھا ہمیں دو یا تین جذعوں ( کم عمر والے جانور ) کے بدلے ایک مسنہ ( زیادہ عمر والا جانور ) لینا پڑتا تھا ، مزینہ کا ایک آدمی کہنے لگا : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ تھے ، آج کی طرح اس وقت بھی ہمیں پریشانی ہوئی ، تو ہم نے اس وقت بھی دو یا تین جذعوں ( کم عمر والے جانور ) کے بدلے ایک مسنہ ( زیادہ عمر والا جانور ) لیا تھا ، رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جہاں دو دانت کا جانور جائز ہے وہاں ایک جذع ( دنبے یا چھترے کا چھ ماہ کا بچہ ) بھی جائز ہے ۔ ٭٭ اس حدیث کو ثوری نے عاصم بن کلیب سے روایت کیا ہے اور اس میں صحابی کا نام ’’ مجاشع بن مسعود سلمی ‘‘ بتایا ہے ۔"

7539

Al Mustadrak #7539

See Details

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثَنَا السَّرِيُّ بْنُ خُزَيْمَةَ، ثَنَا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثَنَا سُفْيَانُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كُنَّا مَعَ مُجَاشِعِ بْنِ مَسْعُودٍ السُّلَمِيِّ، فِي غَزَاةٍ فَغَلَتِ الضَّحَايَا فَقَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: «إِنَّ الْجَذَعَ يُوفِي مِمَّا يُوفِي مِنْهُ الثَّنِيُّ» رَوَاهُ شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، وَلَمْ يُسَمِّ الصَّحَابِيَّ

اردو ترجمہ · Urdu

" عاصم بن کلیب اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ( وہ فرماتے ہیں کہ ) ہم حضرت مجاشع بن مسعود سلمی رضی اللہ عنہ کے ہمراہ ایک جہاد میں تھے ، وہاں قربانی کے جانوروں کا ریٹ بہت بڑھ گیا ، انہوں نے فرمایا : میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا ہے کہ دو دانت کے جانور کی جگہ جذع ( دنبے یا چھترے کا چھ ماہ کا بچہ ) بھی کفایت کرے گا ۔ ٭٭ اس حدیث کو شعبہ نے عاصم بن کلیب کے واسطے سے روایت کیا ہے لیکن انہوں نے صحابی کا نام ذکر نہیں کیا ۔"

7540

Al Mustadrak #7540

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنَا أَبِي، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ، ثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ رَجُلٍ، مِنْ مُزَيْنَةَ أَوْ جُهَيْنَةَ قَالَ: كَانَ أَصْحَابُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ قَبْلَ الْأَضْحَى بِيَوْمٍ أَوْ يَوْمَيْنِ أَعْطُوا جَذَعَيْنِ وَأَخَذُوا ثَنِيًّا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِنَّ الْجَذَعَةَ تُجْزئُ مِمَّا تُجْزئُ مِنْهُ الثَّنِيَّةُ» هَذَا حَدِيثٌ مُخْتَلَفٌ فِيهِ عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ وَهُوَ مِمَّا لَمْ يُخَرِّجَاهُ الشَّيْخَانِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا وَقَدِ اشْتَرَطْتُ لِنَفْسِي الِاحْتِجَاجَ بِهِ، وَالْحَدِيثُ عِنْدِي صَحِيحٌ بَعْدَ أَنْ أَجْمَعُوا عَلَى ذِكْرِ الصَّحَابِيِّ فِيهِ ثُمَّ سَمَّاهُ إِمَامُ الصَّنْعَةِ سُفْيَانُ بْنُ سَعِيدٍ الثَّوْرِيُّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" شعبہ ، عاصم بن کلیب کے واسطے سے ان کے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں ، کہ مزینہ یا جہینہ کا ایک آدمی بیان کرتا ہے کہ قربانی سے ایک یا دو دن پہلے صحابہ کرام دو جذعے ( کمر عمر والے جانور ) دے کر اس کے بدلے میں دو دانت کا جانور لے لیتے ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : جذعہ ( بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ ) وہاں کفایت کر جاتا ہے جہاں دو دانت کا جانور کفایت کرتا ہے ۔ ٭٭ اس حدیث میں عاصم بن کلیب پر اختلاف ہے ، اس کو شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نقل نہیں کیا ۔ اور میری شرئط کے مطابق یہ حدیث لائق حجت ہے ۔ اور یہ حدیث میرے نزدیک صحیح ہے کیونکہ اس حدیث میں جس راوی کا نام مجہول تھا اس کے نام پر راویوں کا اجماع ہو چکا ہے اور فن حدیث کے امام حضرت سفیان بن سعید ثوری نے اپنی روایت میں ان کا نام بھی ذکر کیا ہے ۔"

7541

Al Mustadrak #7541

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ الْحَكَمِ، أَنْبَأَ ابْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ سَلْمَانَ بْنِ عَقِيلٍ، عَنِ ابْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ بَعْضِ أَزْوَاجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «لَأَنْ أُضَحِّيَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُضَحِّيَ بِمُسِنَّةٍ مِنَ الْمَعْزِ» رَوَاهُ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقُرَشِيُّ، عَنْ يَزِيدَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، وَسَمَّى الصَّحَابِيَّةَ أُمَّ سَلَمَةَ

