Muslim99Muslim99

Al Mustadrak · Book 30 · Chapter 30

کتاب الہجرت

30 hadiths in this chapter

4257

Al Mustadrak #4257

See Details

حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ الْفَضْلِ بْنِ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا جَدِّي، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُنْذِرِ الْحِزَامِيُّ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ زَيْدٍ، عَنْ شِهَابِ بْنِ عَبْدِ رَبِّهِ، عَنْ عُمَرَ بْنِ عَلِيٍّ قَالَ: مَشَيْتُ مَعَ مُحَمَّدِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَ: أَشْهَدُ أَنَّ أَبِي، حَدَّثَنِي، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ، «أَنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ عَمَّرَ نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ ثَلَاثَ عَشْرَةَ سَنَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ «وَقَدِ اتَّفَقَتِ الرِّوَايَاتُ عَلَى هَذِهِ مَعَ الرِّوَايَاتِ الَّتِي أَخْرَجَاهَا، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، فَأَمَّا خَبَرُ أَنَسٍ، وَمُعَاوِيَةَ وَإِنْ صَحَّتْ أَسَانِيدُهُمَا فِي عَشْرِ سِنِينَ فَلَيْسَ عَلَيْهِمَا الْقَوْلُ وَالْعَمَلُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4257 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو مکۃ المکرمہ میں 13 سال رکھا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اور حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی شیخین رحمۃ اللہ علیہما کی نقل کردہ احادیث کے ساتھ ساتھ اور بھی بہت ساری احادیث ہیں جو اس مذکورہ حدیث کے ساتھ موافقت رکھتی ہیں ۔ اور جہاں تک تعلق ہے حضرت انس رضی اللہ عنہ اور حضرت معاویہ رضی اللہ عنہ کی مرویات کا کہ حضور ﷺ دس سال مکہ میں رہے تو ( علمائے امت کا ) ان پر عمل نہیں ہے ( یعنی علمائے امت نے ان کو قابل عمل قرار نہیں دیا ہے )"

4258

Al Mustadrak #4258

See Details

أَخْبَرَنَا الْقَاسِمُ بْنُ الْقَاسِمِ السَّيَّارِيُّ بِمَرْوَ ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ هِلَالٍ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ شَقِيقٍ، ثنا عِيسَى بْنُ عُبَيْدٍ الْكِنْدِيُّ، عَنْ غَيْلَانَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الْعَامِرِيِّ، عَنْ أَبِي زُرْعَةَ بْنِ عَمْرٍو، عَنْ جَرِيرٍ، أَنَّ النَّبِيَّ قَالَ: "" إِنَّ اللَّهَ عَزَّ وَجَلَّ أَوْحَى إِلَيَّ أَيُّ هَؤُلَاءِ الْبِلَادِ الثَّلَاثِ نَزَلْتَ فَهِيَ دَارُ هِجْرَتِكَ: الْمَدِينَةُ أَوِ الْبَحْرَيْنِ أَوْ قِنَّسْرِينُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4258 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : اللہ تعالیٰ نے میری طرف وحی فرمائی کہ تم مدینہ ، بحرین یا قنسرین میں سے جہاں بھی چلے جاؤ ، وہی آپ کا دارالہجرت ( یعنی ہجرت کا مقام ) ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4259

Al Mustadrak #4259

See Details

أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ مُوسَى، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ قُتَيْبَةَ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ أَبِي شَيْبَةَ، ثنا جَرِيرٌ، عَنْ قَابُوسِ بْنِ أَبِي ظَبْيَانَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: "" كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِمَكَّةَ: فَأُمِرَ بِالْهِجْرَةِ وَأُنْزِلَ عَلَيْهِ "": {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80] «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4259 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ میں رہتے تھے ، پھر آپ ﷺ کو ہجرت کا حکم ملا ، اور آپ ﷺ پر یہ آیت نازل ہوئی : {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80] ’’ اور یوں عرض کرو کہ اے میرے رب مجھے سچی طرح داخل کر اور سچی طرح باہر لے جا اور مجھے اپنی طرف سے مددگار غلبہ دے ‘‘۔ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4260

Al Mustadrak #4260

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ الْحَسَنِ، ثنا حُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا شَيْبَانُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنْ قَتَادَةَ قَوْلُهُ تَعَالَى: {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ} [الإسراء: 80] «فَأَخْرَجَهُ اللَّهُ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ مُخْرَجَ صِدْقٍ، وَأَدْخَلَهُ الْمَدِينَةَ مُدْخَلَ صِدْقٍ» ، قَالَ: «وَنَبِيُّ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ عَلِمَ أَنَّهُ لَا طَاقَةَ لَهُ بِهَذَا الْأَمْرِ إِلَّا بِسُلْطَانٍ، فَسَأَلَ سُلْطَانًا نَصِيرًا لِكِتَابِ اللَّهِ وَحُدُودِ اللَّهِ، وَلِفَرَائِضِ اللَّهِ، وَلِإِقَامَةِ كِتَابِ اللَّهِ، وَأَنَّ السُّلْطَانَ عِزَّةٌ مِنَ اللَّهِ جَعَلَهُ بَيْنَ أَظْهُرِ عِبَادِهِ، وَلَوْلَا ذَلِكَ لَأَغَارَ بَعْضُهُمْ عَلَى بَعْضٍ، وَأَكَلَ شَدِيدُهُمْ ضَعِيفَهُمْ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت قتادہ رضی اللہ عنہ ، اللہ تعالیٰ کے ارشاد : {وَقُلْ رَبِّ أَدْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَأَخْرِجْنِي مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِنْ لَدُنْكَ سُلْطَانًا نَصِيرًا} [الإسراء: 80] کے متعلق فرماتے ہیں : اللہ تعالیٰ نے آپ علیہ السلام کو مکہ مکرمہ سے مدینہ منورہ کی جانب حق کے ساتھ نکالا ، اور حق کے ساتھ ہی مدینہ منورہ میں داخل فرمایا ۔ اور کیونکہ اللہ تعالیٰ کے نبی جانتے تھے کہ مددگار کے بغیر وہ یہ کام نہیں کر پائیں گے ، اس لیے انہوں نے کتاب اللہ ، حدود اللہ ، فرائض اللہ اور اقامت کتاب اللہ کے لیے مددگار مانگا ۔ اور مددگار ( سے یہاں پر مراد ) اللہ تعالیٰ کی طرف سے غلبہ ہے ۔ جس کو اللہ تعالیٰ اپنے بندوں پر نافذ فرماتا ہے ۔ اگر یہ نہ ہوں تو لوگ ایک دوسرے کو قتل کریں ، غارت گری کریں اور طاقتور اپنے سے کمزور ( کے مال ) کو کھا جائے ۔"

4261

Al Mustadrak #4261

See Details

أَخْبَرَنَا الْأُسْتَاذُ أَبُو الْوَلِيدِ، وَأَبُو بَكْرِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ، قَالَا: أَخْبَرَنَا الْحَسَنُ بْنُ سُفْيَانَ، ثنا مُوسَى الْأَنْصَارِيُّ، ثنا سَعْدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيُّ، حَدَّثَنِي أَخِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «اللَّهُمَّ إِنَّكَ أَخْرَجْتَنِي مِنْ أَحَبِّ الْبِلَادِ إِلَيَّ، فَأَسْكِنِّي أَحَبَّ الْبِلَادِ إِلَيْكَ» ، فَأَسْكَنَهُ اللَّهُ الْمَدِينَةَ «هَذَا حَدِيثٌ رُوَاتُهُ مَدَنِيُّونَ مِنْ بَيْتِ أَبِي سَعِيدٍ الْمَقْبُرِيِّ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4261 - لكنه موضوع

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے یوں دعا مانگی : ’’ اے اللہ ! تو نے مجھے اس شہر سے اذن سفر دے دیا ہے جو شہر مجھے سب سے زیادہ محبوب تھا ، اب تو مجھے اس شہر میں آباد کر جو تجھے سب سے زیادہ محبوب ہے ‘‘ تو اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو مدینہ منورہ میں آباد فرمایا ۔ ٭٭ اس حدیث کے تمام راوی مدنی ہیں ۔"

4262

Al Mustadrak #4262

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثنا أَسَدُ بْنُ مُوسَى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِلْمُسْلِمِينَ: «قَدْ أُرِيتُ دَارَ هِجْرَتِكُمْ، أُرِيتُ سَبِخَةً ذَاتَ نَخْلٍ بَيْنَ لَابَتَيْنِ» وَهُمَا الْحَرَّتَانِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4262 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" ام المؤمنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں سے ارشاد فرمایا : مجھے تمہارا مقام ہجرت دکھا دیا گیا ہے ۔ مجھے سیاہ پتھروں والے دو خطوں کے درمیان کھجوروں والی دلدلی زمین دکھائی گئی ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4263

Al Mustadrak #4263

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا زِيَادُ بْنُ الْخَلِيلِ التُّسْتَرِيُّ، ثنا كَثِيرُ بْنُ يَحْيَى، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي بَلْجٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مَيْمُونٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: "" شَرَى عَلِيٌّ نَفْسَهُ، وَلَبِسَ ثَوْبَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ نَامَ مَكَانَهُ، وَكَانَ الْمُشْرِكُونَ يَرْمُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَلْبَسَهُ بُرْدَةً، وَكَانَتْ قُرَيْشٌ تُرِيدُ أَنْ تَقْتُلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَعَلُوا يَرْمُونَ عَلِيًّا، وَيَرَوْنَهُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَقَدْ لَبِسَ بُرْدَةً، وَجَعَلَ عَلِيٌّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ يَتَضَوَّرُ، فَإِذَا هُوَ عَلِيٌّ فَقَالُوا: إِنَّكَ لَلَئِيمٌ إِنَّكَ لَتَتَضَوَّرُ، وَكَانَ صَاحِبُكَ لَا يَتَضَوَّرُ وَلَقَدِ اسْتَنْكَرْنَاهُ مِنْكَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» ، وَقَدْ رَوَاهُ أَبُو دَاوُدَ الطَّيَالِسِيُّ وَغَيْرُهُ، عَنْ أَبِي عَوَانَةَ بِزِيَادَةِ أَلْفَاظٍ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4263 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنی جان کی بازی لگا دی ، اور نبی اکرم ﷺ کی چادر اوڑھ کر ان کی جگہ لیٹ گئے ۔ ( اس سے قبل ) مشرکین رسول اللہ ﷺ کو اذیتیں دیا کرتے تھے ۔ ( ہجرت کی رات ) رسول اللہ ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو اپنی چادر اوڑھا دی تھی ۔ جبکہ قریش رسول اللہ ﷺ کو ( معاذاللہ ) شہید کرنا چاہتے تھے ۔ چنانچہ ان لوگوں نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کو رسول اللہ ﷺ سمجھتے ہوئے اذیت دینا شروع کیں ، ( ان کی ایذا رسانیوں کی وجہ سے ) حضرت علی رضی اللہ عنہ پیچ و تاب کھانے لگے ( حضرت علی رضی اللہ عنہ کی اس کیفیت سے ) ان کو اندازہ ہوا کہ یہ ( رسول اللہ ﷺ نہیں ہیں بلکہ یہ تو ) علی رضی اللہ عنہ ہیں ۔ تب وہ بولے : تم کمینے ہو ، تم تڑپ رہے ہو ، جبکہ تمہارا ساتھی تو اس طرح نہیں تڑپا کرتا تھا ۔ اور ہمیں اصل دشمنی اسی سے ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اسی حدیث کو ابوداؤد طیالسی رحمۃ اللہ علیہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے بھی ابوعوانہ رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے ۔ تاہم اس میں کچھ الفاظ کا اضافہ ہے ۔"

