Muslim99Muslim99

Al Mustadrak · Book 14 · Chapter 14

زکوۃ کا بیان

30 hadiths in this chapter

1427

Al Mustadrak #1427

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُقَاتِلُهُمْ عَلَيْهِ» قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلَيْهِ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عِمْرَانَ الْقَطَّانَ، وَلَيْسَ لَهُمَا حُجَّةٌ فِي تَرْكِهِ، فَإِنَّهُ مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ أَبِي الْعَنْبَسِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا تو اہل عرب مرتد ہونے لگ گئے ۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوبکر ! کیا تم اہل عرب سے جنگ کرنا چاہتے ہو ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے لوگوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں ۔ خدا کی قسم ! اگر یہ مجھ سے ایک رسی بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے ، تو میں ان سے جہاد کروں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو دیکھا کہ اس پر ان کو شرحِ صدر حاصل ہے تو میں جان گیا کہ ان کی یہ رائے برحق ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے علاوہ عمران القطان کی اور کوئی روایت نقل نہیں کی ، حالانکہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے پاس ان کو ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ یہ مستقیم الحدیث ہیں ۔ ابوعنبس سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد بھی ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔"

1428

Al Mustadrak #1428

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ عَلِيُّ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ عُقْبَةَ الشَّيْبَانِيُّ بِالْكُوفَةِ، ثنا الْهَيْثَمُ بْنُ خَالِدٍ، ثنا أَبُو نُعَيْمٍ، ثنا أَبُو الْعَنْبَسِ سَعِيدُ بْنُ كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، ثُمَّ حُرِّمَتْ عَلَيَّ دِمَاؤُهُمْ وَأَمْوَالُهُمْ وَحِسَابُهُمْ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ»

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں لوگوں سے جنگ کروں یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دیں کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں اور نماز ادا کریں اور زکوۃ دیں پھر میرے اوپر ان کے خون اور مال حرام کر دئیے گئے اور ان کا حساب اللہ پر ہے ۔

1429

Al Mustadrak #1429

See Details

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا أَبُو الْمُثَنَّى الْعَنْبَرِيُّ، ثنا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الْمَدِينِيُّ، ثنا مُعَاذُ بْنُ هِشَامٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ، حَدَّثَنِي عَامِرُ بْنُ شَبِيبٍ الْعُقَيْلِيُّ، أَنَّ أَبَاهُ، أَخْبَرَهُ أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ، يَقُولُ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " عُرِضَ عَلَيَّ أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ، وَأَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ، فَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ الْجَنَّةَ: فَالشَّهِيدُ، وَعَبْدٌ مَمْلُوكٌ أَحْسَنَ عُبَادَةَ رَبِّهِ وَنَصَحَ لِسَيِّدِهِ، وَعَفِيفٌ، مُتَعَفِّفٌ ذُو عِيَالٍ، وَأَمَّا أَوَّلُ ثَلَاثَةٍ يَدْخُلُونَ النَّارَ: فَأَمِيرٌ مُسَلَّطٌ، وَذُو ثَرْوَةٍ مِنْ مَالٍ لَا يُؤَدِّي حَقَّ اللَّهِ فِي مَالِهِ، وَفَقِيرٌ فَجُورٌ «عَامِرُ بْنُ شَبِيبٍ الْعُقَيْلِيُّ شَيْخٌ مِنْ أَهْلِ الْمَدِينَةِ مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَهَذَا أَصْلٌ فِي هَذَا الْبَابِ تَفَرَّدَ بِهِ عَنْهُ يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ»

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : میرے سامنے وہ تین شخص پیش کیے گئے جو سب سے پہلے جنت میں جائیں گے اور تین ایسے لوگ پیش کیے گئے جو سب سے پہلے دوزخ میں جائیں گے ۔ سب سے پہلے جنت میں جانے والے تین آدمی یہ ہیں : ( 1 ) شہید ۔ ( 2 ) غلام جو اپنے رب کی خوب عبادت کرے اور اپنے آقا کی خیر خواہی کرے ۔ ( 3 ) پاکباز عیال دار ۔ اور سب سے پہلے دوزخ میں جانے والے تین آدمی یہ ہیں : ( 1 ) لوگوں پر مسلط ہونے والا امیر ۔ ( 2 ) ایسا مال دار جو اپنے مال میں سے ماں باپ کا حق ادا نہ کرے ۔ ( 3 ) گناہ کرنے والا فقیر ۔ ٭٭ عامر بن شبیب اہل مدینہ کے شیوخ میں سے ہیں ، مستقیم الحدیث ہیں ۔ اور اس بات میں یہ اصل ہے ۔ ان سے روایت کرنے میں یحیی بن ابی کثیر منفرد ہیں ۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے ۔ جو کہ اعمش نے عبداللہ بن مرہ سے روایت کی ہے ۔

1430

Al Mustadrak #1430

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي عَمْرُو بْنُ مُحَمَّدٍ النَّاقِدُ، ثنا يَحْيَى بْنُ عِيسَى الرَّمْلِيُّ، عَنِ الْأَعْمَشِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُرَّةَ، عَنْ مَسْرُوقٍ، قَالَ: «مَا عَبَدَ اللَّهُ آكِلُ الرِّبَا وَمُوكِلُهُ، وَشَاهِدَاهُ إِذَا عَلِمَاهُ وَالْوَاشِمَةُ وَالْمُوتَشِمَةُ، وَلَاوِي الصَّدَقَةِ، وَالْمُرْتَدُّ أَعْرَابِيًّا بَعْدَ الْهِجْرَةِ مَلْعُونُونَ عَلَى لِسَانِ مُحَمَّدٍ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، فَقَدِ احْتَجَّ بِيَحْيَى بْنِ عِيسَى الرَّمْلِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت مسروق رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : حضرت عبداللہ نے فرمایا : سود کھانے والا اور کھلانے والا اور دونوں کی گواہی دینے والا جبکہ اس کا علم رکھتے ہوں ۔ اور گودھنے والی اور گودھوانے والی اور صدقہ میں ٹال مٹول کرنے والا اور ہجرت کے بعد لوٹ جانے والا ( یہ سب لوگ ) قیامت کے دن محمد ﷺ کی زبان سے لعنت زدہ ہوں گے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے یحیی بن عیسیٰ رضی اللہ عنہ کی روایات نقل کی ہیں ۔

1431

Al Mustadrak #1431

See Details

أَخْبَرَنِي دَعْلَجُ بْنُ أَحْمَدَ السِّجْزِيُّ، بِبَغْدَادَ، ثنا هِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ السَّدُوسِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ رَجَاءٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سَلَمَةَ بْنِ أَبِي الْحُسَامِ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبَقَرِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ، وَمَنْ رَفَعَ دَنَانِيرَ وَدَرَاهِمَ أَوْ تِبْرًا وَفِضَّةً لَا يَعُدُّهَا لِغَرِيمٍ، وَلَا يُنْفِقُهَا فِي سَبِيلِ اللَّهِ فَهُوَ كَنْزٌ يُكْوَى بِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ» تَابَعَهُ: ابْنُ جَرِيرٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اونٹوں میں ان کا صدقہ ہے اور بھیڑ بکریوں میں ان کا صدقہ ہے ۔ اور گائے میں ان کا صدقہ ہے اور گندم میں اس کا صدقہ ہے ۔ اور جو شخص دینار اور درہم یا سونا اور چاندی حاصل کرے جو کہ نہ قرض خواہ کو لوٹائے اور نہ اسے اللہ کی راہ میں خرچ کرے ، تو وہ ایسا خزانہ ہے جس کے ساتھ قیامت کے دن ( اس کی پیٹھ کو ) داغا جائے گا ۔ ٭٭ یہ حدیث عمران بن ابی انس سے روایت کرنے میں ابن جریر نے سعید بن سلمہ بن ابی حسام کی متابعت کی ہے ۔ "

1432

Al Mustadrak #1432

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو قُتَيْبَةَ سَالِمُ بْنُ الْفَضْلِ الْآدَمِيُّ بِمَكَّةَ، ثنا مُوسَى بْنُ هَارُونَ، ثنا زُهَيْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ بُكَيْرٍ، عَنِ ابْنِ جُرَيْجٍ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ أَبِي أَنَسٍ، عَنْ مَالِكِ بْنِ أَوْسِ بْنِ الْحَدَثَانِ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «فِي الْإِبِلِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْغَنَمِ صَدَقَتُهَا، وَفِي الْبُرِّ صَدَقَتُهُ» كِلَا الْإِسْنَادَيْنِ صَحِيحَانِ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : اونٹوں میں ان کا صدقہ ہے ، بھیڑ بکریوں میں ان کا صدقہ ہے اور گندم میں اس کا صدقہ ہے ۔ ٭٭ مذکورہ دونوں اسنادیں امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔"

1433

Al Mustadrak #1433

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا الرَّبِيعُ بْنُ سُلَيْمَانَ، ثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي سُلَيْمَانُ بْنُ بِلَالٍ، عَنْ شَرِيكِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي نَمِرٍ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ،: أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ فَقَالَ: «خُذِ الْحَبَّ مِنَ الْحَبِّ، وَالشَّاةَ مِنَ الْغَنَمِ، وَالْبَعِيرَ مِنَ الْإِبِلِ، وَالْبَقَرَةَ مِنَ الْبَقَرِ» هَذَا إِسْنَادٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، إِنْ صَحَّ سَمَاعُ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ فَإِنِّي لَا أُتْقِنُهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا تو فرمایا : گندم میں سے گندم لینا ، بھیڑ بکریوں میں سے بکری لینا ، اونٹ میں سے اونٹ لینا اور گائے میں سے گائے لینا ۔ ٭٭ اگر عطا بن یسار کا معاذ بن جبل سے سماع صحیح ہے تو یہ اسناد شیخین کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن مجھے اس سند پر یقین نہیں ہے ۔"

1434

Al Mustadrak #1434

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو الْفَضْلِ الْحَسَنُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثَنَا عَبْدُ الْوَهَّابِ بْنُ عَطَاءٍ، أَنْبَأَ سَعِيدُ بْنُ أَبِي عَرُوبَةَ، وَأَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ الْمِنْهَالِ، ثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ، ثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ سَالِمِ بْنِ أَبِي الْجَعْدِ الْغَطَفَانِيِّ، عَنْ مَعْدَانَ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ الْيَعْمُرِيِّ، عَنْ ثَوْبَانَ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ تَرَكَ بَعْدَهُ كَنْزًا مُثِّلَ لَهُ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ لَهُ زَبِيبَتَانِ يَتْبَعُ فَاهُ فَيَقُولُ: وَيْلَكَ أَنَا كَنْزُكَ الَّذِي تَرَكْتَهُ بَعْدَكَ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ يَدَهُ، فَيَقْضَمُهَا، ثُمَّ يَتْبَعُهُ سَائِرَ جَسَدِهِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِهِ أَيْضًا»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ثوبان رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جو شخص اپنے بعد خزانہ چھوڑے ، قیامت کے دن وہ خزانہ اس کے لیے گنجا سانپ بن کر آئے گا ، جس کی آنکھ پر دو سیاہ نشان ہوں گے اور وہ منہ کھولے ہوئے اپنے مالک کے پیچھے آئے گا ، اور اس سے کہے گا : تیرے لیے ہلاکت ہو ، میں تیرا خزانہ ہوں جس کو تو اپنے بعد چھوڑ آیا ہے ، وہ سانپ مسلسل اس کا پیچھا کرے گا یہاں تک کہ وہ اس کا ہاتھ اپنے منہ میں لے لے گا اور چبائے گا پھر اس کا پورا جسم نگل لے گا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے وہ بھی امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے ۔ ( وہ حدیث درج ذیل ہے ) ۔"