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ایک ام المومنین نے کہا : بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ قربان کرنا میں زیادہ پسند کرتی ہوں یہ نسبت ایک سالہ بکری ذبح کرنے کے ۔ ٭٭ محمد بن اسحاق قرشی نے یہ حدیث یزید بن عبداللہ بن قسط کے حوالے سے بیان کی ہے اور صحابیہ کا نام ’’ ام سلمہ ‘‘ بیان کیا ہے ۔"

7542

Al Mustadrak #7542

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثَنَا مُسَدَّدٌ، ثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ قُسَيْطٍ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ الْمُسَيَّبِ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَتْ: «لَأَنْ أُضَحِّيَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُضَحِّيَ بِمُسِنَّةٍ مِنَ الْمَعْزِ» وَقَدْ أُسْنِدَ هَذَا الْحَدِيثُ عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سعید بن مسیب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کی زوجہ محترمہ ، ام المومنین حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ قربان کرنا مجھے زیادہ پسند ہے بہ نسبت بکری ذبح کا ایک سالہ بچہ قربان کرنے کے ۔ ٭٭ اس حدیث کی اسناد حضرت ابوہریرہ تک بھی پہنچتی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )"

7543

Al Mustadrak #7543

See Details

حَدَّثَنَاهُ الشَّيْخُ أَبُو بَكْرٍ، أَنْبَأَ عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّارُ، ثَنَا أَبُو الْجَمَاهِرِ مُحَمَّدُ بْنُ عُثْمَانَ التَّنُوخِيُّ، ثَنَا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّرَاوَرْدِيُّ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ، عَنْ رَبَاحِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «دَمُ عَفْرَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ دَمِ سَوْدَاوَيْنِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7543 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : ایک عفراء ( سفید رنگ کے جانور ) کا خون مجھے کالے رنگ کے دو جانوروں سے زیادہ پسند ہے ۔

7544

Al Mustadrak #7544

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ عُبَيْدَةَ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ زَيْدٍ الْفَرَائِضِيُّ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ بْنِ إِبْرَاهِيمَ الْحُنَيْنِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ قَيْسٍ، عَنْ أَبِي ثِفَالٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «الْجَذَعُ مِنَ الضَّأْنِ خَيْرٌ مِنَ السَّيِّدِ مِنَ الْمَعْزِ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7544 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : بھیڑ کا چھ ماہ کا بچہ بکری کے بڑے بچے سے بہتر ہے ۔

7545

Al Mustadrak #7545

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثَنَا قَزَعَةُ بْنُ سُوَيْدٍ، حَدَّثَنِي الْحَجَّاجُ بْنُ الْحَجَّاجِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ جُنَادَةَ، عَنْ حَنَشِ بْنِ الْحَارِثِ، حَدَّثَنِي أَبُو هُرَيْرَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ أَنَّ رَجُلًا أَتَى النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِجَذَعٍ مِنَ الضَّأْنِ مَهْزُولٍ خَسِيسٍ وَجَذَعٍ مِنَ الْمَعْزِ سَمِينٍ يَسِيرٍ فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ هُوَ خَيْرُهُمَا أَفَأُضَحِّي بِهِ؟ فَقَالَ: «ضَحِّ بِهِ فَإِنَّ اللَّهَ أَغْنَى» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7545 - قزعة بن سويد ضعيف

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ایک آدمی نبی اکرم ﷺ کی بارگاہ میں بھیڑ کا ایک چھ ماہ کا بچہ لے کر آیا ، جو کہ چھوٹا اور کمزور تھا اور ایک بکری کا چھ ماہ کا بچہ لایا ، یہ موٹا تازہ تھا ۔ اور کہنے لگا : یا رسول اللہ ﷺ ان میں سے وہ ( بکری کا بچہ ) اچھا ہے ، کیا میں اس کو قربان کر دوں ؟ حضور ﷺ نے فرمایا : کر دو ، کیونکہ اللہ تعالیٰ اس سے بے نیاز ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

7546

Al Mustadrak #7546

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدُ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الشَّيْبَانِيُّ، ثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ الْهِلَالِيُّ، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَهْضَمٍ، ثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي حَبِيبَةَ الْأَشْهَلِيُّ، عَنْ دَاوُدَ بْنِ الْحُصَيْنِ، عَنِ الْقَاسِمِ بْنِ مُحَمَّدٍ، عَنْ عَائِشَةَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ إِلَى سَعْدِ بْنِ أَبِي وَقَّاصٍ بِقَطِيعٍ مِنْ غَنَمٍ فَقَسَمَهَا بَيْنَ أَصْحَابِهِ فَبَقِيَ مِنْهَا تَيْسٌ فَضَحَّى بِهِ فِي عُمْرَتِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 7546 - إبراهيم مختلف في عدالته

اردو ترجمہ · Urdu

" ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی کہ رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ کے پاس بکریوں کا ریوڑ بھیجا ، انہوں نے وہ ریوڑ اپنے ساتھیوں میں تقسیم کر دیا ، ان میں سے ایک بکرا بچ گیا ، انہوں نے وہ اپنے عمرہ میں قربان کر دیا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"