4264

Al Mustadrak #4264

See Details

وَقَدْ حَدَّثَنَا بَكْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ الصَّيْرَفِيُّ بِمَرْوَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ قُنْفُذٍ الْبَزَّارُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ الْحِمَّانِيُّ، ثنا قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، ثنا حَكِيمُ بْنُ جُبَيْرٍ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ الْحُسَيْنِ قَالَ: «إِنَّ أَوَّلَ مَنْ شَرَى نَفْسَهُ ابْتِغَاءَ رِضْوَانِ اللَّهِ عَلِيُّ بْنُ أَبِي طَالِبٍ» وَقَالَ عَلِيٌّ عِنْدَ مَبِيتِهِ عَلَى فِرَاشِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شِعْرًا [البحر الطويل] وَقِيتُ بِنَفْسِي خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الْحَصَا وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَبِالْحَجَرِ رَسُولَ إِلَهٍ خَافَ أَنْ يَمْكُرُوا بِهِ فَنَجَّاهُ ذُو الطَّوْلِ الْإِلَهُ مِنَ الْمَكْرِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْغَارِ آمِنًا مُوقًى وَفِي حِفْظِ الْإِلَهِ وَفِي سِتْرٍ وَبِتُّ أُرَاعِيهُمْ وَلَمْ يَتَّهِمُونَنِي وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي عَلَى الْقَتْلِ وَالْأَسْرِ [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4264 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت علی بن حسین رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : رضائے الٰہی کی خاطر اپنی جان کا سودا کرنے والے سب سے پہلے شخص حضرت علی ابن ابی طالب رضی اللہ عنہ ہیں ۔ آپ نے رسول اللہ ﷺ کے بستر پر لیٹے ہوئے ( درج ذیل ) اشعار کہے : وَقِيتُ بِنَفْسِي خَيْرَ مَنْ وَطِئَ الْحَصَا وَمَنْ طَافَ بِالْبَيْتِ الْعَتِيقِ وَبِالْحَجَرِ رَسُولَ إِلَهٍ خَافَ أَنْ يَمْكُرُوا بِهِ فَنَجَّاهُ ذُو الطَّوْلِ الْإِلَهُ مِنَ الْمَكْرِ وَبَاتَ رَسُولُ اللَّهِ فِي الْغَارِ آمِنًا مُوقًى وَفِي حِفْظِ الْإِلَهِ وَفِي سِتْرٍ وَبِتُّ أُرَاعِيهُمْ وَلَمْ يَتَّهِمُونَنِي وَقَدْ وَطَّنْتُ نَفْسِي عَلَى الْقَتْلِ وَالْأَسْرِ میں نے اپنی جان کو اس ذات کے صدقے بچا لیا ہے جو ان سب سے افضل ہے جنہوں نے کنکریوں کو روندا اور جنہوں نے بیت اللہ کا طواف کیا اور جنہوں نے حجر اسود کو چوما ۔ یہ اللہ تعالیٰ کے رسول علیہ السلام ہیں ، خدشہ تھا کہ مشرکین ان کے خلاف سازش کرتے لیکن احسان کرنے والے اللہ تعالیٰ نے آپ ﷺ کو ان کی سازشوں سے بچا لیا ۔ اور رسول اللہ ﷺ نے غار میں محفوظ مقام پر پوشیدگی میں اللہ تعالیٰ کی حفاظت میں بے خوف ہو کر رات گزاری ۔ میں نے انجام پر نگاہ رکھے ہوئے رات گزاری اور انہوں نے مجھ پر بدگمانی نہ کی جبکہ میں تو قتل اور قید کے لیے ذہنی طور پر تیار تھا ۔"

4265

Al Mustadrak #4265

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ دَاوُدَ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَكِيمٍ، ثنا أَبُو مَرْيَمَ الْأَسَدِيُّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا كَانَ اللَّيْلَةَ الَّتِي أَمَرَنِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ أَبِيتَ عَلَى فِرَاشِهِ، وَخَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا، انْطَلَقَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الْأَصْنَامِ، فَقَالَ: «اجْلِسْ» فَجَلَسْتُ إِلَى جَنْبِ الْكَعْبَةِ، ثُمَّ صَعِدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى مَنْكِبِي ثُمَّ قَالَ: «انْهَضْ» فَنَهَضْتُ بِهِ، فَلَمَّا رَأَى ضَعْفِي تَحْتَهُ، قَالَ: اجْلِسْ، فَجَلَسْتُ، فَأَنْزَلْتُهُ عَنِّي، وَجَلَسَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ لِي: «يَا عَلِيُّ، اصْعَدْ عَلَى مَنْكِبِي» فَصَعِدْتُ عَلَى مَنْكِبَيْهِ، ثُمَّ نَهَضَ بِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَخُيِّلَ إِلَيَّ أَنِّي لَوْ شِئْتُ نِلْتُ السَّمَاءَ، وَصَعِدْتُ إِلَى الْكَعْبَةِ، وَتَنَحَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَأَلْقَيْتُ صَنَمَهُمُ الْأَكْبَرَ، وَكَانَ مِنْ نُحَاسٍ مَوَتَّدًا بِأَوْتَادٍ مِنْ حَدِيدٍ إِلَى الْأَرْضِ، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «عَالِجْهُ» فَعَالَجْتُهُ فَمَا زِلْتُ أُعَالِجُهُ، وَيَقُولُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «إِيهْ إِيهْ» فَلَمْ أَزَلْ أُعَالِجُهُ حَتَّى اسْتَمْكَنْتُ مِنْهُ، فَقَالَ: «دُقَّهُ» فَدَقَقْتُهُ فَكَسَرْتُهُ وَنَزَلْتُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس رات رسول اللہ ﷺ نے مجھے اپنے بستر پر سونے کا حکم دیا اور خود ہجرت کر کے تشریف لے گئے ، اس رات رسول اللہ ﷺ نے میرا ہاتھ پکڑا اور مجھے ( کعبہ میں موجود ) بتوں کے پاس لے گئے ، آپ ﷺ نے وہاں پہنچ کر مجھے فرمایا : بیٹھ جاؤ ۔ تو میں کعبہ کی ایک دیوار کے ساتھ بیٹھ گیا ، پھر رسول اللہ ﷺ میرے کندھوں پر چڑھ گئے ، پھر آپ نے مجھے کہا : اٹھو ۔ میں اٹھ کر کھڑا ہو گیا ۔ لیکن جب آپ نے میری کمزوری پر توجہ کی تو فرمایا : بیٹھ جاؤ ۔ میں بیٹھ گیا ۔ تو رسول اللہ ﷺ میرے کندھوں سے اتر گئے اور خود نیچے بیٹھ کر مجھے فرمایا : اے علی ! میرے کندھوں پر بیٹھ جاؤ ، میں آپ ﷺ کے کندھوں پر چڑھ گیا اور آپ اُٹھ کر کھڑے ہو گئے ( اس وقت ) میں اپنے آپ کو اتنی اونچائی پر محسوس کر رہا تھا کہ اگر میں چاہتا تو آسمان کو ہاتھ لگا سکتا تھا ۔ پھر میں کعبہ پر چڑھ گیا اور رسول اللہ ﷺ نیچے سے ہٹ گئے تو میں نے ان کا سب سے بڑا بت گرا دیا ، یہ بت تانبے کا بنا ہوا تھا اور لوہے کی کیلوں کے ساتھ زمین سے بندھا ہوا تھا ۔ رسول اللہ ﷺ نے مجھ سے کہا : اس کو ہلاؤ ، میں نے اس کو ہلایا اور پھر مسلسل ہلاتا رہا اور رسول اللہ ﷺ کہتے رہے : اس کو اور ہلاؤ ، اور ہلاؤ ۔ جب وہ بہت زیادہ ہلنے لگ گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو لڑھکا دو ، میں نے اس کو لڑھکا دیا تو وہ ٹوٹ گیا اور میں کعبہ سے نیچے اتر آیا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4266

Al Mustadrak #4266

See Details

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدٍ الْحَمَّادِيُّ بِمَرْوَ، ثنا أَبُو يَعْقُوبَ إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ السَّرْخَسِيُّ، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَلْقَمَةَ الْمَرْوَزِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ شُعْبَةَ، وَمِسْعَرٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ مُرَّةَ، عَنْ أَبِي الْبَخْتَرِيِّ، عَنْ عَلِيٍّ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ لِجِبْرِيلَ عَلَيْهِ الصَّلَاةُ وَالسَّلَامُ: "" مَنْ يُهَاجِرُ مَعِي؟ قَالَ: أَبُو بَكْرٍ الصِّدِّيقُ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَالْمَتْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4266 - صحيح غريب

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم ﷺ نے حضرت جبرائیل علیہ السلام سے فرمایا : میرے ہمراہ کون ہجرت کرے گا ؟ انہوں نے کہا : حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ۔ ٭٭ اس حدیث کی سند اور متن دونوں صحیح ہیں لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4267

Al Mustadrak #4267

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبَّادِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ أَسْمَاءَ بِنْتِ أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَتْ: لَمَّا تَوَجَّهَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ إِلَى الْمَدِينَةِ، وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، حَمَلَ أَبُو بَكْرٍ مَعَهُ جَمِيعَ مَالِهِ خَمْسَةَ أَلْفٍ أَوْ سِتَّةَ أَلْفِ دِرْهَمٍ، فَأَتَانِي جَدِّي أَبُو قُحَافَةَ وَقَدْ ذَهَبَ بَصَرُهُ، فَقَالَ: إِنَّ هَذَا وَاللَّهِ قَدْ فَجَعَكُمْ بِمَالِهِ مَعَ نَفْسِهِ، فَقُلْتُ: كَلَّا يَا أَبَتِ، قَدْ تَرَكَ لَنَا خَيْرًا كَثِيرًا، فَعَمَدْتُ إِلَى أَحْجَارٍ فَجَعَلْتُهُنَّ فِي كَوَّةِ الْبَيْتِ، وَكَانَ أَبُو بَكْرٍ يَجْعَلُ أَمْوَالَهُ فِيهَا، وَغُطِّيَتْ عَلَى الْأَحْجَارِ بِثَوْبٍ، ثُمَّ جِئْتُ فَأَخَذْتُ بِيَدِهِ فَوَضَعْتُهَا عَلَى الثَّوْبِ، فَقَالَ: أَمَّا إِذَا تَرَكَ هَذَا فَنِعْمَ، قَالَتْ: «وَوَاللَّهِ مَا تَرَكَ قَلِيلًا وَلَا كَثِيرًا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4267 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت اسماء بنت ابی بکر رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہمراہ مکہ سے مدینہ کا سفر اختیار کیا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنا تمام مال جو کہ پانچ یا چھ ہزار دراہم تھے ، اپنے ساتھ لے گئے ، بعد میں میرے دادا ابوقحافہ میرے پاس آئے ، یہ ان دنوں نابینا ہو چکے تھے ، یہ بولے : اس نے تو اپنی جان کے ساتھ ساتھ اپنے مال کے ذریعے بھی تمہیں مصیبت میں مبتلا کر دیا ہے ۔ میں نے کہا : ہرگز نہیں ۔ ابا جان ! وہ تو ہمارے لیے بہت سارا مال چھوڑ کر گئے ہیں ۔ تو میں نے کچھ پتھر کمرے کے ایک کونے میں جمع کر کے ان کے اوپر کپڑا ڈال کر ان کو ڈھانپ دیا ۔ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی اپنا مال اسی طرح رکھا کرتے تھے پھر میں نے ان ( ابوقحافہ ) کا ہاتھ پکڑ کر اس کپڑے پر لگایا تو وہ بولے : اگر وہ اتنا مال چھوڑ کر گیا ہے تب تو ٹھیک ہے ۔ حالانکہ خدا کی قسم انہوں نے تھوڑا یا زیادہ کچھ بھی مال نہیں چھوڑا تھا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4268