1435

Al Mustadrak #1435

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْحَسَنِ أَحْمَدُ بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنَزِيُّ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ، وَابْنُ بُكَيْرٍ قَالَا: ثنا اللَّيْثُ، عَنِ ابْنِ عَجْلَانَ، عَنِ الْقَعْقَاعِ بْنِ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «يَكُونُ كَنْزُ أَحَدِكُمْ يَوْمَ الْقِيَامَةِ شُجَاعًا أَقْرَعَ ذُو زَبِيبَتَيْنِ يَتْبَعُ صَاحِبَهُ وَهُوَ يَتَعَوَّذُ مِنْهُ، فَلَا يَزَالُ يَتْبَعُهُ وَهُوَ يَفِرُّ مِنْهُ حَتَّى يُلْقِمَهُ إِصْبَعَيْهِ» قَدِ اتَّفَقَ الشَّيْخَانِ عَلَى إِخْرَاجِ حَدِيثِ ابْنِ مَسْعُودٍ وَابْنِ عَمْرٍو فِي هَذَا الْبَابِ عَلَى سَبِيلِ الِاخْتِصَارِ، وَفِي التَّغْلِيظِ الْمَانِعِ مِنَ الزَّكَاةِ غَيْرَ أَنَّهُمَا لَمْ يُخَرِّجَا حَدِيثَ أَبِي هُرَيْرَةَ وَثَوْبَانَ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : تمہارا خزانہ قیامت کے دن آنکھوں کے اوپر دو نشانوں والا گنجا سانپ بن کر اپنے مالک کے تعاقب میں آئے گا اور وہ اس سے پناہ مانگے گا ۔ لیکن وہ مسلسل اس کے پیچھے پیچھے آئے گا اور یہ اس سے بھاگے گا یہاں تک کہ وہ اس کی انگلیوں کو کھا جائے گا ۔ ٭٭ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں نے اس باب میں اور زکوۃ نہ دینے والے پر سختی کرنے میں ابن مسعود اور ابن عمر رضی اللہ عنہما کی مختصر روایات نقل کی ہیں ۔ تاہم انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور ثوبان کی روایات نقل کیں ۔"

1436

Al Mustadrak #1436

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ الْخَوْلَانِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ صَالِحٍ، عَنْ أَبِي يَحْيَى بْنِ عَامِرٍ الْكَلَاعِيِّ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا أُمَامَةَ، يَقُولُ: قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِينَا فِي حَجَّةِ الْوَدَاعِ وَهُوَ عَلَى نَاقَتِهِ الْجَدْعَاءِ قَدْ جَعَلَ رِجْلَيْهِ فِي غَرْزَيِ الرِّكَابِ يَتَطَاوَلُ، يُسْمِعُ النَّاسَ، فَقَالَ: «أَلَا تَسْمَعُ صَوْتِي؟» فَقَالَ رَجُلٌ مِنْ طَوَائِفِ النَّاسِ فَمَاذَا تَعْهَدُ إِلَيْنَا؟ فَقَالَ: «اعْبُدُوا رَبَّكُمْ، وَصَلُّوا خَمْسَكُمْ، وَصُومُوا شَهْرَكُمْ، وَأَدُّوا زَكَاةَ أَمْوَالِكُمْ، وَأَطِيعُوا ذَا أَمْرِكُمْ، تَدْخُلُوا جَنَّةَ رَبِّكُمْ» قَالَ: قُلْتُ: يَا أَبَا أُمَامَةَ فَمِثْلُ مَنْ أَنْتَ يَوْمَئِذٍ؟ قَالَ: «أَنَا يَا ابْنَ أَخِي يَوْمَئِذٍ ابْنُ ثَلَاثِينَ سَنَةً أُزَاحِمُ الْبَعِيرَ أُدَحْرِجُهُ قُرْبًا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوامامہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ حجۃ الوداع کے موقع پر اپنی جدعا اونٹنی پر کھڑے تھے ۔ آپ اس کی رکابوں میں دونوں پاؤں ڈال کر اونچے ہو کر بلند آواز سے کہہ رہے تھے : کیا تم لوگ میری آواز سن رہے ہو ؟ ایک شخص نے کہا : آپ ہمیں کیا پیغام دیتے ہیں ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : اپنے رب کی عبادت کرو ، پانچ وقت کی نماز ادا کرو ، ماہِ رمضان کے روزے رکھو ، اپنے مال کی زکوۃ ادا کرو اور اپنے امیر کی اطاعت کرو ، تم اپنے رب کی جنت میں داخل ہو گے ۔ ( ابویحیی بن عامر کلاعی کہتے ہیں ) میں نے کہا : اے ابوامامہ ! اس دن تمہاری عمر کیا تھی ؟ انہوں نے جواب دیا : اے میرے بھتیجے ! اس دن میں تیس سال کا نوجوان تھا ( اور اتنا طاقت ور تھا کہ ) اونٹ سے لڑتا تھا تو اسے بھی پچھاڑ دیتا تھا ، ( یہ سب ) رسول اللہ ﷺ کے قرب ( کی برکت ) سے ( تھا ) ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔

1437

Al Mustadrak #1437

See Details

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ الرَّازِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ الرَّبِيعِ بْنِ طَارِقٍ، ثنا يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ، أَنَّ مُحَمَّدَ بْنَ عَمْرِو بْنِ عَطَاءٍ، أَخْبَرَهُ عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَدَّادِ بْنِ الْهَادِ، قَالَ: دَخَلْنَا عَلَى عَائِشَةَ زَوْجِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: " دَخَلَ عَلَيَّ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَأَى فِي يَدِي سِخَابًا مِنْ وَرِقٍ، فَقَالَ: «مَا هَذَا يَا عَائِشَةُ؟» فَقُلْتُ: صَنَعْتُهُنَّ أَتَزَيَّنُ لَكَ فِيهِنَّ يَا رَسُولَ اللَّهِ. فَقَالَ: «أَتُؤَدِّينَ زَكَاتَهُنَّ؟» فَقُلْتُ: لَا، أَوْ مَا شَاءَ اللَّهُ مِنْ ذَلِكَ. قَالَ: «هِيَ حَسْبُكِ مِنَ النَّارِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عبداللہ بن شداد بن الھاد رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نبی اکرم ﷺ کی زوجہ محترمہ ( ام المؤمنین ) عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے ، انہوں نے فرمایا : میرے پاس رسول اللہ ﷺ تشریف لائے ، انہوں نے میرے ہاتھ میں چاندی کا ایک ہار دیکھا تو پوچھا : اے عائشہ رضی اللہ عنہا یہ کیا ہے ؟ میں نے کہا : یا رسول اللہ ﷺ ! میں نے یہ اس لیے بنوایا ہے تاکہ یہ پہن کر آپ کے لیے زینت اختیار کروں ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : کیا تم ان کی زکوۃ ادا کرتی ہو ؟ میں نے کہا : نہیں یا جو اس میں سے اللہ چاہے گا ۔ آپ ﷺ نے فرمایا : تیرے جہنمی ہونے کے لیے یہی کافی ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔"

1438

Al Mustadrak #1438

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا عَنْبَسَةُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ الْفَرَجِ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدِ بْنِ كَثِيرِ بْنِ دِينَارٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مُهَاجِرٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ عَجْلَانَ، ثنا عَطَاءٌ، عَنْ أُمِّ سَلَمَةَ، أَنَّهَا كَانَتْ تَلْبَسُ أَوْضَاحًا مِنْ ذَهَبٍ فَسَأَلَتْ عَنْ ذَلِكَ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَتْ: أَكَنْزٌ هُوَ؟ فَقَالَ: «إِذَا أَدَّيْتِ زَكَاتَهُ فَلَيْسَ بِكَنْزٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الْبُخَارِيِّ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت عطا رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا سونے کی پازیبیں پہنا کرتی تھیں ۔ انہوں نے ان کے متعلق نبی اکرم ﷺ سے پوچھا : کیا یہ کنز ہے ؟ آپ ﷺ نے فرمایا : جب تو اس کی زکوۃ ادا کر دے گی تو یہ کنز ( کے حکم میں ) نہیں رہے گا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔"

1439

Al Mustadrak #1439

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو جَعْفَرٍ مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ الْحَسَنِ بْنِ الْمُهَاجِرِ، ثنا هَارُونُ بْنُ سَعِيدٍ الْأَيْلِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ وَهْبٍ، أَخْبَرَنِي ابْنُ جُرَيْجٍ، عَنْ أَبِي الزُّبَيْرِ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَدَّيْتَ زَكَاةَ مَالِكَ فَقَدْ أَذْهَبْتَ عَنْكَ شَرَّهُ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ صَحِيحٌ مِنْ حَدِيثِ الْمِصْرِيِّينَ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تو اپنے مال کی زکوۃ ادا کر دے تو تو نے اس کے نقصانات کو ختم کر دیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ مذکورہ حدیث کی ایک شاہد حدیث بھی موجود ہے جو کہ مصریوں سے مروی ہے ۔ ( جیسا کہ درجِ ذیل ہے ) ۔"

1440

Al Mustadrak #1440

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا بَحْرُ بْنُ نَصْرٍ، ثنا ابْنُ وَهْبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ، عَنْ دَرَّاجٍ أَبِي السَّمْحِ، عَنِ ابْنِ حُجَيْرَةَ الْأَكْبَرِ الْخَوْلَانِيِّ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «إِذَا أَدَّيْتَ الزَّكَاةَ فَقَدْ قَضَيْتَ مَا عَلَيْكَ، وَمَنْ جَمَعَ مَالًا حَرَامًا، ثُمَّ تَصَدَّقَ بِهِ لَمْ يَكُنْ لَهُ فِيهِ أَجْرٌ، وَكَانَ إِصْرُهُ عَلَيْهِ»

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا : جب تو زکوۃ ادا کر دے تو تُو نے اپنی ذمہ داری پوری کر دی اور جو شخص مالِ حرام جمع کرے پھر اس کا صدقہ کر دے ، اس کو اس میں کوئی ثواب نہیں ملے گا ۔ بلکہ اس پر الٹا اس کا وبال ہو گا ۔

1441

Al Mustadrak #1441

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو النَّضْرِ الْفَقِيهُ، ثنا عُثْمَانُ بْنُ سَعِيدٍ الدَّارِمِيُّ، وَحَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حَمْشَاذَ الْعَدْلُ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ إِسْحَاقَ الْحَرْبِيُّ، وَهِشَامُ بْنُ عَلِيٍّ، قَالُوا: ثنا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخَذْتُ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ كِتَابًا زَعَمَ أَنَّ أَبَا بَكْرٍ، كَتَبَهُ لِأَنَسٍ وَعَلَيْهِ خَاتَمُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ حِينَ بَعَثَهُ مُصَدِّقًا وَكَتَبَهُ لَهُ، فَإِذَا فِيهِ: «هَذِهِ فَرِيضَةُ الصَّدَقَةِ الَّتِي فَرَضَهَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلَى الْمُسْلِمِينَ الَّتِي أَمَرَ اللَّهُ بِهَا نَبِيَّهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَمَنْ سُئِلَهَا مِنَ الْمُسْلِمِينَ عَلَى وَجْهِهَا فَلْيُعْطِهَا، وَمَنْ سُئِلَ فَوْقَهَا فَلَا يُعْطِهِ، فِيمَا دُونَ خَمْسٍ وَعِشْرِينَ مِنَ الْإِبِلِ الْغَنَمُ، فِي كُلِّ ذَوْدٍ شَاةٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِنْ لَمْ يَكُنْ فِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى سِتِّينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْفَحْلِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، فَإِذَا تَبَايَنَ أَسْنَانُ الْإِبِلِ فِي فَرَائِضِ الصَّدَقَاتِ فَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْجَذَعَةِ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ جَذَعَةٌ، وَعِنْدَهُ حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَأَنْ يَجْعَلَ مَعَهَا شَاتَيْنِ إِنِ اسْتَيْسَرَتَا لَهُ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ الْحِقَّةِ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ حِقَّةٌ وَعِنْدَهُ جَذَعَةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا أَوْ شَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ لَبُونٍ وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا حِقَّةٌ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَيُعْطِيهِ الْمُصَدِّقُ عِشْرِينَ دِرْهَمًا وَشَاتَيْنِ، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ لَبُونٍ، وَلَيْسَتْ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنَةُ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا تُقْبَلُ مِنْهُ، وَشَاتَيْنِ أَوْ عِشْرِينَ دِرْهَمًا، وَمَنْ بَلَغَتْ عِنْدَهُ صَدَقَةُ بِنْتِ مَخَاضٍ وَلَيْسَ عِنْدَهُ إِلَّا ابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ، فَإِنَّهُ يُقْبَلُ مِنْهُ وَلَيْسَ مَعَهُ شَيْءٌ، وَمَنْ لَمْ يَكُنْ عِنْدَهُ إِلَّا أَرْبَعٌ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي سَائِمَةِ الْغَنَمِ إِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ فَفِيهَا شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، وَلَا تُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ مِنَ الْغَنَمِ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خَشْيَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَا مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، فَإِنْ لَمْ تَبْلُغْ سَائِمَةُ الرَّجُلِ أَرْبَعِينَ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا، وَفِي الرِّقَةِ رُبْعُ الْعُشْرِ، فَإِنْ لَمْ يَكُنِ الْمَالُ إِلَّا تِسْعِينَ وَمِائَةٍ فَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ رَبُّهَا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا «إِنَّمَا تَفَرَّدَ بِإِخْرَاجِهِ الْبُخَارِيُّ مِنْ وَجْهٍ آخَرَ، عَنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ» وَحَدِيثُ حَمَّادِ بْنِ سَلَمَةَ أَصَحُّ وَأَشْفَى، وَأَتَمُّ مِنْ حَدِيثِ الْأَنْصَارِيِّ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : میں نے ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ سے ایک کتاب لی جس کے بارے میں ثمامہ کا گمان ہے کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے حضرت انس رضی اللہ عنہ کو جب مصدق ( زکوۃ وصول کرنے والا ) بنا کر بھیجا تھا تب ان کے لیے تحریر کی تھی اور اس پر رسول اللہ ﷺ کی مہر بھی موجود تھی اور اس کی تحریر یہ تھی :’’ یہ فریضۂ زکوۃ ہے ، جس کو رسول اللہ ﷺ نے مسلمانوں پر فرض کیا ہے ، جس کا اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی ﷺ کو حکم دیا ہے ، لہٰذا مسلمانوں میں سے جس شخص سے اس کے مطابق زکوۃ طلب کی جائے وہ دے اور جس سے اس سے زیادہ زکوۃ مانگی جائے وہ نہ دے ( زکوۃ کی تفصیل یہ ہے ) : پچیس سے کم اونٹوں میں بکریاں دی جائیں گی ۔ ( اس طرح کہ چار اونٹوں میں زکوۃ نہیں ہے اور پانچ سے اوپر ) ہر پانچ اونٹوں کے بدلے میں ایک بکری ۔ جب اونٹوں کی تعداد پچیس تک پہنچ جائے تو اس میں اونٹ کی ایک سالہ بچی اور یہ تعداد پینتیس تک پہنچے گی اور اس صورت میں اگر ان میں کوئی ایک سالہ بچی نہ ہو تو دو سالہ بچہ ۔ جب یہ تعداد چھتیس تک پہنچے تو اس میں اونٹ کی دو سالہ بچی 45 تک ۔ جب تعداد 46 تک پہنچے تو اس میں تین سالہ جوان اونٹنی 60 تک ۔ جب ان کی تعداد 16 تک پہنچے تو ان میں چار سالہ اونٹنی ، 75 تک ۔ جب تعداد 76 تک پہنچے تو ان میں 2 دو سالہ اونٹنیاں 90 تک ۔ جب تعداد 91 تک پہنچے تو ان میں تین سالہ جوان 2 اونٹنیاں 120 تک ۔ جب یہ تعداد 121 تک پہنچے تو اس کے بعد ہر چالیس اونٹوں کے بدلے ، اونٹنی کا یکسالہ ایک بچہ اور ہر پچاس اونٹوں میں ایک تین سالہ اونٹنی ۔ جب اونٹ کے دانت ظاہر ہو جائیں فرائضِ صدقات میں ، تو جس شخص کے پاس اونٹ اتنی تعداد میں ہوں کہ اس پر چار سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس کوئی چار سالہ اونٹنی نہ ہو تو وہ تین سالہ اونٹنی دے دے ، اس کی طرف سے یہ قبول کر لی جائے گی ۔ لیکن بہتر یہ ہے کہ اگر میسر ہو تو اس کے ہمراہ دو بکریاں یا 20 درہم بھی دے ۔ جس کے پاس اونٹ اتنی تعداد میں ہوں کہ اس پر تین سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو اور اس کے پاس تین سالہ بچہ نہ ہو بلکہ چار سالہ ہو تو اس سے یہ چار سالہ بچہ قبول کر لیا جائے گا اور وصول کنندہ اس کو دو بکریاں یا 20 درہم دے گا ۔ جس کے پاس اتنی تعداد ہو کہ اس پر اونٹنی کا دو سالہ بچہ واجب ہوتا ہو لیکن اس کے پاس دو سالہ بچہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس تین سالہ اونٹنی ہو ، تو اس سے وہ قبول کر لی جائے گی ۔ اور زکوۃ وصول کنندہ اس کو 20 درہم یا 2 بکریاں دے گا ۔ اور جس کے پاس اونٹ اتنی تعداد میں ہوں کہ اس پر دو سالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس یہ نہ ہو بلکہ اس کے پاس اونٹنی کا یکسالہ بچہ ہو تو اس سے وہ قبول کر لیا جائے گا اور اس کے ہمراہ دو بکریاں یا 20 درہم بھی وصول کیے جائیں گے ۔ جس کے ہاں اتنی تعداد ہو کہ اس پر یکسالہ اونٹنی واجب ہوتی ہو لیکن اس کے پاس دو سالہ بچہ ہو ، تو اس سے وہ لے لیا جائے گا لیکن اس کے ہمراہ اور کچھ نہیں ہو گا ۔ جس شخص کے پاس صرف چار اونٹ ہوں ، اس پر ان میں زکوۃ واجب نہیں ہے ۔ مگر یہ کہ ان کا مالک اپنی مرضی سے جو کچھ دینا چاہے ۔ خود رو گھاس وغیرہ چرنے والے بھیڑ بکریاں جب چالیس ہوں تو ان میں ایک بکری واجب ہے 120 تک ۔ جب ان کی تعداد 120 سے بڑھ جائے تو ان میں 2 بکریاں واجب ہیں 200 تک ۔ جب تعداد 200 سے زائد ہو تو تین بکریاں ہیں 300 تک ۔ رجب 300 سے زائد ہوں تو ہر 100 میں ایک بکری واجب ہے ۔ اور صدقہ میں بوڑھا اور کانا جانور قبول نہیں کیا جائے گا ۔ اور نہ ہی پورے ریوڑ کو ’’ بکرا ‘‘ قرار دیا جائے گا ۔ اور جو جانور دو شریکوں کے درمیان مشترک ہوں تو ان دونوں سے برابر برابر وصولی کی جائے گی ۔ اور اگر کسی شخص کی خودرو گھاس چرنے والی بھیڑ بکریاں چالیس سے کم ہوں تو اس پر کوئی چیز واجب نہیں ہے ، اِلّا یہ کہ ان کا مالک ازخود کچھ دینا چاہے اور چاندی کے درہموں میں عشر کا چوتھا حصہ ( یعنی اڑھائی فیصد ) ہے ۔ اور اگر مال صرف 901 درہم ہو تو اس میں کچھ واجب نہیں ہے ۔ اِلّا یہ کہ اس کا مالک ازخود کچھ دینا چاہے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ، لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کو ایک دوسری سند کے ہمراہ ثمامہ بن عبداللہ سے روایت کیا ہے اور اس روایت میں وہ منفرد ہیں ۔ جبکہ حماد بن سلمہ کی روایت زیادہ صحیح اور جامع ہے اور انصاری کی حدیث سے زیادہ کامل ہے ۔"

1442

Al Mustadrak #1442

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ سَلَمَةَ، وَإِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، قَالَا: ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ النَّضْرُ بْنُ شُمَيْلٍ، ثنا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، قَالَ: أَخَذْنَا هَذَا الْكِتَابَ مِنْ ثُمَامَةَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَنَسٍ يُحَدِّثُهُ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ «ثُمَّ ذَكَرَ الْحَدِيثَ بِنَحْوٍ مِنْ حَدِيثِ مُوسَى بْنِ إِسْمَاعِيلَ، عَنْ حَمَّادٍ بِطُولِهِ، وَلِهَذِهِ الْأَلْفَاظِ شَاهِدٌ مِنْ حَدِيثِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت حماد بن سلمہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم نے یہ کتاب ثمامہ بن عبداللہ بن انس رضی اللہ عنہ سے لی ہے جس کو وہ حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے بعد موسیٰ بن اسماعیل کی حماد سے روایت کردہ طویل حدیث جیسی حدیث ذکر کی ہے ۔ ٭٭ ان الفاظ کی ایک شاہد حدیث موجود ہے جو زہری نے سالم کے واسطے سے ان کے والد سے روایت کی ہے ۔ "