Al Mustadrak #4268

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أُنَبَّأْ مُوسَى بْنُ الْحَسَنِ بْنِ عَبَّادٍ، ثنا عَفَّانُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا السَّرِيُّ بْنُ يَحْيَى، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِيرِينَ، قَالَ: ذَكَرَ رِجَالٌ عَلَى عَهْدِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَكَأَنَّهُمْ فَضَلُّوا عُمَرَ عَلَى أَبِي بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: فَبَلَغَ ذَلِكَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، فَقَالَ: وَاللَّهِ لَلَيْلَةٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، وَلَيَوْمٌ مِنْ أَبِي بَكْرٍ خَيْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ، لَقَدْ خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِيَنْطَلِقَ إِلَى الْغَارِ وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، فَجَعَلَ يَمْشِي سَاعَةً بَيْنَ يَدَيْهِ، وَسَاعَةً خَلْفَهُ حَتَّى فَطِنَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، مَا لَكَ تَمْشِي سَاعَةً بَيْنَ يَدَيْ وَسَاعَةً خَلْفِي؟» فَقَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَذَكُرُ الطَّلَبَ فَأَمْشِي خَلْفَكَ، ثُمَّ أَذَكَرُ الرَّصْدَ، فَأَمْشِي بَيْنَ يَدَيْكَ، فَقَالَ: «يَا أَبَا بَكْرٍ، لَوْ كَانَ شَيْءٌ أَحْبَبْتَ أَنْ يَكُونَ بِكَ دُونِي؟» قَالَ: نَعَمْ، وَالَّذِي بَعَثَكَ بِالْحَقِّ، مَا كَانَتْ لِتَكُونَ مِنْ مُلِمَّةٍ إِلَّا أَنْ تَكُونَ بِي دُونَكَ، فَلَمَّا انْتَهَيَا إِلَى الْغَارِ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: مَكَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى أَسْتَبْرِئَ لَكَ الْغَارَ، فَدَخَلَ وَاسْتَبْرَأَهُ حَتَّى إِذَا كَانَ فِي أَعْلَاهُ ذَكَرَ أَنَّهُ لَمْ يَسْتَبْرِئِ الْحُجْرَةَ، فَقَالَ: مَكَانَكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، حَتَّى أَسْتَبْرِئَ الْحُجْرَةَ، فَدَخَلَ وَاسْتَبْرَأَ، ثُمَّ قَالَ: انْزِلْ يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَنَزَلَ، فَقَالَ عُمَرُ: وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لِتِلْكَ اللَّيْلَةُ خَيْرٌ مِنْ آلِ عُمَرَ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، لَوْلَا إِرْسَالٌ فِيهِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4268 - صحيح مرسل

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت محمد بن سیرین رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں کچھ لوگوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پر فضیلت دینا شروع کر دی ۔ اس بات کی خبر حضرت عمر رضی اللہ عنہ تک بھی پہنچ گئی ۔ تو آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا : خدا کی قسم ! ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صرف ایک رات ، عمر کی تمام زندگی سے اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کا صرف ایک دن ، عمر کی پوری زندگی سے افضل ہے ۔ رسول اللہ ﷺ غار کی جانب روانہ ہوئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بھی آپ ﷺ کے ہمراہ تھے ۔ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کبھی حضور ﷺ کے آگے چلتے اور کبھی پیچھے چلتے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو بھانپ لیا ۔ اور فرمایا : اے ابوبکر ! تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم کبھی آگے چلتے ہو اور کبھی پیچھے چلتے ہو ؟ عرض کیا : یا رسول اللہ ﷺ جب مجھے خیال آتا ہے کہ میں آپ کا طالب ہوں تو آپ کے پیچھے چلتا ہوں اور جب راستہ کی ناہمواری کے بارے میں سوچتا ہوں تو آپ کے آگے چلنے لگتا ہوں ۔ حضور ﷺ نے فرمایا : اے ابوبکر ! اگر میں کسی چیز کے بارے میں چاہوں کہ وہ صرف تجھے ملے ، مجھے نہ ملے ( تو وہ کیا ہو سکتی ہے ؟ ) عرض کی : جی ہاں ۔ اس ذات کی قسم ! جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے کوئی بھی حادثہ یا سخت تکلیف اگر آئے تو میں چاہوں گا کہ وہ صرف مجھ تک محدود رہے اور وہ آپ تک نہ پہنچے ۔ جب یہ دونوں غار تک پہنچ گئے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ باہر ہی ٹھہرئیے ۔ پہلے میں غار کی صفائی کر لوں ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے غار کے اندر جا کر اس کو صاف کیا اور باہر نکل آئے ۔ پھر ان کو یاد آیا کہ غار میں ایک سوراخ باقی رہ گیا ہے ۔ تو عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ آپ یہیں ٹھہرئیے ۔ میں اس سوراخ کو بھی بند کر لوں ۔ پھر انہوں نے اندر جا کر اس کو بند کیا اور عرض کی : یا رسول اللہ ﷺ اندر تشریف لے آئیے ، تب حضور ﷺ اندر تشریف لے گئے ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ’’ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی وہ رات ، عمر رضی اللہ عنہ کی ساری زندگی ( کی تمام نیکیوں ) سے افضل ہے ۔ ٭٭ اگر اس حدیث میں ارسال نہ ہو تو یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4269

Al Mustadrak #4269

See Details

أَخْبَرَنِي أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ إِسْحَاقَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ بْنِ جَبَلَةَ التَّيْمِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ الْمُشَاوِرِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، عَنْ مَعْمَرِ بْنِ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَالِكٍ الْمُدْلِجِيُّ، وَهُوَ ابْنُ أَخِي سُرَاقَةَ بْنِ جُعْشُمٍ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ، سَمِعَ سُرَاقَةَ بْنَ جُعْشُمٍ يَقُولُ: جَاءَتْنَا رُسُلُ كُفَّارِ قُرَيْشٍ، يَجْعَلُونَ فِي رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبِي بَكْرٍ دِيَةً، لِكُلِّ وَاحِدٍ مِنْهُمَا لِمَنْ قَتَلَهُمَا أَوْ أَسَرَهُمَا، فَبَيْنَا أَنَا جَالِسٌ فِي مَجْلِسٍ مِنْ مَجَالِسِ قَوْمِي مِنْ بَنِي مُدْلِجٍ، أَقْبَلَ مِنْهُمْ رَجُلٌ حَتَّى قَامَ عَلَيْنَا، فَقَالَ: يَا سُرَاقَةُ، إِنِّي رَأَيْتُ آنِفًا أَسْوِدَةً بِالسَّاحِلِ، أُرَاهَا مُحَمَّدًا وَأَصْحَابَهُ، قَالَ سُرَاقَةُ: فَعَرَفْتُ أَنَّهُمْ هُمْ، فَقُلْتُ لَهُمْ: إِنَّهُمْ لَيْسُوا بِهِمْ، وَلَكِنِّي رَأَيْتُ فُلَانًا وَفُلَانًا انْطَلِقُوا بُغَاةً، قَالَ: ثُمَّ مَا لَبِثْتُ فِي الْمَجْلِسِ إِلَّا سَاعَةً حَتَّى قُمْتُ فَدَخَلْتُ بَيْتِي، فَأَمَرْتُ جَارِيَتِي أَنْ تُخْرِجَ إِلَيَّ فَرَسِي وَهِيَ مِنْ وَرَاءِ أَكَمَةٍ فَتَحْبِسَهَا عَلَيَّ، وَأَخَذْتُ رُمْحِي فَخَرَجْتُ مِنْ ظَهْرِ الْبَيْتِ فَخَطَطْتُ بِزُجِّهِ إِلَى الْأَرْضِ، وَحَفَفْتُ عَالِيَةَ الرُّمْحِ حَتَّى أَتَيْتُ فَرَسِي، فَرَكِبْتُهَا فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى رَأَيْتُ أَسْوَدَتَهُمَا، فَلَمَّا دَنَوْتُ مِنْهُمْ حَيْثُ أَسْمَعَهُمُ الصَّوْتُ عَثَرَتْ بِي فَرَسِي، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، فَقُمْتُ فَأَهْوَيْتُ بِيَدِي إِلَى كِنَانَتِي، فَاسْتَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمْ فَعَصَيْتُ الْأَزْلَامَ، فَرَكِبْتُ فَرَسِي فَرَفَعْتُهَا تُقَرِّبُ بِي حَتَّى إِذَا دَنَوْتُ مِنْهُمْ «سَمِعْتُ قِرَاءَةَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ لَا يَلْتَفِتُ» وَأَبُو بَكْرٍ يُكْثِرُ الِالْتِفَاتَ، فَسَاخَتْ يَدَا فَرَسِي فِي الْأَرْضِ حَتَّى بَلَغَتَا الرُّكْبَتَيْنِ، فَخَرَرْتُ عَنْهَا، ثُمَّ زَجَرَتْهَا، فَنَهَضْتُ فَلَمْ تَكَدْ تُخْرِجُ يَدَيْهَا، فَلَمَّا اسْتَوَتْ قَائِمَةً إِذَا لِأَثَرِ يَدَيْهَا عَنَانٌ سَاطِعٌ فِي السَّمَاءِ، - قَالَ عَبْدُ اللَّهِ: يَعْنِي الدُّخَانَ الَّذِي يَكُونُ مِنْ غَيْرِ نَارٍ - ثُمَّ أَخْرَجْتُ الْأَزْلَامَ، فَاسْتَقْسَمْتُ بِهَا، فَخَرَجَ الَّذِي أَكْرَهُ أَنْ لَا أَضُرَّهُمَا، فَنَادَيْتُهُمَا بِالْأَمَانِ فَوَقَفَا، فَرَكِبْتُ فَرَسِي حَتَّى جِئْتُهُمَا فَوَقَعَ فِي نَفْسِي حِينَ لَقِيتُ مِنَ الْحَبْسِ عَلَيْهِمْ أَنْ سَيَظْهَرَ أَمْرُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقُلْتُ لَهُ: إِنَّ قَوْمَكَ قَدْ جَعَلُوا فِيكَ الدِّيَةَ، وَأَخْبَرْتُهُمْ مِنْ أَخْبَارِ سَفَرِهِمْ، وَمَا يُرِيدُ النَّاسُ بِهِمْ، وَعَرَضْتُ عَلَيْهُمُ الزَّادَ وَالْمَتَاعَ فَلَمْ يَرْزَءُونِي شَيْئًا، وَلَمْ يَسْأَلُونِي إِلَّا أَنْ قَالُوا: أَخْفِ عَنَّا، فَسَأَلْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يَكْتُبَ لِي كِتَابَ مُوَادَعَةٍ آمَنُ بِهِ، «فَأَمَرَ عَامِرَ بْنَ فُهَيْرَةَ مَوْلَى أَبِي بَكْرٍ» فَكَتَبَ لِي فِي رُقْعَةٍ مِنْ أُدُمٍ ثُمَّ مَضِيَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4269 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سراقہ بن جعشم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہمارے پاس کفار قریش کے قاصد آئے اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور ابوبکر رضی اللہ عنہ کے قتل پر یا ان کو گرفتار کرنے پر انعام مقرر کیا ۔ میں قبیلہ بنی مدلج کی ایک مجلس میں بیٹھا ہوا تھا کہ ان میں سے ایک آدمی میری طرف متوجہ ہو کر بولا : اے سراقہ ! میں نے ابھی ساحل کے پاس کچھ لوگوں کو دیکھا ہے ، میرا خیال ہے کہ وہ محمد ﷺ اور اس کے ساتھی ہیں ۔ سراقہ نے کہا : کیا تجھے یقین ہے کہ وہ واقعی وہی لوگ تھے ؟ اس نے کہا : نہیں ( میں یقین سے تو نہیں کہہ سکتا کہ ) وہ وہی ہیں ، البتہ میں نے فلاں فلاں آدمی کو دیکھا ہے وہ باغی ہو کر بھاگ گئے ہیں ۔ حضرت سراقہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں ایک ہی لمحے کے بعد اس مجلس سے نکل آیا اور اپنے گھر آ گیا ۔ اپنی لونڈی سے کہا کہ میرا گھوڑا نکالے ( یہ ٹیلے کے پیچھے ہوتا تھا ) اور اس کو میرے لیے تیار کر کے رکھے ۔ میں اپنے گھر کے پچھواڑے سے نکلا ، اپنے نیزے کے پچھلے حصے کے لوہے کو زمین پر گھسیٹتا ہوا ، اس کے اوپر والے حصے کو ہاتھ میں پکڑے ہوئے اپنا نیزہ ہمراہ لے کر اپنے گھوڑے تک پہنچا ، اور اس پر سوار ہو کر ان کی جانب چل نکلا ۔ مجھے دور سے ان کا وجود دکھائی دیا ۔ پھر جب میں ان کے اتنا قریب ہوا کہ میں ان کی گفتگو سن سکتا تھا تو میرا گھوڑا پھسل کر اوندھا ہو گیا ۔ اور میں اس سے گر گیا ۔ پھر میں اٹھا ، ترکش سے تیر نکالے اور پانسہ ڈالا ۔ تو جواب یہ آیا کہ ان کو نقصان نہ پہنچایا جائے لیکن یہ جواب مجھے منظور نہ تھا ۔ میں نے پانسے کا جواب ٹھکرا دیا اور دوبارہ گھوڑے پر سوار ہو کر ان کی جانب بڑھا ، جب میں ان کے قریب پہنچا تو مجھے رسول اللہ ﷺ کی قراءت کی آواز سنائی دی ، آپ ادھر ادھر نہیں دیکھ رہے تھے ۔ لیکن ابوبکر کی توجہ بدستور چاروں جانب تھی ۔ اچانک میرے گھوڑے کی اگلی ٹانگیں گھٹنوں تک زمین میں دھنس گئیں اور میں اس سے گر گیا ۔ میں نے گھوڑے کو بہت جھڑکا اور بہت ڈانٹا ، وہ اٹھنے کی کوشش تو کرتا رہا لیکن اس کی ٹانگیں بڑی مشکل کے ساتھ باہر نکلیں ، جب وہ صحیح طور پر کھڑا ہو گیا تو اس کی ٹانگوں پر آسمان پر پھیلنے والے بادلوں جیسے اثرات تھے ۔ عبداللہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یعنی وہ دھواں سا تھا جو آگ کے بغیر ہوتا ہے ۔ میں نے پھر تیر نکال کر پانسہ ڈالا اب کی بار بھی وہی جواب آیا کہ مجھے ان کو نقصان نہیں پہنچانا چاہیے ، لیکن یہ جواب مجھے پسند نہیں تھا ۔ پھر میں نے ان کو امان کے لیے آواز دی تو وہ کھڑے ہو گئے ۔ میں گھوڑے پر سوار ہو کر ان کے قریب آ گیا تو ان پر قابو نہ پا سکنے کی وجہ سے میرے دل میں یہ بات راسخ ہو گئی کہ عنقریب رسول اللہ ﷺ کا معاملہ غالب آ جائے گا ۔ تو میں نے آپ سے کہا : آپ کی قوم نے آپ کے بارے میں انعام کا اعلان کر رکھا ہے اور میں نے ان لوگوں کی بھاگ دوڑ اور ان کے ارادوں کے بارے میں آپ ﷺ کو آگاہ کیا اور میں نے کچھ مال و متاع بھی پیش کیا ۔ لیکن انہوں نے مجھ سے کوئی چیز بھی قبول نہ کی اور نہ ہی مجھ سے کچھ پوچھا سوائے اس کے کہ مجھے اپنا معاملہ صیغہ راز میں رکھنے کا حکم دیا ۔ میں نے رسول اللہ ﷺ سے درخواست کی جاتے جاتے مجھے کوئی نصیحت لکھ دیں جو مجھے امن دے ۔ تو آپ علیہ السلام نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ کو حکم دیا تو انہوں نے چمڑے کے ایک ٹکڑے پر مجھے تحریر لکھ کر دے دی پھر وہ چلے گئے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4270