1443

Al Mustadrak #1443

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ الْمُؤَمَّلِ، ثنا الْفَضْلُ بْنُ مُحَمَّدٍ الشَّعْرَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ النُّفَيْلِيُّ، ثنا عَبَّادُ بْنُ الْعَوَّامِ، عَنْ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ سَالِمٍ، عَنْ أَبِيهِ، قَالَ: كَتَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كِتَابَ الصَّدَقَةِ فَلَمْ يُخَرِّجْهُ إِلَى عُمَّالِهِ حَتَّى قُبِضَ، فَقَرَنَهُ بِسَيْفِهِ فَعَمِلَ بِهِ أَبُو بَكْرٍ حَتَّى قُبِضَ، ثُمَّ عَمِلَ بِهِ عُمَرُ حَتَّى قُبِضَ، فَكَانَ فِيهِ: «فِي خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ شَاةٌ وَفِي عَشَرَةٍ شَاتَانِ، وَفِي خَمْسَ عَشْرَةَ ثَلَاثُ شِيَاهٍ، وَفِي عِشْرِينَ أَرْبَعُ شِيَاهٍ، وَفِي خَمْسٍ وَعِشْرِينَ بِنْتُ مَخَاضٍ إِلَى خَمْسٍ وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ إِلَى خَمْسٍ وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّةٌ إِلَى سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ إِلَى تِسْعِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بِنْتُ لَبُونٍ وَفِي الْغَنَمِ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً شَاةٌ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ فَشَاتَانِ إِلَى مِائَتَيْنِ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةٌ عَلَى الْمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى ثَلَاثِ مِائَةٍ، فَإِنْ كَانَتِ الْغَنَمُ أَكْثَرُ مِنْ ذَلِكَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ وَلَيْسَ فِيهَا شَيْءٌ حَتَّى يَبْلُغَ الْمِائَةُ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ مَخَافَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا كَانَ مِنْ خَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بِالسَّوِيَّةِ، وَلَا يُؤْخَذُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا ذَاتُ عَيْبٍ» قَالَ الزُّهْرِيُّ: «إِذَا جَاءَ الْمُصَدِّقُ قُسِمَتِ الشَّاءُ أَثْلَاثًا ثُلُثًا شِرَارًا، وَثُلُثًا خِيَارًا، وَثُلُثًا وَسَطًا، فَيَأْخُذُ الْمُصَدِّقُ مِنَ الْوَسَطِ» وَلَمْ يَذْكُرِ الزُّهْرِيُّ الْبَقَرَ، هَذَا حَدِيثٌ كَبِيرٌ فِي هَذَا الْبَابِ يَشْهَدُ بِكَثْرَةِ الْأَحْكَامِ الَّتِي فِي حَدِيثِ ثُمَامَةَ، عَنْ أَنَسٍ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا لِسُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ الْوَاسِطِيِّ فِي الْكِتَابَيْنِ، وَسُفْيَانُ بْنُ حُسَيْنٍ أَحَدُ أَئِمَّةِ الْحَدِيثِ وَثَّقَهُ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ، وَدَخَلَ خُرَاسَانَ مَعَ يَزِيدَ بْنِ الْمُهَلَّبِ، وَدَخَلَ مِنْهُ نَيْسَابُورَ سَمِعَ مِنْهُ جَمَاعَةٌ مِنْ مَشَايِخِنَا الْقُهُنْدُزِيُّونَ مِثْلُ مُبَشِّرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ رَزِينٍ وَأَخِيهِ عُمَرَ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ وَغَيْرِهِمَا، وَيُصَحِّحُهُ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ حَدِيثُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ بْنِ يَزِيدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، وَإِنْ كَانَ فِيهِ أَدْنَى إِرْسَالٍ، فَإِنَّهُ شَاهِدٌ صَحِيحٌ لِحَدِيثِ سُفْيَانَ بْنِ حُسَيْنٍ "

اردو ترجمہ · Urdu

" سالم اپنے والد کا یہ بیان نقل کرتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے صدقہ کے متعلق ایک تحریر لکھی ، آپ ﷺ نے اس کو اپنی تلوار کے ساتھ باندھ کر رکھ دیا تھا ۔ وہ ابھی آپ نے اپنے عمال کے حوالے نہیں کی تھی کہ آپ کا انتقال ہو گیا ۔ پھر حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ اس پر عمل کرتے رہے یہاں تک کہ ان کا انتقال ہو گیا ۔ اس کے بعد حضرت عمر رضی اللہ عنہ ساری زندگی اسی پر عمل کرتے رہے ۔ اس میں ( زکوۃ کا یہ طریقہ کار درج تھا ) : پانچ اونٹوں میں ایک بکری ۔ دس اونٹوں میں دو بکریاں ۔ پندرہ میں تیبن ۔ بیس میں چار بکریاں ہیں ۔ 25 اونٹوں میں اونٹنی کی ایک سالہ ایک بچی 35 تک ۔ 35 سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں اونٹنی کی دو سالہ ایک بچی 45 تک ۔ اگر اس سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں تین سالہ اونٹنی 60 تک ۔ اگر اس سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں چار سالہ اونٹنی 75 تک ۔ اگر اس سے ایک زیادہ ہو تو ان میں دو سالہ دو اونٹنیاں 90 تک ۔ اگر ان سے ایک زیادہ ہو تو ان میں تین سالہ دو اونٹنیاں 120 تک ۔ اگر اونٹ اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر پچاس میں ایک 3 سالہ اونٹنی اور ہر چالیس میں ایک 2 سالہ اونٹنی ۔ بھیڑ بکریوں میں ہر 40 میں ایک بکری 120 تک ۔ اگر ان سے ایک بھی زائد ہو جائے تو دو بکریاں 200 تک ۔ جب 200 سے زیادہ ہو تو ان میں 3 بکریاں 300 تک ۔ اگر بھیڑ بکریاں اس سے بھی زیادہ ہوں تو ہر 100 میں ایک بکری ۔ ان میں اس وقت تک کوئی چیز لازم نہیں ہے ، جب تک تعداد ( اگلے ) 100 تک نہ پہنچ جائے ۔ اور صدقہ کے خوف سے مجتمع کو متفرق نہ کیا جائے اور متفرق و مجتمع نہ کیا جائے اور جس چیز میں دو آدمی شریک ہوں تو دونوں کے ذمہ برابر زکوۃ ہے اور زکوۃ میں بوڑھا اور عیب دار جانور قبول نہ کیا جائے گا ۔ ٭٭ امام زہری کہتے ہیں : جب زکوۃ وصول کرنے والا آئے تو بکریوں کے تین حصے کیے جائیں ، ایک حصہ عیب دار بکریوں کا ایک عمدہ اور ایک میں درمیانی ۔ زکوۃ وصول کرنے والا درمیانی حصے سے وصول کرے ۔ زہری نے اپنی روایت میں گائے کا ذکر نہیں کیا ۔ یہ حدیث اس باب میں بہت بڑی حدیث ہے جس سے ان کثیر احکام پر شہادت ملتی ہے ، جو ثمامہ کی انس رضی اللہ عنہ سے روایت کردہ حدیث میں موجود ہے ۔ لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے سفیان بن حسین واسطی کی وجہ سے یہ حدیث اپنی کتابوں میں نقل نہیں کی ۔ حالانکہ سفیان بن حسین ائمہ حدیث میں سے ایک ہیں ۔ یحیی بن معین نے انہیں ثقہ قرار دیا ہے یزید بن مہلب کے ہمراہ خراسان میں آئے اور وہاں سے نیشاپور گئے ، ہمارے قہندری مشائخ میں سے ایک جماعت نے ان سے حدیث کا سماع کیا ہے ، مثلاً مبشر بن عبداللہ بن رزین اور ان کے بھائی عمر بن عبداللہ اور دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم اور اس کو عبداللہ بن مبارک کی وہ حدیث شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے معیار پر صحیح کرتی ہے جس کو انہوں نے یونس بن یزید کے واسطے سے زہری سے روایت کیا ہے ، اس میں اگرچہ تھوڑا سا ’’ ارسال ‘‘ موجود ہے لیکن یہ سفیان بن حسین کی حدیث کے لئے صحیح شاہد ہے ۔"

1444

Al Mustadrak #1444

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمَحْبُوبِيُّ، وَأَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ الْمُزَكِّي الْمَرْوَزِيَّانِ بِمَرْوَ، قَالَا: أَنْبَأَ أَبُو الْمُوَجِّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو، وَأَنْبَأَ عَبْدَانُ بْنُ عُثْمَانَ، أَنْبَأَ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، أَخْبَرَنِي يُونُسُ بْنُ يَزِيدَ، وَحَدَّثَنَا الشَّيْخُ أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، وَاللَّفْظُ لَهُ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ أَسْمَاءَ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، قَالَ: هَذِهِ نُسْخَةُ كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّتِي كَتَبَ الصَّدَقَةَ وَهِيَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ، قَالَ: ابْنُ شِهَابٍ أَقْرَأَنِيهَا سَالِمُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ فَوَعَيْتُهَا عَلَى وَجْهِهَا وَهِيَ الَّتِي انْتَسَخَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ مِنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُمَرَ وَسَالِمِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ حِينَ أُمِّرَ عَلَى الْمَدِينَةِ، فَأَمَرَ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا، وَكَتَبَ بِهَا إِلَى الْوَلِيدِ، فَأَمَرَ الْوَلِيدُ عُمَّالَهُ بِالْعَمَلِ بِهَا، ثُمَّ لَمْ يَزَلِ الْخُلَفَاءُ يَأْمُرُونَ بِذَلِكَ بَعْدَهُ، ثُمَّ أَمَرَ بِهَا هِشَامٌ فَنَسَخَهَا إِلَى كُلِّ عَامِلٍ مِنَ الْمُسْلِمِينَ، وَأَمَرَهُمْ بِالْعَمَلِ بِمَا فِيهَا، وَلَا يَتَعَدَّوْنَهَا، وَهَذَا كِتَابٌ يُفَسِّرُهُ، «لَا يُؤْخَذُ فِي شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ الصَّدَقَةُ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ ذَوْدٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عَشْرًا، فَإِذَا بَلَغَتْ عَشْرًا فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ عَشْرَةَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ عَشْرَةَ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَعِشْرِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسًا وَعِشْرِينَ أُفْرِضَتْ فَكَانَ فِيهَا فَرِيضَةٌ بِنْتُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ يُوجَدْ بِنْتُ مَخَاضٍ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَثَلَاثِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَأَرْبَعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ سِتًّا وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَسِتِّينَ فَفِيهَا جَذَعَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسًا وَسَبْعِينَ، فَإِذَا بَلَغَتْ سِتًّا وَسَبْعِينَ فَفِيهَا بِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَتِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَلَاثِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا بِنْتَا لَبُونٍ، وَحِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَلَاثِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ أَرْبَعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَبِنْتُ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَأَرْبَعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ خَمْسِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَخَمْسِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ سِتِّينَ وَمِائَةً فَفِيهَا أَرْبَعُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسِتِّينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ سَبْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ وَحِقَّةٌ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَسَبْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ ثَمَانِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ وَابْنَتَا لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَثَمَانِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ تِسْعِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ حِقَاقٍ وَثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَتِسْعِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا أَرْبَعُ حِقَاقٍ، أَوْ خَمْسُ بَنَاتِ لَبُونٍ أَيُّ السِّنَّيْنَ وَجَدْتَ أَخَذْتَ عَلَى حَدِّ مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، ثُمَّ كُلُّ شَيْءٍ مِنَ الْإِبِلِ عَلَى ذَلِكَ يُؤْخَذُ عَلَى مَا كَتَبْنَا فِي هَذَا الْكِتَابِ، وَلَا يُؤْخَذُ مِنَ الْغَنَمِ صَدَقَةٌ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعِينَ شَاةً، فَإِذَا بَلَغَتْ أَرْبَعِينَ شَاةً فَفِيهَا شَاةٌ حَتَّى تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِذَا كَانَتْ إِحْدَى وَعِشْرِينَ وَمِائَةً فَفِيهَا شَاتَانِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِذَا كَانَتْ شَاةً وَمِائَتَيْنِ فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى ثَلَاثِ مِائَةِ شَاةٍ فَلَيْسَ فِيهَا إِلَّا ثَلَاثُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَرْبَعَ مِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا أَرْبَعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ خَمْسَ مِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ خَمْسَ مِائَةٍ فَفِيهَا خَمْسُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ سِتَّ مِائَةِ شَاةِ فَفِيهَا سِتُّ شِيَاهٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ سَبْعَ مِائَةٍ فَفِيهَا سَبْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ ثَمَانِ مِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ ثَمَانِ مِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا ثَمَانُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعَ مِائَةِ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ تِسْعَ مِائَةِ شَاةٍ فَفِيهَا تِسْعُ شِيَاهٍ حَتَّى تَبْلُغَ أَلْفَ شَاةٍ، فَإِذَا بَلَغَتْ أَلْفَ شَاةٍ فَفِيهَا عَشْرُ شِيَاهٍ، ثُمَّ فِي كُلِّ مَا زَادَتْ مِائَةُ شَاةٍ شَاةٌ» وَمِمَّا يَشْهَدُ لِهَذَا الْحَدِيثِ بِالصِّحَّةِ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابن شہاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : یہ رسول اللہ ﷺ کی اس تحریر کا نسخہ ہے ، جو آپ ﷺ نے صدقہ کے متعلق لکھی تھی ۔ اور یہی تحریر حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آل کے پاس ہے ۔ ابن شہاب کہتے ہیں : سالم بن عبداللہ بن عمرو نے وہ پڑھایا تو میں نے اس کو ’’ من و عن ‘‘ یاد کر لیا ۔ یہ وہ تحریر تھی جو حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما اور سالم بن عبداللہ رضی اللہ عنہ سے اس وقت لی تھی ، جب وہ مدینہ کے گورنر مقرر ہوئے ۔ آپ نے اپنے تمام ملازمین کو اسی پر عمل کرنے کا آڈر جاری کیا اور یہی مکتوب حضرت ولید رضی اللہ عنہ کے طرف بھی بھیجا ، ولید نے بھی اپنے ملازمین کو اس پر عمل کرنے کا حکم دیا پھر ان کے بعد تمام خلفاء اسی کا حکم دیتے رہے ، پھر ہشام کے حکم پر مسلمانوں کے تمام عاملین کے پاس اس کا ایک ایک نسخہ بھیج دیا گیا اور ان کو اس پر عمل کرنے اور اس سے تجاوز نہ کرنے کا پابند کیا گیا ، اس تحریر کی تفصیل یہ ہے : پانچ سے کم اونٹوں میں زکوۃ نہ لی جائے ۔ جب اونٹوں کی تعداد 5 تک پہنچے تو ان میں ایک بکری ہے 10 تک ۔ جب تعداد 10 تک پہنچے تو ان میں 2 بکریاں 15 تک ۔ 15 اونٹ ہوں تو ان میں چار بکریاں ہیں 25 تک ۔ جب اونٹوں کی تعداد 25 تک پہنچے تو ان میں اونٹنی کی ایک سالہ بچی ہے ، اگر ایک سالہ بچی نہ ہو تو 2 سالہ بچہ دیا جائے 35 تک ۔ جب تعداد 36 تک پہنچے تو ان میں اونٹنی کی دو سالہ بچی ہے 45 تک ۔ جب تعداد 46 کو پہنچے تو ان میں تین سالہ جوان اونٹنی ہے 60 تک ۔ جب 61 ہوں تو ان میں ایک چار سالہ اونٹنی ہے 75 تک ۔ جب تعداد 76 تک پہنچے تو ان میں دو سالہ دو اونٹنیاں 90 تک ۔ جب تعداد 91 کو پہنچے تو ان میں 2 سالہ تین اونٹنیاں 291 تک ۔ جب 130 ہو جائیں تو ان میں دو سالہ 2 اونٹنیاں اور ایک اونٹنی تین سالہ 139 تک ۔ جب تعداد 140 کو پہنچے تو ان میں دو اونٹنیاں تین سالہ اور ایک دو سالہ 149 تک ۔ جب تعداد 501 تک پہنچے تو ان میں تین سالہ تین اونٹنیاں 159 تک ۔ جب تعداد 160 تک ہو جائے تو اس میں دو سالہ چار اونٹنیاں 169 تک ۔ جب 170 ہوں تو اس میں تین اونٹنیاں دو سالہ اور ایک تین سالہ 179 تک ۔ جب 180 تک تعداد جائے تو ان میں دو اونٹنیاں تین سالہ اور دو اونٹنیاں دو سالہ 189 تک ۔ جب تعداد 190 تک پہنچے تو ان میں تین اونٹنیاں تین سالہ اور تین اونٹنیاں دو سالہ 199 تک ۔ جب تعداد 200 تک پہنچے تو چار اونٹنیاں تین سالہ یا پانچ اونٹنیاں دو سالہ ۔ کسی بھی عمر کے مل جائیں ، ان کو اس کتاب کے مطابق وصول کرو پھر اونٹوں کی زکوۃ اسی طریقہ سے لی جائے جو ہم نے اس تحریر میں لکھ دیا ہے ۔ اور بکریوں کی زکوۃ اس وقت تک نہ لی جائے جب تک ان کی تعداد 40 تک پہنچ جائے ۔ جب ان کی تعداد 40 تک پہنچے تو ان میں ایک بکری ہے 120 تک ۔ جب بکریوں کی تعداد 121 تک پہنچے تو ان میں دو بکریاں ہیں 200 تک ۔ جب 200 سے زیادہ ہوں تو تین بکریاں ہیں 300 تک ۔ جب 300 سے زیادہ ہوں تو اس میں کوئی چیز لازم نہیں ہے جب تک کہ 400 تک نہ پہنچے ۔ جب 400 تک پہنچ جائے تو اس میں چار بکریاں ہیں ۔ یہاں تک کہ تعداد 500 تک پہنچ جائے ۔ جب 500 ہو جائیں تو ان میں پانچ بکریاں ہیں ۔ جب تعداد 600 تک پہنچ جائے تو 6 بکریاں ۔ جب 700 تک ہو جائے تو سات بکریاں ہیں ۔ جب 800 تک پہنچ جائے تو 8 بکریاں ۔ جب 900 ہو جائیں تو 9 بکریاں ۔ جب 1000 ہو جائیں تو 10 بکریاں ۔ پھر جتنے سو بڑھتے جائیں ہر سو کے عوض ایک بکری ۔ ٭٭ مذکورہ حدیث کی شاہد احادیث میں سے ایک درج ذیل ہے ۔"

1445

Al Mustadrak #1445

See Details

مَا حَدَّثَنَاهُ أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا ابْنُ إِسْحَاقَ، وَحَبِيبُ بْنُ أَبِي حَبِيبٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ هَرِمٍ، أَنَّ أَبَا الرِّجَالِ مُحَمَّدَ بْنَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ الْأَنْصَارِيَّ حَدَّثَهُ، أَنَّ عُمَرَ بْنَ عَبْدِ الْعَزِيزِ حِينَ اسْتُخْلِفَ أَرْسَلَ إِلَى الْمَدِينَةِ يَلْتَمِسُ عَهْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسِرَّ فِي الصَّدَقَاتِ، فَوَجَدَ عِنْدَ آلِ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ كِتَابَ عُمَرَ إِلَى عُمَّالِهِ فِي الصَّدَقَاتِ بِمِثْلِ كِتَابِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَأَمَرَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ عُمَّالَهُ عَلَى الصَّدَقَاتِ أَنْ يَأْخُذُوا بِمَا فِي ذَيْنِكَ الْكِتَابَيْنِ، فَكَانَ فِيهِمَا: «صَدَقَةُ الْإِبِلِ مَا زَادَتْ عَلَى التِّسْعِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا حِقَّتَانِ إِلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى الْعِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ بَنَاتِ لَبُونٍ حَتَّى تَبْلُغَ تِسْعًا وَعِشْرِينَ وَمِائَةٍ، فَإِذَا كَانَتِ الْإِبِلُ أَكْثَرَ مِنْ ذَلِكَ فَلَيْسَ فِيهَا مَا لَا تَبْلُغُ الْعَشَرَةَ مِنْهَا شَيْءٌ حَتَّى تَبْلُغَ الْعَشَرَةَ» وَأَمَّا كِتَابُ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، فَإِنَّ إِسْنَادَهُ مِنْ شَرْطِ هَذَا الْكِتَابِ، وَلِذَلِكَ ذَكَرْتُ السِّيَاقَةَ بِطُولِهَا "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت محمد بن عبدالرحمن انصاری رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں : جب عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ خلیفہ بنے تو انہوں نے مدینہ شریف میں زکوۃ کے متعلق نبی اکرم ﷺ کے زمانے کی دستاویز کی تلاش میں ایک شخص کو بھیجا تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی آل کے پاس ایک تحری مل گئی جو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ملازمین کی طرف صدقات کے حوالے سے لکھی تھی ۔ اور یہ تحریر بالکل اسی تحریر جیسی تھی جو نبی اکرم ﷺ نے حضرت عمرو بن حزم کی طرف لکھی تھی تو حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے اپنے زکوۃ کے ملازمین کو حکم دیا کہ وہ انہی دونوں کتابوں میں موجود احکام پر عمل کریں ، اس کے اندر یہ تفصیل تھی کہ اونٹوں کی زکوۃ یوں ہو گی : جب ان کی تعداد 90 سے زیادہ ہو تو اس میں تین سالہ دو اونٹنیاں ہیں 120 تک ۔ جب تعداد 120 سے زیادہ ہو تو اس میں دو سالہ تین اونٹنیاں ہیں 129 تک ۔ جب اس سے زیادہ ہو تو اس میں اس وقت تک زکوۃ نہیں ہے جب تک ان ( زائد ) کی تعداد دس تک نہ پہنچ جائے ۔ ٭٭ نبی اکرم ﷺ نے عمرو بن حزم کو جو مکتوب لکھا اس کی اسناد ہماری اس کتاب کے معیار کی نہیں ہے ، اس لیے میں نے گذشتہ حدیث تفصیلی ذکر کی ہے ۔"

1446

Al Mustadrak #1446

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الشَّافِعِيُّ بِبَغْدَادَ، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِسْحَاقَ الْقَاضِي، ثنا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي أُوَيْسٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ، وَمُحَمَّدٍ، ابْنَيْ أَبِي بَكْرِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِمَا، عَنْ جَدِّهِمَا، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْكِتَابُ الَّذِي كَتَبَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِعَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، «فَإِذَا بَلَغَ قِيمَةَ الذَّهَبِ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَهُوَ دَلِيلٌ عَلَى الْكِتَابِ الْمَشْرُوحِ الْمُفَسَّرِ "

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوبکر بن عمرو حزم رضی اللہ عنہ کے دو بیٹے عبدالرحمن بن ابی بکر رضی اللہ عنہ اور محمد رضی اللہ عنہ اپنے والد سے اور وہ ان کے دادا کے حوالے سے رسول اللہ ﷺ کی اس تحریر کے متعلق بیان کرتے ہیں : جو انہوں نے عمرو بن حزم کو لکھی تھی ( اس میں یہ تھا ) جب چاندی کی قیمت 200 درہم تک پہنچ جائے تو ان میں ہر چالیس درہموں میں ایک درہم ( زکوۃ ہے ) ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم کے معیار کے مطابق صحیح ہے اور یہ دلیل ہے تفصیلی مکتوب کی ۔