Al Mustadrak #4270

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، عَنْ عَقِيلٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَدِيِّ بْنِ الْحَمْرَاءَ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى رَاحِلَتِهِ بِالْحَزْوَرَةِ، يَقُولُ: «وَاللَّهِ إِنَّكِ لَخَيْرُ أَرْضِ اللَّهِ، وَأَحَبُّ أَرْضِ اللَّهِ إِلَى اللَّهِ، وَلَوْلَا أَنِّي أُخْرِجْتُ مِنْكِ مَا خَرَجْتُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4270 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عدی بن الحمراء الزہری رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے رسول اللہ ﷺ کو حزورہ ( پانی اور گڑھے والی زمین ) میں اپنی سواری پر ( سرزمین مکہ کو مخاطب کر کے ) یہ ارشاد فرماتے سنا ہے ’’ خدا کی قسم ! تو اللہ تعالیٰ کی تمام زمین سے افضل جگہ ہے اور تو اللہ تعالیٰ کی پوری زمین سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو محبوب ہے اگر مجھے تجھ سے نکلنے پر مجبور نہ کیا جاتا تو میں تجھ سے نہ نکلتا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4271

Al Mustadrak #4271

See Details

أَخْبَرَنِي أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا يُونُسُ بْنُ حَبِيبٍ، ثنا أَبُو دَاوُدَ، ثنا شُعْبَةُ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ مُسْلِمٍ الْبَطِينِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُبَيْرٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: " لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْ مَكَّةَ، قَالَ أَبُو بَكْرٍ: {إِنَّا لِلَّهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ} [البقرة: 156] أُخْرِجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيَهْلِكَنَّ، قَالَ: فَنَزَلَتْ هَذِهِ الْآيَةُ: {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ} [الحج: 40] ، عَرَفَ أَبُو بَكْرٍ أَنَّهُ سَيَكُونُ قِتَالٌ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں کہ جب رسول اللہ ﷺ مکہ مکرمہ سے نکلے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا : انا للّٰہ وانا الیہ راجعون رسول اللہ ﷺ کو نکال دیا گیا ہے اب یہ لوگ ضرور ہلاک ہوں گے ۔ تو یہ آیت نازل ہوئی : {أُذِنَ لِلَّذِينَ يُقَاتَلُونَ بِأَنَّهُمْ ظُلِمُوا وَإِنَّ اللَّهَ عَلَى نَصْرِهِمْ لَقَدِيرٌ الَّذِينَ أُخْرِجُوا مِنْ دِيَارِهِمْ بِغَيْرِ حَقٍّ} [الحج: 39 ، 40] ’’ پروانگی عطا ہوئی انہیں جن سے کافر لڑتے ہیں اس بناء پر کہ ان پر ظلم ہوا اور بیشک اللہ ان کی مدد کرنے پر ضرور قادر ہے وہ جو اپنے گھروں سے ناحق نکالے گئے ۔‘‘ ( ترجمہ کنزالایمان ، امام احمد رضا ) تب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ سمجھ گئے تھے کہ اب عنقریب جہاد ( کا حکم نازل ) ہو گا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4272

Al Mustadrak #4272

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ كَامِلِ بْنِ خَلَفٍ الْقَاضِي، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا مَسْرُوقُ بْنُ الْمَرْزُبَانِ، ثنا يَحْيَى بْنُ زَكَرِيَّا بْنِ أَبِي زَائِدَةَ، قَالَ: قَالَ ابْنُ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، وَمُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عَائِشَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا قَالَتْ: «لَمَّا خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنَ الْغَارِ مُهَاجِرًا وَمَعَهُ أَبُو بَكْرٍ، وَعَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، مُرْدِفُهُ أَبُو بَكْرٍ وَخَلْفَهُ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُرَيْقِطٍ اللَّيْثِيُّ فَسَلَكَ بِهِمَا أَسْفَلَ مِنْ مَكَّةَ، ثُمَّ مَضَى بِهِمَا حَتَّى هَبَطَ بِهِمَا عَلَى السَّاحِلِ أَسْفَلَ مِنْ عُسْفَانَ، ثُمَّ اسْتَجَازَ بِهِمَا عَلَى أَسْفَلَ أَمَجَ، ثُمَّ عَارَضَ الطَّرِيقَ بَعْدَ أَنْ أَجَازَ قُدَيْدًا، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْحِجَازَ، ثُمَّ أَجَازَ بِهِمَا ثَنِيَّةَ الْمِرَارِ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا الْحَفْيَاءَ، ثُمَّ أَجَازَ بِهِمَا مُدْلِجَةَ لِقْفٍ، ثُمَّ اسْتَبْطَنَ بِهِمَا مُدْلِجَةَ مَجَاحٍ، ثُمَّ سَلَكَ بِهِمَا مَذْحِجَ، ثُمَّ بِبَطْنِ مَذْحِجَ مِنْ ذِي الْغُصْنِ، ثُمَّ بِبَطْنِ ذِي كَشْدٍ، ثُمَّ أَخَذَ الْجُبَاجِبَ، ثُمَّ سَلَكَ ذِي سَلْمٍ مِنْ بَطْنٍ أَعْلَى مُدْلِجَةَ، ثُمَّ أَخَذَ الْقَاحَةِ ثُمَّ هَبَطَ الْعَرْجِ، ثُمَّ سَلَكَ ثَنِيَّةَ الْغَائِرِ، عَنْ يَمِينِ رُكُوبِهِ، ثُمَّ هَبَطَ بَطْنَ رِيمٍ فَقَدِمَ قُبَاءَ عَلَى بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4272 - سكت عنه الذهبي في التلخيص

اردو ترجمہ · Urdu

" ام المومنین حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : جب رسول اللہ ﷺ نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں غار سے نکل کر ہجرت کا سفر آگے بڑھایا تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ آپ ﷺ کے آگے اور حضرت عبداللہ بن اریقط لیثی رضی اللہ عنہ پیچھے تھے ۔ آپ ﷺ ان کے ہمراہ مکہ کے نشیبی علاقے سے روانہ ہوئے اور چلتے چلتے عسفان کے ساحل پر جا نکلے ۔ پھر امج سے گزرتے ہوئے قدید سے آگے نکل کر یہ راستہ چھوڑ دیا اور حجاز کا رخ کیا اور ثنیۃ المرار سے ہوتے ہوئے حفیاء پہنچے ، پھر ثقف ، صحاح ، مذحج اور ذی الغض سے ہوتے ہوئے ذی کشد آئے ، پھر جباجب ، ذی سلم ، قاحہ سے ہوتے ہوئے عرج میں آئے ، پھر وہاں سے دائیں جانب ثنیۃ الغائر سے گزر کر ریم سے ہوتے ہوئے قباء میں بنی عمرو بن عوف کے پاس پہنچے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4273