1447

Al Mustadrak #1447

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو نَصْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَهْلٍ الْفَقِيهُ بِبُخَارَى، ثنا صَالِحُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ حَبِيبٍ الْحَافِظُ، ثنا الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى، وَحَدَّثَنَا أَبُو زَكَرِيَّا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدٍ الْعَنْبَرِيُّ، ثنا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعِيدٍ الْعَبْدِيُّ، ثنا أَبُو صَالِحٍ الْحَكَمُ بْنُ مُوسَى الْقَنْطَرِيُّ، ثنا يَحْيَى بْنُ حَمْزَةَ، عَنْ سُلَيْمَانَ بْنِ دَاوُدَ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، "" عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَتَبَ إِلَى أَهْلِ الْيَمَنِ بِكِتَابٍ فِيهِ الْفَرَائِضُ، وَالسُّنَنُ، وَالدِّيَاتُ، وَبُعِثَ مَعَ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فَقَرَأْتُ عَلَى أَهْلِ الْيَمَنِ وَهَذِهِ نَسَخَتْهَا: بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ مِنْ مُحَمَّدٍ النَّبِيِّ إِلَى شُرَحْبِيلَ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَالْحَارِثِ بْنِ عَبْدِ كُلَالٍ وَنُعَيْمِ بْنِ كُلَالٍ قِيلَ ذِي رُعَيْنٍ، وَمَعَافِرَ، وَهَمْدَانَ، أَمَّا بَعْدَ: «فَقَدْ رَجَعَ رَسُولُكُمْ، وَأُعْطِيتُمْ مِنَ الْمَغَانِمِ خُمْسَ اللَّهِ وَمَا كَتَبَ اللَّهُ عَلَى الْمُؤْمِنِينَ مِنَ الْعُشْرِ فِي الْعَقَارَ مَا سَقَتِ السَّمَاءُ، أَوْ كَانَ سَحَّاءَ، أَوْ كَانَ بِعَلَاءَ فَفِيهِ الْعُشْرُ إِذَا بَلَغَتْ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَمَا سُقِيَ بِالرِّشَاءِ، وَالدَّالِيَةِ فَفِيهِ نِصْفُ الْعُشْرِ إِذَا بَلَغَ خَمْسَةَ أَوْسُقٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسٍ مِنَ الْإِبِلِ السَّائِمَةِ شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ أَرْبَعًا وَعِشْرِينَ، فَإِذَا زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى أَرْبَعٍ وَعِشْرِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَإِنْ لَمْ تُوجَدْ فَابْنُ لَبُونٍ ذَكَرٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسَةً وَثَلَاثِينَ، فَإِذَا زَادَتْ عَلَى خَمْسَةٍ وَثَلَاثِينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسَةً وَأَرْبَعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسَةٍ وَأَرْبَعِينَ فَفِيهَا حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْفَحْلِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ سِتِّينَ، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى سِتِّينَ وَاحِدَةً فَفِيهَا جَذَعَةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ خَمْسَةً وَسَبْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى خَمْسَةٍ وَسَبْعِينَ فَفِيهَا ابْنَةُ لَبُونٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ تِسْعِينَ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً عَلَى تِسْعِينَ فَفِيهَا حِقَّتَانِ طَرُوقَتَا الْجَمَلِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَمَا زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنَةُ لَبُونٍ، وَفِي كُلِّ خَمْسِينَ حِقَّةٌ طَرُوقَةُ الْجَمَلِ، وَفِي كُلِّ ثَلَاثِينَ بَاقُورَةً تَبِيعٌ جَذَعٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ بَاقُورَةً بَقَرَةٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ شَاةً سَائِمَةً شَاةٌ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ عِشْرِينَ وَمِائَةً، فَإِنْ زَادَتْ عَلَى عِشْرِينَ وَمِائَةٍ وَاحِدَةً فَفِيهَا شَاتَانِ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ مِائَتَيْنِ، فَإِنْ زَادَتْ وَاحِدَةً فَفِيهَا ثَلَاثُ شِيَاهٍ إِلَى أَنْ تَبْلُغَ ثَلَاثَ مِائَةٍ، فَإِنْ زَادَتْ فَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ مِائَةِ شَاةٍ شَاةٌ، وَلَا يُوجَدُ فِي الصَّدَقَةِ هَرِمَةٌ وَلَا عَجْفَاءُ، وَلَا ذَاتُ عَوَارٍ، وَلَا تَيْسُ الْغَنَمِ إِلَّا أَنْ يَشَاءَ الْمُصَدِّقُ، وَلَا يُجْمَعُ بَيْنَ مُتَفَرِّقٍ، وَلَا يُفَرَّقُ بَيْنَ مُجْتَمِعٍ خِيفَةَ الصَّدَقَةِ، وَمَا أُخِذَ مِنَ الْخَلِيطَيْنِ فَإِنَّهُمَا يَتَرَاجَعَانِ بَيْنَهُمَا بِالسَّوِيَّةِ، وَفِي كُلِّ خَمْسِ أَوَاقٍ مِنَ الْوَرِقِ خَمْسَةُ دَرَاهِمَ، وَمَا زَادَ فَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِرْهَمًا دِرْهَمٌ، وَلَيْسَ فِيمَا دُونَ خَمْسِ أَوَاقٍ شَيْءٌ، وَفِي كُلِّ أَرْبَعِينَ دِينَارًا دِينَارٌ، إِنَّ الصَّدَقَةَ لَا تَحِلُّ لِمُحَمَّدٍ، وَلَا لِأَهْلِ بَيْتِ مُحَمَّدٍ، إِنَّمَا هِيَ الزَّكَاةُ تُزَكِّي بِهَا أَنْفُسَهُمْ وَلِفُقَرَاءِ الْمُؤْمِنِينَ، وَفِي سَبِيلِ اللَّهِ، وَابْنِ السَّبِيلِ، وَلَيْسَ فِي رَقِيقٍ، وَلَا فِي مَزْرَعَةٍ، وَلَا عُمَّالِهَا شَيْءٌ إِذَا كَانَتْ تُؤَدِّي صَدَقَتَهَا مِنَ الْعُشْرِ، وَأَنَّهُ لَيْسَ فِي عَبْدٍ مُسْلِمٍ وَلَا فِي فَرَسِهِ شَيْءٌ» قَالَ: وَكَانَ فِي الْكِتَابِ: «إِنَّ أَكْبَرَ الْكَبَائِرِ عِنْدَ اللَّهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ الْإِشْرَاكُ بِاللَّهِ، وَقَتْلُ النَّفْسِ الْمُؤْمِنِ بِغَيْرِ حَقٍّ، وَالْفِرَارُ فِي سَبِيلِ اللَّهِ يَوْمَ الزَّحْفِ، وَعُقُوقُ الْوَالِدَيْنِ، وَرَمْيُ الْمُحْصَنَةِ، وَتَعَلُّمُ السَّحَرِ، وَأَكْلُ الرِّبَا، وَأَكْلُ مَالِ الْيَتِيمِ، وَأَنَّ الْعُمْرَةَ الْحَجُّ الْأَصْغَرُ، وَلَا يَمَسَّ الْقُرْآنَ إِلَّا طَاهِرٌ، وَلَا طَلَاقَ قَبْلَ إِمْلَاكٍ، وَلَا عِتْقَ حَتَّى يُبْتَاعَ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ وَشِقُّهُ بَادٍ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ عَاقِصٌ شَعْرَهُ، وَلَا يُصَلِّيَنَّ أَحَدٌ مِنْكُمْ فِي ثَوْبٍ وَاحِدٍ لَيْسَ عَلَى مَنْكِبِهِ شَيْءٌ» وَكَانَ فِي الْكِتَابِ: «أَنَّ مَنِ اعْتَبَطَ مُؤْمِنًا قَتْلًا عَنْ بَيِّنَةٍ فَلَهُ قَوَدٌ إِلَّا أَنْ يَرْضَى أَوْلِيَاءُ الْمَقْتُولِ، وَإِنَّ فِي النَّفْسِ الدِّيَةُ مِائَةٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْأَنْفِ الَّذِي جَدَعَهُ الدِّيَةُ، وَفِي اللِّسَانِ الدِّيَةُ، وَفِي الشَّفَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الْبَيْضَتَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الذَّكَرِ الدِّيَةُ، وَفِي الصُّلْبِ الدِّيَةُ، وَفِي الْعَيْنَيْنِ الدِّيَةُ، وَفِي الرِّجْلِ الْوَاحِدِ نِصْفُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمَأْمُومَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْجَائِفَةِ ثُلُثُ الدِّيَةِ، وَفِي الْمُنَقِّلَةِ خَمْسَ عَشْرَةَ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي كُلِّ إِصْبَعٍ مِنَ الْأَصَابِعِ مِنَ الْيَدِ وَالرِّجْلِ عَشْرٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي السِّنِّ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَفِي الْمُوضِحَةِ خَمْسٌ مِنَ الْإِبِلِ، وَأَنَّ الرَّجُلَ يُقْتَلُ بِالْمَرْأَةِ، وَعَلَى أَهْلِ الذَّهَبِ أَلْفُ دِينَارٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ كَبِيرٌ مُفَسَّرٌ فِي هَذَا الْبَابِ يَشْهَدُ لَهُ أَمِيرُ الْمُؤْمِنِينَ عُمَرُ بْنُ عَبْدِ الْعَزِيزِ، وَأَقَامَ الْعُلَمَاءُ فِي عَصْرِهِ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ الزُّهْرِيُّ بِالصِّحَّةِ كَمَا تَقَدَّمَ ذِكْرِي لَهُ، وَسُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الدِّمَشْقِيُّ الْخَوْلَانِيُّ مَعْرُوفٌ بِالزُّهْرِيِّ، وَإِنْ كَانَ يَحْيَى بْنُ مَعِينٍ غَمَزَهُ فَقَدْ عَدَّلَهُ غَيْرُهُ "" كَمَا أَخْبَرَنِيهِ أَبُو أَحْمَدَ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ، ثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبِي وَسُئِلَ عَنْ حَدِيثِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ فِي كِتَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الَّذِي كَتَبَهُ لَهُ فِي الصَّدَقَاتِ، فَقَالَ: سُلَيْمَانُ بْنُ دَاوُدَ الْخَوْلَانِيُّ عِنْدَنَا مِمَّنْ لَا بَأْسَ بِهِ، قَالَ أَبُو مُحَمَّدِ بْنُ أَبِي حَاتِمٍ: وَسَمِعْتُ أَبَا زُرْعَةَ يَقُولُ ذَلِكَ قَالَ الْحَاكِمُ: «قَدْ بَذَلْتُ مَا أَدَّى إِلَيْهِ الِاجْتِهَادُ فِي إِخْرَاجِ هَذِهِ الْأَحَادِيثِ الْمُفَسَّرَةِ الْمُلَخَّصَةِ فِي الزَّكَاةِ، وَلَا يَسْتَغْنِي هَذَا الْكِتَابُ عَنْ شَرْحِهَا، وَاسْتَدْلَلْتُ عَلَى صِحَّتِهَا بِالْأَسَانِيدِ الصَّحِيحَةِ عَنِ الْخُلَفَاءِ وَالتَّابِعِينَ بَقَبُولِهَا وَاسْتِعْمَالِهَا بِمَا فِيهِ غُنْيَةٌ لِمَنْ أَنَاطَهَا، وَقَدْ كَانَ إِمَامُنَا شُعْبَةُ يَقُولُ فِي حَدِيثِ عُقْبَةَ بْنِ عَامِرٍ الْجُهَنِيِّ فِي الْوُضُوءِ لَأَنْ يَصِحَّ لِي مِثْلُ هَذَا عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ أَحَبَّ إِلَيَّ مِنْ نَفْسِي وَمَالِي وَأَهْلِي، وَذَاكَ حَدِيثٌ فِي صَلَاةِ التَّطَوُّعِ فَكَيْفَ بِهَذِهِ السُّنَنِ الَّتِي هِيَ قَوَاعِدُ الْإِسْلَامِ، وَاللَّهُ الْمُوَفَّقِ وَهُوَ حَسْبِي وَنِعْمَ الْوَكِيلُ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوبکر بن محمد بن عمرو بن حزم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں : نبی اکرم ﷺ نے اہل یمن کی طرف ایک مکتوب لکھا جس میں فرائض سنتیں اور دیت کے مسائل تھے ۔ یہ مکتوب آپ ﷺ نے حضرت عمرو بن حزم کے ہاتھ بھیجا ( عمرو کہتے ہیں ) میں نے یہ مکتوب اہل یمن کو جا کر سنایا ، اس کا مضمون یہ تھا محمد نبی ﷺ کی جانب سے شرحبیل بن عبدکلال اور حارث بن عبدکلال اور نعیم بن کلال اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ ذی رعین ، معافر اور ہمدان کی طرف ( اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے ) بعد تمہارا سفیر لوٹ کر آ گیا ہے اور تم نے مالِ غنیمت میں سے اللہ کا پانچواں حصہ دیا ہے اور اللہ تعالیٰ کی جانب سے مومنوں پر ان زمینوں میں جو بارشوں سے سیراب ہوتی ہیں یا جو میدانی ہیں یا جو بلندی والی ہیں ، ان میں عشر فرض کیا ہے ۔ چنانچہ جب ان کی پیداوار پانچ وسق تک پہنچ جائے تو اس کا دسواں حصہ لازم ہے ۔ جس زمین کو ڈولوں یا رہٹ سے سینچا جائے ، ان میں اس سے آدھا ۔ خودرو گھاس چرنے والے اونٹوں میں ہر پانچ میں ایک بکری ہے یہاں تک کہ 24 تک پہنچ جائیں ۔ جب 24 سے ایک بھی زیادہ ہو گئی تو ان میں اونٹنی کی ایک سالہ بچی ہے ، اگر یہ موجود نہ ہو تو پھر اونٹنی کا دو سالہ بچہ 35 تک ۔ 35 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سالہ اونٹنی 54 تک ۔ جب 45 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں تین سالہ جوان اونٹنی 60 تک ۔ جب 60 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں چار سالہ اونٹنی 75 تک ۔ جب 75 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو اس میں دو سالہ دو اونٹنیاں 90 تک ۔ جب 90 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین سالہ دو اونٹنیاں 120 تک ۔ جب 120 سے زیادہ تعداد ہو تو ہر چالیس میں دو سالہ ایک اونٹنی ۔ اور ہر 50 میں 3 سالہ ایک اونٹنی ۔ ہر 30 گائیوں میں ایک بچھڑا ہے ۔ ہر 40 گائیوں میں ایک گائے ہے ۔ ہر 40 بکریوں میں ایک بکری ہے یہاں تک کہ ان کی تعداد 120 ہو جائے ۔ جب 120 سے ایک بھی زیادہ ہو تو ان میں 2 بکریاں ہیں 200 تک ۔ جب 200 سے ایک بھی زیادہ ہو جائے تو تین بکریاں ہیں 300 تک ۔ اس سے بھی اگر زیادہ ہوں تو ہر 100 میں ایک بکری ۔ اور صدقہ میں بوڑھا ، لاغر اور کانا جانور نہ دیا جائے ۔ اور پورے ریوڑ کو بکرے قرار نہ دیا جائے اِلّا یہ کہ دینے والا خود چاہے ۔ اور صدقہ کے خوف سے متفرق کو مجتمع اور مجتمع کو متفرق نہ کیا جائے اور دو شریکوں سے جو کچھ لیا جائے گا وہ دونوں آپس میں برابری کے ساتھ رجوع کر لیں گے ۔ اور ہر 5 اوقیہ چاندی میں پانچ درہم ہیں اور اس سے زیادہ ہو تو ہر چالیس درہموں میں ایک درہم ہے ۔ پانچ اوقیہ سے کم میں زکوۃ نہیں ہے ۔ ہر چالیس دیناروں میں ایک دینار ہے ۔ بے شک ’’ صدقہ ‘‘ محمد اور محمد کے اہل بیت کے لیے حلال نہیں ہے ۔ یہ تو زکوۃ ہے جس کے ذریعے تم اپنے آپ کو پاک کرتے ہو ، یہ مومن فقراء کے لیے ہے اور مجاہدوں کے لیے ہے اور مسافروں کے لیے ہے ۔ اور غلاموں میں زکوۃ نہیں ہے اور کھیتی میں اور کھیت میں کام کرنے والوں میں زکوۃ نہیں ہے جبکہ وہ اس کا عُشر ادا کرتے ہوں نیز مسلمان غلام میں اور نہ ہی اس کے گھوڑے میں زکوۃ ہے ، اس تحریر میں یہ بھی تھا : اللہ کے نزدیک قیامت کے دن سب سے بڑا گناہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرانا ہے اور مومن کو ناحق قتل کرنا ہے اور جہاد سے بھاگنا ہے ، ماں باپ کی نافرمانی کرنا ، پاک دامنہ خاتون پر زنا کی تہمت لگانا ، جادو سیکھنا ، سود کھانا اور یتیم کا مال کھانا ہے ۔ اور بے شک عمرہ چھوٹا حج ہے اور قرآن کو بغیر طہارت کے ہاتھ نہ لگائیں اور نکاح سے پہلے طلاق نہیں دی جا سکتی اور خریدنے سے پہلے آزاد نہیں کیا جا سکتا ۔ اور کوئی شخص ایک کپڑے میں اس طرح نماز نہ پڑھے کہ اس کا پہلو ننگا ہو اور کوئی شخص اپنے بالوں کو گوندھے ہوئے نماز نہ پڑھے اور کوئی شخص ایک کپڑے میں یوں نماز نہ پڑھے کہ اس کے کندھے پر کچھ نہ ہو ۔ اس تحریر میں یہ بھی تھا کہ : جس شخص کے لیے کسی مومن کا قتل گواہی سے ثابت ہو جائے تو اس کے لیے قصاص ہو گا ، سوائے اس کے کہ مقتول کے ورثاء راضی ہوں ۔ اور یہ بھی تھا کہ : جان کی دیت ایک سو اونٹ ہے اور ناک کاٹنے کی بھی دیت ہے اور زبان کی بھی دیت ہے اور ہونٹوں میں دیت ہے اور دونوں پستانوں میں دیت ہے اور ذکر ( آلہ تناسل ) میں دیت ہے اور پشت میں دیت اور دونوں آنکھوں میں دیت ہے اور ایک پاؤں کی آدھی دیت ہے ۔ اور سر کی چوٹ میں دیت کا ایک تہائی اور پیٹ کے اندر تک گہرے زخم میں دیت کا ثلث ۔ اور جس زخم میں ہڈی ٹوٹ جائے اس میں بھی دیت کا ایک تہائی ہے ۔ اور ہاتھ اور پاؤں کی انگلیوں میں سے ہر انگلی کی 10 اونٹ دیت ہے اور دانت کی 5 اونٹ اور جس زخم سے ہڈی ظاہر ہو جائے ، اس میں 5 اونٹ ہیں ۔ اور عورت کے بدلے مرد کو قتل کیا جا سکتا ہے اور سونا رکھنے والوں پر ایک ہزار دینار ہیں ۔ ٭٭ اس باب میں یہ حدیث کبیر ہے ، مفسر ہے ، اس کے لیے امیرالمومنین حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ نے گواہی دی ہے ۔ اور ان کے معاصر علماء کرام ( مثلاً ) محمد بن مسلم الزہری نے اس کی صحت کو ثابت رکھا ہے ۔ جیسا کہ پہلے بھی اس کا ذکر گزرا ہے ۔ اور سلیمان بن داؤد الدمشقی الخولانی زہری کے ( لقب کے ) ساتھ معروف ہیں ۔ اگر یحیی بن معین نے ان کو ضعیف قرار دیا ہے ( تو کوئی بات نہیں ) کیونکہ ان کے علاوہ دیگر محدثین رحمۃ اللہ علیہم نے ان کو عادل قرار دیا ہے جیسا کہ مجھے ابواحمد حسین بن علی نے عبدالرحمن بن ابی حاتم کا یہ بیان سنایا ہے کہ میں نے اپنے والد کو سنا ہے جبکہ ان سے عمرو بن حزم کی اس حدیث کے متعلق پوچھا گیا ، جس میں رسول اللہ ﷺ کے ان کی طرف لکھے ہوئے صدقات کے متعلق خط کا ذکر تھا تو انہوں نے سلیمان بن داؤد خولانی کے متعلق کہا : ہمارے نزدیک ان کی روایت نقل کرنے میں کوئی حرج نہیں ہے اور ابومحمد بن ابوحاتم کہتے ہیں : میں نے ابوذرعہ کو بھی یہی کہتے سنا ہے ۔ امام حاکم کہتے ہیں : زکوۃ کے موضوع پر یہ تفصیلی احادیث لکھنے کے حوالے سے میں نے اپنی ہر ممکن کوشش کی ہے اور یہ کتاب ان کی شرح سے بے نیاز نہیں ہے اور میں نے اس کی صحت پر ان سندوں کے ساتھ استدلال کیا ہے ۔ جو خلفاء اور تابعین سے مروی ہیں کہ انہوں نے ان کو قبول بھی کیا ہے ۔ اور ان کو استعمال کیا ہے باوجودیکہ اس سلسلہ میں اس شخص کو ضرورت نہیں جس نے اسے معلق رکھا ہے ۔ اور اس سے پہلے وضو کے باب میں عقبہ بن عامر جہنی کی حدیث کے متعلق شعبہ کا یہ کہنا گزر چکا ہے کہ میرے لیے اس طرح کی حدیث کا رسول اللہ ﷺ کے حوالے سے صحیح ثابت ہو جانا میرے لیے میرے مال ، میری جان اور تمام اہل و عیال سے بہتر ہے ۔ حالانکہ وہ حدیث نفلی نماز کے متعلق تھی تو اس حدیث کی کیا شان ہو گی جو کہ اسلام کے بنیادی اصولوں میں سے ہے اور اللہ ہی توفیق دینے والا ہے ۔ اور وہی کافی ہے اور بہت ہی بہتر کارساز ہے ۔"

1448

Al Mustadrak #1448

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ الْفَقِيهُ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ مُكْرَمٍ، ثنا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَلْمَانَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عِيسَى، ثنا أَبُو مَعْمَرٍ، ثنا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ سَعِيدٍ، ثنا بَهْزُ بْنُ حَكِيمٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ جَدِّهِ، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: «فِي كُلِّ إِبِلٍ سَائِمَةٍ فِي كُلِّ أَرْبَعِينَ ابْنُ لَبُونٍ لَا يُفَرَّقُ إِبِلٌ عَنْ حِسَابِهَا، مَنْ أَعْطَاهَا مُؤْتَجِرًا فَلَهُ أَجْرُهَا، وَمَنْ مَنَعَهَا فَإِنَّا آخِذُوهَا، وَشَطْرَ إِبِلِهِ عَزْمَةً مِنْ عَزَمَاتِ رَبِّنَا، لَا تَحِلُّ لِآلِ مُحَمَّدٍ مِنْهَا شَيْءٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ عَلَى مَا قَدَّمْنَا ذِكْرَهُ فِي تَصْحِيحِ هَذِهِ الصَّحِيفَةِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت بہز بن حکیم رضی اللہ عنہ اپنے والد سے وہ ان کے دادا سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے سنا ہے خودرو گھاس چرنے والے ہر چالیس اونٹوں میں اونٹنی کا ایک دو سالہ بچہ ہے ۔ کوئی اونٹ ان کے حساب سے الگ نہ کیا جائے ۔ جو شخص یہ صدقہ دے گا ، اس کے لیے اجر ہے اور جو شخص اس کو روکے گا تو ہم اس سے ( زبردستی ) وصول کریں گے اور اس کے اونٹوں کا کچھ حصہ جو حقوق اللہ میں سے ایک حق ہے ، ان میں سے کچھ بھی آل محمد ﷺ کے لیے حلال نہیں ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ، جیسا کہ ہم نے اس صحیفہ کی تصحیح میں ذکر کر دیا ہے ۔"