Al Mustadrak #4273

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا أَبُو الْوَلِيدِ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادِ بْنِ لَقِيطٍ، ثنا إِيَادُ بْنُ لَقِيطٍ، عَنْ قَيْسِ بْنِ النُّعْمَانِ قَالَ: لَمَّا انْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبُو بَكْرٍ مُسْتَخْفِينَ مَرَّا بِعَبْدٍ يَرْعَى غَنَمًا، فَاسْتَسْقَيَاهُ مِنَ اللَّبَنِ، فَقَالَ: مَا عِنْدِي شَاةٌ تُحْلَبُ غَيْرَ أَنَّ هَا هُنَا عَنَاقًا حَمَلَتْ أَوَّلَ الشِّتَاءِ، وَقَدِ أَخْدَجَتْ وَمَا بَقِيَ لَهَا لَبَنٌ، فَقَالَ: «ادْعُ بِهَا» فَدَعَا بِهَا، فَاعْتَقَلَهَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَمَسَحَ ضَرْعَهَا، وَدَعَا حَتَّى أَنْزَلَتْ، قَالَ: وَجَاءَ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِمِجَنٍّ فَحَلَبَ أَبَا بَكْرٍ، ثُمَّ حَلَبَ فَسَقَى الرَّاعِيَ، ثُمَّ حَلَبَ فَشَرِبَ، فَقَالَ الرَّاعِي: بِاللَّهِ مَنْ أَنْتَ فَوَاللَّهِ مَا رَأَيْتُ مِثْلَكَ قَطُّ، قَالَ: «أَوَ تُرَاكَ تَكْتُمُ عَلَيَّ حَتَّى أُخْبِرَكَ؟» قَالَ: نَعَمْ، قَالَ: «فَإِنِّي مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ» فَقَالَ: أَنْتَ الَّذِي تَزْعُمُ قُرَيْشٌ أَنَّهُ صَابِئٌ، قَالَ: «إِنَّهُمْ لَيَقُولُونَ ذَلِكَ» قَالَ: فَأَشْهَدُ أَنَّكَ نَبِيٌّ، وَأَشْهَدُ أَنَّ مَا جِئْتَ بِهِ حَقٌّ، وَأَنَّهُ لَا يَفْعَلُ مَا فَعَلْتَ إِلَّا نَبِيٌّ، وَأَنَا مُتَّبِعُكَ، قَالَ: «إِنَّكَ لَا تَسْتَطِيعُ ذَلِكَ يَوْمَكَ، فَإِذَا بَلَغَكَ أَنِّي قَدْ ظَهَرْتُ فَأْتِنَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4273 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت قیس بن نعمان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب نبی اکرم ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ مستخف ہو کر ( مکہ سے ) نکلے ۔ ( مستخف اس آدمی کو کہتے ہیں جس کو اس کی قوم نے حقیر جانا ہو ) تو ان کا گزر ایک چرواہے کے پاس سے ہوا ، وہ بکریاں چرا رہا تھا ۔ انہوں نے اس سے دودھ مانگا ، اس نے کہا : اس وقت میرے پاس دودھ دینے والی صرف ایک یہی بکری ہے اور یہ بھی سردیوں کے شروع میں حاملہ ہو گئی تھی لیکن اس نے بچہ گرا دیا تھا ، اور اب یہ دودھ نہیں دیتی ، آپ ﷺ نے فرمایا : اس کو میرے پاس لاؤ ، وہ اس کو حضور ﷺ کے پاس لے آیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے اس کی ٹانگ کو اپنی ٹانگ اور ران کے درمیان دبا لیا اور اس کے تھنوں پر ہاتھ لگایا اور دعا مانگی ، ( آپ ﷺ کے ہاتھوں اور دعا کی برکت سے ) اس بکری کا دودھ اتر آیا ۔ ( راوی ) کہتے ہیں : حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ڈھال لے آئے ، ( آپ ﷺ نے اس میں ) اس کو دوہا پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اپنے پاس بلایا اور اس کو دوہا ، پھر چرواہے کو بلایا اور پھر دوہا ۔ سب نے سیر ہو کر دودھ پیا ۔ چرواہا بولا : تجھے خدا کی قسم ہے تم مجھے بتاؤ کہ تم کون ہو ؟ خدا کی قسم ! میں نے آپ جیسا انسان کبھی نہیں دیکھا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : اگر تم میری راز داری رکھو تو میں تمہیں بتاؤں گا ( کہ میں کون ہوں ) اس نے راز داری کی حامی بھر لی ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بے شک میں محمد رسول اللہ ﷺ ہوں ۔ اس نے کہا : اچھا تم ہی ہو وہ شخص جس کے بارے میں قریش کا گمان ہے کہ وہ صابی ( ستارہ ) پرست ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : بے شک وہ لوگ ایسے ہی کہتے ہیں ۔ اس نے کہا : تو میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ نبی ہیں اور میں گواہی دیتا ہوں کہ بے شک آپ جو کچھ لائے ہیں سب حق ہے ۔ اور جو کمال آپ نے کر کے دکھایا ہے یہ نبی کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا ۔ اور بے شک میں آپ کے ہمراہ چلوں گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : آج تو تمہارا ہمارے ساتھ جانا مناسب نہیں ہے البتہ جب تمہیں میرے غلبہ کی خبر مل جائے تب ہمارے پاس چلے آنا ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4274

Al Mustadrak #4274

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو سَعِيدٍ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرٍو الْأَحْمَسِيُّ، بِالْكُوفَةِ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حُمَيْدِ بْنِ الرَّبِيعِ الْخَزَّازُ، حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْحَكَمِ بْنِ أَيُّوبَ بْنِ سُلَيْمَانَ بْنِ ثَابِتِ بْنِ بَشَّارٍ الْخُزَاعِيُّ، ثنا أَخِي أَيُّوبُ بْنُ الْحَكَمِ، وَسَالِمُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْخُزَاعِيُّ جَمِيعًا، عَنْ حِزَامِ بْنِ هِشَامٍ، عَنْ أَبِيهِ هِشَامِ بْنِ حُبَيْشِ بْنِ خُوَيْلِدٍ صَاحِبِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ خَرَجَ مِنْ مَكَّةَ مُهَاجِرًا إِلَى الْمَدِينَةِ، وَأَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، وَمَوْلَى أَبِي بَكْرٍ عَامِرُ بْنُ فُهَيْرَةَ، وَدَلِيلُهُمَا اللَّيْثِيُّ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أُرَيْقِطٍ مَرُّوا عَلَى خَيْمَتِيْ أُمِّ مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيَّةِ، وَكَانَتِ امْرَأَةً بَرْزَةً جَلْدَةً تَحْتَبِي بِفِنَاءِ الْخَيْمَةِ، ثُمَّ تَسْقِي وَتُطْعِمُ، فَسَأَلُوهَا لَحْمًا وَتَمْرًا لِيَشْتَرُوا مِنْهَا، فَلَمْ يُصِيبُوا عِنْدَهَا شَيْئًا مِنْ ذَلِكَ، وَكَانَ الْقَوْمُ مُرْمِلِينَ مُسْنِتِينَ، فَنَظَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى شَاةٍ فِي كَسْرِ الْخَيْمَةِ، فَقَالَ: «مَا هَذِهِ الشَّاةُ يَا أُمَّ مَعْبَدٍ؟» قَالَتْ: شَاةٌ خَلَّفَهَا الْجَهْدُ عَنِ الْغَنَمِ، قَالَ: «هَلْ بِهَا مِنْ لَبَنٍ؟» قَالَتْ: هِيَ أَجْهَدُ مِنْ ذَلِكَ، قَالَ: «أَتَأْذَنِينَ لِي أَنْ أَحْلُبَهَا؟» قَالَتْ: بِأَبِي أَنْتَ وَأُمِّي، إِنْ رَأَيْتَ بِهَا حَلْبًا فَاحْلُبْهَا، فَدَعَا بِهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَسَحَ بِيَدِهِ ضَرْعَهَا، وَسَمَّى اللَّهُ تَعَالَى، وَدَعَا لَهَا فِي شَاتِهَا، فَتَفَاجَّتْ عَلَيْهِ وَدَرَّتْ، فَاجْتَرَّتْ فَدَعَا بِإِنَاءٍ يَرْبِضُ الرَّهْطُ فَحَلَبَ فِيهِ ثَجًّا حَتَّى عَلَاهُ الْبَهَاءُ، ثُمَّ سَقَاهَا حَتَّى رَوِيَتْ وَسَقَى أَصْحَابَهُ حَتَّى رَوَوْا وَشَرِبَ آخِرَهُمْ حَتَّى أَرَاضُوا، ثُمَّ حَلَبَ فِيهِ الثَّانِيَةَ عَلَى هَدَّةٍ حَتَّى مَلَأَ الْإِنَاءَ، ثُمَّ غَادَرَهُ عِنْدَهَا، ثُمَّ بَايَعَهَا وَارْتَحَلُوا عَنْهَا، فَقَلَّ مَا لَبِثَتْ حَتَّى جَاءَهَا زَوْجُهَا أَبُو مَعْبَدٍ لِيَسُوقَ أَعْنُزًا عِجَافًا يَتَسَاوَكْنَ هُزَالًا مُخُّهُنَّ قَلِيلٌ، فَلَمَّا رَأَى أَبُو مَعْبَدٍ اللَّبَنَ أَعْجَبَهُ، قَالَ: مِنْ أَيْنَ لَكِ هَذَا يَا أُمَّ مَعْبَدٍ وَالشَّاءُ عَازِبٌ حَائِلٌ، وَلَا حلوبَ فِي الْبَيْتِ؟ قَالَتْ: لَا وَاللَّهِ إِلَّا أَنَّهُ مَرَّ بِنَا رَجُلٌ مُبَارَكٌ مِنْ حَالِهِ كَذَا وَكَذَا، قَالَ: صِفِيهِ لِي يَا أُمَّ مَعْبَدٍ، قَالَتْ: رَأَيْتُ رَجُلًا ظَاهِرَ الْوَضَاءَةِ، أَبْلَجَ الْوَجْهِ، حَسَنَ الْخَلْقِ، لَمْ تَعِبْهُ ثَجْلَةٌ، وَلَمْ تُزْرِيهِ صَعْلَةٌ، وَسِيمٌ قَسِيمٌ، فِي عَيْنَيْهِ دَعِجٌ، وَفِي أَشْفَارِهِ وَطَفٌ، وَفِي صَوْتِهِ صَهَلٌ، وَفِي عُنُقِهِ سَطَعٌ، وَفِي لِحْيَتِهِ كَثَاثَةٌ، أَزَجُّ أَقْرَنُ، إِنْ صَمَتَ فَعَلَيْهِ الْوَقَارُ، وَإِنْ تَكَلَّمَ سَمَاهُ وَعَلَاهُ الْبَهَاءُ، أَجْمَلُ النَّاسِ وَأَبْهَاهُ مِنْ بَعِيدٍ، وَأَحْسَنُهُ وَأَجْمَلُهُ مِنْ قَرِيبٍ، حُلْوُ الْمَنْطِقِ فَصْلًا، لَا نَزْرٌ وَلَا هَذْرٌ، كَأَنَّ مَنْطِقَهُ خَرَزَاتُ نَظْمٍ، يَتَحَدَّرْنَ رَبْعَةٌ لَا تَشْنَأَهُ مِنْ طُولٍ، وَلَا تَقْتَحِمُهُ عَيْنٌ مِنْ قِصَرٍ، غُصْنٌ بَيْنَ غُصْنَيْنِ، فَهُوَ أَنْضَرُ الثَّلَاثَةِ مَنْظَرًا وَأَحْسَنُهُمْ، قَدْرًا لَهُ رُفَقَاءُ يَحُفُّونَ بِهِ، إِنْ قَالَ: سَمِعُوا لِقَوْلِهِ، وَإِنْ أَمَرَ تَبَادَرُوا إِلَى أَمْرِهِ، مَحْفُودٌ مَحْشُودٌ لَا عَابِسٌ وَلَا مُفَنَّدٌ، قَالَ أَبُو مَعْبَدٍ: هَذَا وَاللَّهِ صَاحِبُ قُرَيْشٍ الَّذِي ذُكِرَ لَنَا مِنْ أَمْرِهِ مَا ذُكِرَ، وَلَقَدْ هَمَمْتُ أَنْ أَصْحَبَهُ، وَلَأَفْعَلَنَّ إِنْ وَجَدْتُ إِلَى ذَلِكَ سَبِيلًا، وَأَصْبَحَ صَوْتٌ بِمَكَّةَ عَالِيًا يَسْمَعُونَ الصَّوْتَ، وَلَا يَدْرُونَ مَنْ صَاحِبُهُ وَهُوَ يَقُولُ: [البحر الطويل] جَزَى اللَّهُ رَبُّ النَّاسِ خَيْرَ جَزَائِهِ رَفِيقَيْنِ حَلَّا خَيْمَتَيْ أُمِّ مَعْبَدِ هُمَا نَزَلَاهَا بِالْهُدَى وَاهْتَدَتْ بِهِ فَقَدْ فَازَ مَنْ أَمْسَى رَفِيقَ مُحَمَّدِ فَيَا لَقُصَيٍّ مَا زَوَى اللَّهُ عَنْكُمُ بِهِ مِنْ فَعَالٍ لَا تُجَازَى وَسُؤْدُدِ لِيَهْنِ أَبَا بَكْرٍ سَعَادَةُ جَدِّهِ بِصُحْبَتِهِ مَنْ يُسْعِدُ اللَّهُ يَسْعَدِ لِيَهْنِ بَنِي كَعْبٍ مَقَامُ فَتَاتِهِمْ وَمَقْعَدُهَا لِلْمُؤْمِنِينَ بِمَرْصَدِ سَلُوا أُخْتَكُمْ عَنْ شَاتِهَا وَإِنَائِهَا فَإِنَّكُمُ إِنْ تَسْأَلُوا الشَّاةَ تَشْهَدِ دَعَاهَا بِشَاةٍ حَائِلٍ فَتَحَلَّبَتْ عَلَيْهِ صَرِيحًا ضَرَّةَ الشَّاةِ مَزْبَدِ فَغَادَرَهُ رَهْنًا لَدَيْهَا لِحَالِبٍ يُرَدِّدُهَا فِي مَصْدَرٍ بَعْدَ مَوْرِدِ . فَلَمَّا سَمِعَ حَسَّانٌ الْهَاتِفَ بِذَلِكَ، شَبَّبَ يُجَاوِبُ الْهَاتِفَ، فَقَالَ: [البحر الطويل] لَقَدْ خَابَ قَوْمٌ زَالَ عَنْهُمْ نَبِيُّهُمْ وَقُدِّسَ مَنْ يَسْرِي إِلَيْهِمْ وَيَغْتَدِي تَرَحَّلَ عَنْ قَوْمٍ فَضَلَّتْ عُقُولُهُمْ وَحَلَّ عَلَى قَوْمٍ بِنُورٍ مُجَدَّدِ هَدَاهُمْ بِهِ بَعْدَ الضَّلَالَةِ رَبُّهُمْ فَأَرْشَدَهُمْ مَنْ يَتْبَعِ الْحَقَّ يَرْشُدِ وَهَلْ يَسْتَوِي ضُلَّالُ قَوْمٍ تَسَفَّهُوا عَمًى وَهُدَاةٌ يَهْتَدُونَ بِمُهْتَدِ وَقَدْ نَزَلَتْ مِنْهُ عَلَى أَهْلِ يَثْرِبٍ رِكَابُ هُدًى حَلَّتْ عَلَيْهِمْ بِأَسْعَدِ نَبِيٌّ يَرَى مَا لَا يَرَى النَّاسُ حَوْلَهُ وَيَتْلُو كِتَابَ اللَّهِ فِي كُلِّ مَشْهَدِ وَإِنْ قَالَ فِي يَوْمٍ مَقَالَةَ غَائِبٍ فَتَصْدِيقُهَا فِي الْيَوْمِ أَوْ فِي ضُحَى الْغَدِ « هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَيُسْتَدَلُّ عَلَى صِحَّتِهِ وَصِدْقِ رُوَاتِهِ بِدَلَائِلَ، فَمِنْهَا نُزُولُ الْمُصْطَفَى صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِالْخَيْمَتَيْنِ مُتَوَاتِرًا فِي أَخْبَارٍ صَحِيحَةٍ ذَوَاتِ عَدَدٍ، وَمِنْهَا أَنَّ الَّذِينَ سَاقُوا الْحَدِيثَ عَلَى وَجْهِهِ أَهْلُ الْخَيْمَتَيْنِ مِنِ الْأَعَارِيبِ الَّذِينَ لَا يُتَّهَمُونَ بِوَضْعِ الْحَدِيثِ وَالزِّيَادَةِ وَالنُّقْصَانِ، وَقَدْ أَخَذُوهُ لَفْظًا بَعْدَ لَفْظٍ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ، وَأُمِّ مَعْبَدٍ، وَمِنْهَا أَنَّ لَهُ أَسَانِيدَ كَالْأَخْذِ بِالْيَدِ أَخْذِ الْوَلَدِ عَنْ أَبِيهِ، وَالْأَبِ عَنْ جَدِّهِ لَا إِرْسَالٌ وَلَا وَهَنٌ فِي الرُّوَاةِ وَمِنْهَا أَنَّ الْحُرَّ بْنَ الصَّبَّاحِ النَّخَعِيَّ أَخَذَهُ عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ كَمَا أَخَذَهُ وَلَدُهُ عَنْهُ، فَأَمَّا الْإِسْنَادُ الَّذِي رَوَيْنَاهُ بِسِيَاقِةِ الْحَدِيثِ عَنِ الْكَعْبِيِّينَ فَإِنَّهُ إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَالٍ لِلْعَرَبِ الْأَعَارِبَةِ وَقَدْ عَلَوْنَا فِي حَدِيثِ الْحُرِّ بْنِ الصَّبَّاحِ"" [ص:12] [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4274 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" رسول اللہ ﷺ کے پیارے صحابی حضرت ہشام بن حبیش بن خویلد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اور ان کے غلام حضرت عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہ کی معیت میں مکہ سے ہجرت کر کے مدینہ شریف کی جانب روانہ ہوئے اور ان کے راہ بتانے والے حضرت عبداللہ بن اریقط لیثی رضی اللہ عنہ تھے ۔ یہ لوگ ام معبد خزاعیہ رضی اللہ عنہا کے خیموں کے پاس سے گزرے ( ام معبد بہت دلیر اور طاقتور خاتون تھیں اور یہ خیمے کے صحن میں چادر لپیٹ کر بیٹھ جاتی تھیں اور یہیں کھانا وغیرہ کھایا کرتی تھیں ) انہوں نے ( ام معبد سے ) پوچھا : تمہارے پاس گوشت یا کھجوریں وغیرہ ہوں تو ہم خریدنا چاہتے ہیں ۔ لیکن ام معبد رضی اللہ عنہا کے پاس بیچنے کے لیے کچھ نہ تھا ۔ کیونکہ یہ لوگ بہت نادار اور قحط زدہ تھے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کے خیمے کے ایک کونے میں بکری کھڑی دیکھی تو فرمایا : اے ام معبد ! یہ بکری یہاں کیوں کھڑی ہے ؟ ام معبد رضی اللہ عنہا نے کہا : اس میں ریوڑ کے ہمراہ چلنے کی سکت نہ تھی ۔ آپ ﷺ نے پوچھا : کیا یہ دودھ دیتی ہے ؟ اس نے بتایا کہ یہ دودھ دینے سے بھی عاجز ہے ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم مجھے اس کا دودھ دوہنے کی اجازت دیتی ہو ؟ اس نے کہا : حضور ! میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں اگر آپ اس میں دودھ دیکھتے ہیں تو دوہ لیجیے ۔ رسول اللہ ﷺ نے اسے اپنے پاس منگوا کر اس کے تھنوں پر اپنے دست مبارک لگائے ، اللہ تعالیٰ کا نام لیا اور اس کے لیے دعا فرمائی ، ( نبی اکرم ﷺ کے ہاتھوں اور دعا کی برکت سے ) بکری نے اپنی ٹانگیں کھول دیں اور خوب دودھ اتار لیا ۔ نبی اکرم ﷺ نے تمام لوگوں کو بٹھا لیا اور ایک برتن منگوا کر اس میں دودھ دوہا ، حتیٰ کہ وہ برتن بھر گیا ، حضور ﷺ نے یہ دودھ ام معبد رضی اللہ عنہا کو پلایا ، اور آپ ﷺ کے ساتھیوں نے بھی یہ دودھ پیٹ بھر کر پی لیا ۔ حضور ﷺ نے دوبارہ پھر اس برتن میں دودھ دوہا حتیٰ کہ برتن بھر گیا ، آپ ﷺ نے وہ دودھ اس برتن میں اسی طرح رہنے دیا ، پھر وہ بکری اس سے خرید کر وہیں چھوڑ دی اور وہاں سے روانہ ہو گئے ۔ ابھی زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ اس کا شوہر ابومعبد کچھ لاغر سی بکریاں ہانکتے ہوئے آ گیا ، وہ بکریاں کمزوری کی وجہ سے بہت سست چل رہی تھیں ، ان کی ہڈیوں کا گودا کم ہو چکا تھا ۔ جب ابومعبد نے گھر میں دودھ دیکھا تو بہت حیران ہو کر پوچھنے لگا : اے ام معبد ! گھر میں تو کوئی دودھ دینے والی بکری نہ تھی ، یہ دودھ کہاں سے آیا ؟ اس نے کہا : خدا کی قسم ! ایک آدمی ادھر سے گزرا ہے جو بہت برکت والا تھا ، پھر تمام ماجرا سنا دیا ۔ ابومعبد نے کہا : تم مجھے اس کے اوصاف بتاؤ ، اس نے کہا : میں نے آج جس آدمی کو دیکھا ہے وہ خوبصورت ، ہنس مکھ ، اور روشن چہرے والا تھا اس کا ثجلہ تھکاتا نہیں ہے ( ثجلہ کا مطلب ہے ’’ موٹے پیٹ والا ہونا ‘‘۔ معنی یہ ہو گا کہ اس کا پیٹ اتنا موٹا نہیں تھا کہ چلنے میں اس کی وجہ سے تھکاوٹ ہوتی ہو ) اس میں صعلہ کا عیب بھی نہیں تھا ( صعلہ کا مطلب ہے ، چھوٹی اور پتلی گردن والا ہونا ) بہت ہی خوبصورت ہے ، اس کی آنکھیں بڑی اور سیاہ تھیں ، اس کی پلکیں گھنی تھیں ، اس کی آواز میں تیزی تھی ، گردن بلند تھی ، داڑھی گھنی تھی ، باریک دراز ملے ہوئے ابرو تھے ، اگر وہ چپ ہو تو اس کی شخصیت پر ایک وقار ہوتا ہے ، اگر گفتگو کرے تو اس وقار میں مزید اضافہ ہو جاتا ہے ، اس کو دور سے دیکھو تو سب سے زیادہ خوبصورت نظر آتا ہے ، اور قریب سے دیکھو تو حسن و جمال اس سے بھی بڑھ کر دکھتا ہے ، ٹھہر ٹھہر کر میٹھی باتیں کرنے والا ہے ، نہ بے برکت ہے ، نہ بے ہودہ گفتگو کرنے والا ہے ، اس کی باتیں ایسی ہیں گویا کہ قیمتی موتیوں کو پرو کر عطر فروش کے ڈبے میں اُتار دیا گیا ہو ، نہ اتنے لمبے تھے کہ دیکھنے والا نفرت کرے اور نہ اس قدر پستہ قد تھے کہ آنکھ کو برا لگے ، بلکہ میانہ قد تھے ، آپ پتیوں سے زیادہ تروتازہ خوبصورت اور باعزت تھے ، اس کے دوست ہمیشہ اس کے سائبان کی طرح رہتے تھے ، وہ بات کرے تو بہت توجہ سے سنتے ہیں ، کسی چیز کا حکم دے تو ایک دوسرے سے آگے بڑھ کر عمل کرتے ہیں ، وہ مخدوم ہے ، جلد بات ماننے والے ہیں ، ترش رو اور ملامت گر نہیں ہیں ، ( یہ سن کر ) ابومعبد بولا : خدا کی قسم ! یہ آدمی وہی ہے جس کے بارے میں قریش نے مجھے بتایا تھا ، میں اس کی سنگت اختیار کرنے کی کوشش کرتا ہوں اگر میں مجھے اس کی طرف راہ ملا تو میں یہ کام ضرور کروں گا ۔ اور مکہ میں ایک آواز بلند ہوئی لوگوں نے یہ آواز سنی مگر کسی کو یہ پتہ نہ چل سکا کہ یہ آواز کہاں سے آ رہی ہے ۔ کہنے والا کہہ رہا تھا ۔ اللہ تعالیٰ ان دو ساتھیوں کو جزائے خیر عطا فرمائے جو ام معبد کے دو خیموں میں آئے ۔ وہ دونوں ہدایت کے ساتھ وہاں سے اترے اور اس ( ام معبد ) کو بھی اس سے ہدایت ملی پس وہ کامیاب ہو گیا جو محمد ﷺ کا ساتھی ہوا ۔ ابوبکر کو ان کے آباؤ اجداد کی نیک بختی ملی ان کی صحبت کی برکت سے اور سعادت مند وہی ہوتا ہے جس کو اللہ تعالیٰ سعادت مند کرے ۔ اور بنی کعب کو ان کی سخاوت ملی اور ان کے بیٹھنے کی جگہ مومنوں کے لیے بدلہ و جزا کا مقام ہے ۔ تم اپنی بہن سے اس کی بکری اور برتن کے متعلق پوچھو ۔ بے شک اگر تم بکری سے پوچھو گے تو وہ بھی گواہی دے گی ۔ انہوں نے ایسی بکری منگوائی جو دودھ دینے کی صلاحیت نہیں رکھتی تھی ، لیکن اس بکری نے آپ ﷺ کے سامنے جھاگ پھینکتا ( یعنی خالص ) دودھ دیا ۔ پھر انہوں نے وہ بکری اسی کے پاس رہن چھوڑ دی اور دودھ دوہنے والا بار بار اس کا دودھ دوہتا رہا ۔ جب حضرت حسان رضی اللہ عنہ نے ہاتف غیبی کی یہ آواز سنی تو فوراً اس کے جواب میں آپ نے فرمایا : وہ قوم برباد ہو گئی جن سے ان کا نبی چلا گیا اور وہ لوگ بہت خوش قسمت ہیں جن کی طرف اللہ کا نبی روانہ ہوا ۔ وہ اس قوم سے کوچ کر گئے ہیں جن کی عقلیں زائل ہو چکی ہیں اور ایک قوم کے پاس بزرگی والے نور کے ساتھ تشریف لے گئے ہیں ۔ ان کے رب نے ان کو گمراہی کے بعد ہدایت عطا فرمائی اور ان کو ہدایت دی جو حق کی پیروی کرتے ہوئے ہدایت ڈھونڈتا ہے ، اور کیا برابر ہے بے وقوف اندھی قوم کی گمراہی اور وہ راہنما جو مرشد کامل سے ہدایت حاصل کرتے ہیں ۔ اور تحقیق اس سے اتری ہے اہل یثرب پر ہدایت کی رکاب جو کہ ان پر نیک بختی لے کر آئی ۔ یہ نبی ہیں جو اپنے اردگرد وہ سب کچھ دیکھتے ہیں جو دوسروں کو نظر نہیں آتا اور یہ ہر مقام پر اللہ کی کتاب کی تلاوت کرتے ہیں ۔ اور اگر یہ کسی دن کوئی پیشین گوئی کر دیں تو اسی دن یا اس سے اگلے دن اس کی تصدیق ہو جاتی ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔ اور اس کی صحت اور اس کے راویوں کی صداقت پر درج ذیل دلائل موجود ہیں ۔ ( 1 ) رسول اللہ ﷺ کا دو خیموں میں تشریف لانا متعدد احادیث صحیحہ سے ثابت ہے ۔ ( 2 ) جنہوں نے یہ حدیث اس انداز سے بیان کی ہے یہ وہ لوگ ہیں جن پر حدیث گھڑنے اور اس میں کمی زیادتی کی کوئی تہمت نہیں ہے ۔ اور انہوں نے ام معبد اور ابومعبد سے لفظ بہ لفظ روایت بیان کی ہے ۔ ( 3 ) اس کی سند ایسی ہے جیسے بیٹا باپ سے ، وہ اس کے دادا سے ہاتھوں ہاتھ حدیث لے ۔ اس میں نہ تو کوئی ارسال ہے اور نہ کوئی ضعف ہے ۔ ( 4 ) حربن الصباح النخعی نے اس کو ابومعبد سے اسی طرح روایت کیا ہے جیسے ان کے بیٹے نے ان سے روایت کی ہے ۔ اور وہ اسناد جو ہم نے کعبین کی حدیث کی سند کے ساتھ روایت کی ہے وہ اسناد صحیح ہے اور عرب عرباء کی سند عالی ہے ۔ اور بے شک حربن الصباح کی حدیث میں ہماری سند عالی ہے ۔ ( جیسا کہ درج ذیل ہے )"

4275

Al Mustadrak #4275

See Details

حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ عَوْدًا عَلَى بَدْءٍ ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُكْرَمٍ الْبَزَّارُ، حَدَّثَنِي أَبُو أَحْمَدَ بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ السُّكَّرِيُّ، ثنا عَبْدُ الْمَلِكِ بْنُ وَهْبٍ الْمَذْحِجِيُّ، ثنا الْحُرُّ بْنُ الصَّيَّاحِ النَّخَعِيُّ، عَنْ أَبِي مَعْبَدٍ الْخُزَاعِيِّ، قَالَ: خَرَجَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَيْلَةً مُهَاجِرًا فَذَكَرَ الْحَدِيثَ بِطُولِهِ مِثْلَ حَدِيثِ سُلَيْمَانَ بْنِ الْحَكَمِ، وَأَمَّا حَدِيثُ الْخَيْمَتَيْنِ الْمَعْرُوفُ بِرُوَاتِهِ فَقَدْ

اردو ترجمہ · Urdu

" حربن الصباح النخعی سے مروی ہے کہ ابومعبد الخزاعی کہتے ہیں : رسول اللہ ﷺ ایک رات ہجرت کر کے نکلے ، ہھر اس کے بعد سلیمان بن الحکم کی حدیث کی طرح حدیث بیان کی ۔ اور دو خیموں والی مشہور حدیث اس کے تمام راویوں سمیت درج ذیل ہے ۔"

4276

Al Mustadrak #4276

See Details

حَدَّثَنَاهُ أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ زِيَادٍ، وَجَعْفَرُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ سَوَّارٍ، وَأَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ الدَّوْرَقِيُّ، فِي آخَرِينَ، قَالُوا: ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْإِمَامُ، وَأَخْبَرَنِي مَخْلَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْبَاقَرْحِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جَرِيرٍ، قَالُوا: ثنا مُكْرَمُ بْنُ مُحْرِزٍ، ثُمَّ سَمِعْتُ الشَّيْخَ الصَّالِحَ أَبَا بَكْرٍ مُحَمَّدَ بْنَ جَعْفَرِ بْنَ حَمْدَانَ الْبَزَّارَ الْقَطِيعِيَّ، يَقُولُ: ثنا مُكْرَمُ بْنُ مُحْرِزٍ، عَنْ أَبِيهِ، "" فَذَكَرُوا الْحَدِيثَ بِطُولِهِ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ أَبِي مَعْبَدٍ فَقُلْتُ لِشَيْخِنَا أَبِي بَكْرٍ الْقَطِيعِيِّ: سَمِعَهُ الشَّيْخُ مِنْ مُكْرَمٍ؟ قَالَ: إِي وَاللَّهِ حَجَّ بِي أَبِي وَأَنَا ابْنُ سَبْعِ سِنِينَ، فَأَدْخَلَنِي عَلَى مُكْرَمِ بْنِ مُحْرِزٍ"" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4276 - ما في هذه الطرق شيء على شرط الصحيح

اردو ترجمہ · Urdu

الشیخ الصالح ابوبکر محمد بن جعفر بن حمدان البزار القطیعی کہتے ہیں : ہمیں مکرم بن محرز نے اپنے والد کے حوالے سے یہ حدیث سنائی ۔ پھر ابومعبد کی طرح تفصیلی حدیث بیان کی ۔ میں نے اپنے شیخ ابوبکر القطیعی سے پوچھا : کیا شیخ نے یہ حدیث مکرم سے سنی ہے : تو انہوں نے کہا : جی ہاں ۔ خدا کی قسم ! میرے والد مجھے حج پر لے گئے ، میں ان دنوں سات سال کا تھا ، تو وہ مجھے مکرم بن محرز کے پاس لے گئے تھے ۔

4277

Al Mustadrak #4277

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ بَطَّةَ الْأَصْبَهَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ الْجَهْمِ، ثنا مُوسَى بْنُ الْمُشَاوِرِ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُعَاذٍ الصَّنْعَانِيُّ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُرْوَةُ بْنُ الزُّبَيْرِ، أَنَّهُ سَمِعَ الزُّبَيْرَ يَذْكُرُ، "" أَنَّهُ لَقِيَ الرَّكْبَ مِنَ الْمُسْلِمِينَ كَانُوا تِجَارًا بِالشَّامِ قَافِلِينَ مِنْ مَكَّةَ عَارَضُوا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَبَا بَكْرٍ بِثِيَابٍ بِيضٍ حِينَ سَمِعُوا بِخُرُوجِهِمْ، فَلَمَّا سَمِعَ الْمُسْلِمُونَ بِالْمَدِينَةِ بِمَخْرَجِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانُوا يَغْدُونَ كُلَّ غَدَاةٍ إِلَى الْحَرَّةِ، فَيَنْتَظِرُونَهُ حَتَّى يُؤْذِيَهُمْ حَرُّ الظَّهِيرَةِ، فَانْقَلَبُوا يَوْمًا بَعْدَمَا أَطَالُوا انْتِظَارَهُ، فَلَمَّا آوَوْا إِلَى بُيُوتِهِمْ أَوْفَى رَجُلٌ مِنْ يَهُودَ أَطْمًا مِنْ آطَامِهِمْ لَيَنْظُرُ إِلَيْهِ، فَبَصُرَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَأَصْحَابِهِ مُبَيَّضِينَ يَزُولُ بِهِمُ السَّرَابُ، فَلَمْ يَمْلِكِ الْيَهُودِيُّ أَنْ قَالَ بِأَعْلَى صَوْتِهِ: يَا مَعْشَرَ الْعَرَبِ، هَذَا صَاحِبُكُمُ الَّذِي تَنْتَظِرُونَ، فَثَارَ الْمُسْلِمُونَ إِلَى السِّلَاحِ، فَتَلَقَّوْا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِظَهْرِ الْحَرَّةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4277 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ان کی ملاقات مسلمانوں کی ایک جماعت سے ہوئی کہ شام میں تجارت کیا کرتے تھے ، جب ان کو رسول اللہ ﷺ کی ہجرت کا پتہ چلا تو یہ لوگ مکہ سے آنے والوں سے ملتے ( اور پوچھتے کہ ) انہوں نے رسول اللہ ﷺ اور حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو سفید کپڑوں میں دیکھا ہے ؟ اور جب مدینہ منورہ میں اطلاع پہنچی کہ رسول اللہ ﷺ روانہ ہو چکے ہیں تو یہ لوگ روزانہ صبح سویرے باہر ٹیلوں پر آ کر حضور ﷺ کا انتظار کرنے لگ جاتے ، حالانکہ دوپہر کی گرمی بہت شدید ہوتی تھی ، اس کے باوجود طویل انتظار کرتے ، پھر وہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹ جاتے ، ایک یہودی بھی اپنے قلعہ نما گھر سے جھانک کر آپ ﷺ کی راہ تکا کرتا تھا ، ایک دن اس کی نظر رسول اللہ ﷺ پر اور آپ ﷺ کے اصحاب پر پڑ گئی ، ان کی سفیدی سے سراب چھٹ رہا تھا ، اس یہودی سے رہا نہ گیا اور بلند آواز سے بولا : اے اہل عرب ! یہ رہا تمہارا وہ ساتھی جس کا تم آج تک انتظار کرتے رہے ہو ، تو مسلمانوں نے اپنے ہتھیار سنبھال لیے اور ’’ ظہرالحرہ ‘‘ نامی ایک ٹیلے پر پہنچ کر آپ ﷺ کا والہانہ استقبال کیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4278

Al Mustadrak #4278

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ بِشْرُ بْنُ مُوسَى، ثنا الْحُمَيْدِيُّ، ثنا سُفْيَانُ بْنُ عُيَيْنَةَ، ثنا زَيْدُ بْنُ أَسْلَمَ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: دَخَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَسْجِدَ بَنِي عَمْرِو بْنِ عَوْفٍ وَهُوَ مَسْجِدُ قُبَاءَ يُصَلِّي فِيهِ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ رِجَالٌ مِنَ الْأَنْصَارِ يُسَلِّمُونَ عَلَيْهِ، قَالَ ابْنُ عُمَرَ: وَدَخَلَ مَعَهُمْ صُهَيْبٌ، فَسَأَلْتُهُ كَيْفَ كَانَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَصْنَعُ إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ وَهُوَ فِي الصَّلَاةِ؟ قَالَ: «كَانَ يُشِيرُ بِيَدِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4278 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ بنی عمرو بن عوف کی مسجد یعنی مسجد قباء میں تشریف لائے ۔ تو مسلمان حضور ﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ کو سلام کرتے ۔ حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : صہیب بھی ان کے ساتھ بارگاہ عالی میں حاضر ہوئے تھے ۔ میں نے ان سے پوچھا : جب حضور ﷺ کو سلام کیا جاتا اور آپ اس وقت نماز میں ہوتے تو آپ علیہ السلام کیا کیا کرتے تھے ؟ انہوں نے کہا : آپ ﷺ ہاتھ سے اشارہ کر دیا کرتے تھے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4279

Al Mustadrak #4279

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْقَنْطَرِيُّ بِبَغْدَادَ، وَعَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْحُسَيْنِ الْقَاضِي بِمَرْوَ قَالَا: ثنا الْحَارِثُ بْنُ أَبِي أُسَامَةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عِيسَى بْنِ الطَّبَّاعِ، ثنا مُجَمِّعُ بْنُ يَعْقُوبَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ سُلَيْمَانَ الْحِزَامِيُّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ بْنِ سَهْلِ بْنِ حُنَيْفٍ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ قَالَ: قَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «مَنْ خَرَجَ حَتَّى يَأْتِيَ هَذَا الْمَسْجِدَ - يَعْنِي مَسْجِدَ قُبَاءَ - فَيُصَلِّيَ فِيهِ كَانَ كَعَدْلِ عَمْرَةٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4279 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سہل بن حنیف رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے یہ بات ارشاد فرمائی ہے : جس نے اس مسجد میں ( راوی کہتے ہیں یعنی مسجد قباء میں ) آ کر نماز پڑھی اس کو عمرہ کے برابر ثواب ملتا ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4280

Al Mustadrak #4280

See Details

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِيِنِيُّ، ثنا حَمَّادُ بْنُ أُسَامَةَ، ثنا هَاشِمُ بْنُ هَاشِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ عَامِرَ بْنَ سَعْدٍ، وَعَائِشَةَ بِنْتَ سَعْدٍ، يَقُولَانِ: سَمِعْنَا سَعْدًا يَقُولُ: «لِأَنْ أُصَلِّيَ فِي مَسْجِدِ قُبَاءَ أَحَبُّ إِلَيَّ مِنْ أَنْ أُصَلِّيَ فِي مَسْجِدِ بَيْتِ الْمَقْدِسِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4280 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" عامر بن سعد اور عائشہ بنت سعد بیان کرتے ہیں : ہم نے حضرت سعد کو یہ کہتے ہوئے سنا ہے : بیت المقدس میں نماز ادا کرنے کے مقابلے میں ، مسجد قبا میں نماز ادا کرنا میرے نزدیک زیادہ پسندیدہ ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث شیخین کی شرط کے مطابق صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4281

Al Mustadrak #4281

See Details

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ قَالَ: «شَهِدْتُ يَوْمَ دَخَلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ فَلَمْ أَرَ يَوْمًا أَحْسَنَ وَلَا أَضْوَءَ مِنْهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4281 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جس دن نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے ، میں نے آج تک اس سے زیادہ روشن اور چمکدار دن نہیں دیکھا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4282

Al Mustadrak #4282

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَسْعُودٍ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، أَنْبَأَ إِسْرَائِيلُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنِ الْبَرَاءِ، عَنْ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «وَمَضَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حَتَّى قَدِمَ الْمَدِينَةَ، وَخَرَجَ النَّاسُ حَتَّى دَخَلْنَا فِي الطَّرِيقِ، وَصَاحَ النِّسَاءُ وَالْخُدَّامُ وَالْغِلْمَانُ، جَاءَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ اللَّهُ أَكْبَرُ، جَاءَ مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَلَمَّا أَصْبَحَ انْطَلَقَ فَنَزَلَ حَيْثُ أُمِرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4282 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ چلتے رہے ، حتی کہ آپ مدینہ منورہ پہنچ گئے تو لوگ ( اپنے گھروں سے ) باہر نکل آئے ، حتیٰ کہ ہم گلی میں داخل ہوئے تو عورتیں ، خدام اور بچے زور زور سے یہ کہہ رہے تھے ’’ اللہ اکبر ! حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں ۔ حضرت محمد رسول اللہ ﷺ تشریف لے آئے ہیں ، جب صبح ہوئی تو آپ چل پڑے حتیٰ کہ جہاں ( اللہ کی طرف سے ) حکم ہوا وہاں آپ نے قیام کیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4283

Al Mustadrak #4283

See Details

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْفَضْلِ، ثنا هَوْذَةُ بْنُ خَلِيفَةَ، ثنا عَوْفُ بْنُ أَبِي جَمِيلَةَ، عَنْ زُرَارَةَ بْنِ أَبِي أَوْفَى، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ سَلَّامٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: لَمَّا وَرَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ انْجَفَلَ النَّاسُ إِلَيْهِ، وَقِيلَ قَدِمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: فَجِئْتُ فِي النَّاسِ لِأَنْظُرُ، فَلَمَّا تَبَيَّنْتُ وَجْهَهُ عَرَفْتُ أَنَّ وَجْهَهُ لَيْسَ بِوَجْهٍ كَذَّابٍ، وَكَانَ أَوَّلُ شَيْءٍ سَمِعْتُهُ يَتَكَلَّمُ أَنْ قَالَ: «يَا أَيُّهَا النَّاسُ، أَفْشُوا السَّلَامَ، وَأَطْعِمُوا الطَّعَامَ، وَصِلُوا الْأَرْحَامَ، وَصَلُّوا وَالنَّاسُ نِيَامٌ تَدْخُلُوا الْجَنَّةَ بِسَلَامٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4283 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن سلام رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تو لوگ تیزی کے ساتھ آپ کی طرف بھاگے اور ( مجھے ) بتایا گیا کہ رسول اللہ ﷺ تشریف لا چکے ہیں ۔ آپ فرماتے ہیں : میں بھی لوگوں کے ہمراہ آپ کی زیارت کے لیے چل پڑا ، جب میں نے آپ کے چہرہ انور کو دیکھا تو میں جان گیا کہ یہ چہرہ جھوٹے آدمی کا نہیں ہو سکتا ۔ میں نے آپ کی سب سے پہلی گفتگو جو سنی وہ یہ تھی ’’ اے لوگو ! سلام عام کرو ، ( بھوکوں کو ) کھانا کھلاؤ ، صلہ رحمی کرو ، اور اس وقت نماز پڑھو جب لوگ سو رہے ہوں ، تو تم سلامتی کے ساتھ جنت میں جاؤ گے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ، لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4284

Al Mustadrak #4284

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ، ثنا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، ثنا حَشْرَجُ بْنُ نُبَاتَةَ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ جُمْهَانَ، عَنْ سَفِينَةَ مَوْلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: لَمَّا بَنَى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَسْجِدَ جَاءُ أَبُو بَكْرٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُمَرُ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ، ثُمَّ جَاءَ عُثْمَانُ بِحَجَرٍ فَوَضَعَهُ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «هَؤُلَاءِ وُلَاةُ الْأَمْرِ مِنْ بَعْدِي هَذَا» حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4284 - صحيح

اردو ترجمہ · Urdu

" رسول اللہ ﷺ کے آزاد کردہ غلام حضرت سفینہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ مسجد تعمیر فرما رہے تھے تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ایک پتھر لے کر آئے اور اس کو لگا دیا ، پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک پتھر لا کر لگا دیا ، پھر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے ایک پتھر لا کر لگا دیا ، تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : یہی لوگ ( اسی ترتیب سے ) میرے بعد امور سلطنت کے والی ہوں گے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4285

Al Mustadrak #4285

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْحَسَنِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْخَيَّاطُ بِبَغْدَادَ، ثنا عُبَيْدُ بْنُ شَرِيكٍ الْبَزَّازُ، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ أَبِي حَازِمٍ، عَنْ أَبِيهِ سَهْلِ بْنِ سَعْدٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ قَالَ: «أَخْطَأَ النَّاسُ فِي الْعَدَدِ مَا عَدُّوا مِنْ بَيْعَتِهِ، وَلَا مِنْ وَفَاتِهِ، إِنَّمَا عَدُّوا مِنْ مَقْدَمِهِ الْمَدِينَةَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4285 - على شرط البخاري ومسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سہل بن سعد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : لوگوں نے گنتی کرنے میں غلطی کی ہے کیونکہ انہوں نے آپ ﷺ کی بیعت یا آپ ﷺ کی وفات سے گنتی نہیں کی ، بلکہ آپ ﷺ کی مدینہ منورہ تشریف آوری سے گنتی کی ہے ۔ ( یعنی سن ہجری کا آغاز ہجرت مدینہ سے ہوا ہے ) ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"

4286

Al Mustadrak #4286

See Details

حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الثَّقَفِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سَهْلِ بْنِ عَسْكَرٍ، ثنا ابْنُ أَبِي مَرْيَمَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ دِينَارٍ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا قَالَ: «كَانَ التَّارِيخُ فِي السَّنَةِ الَّتِي قَدِمَ فِيهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَدِينَةَ وَفِيهَا وُلِدَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الزُّبَيْرِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" [التعليق - من تلخيص الذهبي] 4286 - على شرط مسلم

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : تاریخ کا آغاز اس سال سے ہوا جس میں نبی اکرم ﷺ مدینہ منورہ تشریف لائے تھے ، اسی برس میں حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہما کی ولادت ہوئی تھی ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اس کو نقل نہیں کیا ۔"