1449

Al Mustadrak #1449

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ عَبْدِ الْجَبَّارِ، ثنا أَبُو مُعَاوِيَةَ، ثنا الْأَعْمَشُ، عَنْ أَبِي وَائِلٍ، عَنْ مَسْرُوقٍ، عَنْ مُعَاذِ بْنِ جَبَلٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ إِلَى الْيَمَنِ وَأَمَرَهُ أَنْ يَأْخُذَ مِنَ الْبَقَرِ مِنْ كُلِّ ثَلَاثِينَ بَقَرَةً تَبِيعًا، وَمِنْ كُلِّ أَرْبَعِينَ بَقَرَةً مُسِنَّةً، وَمِنْ كُلِّ حَالِمٍ دِينَارًا، أَوْ عِدْلَهُ ثَوْبَ مَعَافِرَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ان کو یمن کا عامل بنا کر بھیجا اور ان کو حکم دیا کہ گائیوں کی زکوۃ ہر 30 میں سے ایک سالہ بچھڑا ہے اور ہر 40 گائیوں میں ایک 2 سالہ بچھڑا ہے اور ہر جوان سے ایک دینار یا اس کے برابر یمنی کپڑے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔"

1450

Al Mustadrak #1450

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ أَحْمَدُ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ مِلْحَانَ، ثنا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ، ثنا اللَّيْثُ، حَدَّثَنِي هِشَامُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ عَبَّاسِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْبَدِ بْنِ عَبَّاسٍ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ بْنِ قَتَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، عَنْ قَيْسِ بْنِ سَعْدِ بْنِ عُبَادَةَ الْأَنْصَارِيِّ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَهُ سَاعِيًا، فَقَالَ أَبُوهُ: لَا تَخْرُجْ حَتَّىْ تُحْدِثَ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَهْدًا، فَلَمَّا أَرَادَ الْخُرُوجَ أَتَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «يَا قَيْسُ لَا تَأْتِي يَوْمَ الْقِيَامَةِ عَلَى رَقَبَتِكَ بَعِيرٌ لَهُ رُغَاءٌ، أَوْ بَقَرَةٌ لَهَا خُوَارٌ، أَوْ شَاةٌ لَهَا يُعَارٌ، وَلَا تَكُنْ كَأَبِي رِغَالٍ» فَقَالَ: سَعْدٌ وَمَا أَبُو رِغَالٍ؟ قَالَ: " مُصَدِّقٌ بَعَثَهُ صَالِحٌ فَوَجَدَ رَجُلًا بِالطَّائِفِ فِي غُنَيْمَةٍ قَرِيبَةٍ مِنَ الْمِائَةِ شِصَاصٍ إِلَّا شَاةً وَاحِدَةً، وَابْنَ صَغْبَرٍ لَا أُمَّ لَهُ، فَلَبَنُ تِلْكَ الشَّاةِ عَيْشُهُ، فَقَالَ صَاحِبُ الْغَنَمِ: مَنْ أَنْتَ؟ فَقَالَ: أَنَا رَسُولُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَحَّبَ وَقَالَ: هَذِهِ غَنَمِي فَخُذْ بِمَا أَحْبَبْتَ فَنَظَرَ إِلَى الشَّاةِ اللَّبُونِ، فَقَالَ: هَذِهِ. فَقَالَ الرَّجُلُ: هَذَا الْغُلَامُ كَمَا تَرَى لَيْسَ لَهُ طَعَامٌ، وَلَا شَرَابٌ غَيْرُهَا، فَقَالَ: إِنْ كُنْتَ تُحِبُّ اللَّبَنَ فَأَنَا أُحِبُّهُ، فَقَالَ: خُذْ شَاتَيْنِ مَكَانَهَا فَأَبَى، فَلَمْ يَزَلْ يَزِيدُهُ، وَيَبْذُلُ حَتَّى بَذَلَ لَهُ خَمْسَ شِيَاهٍ شِصَاصٍ مَكَانَهَا فَأَبَى عَلَيْهِ، فَلَمَّا رَأَى ذَلِكَ عَمَدَ إِلَى قَوْسِهِ فَرَمَاهُ فَقَتَلَهُ، فَقَالَ: مَا يَنْبَغِي لِأَحَدٍ أَنْ يَأْتِيَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِهَذَا الْخَبَرِ أَحَدٌ قَبْلِي فَأَتَى صَاحِبُ الْغَنَمِ صَالِحًا النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَأَخْبَرَهُ، فَقَالَ صَالِحٌ: اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ، اللَّهُمَّ الْعَنْ أَبَا رِغَالٍ ". فَقَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ اعْفُ قَيْسًا مِنَ السِّقَايَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَلَهُ شَاهِدٌ مُخْتَصَرٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ»

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت قیس بن سعد بن عبادہ انصاری رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کو زکوۃ اور صدقات وغیرہ جمع کرنے کی ذمہ داری دے کر بھیجا تو ان کے والد نے کہا : جاتے ہوئے تم رسول اللہ ﷺ کی زیارت کر کے روانہ ہونا ، انہوں نے نکلنے کا ارادہ کیا تو رسول اللہ ﷺ کے پاس آئے ۔ رسول اللہ ﷺ نے ان کو فرمایا : اے قیس ! قیامت کے دن تم اس حال میں نہ آنا کہ تیری گردن پر اونٹ سوار ہوں اور وہ آوازیں نکال رہے ہوں یا تمہاری گردن پر گائے سوار ہو اور وہ آوازیں نکال رہی ہو یا کوئی بکری سوار ہو جو منمنا رہی ہو اور تم ابورغال کی طرح نہ ہو جانا ۔ سعد نے پوچھا : ابورغال کون ہے ؟ حضور علیہ السلام نے فرمایا : ایک زکوۃ وصول کرنے والا تھا جس کو اللہ کے رسول ﷺ نے زکوۃ وغیرہ جمع کرنے کے لیے بھیجا تھا ، اس نے طائف میں ایک شخص کو پایا جس کے پاس 100 کے قریب خشک دودھ والی بکریاں تھیں ۔ صرف ایک بکری دودھ والی تھی اور اس ( چرواہے ) کا ایک چھوٹا بچہ بھی تھا ، جس کی ماں نہیں تھی اور اس بچے کا کھانا پینا صرف بکری کا دودھ تھا ، بکریوں کے مالک نے پوچھا : تم کون ہو ؟ اس نے جواب دیا : میں اللہ کے رسول حضرت صالح علیہ السلام کا سفیر ہوں ۔ اس نے خوش آمدید کہا : اور عرض کی : یہ میرا ریوڑ ہے ، اس میں سے جو جانور آپ کو پسند ہے ، وہ لے لیں ۔ اس نے دودھ والی بکری کو پسند کر لیا ۔ وہ شخص بولا : یہ ایک بچہ ہے جیسا کہ آپ دیکھ بھی رہے ہیں کہ اس بکری کے دودھ کے سوا اس کی کوئی خوراک نہیں ہے ۔ اس نے کہا : اگر تمہیں دودھ پسند ہے تو مجھے بھی پسند ہے ، اس نے جواب دیا : آپ اس بکری کی بجائے مجھ سے دو بکریاں لے لیں ، وہ مسلسل انکار کرتا رہا اور یہ اس کے لیے بکریاں بڑھاتا رہا حتیٰ کہ اس نے اس بکری کے عوض پانچ بکریاں دینے کی پیشکش کر دی ( وہ اس پر بھی راضی نہ ہوا ) ، جب اس ( ریوڑ کے مالک ) نے اس کی ضد دیکھی تو اپنے ترکش سے تیر نکالا اور اس کو مار کر قتل کر دیا ۔ پھر اس نے سوچا کہ کوئی شخص یہ خبر مجھ سے پہلے اللہ کے رسول حضرت صالح علیہ السلام تک نہ پہنچائے اس لیے وہ بکریوں کا مالک اللہ کے نبی صالح علیہ السلام کے پاس آیا اور یہ خبر سنائی تو حضرت صالح علیہ السلام نے یوں دعا مانگی ’’ اے اللہ ! ابورغال پر لعنت فرما ، اے اللہ ! ابورغال پر لعنت فرما ‘‘ اس پر سعد بن عبادہ نے عرض کی : یا رسول اللہ ! قیس کو معاف فرما دیجیے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ مذکورہ حدیث کی ایک مختصر شاہد حدیث ہے جو کہ امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ اور امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ کے معیار پر صحیح ہے ۔

1451

Al Mustadrak #1451

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو بَكْرٍ مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ سُلَيْمَانَ، ثنا عَلِيُّ بْنُ الْحُسَيْنِ بْنِ الْجُنَيْدِ، ثنا سَعِيدُ بْنُ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الْأُمَوِيُّ، ثنا أَبِي، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بَعَثَ سَعْدَ بْنَ عُبَادَةَ مُصَدِّقًا، فَقَالَ: «يَا سَعْدُ إِيَّاكَ أَنْ تَجِيءَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ بِبَعِيرٍ تَحْمِلُهُ لَهُ رُغَاءٌ» قَالَ: لَا أَجِدُهُ، وَلَا أَجِيءُ بِهِ فَعَفَاهُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے حضرت سعد بن عبادہ کو زکوۃ اور صدقات وصول کرنے والا بنا کر بھیجا تو فرمایا : اے سعد ! قیامت کے دن ایسی حالت میں آنے سے بچنا کہ تم اونٹ اٹھائے ہوئے ہو اور وہ چیخ رہا ہو ۔ انہوں نے جواب دیا : نہ میرے پاس اونٹ ہیں نہ میں اس حالت میں آؤں گا ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے ان کو عافیت کی دعا دی ۔

1452

Al Mustadrak #1452

See Details

أَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ يَحْيَى بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ عُمَارَةَ بْنِ عَمْرِو بْنِ حَزْمٍ، عَنْ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُصَدِّقًا، فَمَرَرْتُ بِرَجُلٍ فَجَمَعَ لِي مَالَهُ لَمْ أَجِدْ عَلَيْهِ فِيهَا إِلَّا ابْنَةُ مَخَاضٍ، فَقُلْتُ لَهُ: أَدِّ ابْنَةَ مَخَاضٍ فَإِنَّهَا صَدَقَتُكَ، فَقَالَ: ذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرٌ، وَلَكِنْ هَذِهِ نَاقَةٌ عَظِيمَةٌ سَمِينَةٌ فَخُذْهَا فَقُلْتُ لَهُ: مَا أَنَا بِآخِذٍ مَا لَمْ أُؤْمَرْ بِهِ، وَهَذَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مِنْكَ قَرِيبٌ، فَإِنْ أَحْبَبْتَ أَنْ تَأْتِيَهُ فَتَعْرَضَ عَلَيْهِ مَا عَرَضْتَ عَلَيَّ فَافْعَلْ، فَإِنْ قَبْلَهُ مِنْكَ قَبِلْتُهُ، وَإِنْ رَدَّهُ عَلَيْكَ رَدَدْتُهُ، قَالَ: فَإِنِّي فَاعِلٌ، قَالَ: فَخَرَجَ مَعِي، وَخَرَجَ بِالنَّاقَةِ الَّتِي عَرَضَ عَلَيَّ حَتَّى قَدِمْنَا عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: يَا نَبِيَّ اللَّهِ، أَتَانِي رَسُولٌ لَكَ لِيَأْخُذَ مِنْ صَدَقَةِ مَالِي، وَايْمُ اللَّهِ مَا قَامَ فِي مَالِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَلَا رَسُولُهُ قَطُّ قَبْلَهُ فَجَمَعْتُ لَهُ مَالِي، فَزَعَمَ أَنَّ مَا عَلَيَّ فِيهِ إِلَّا ابْنَةُ مَخَاضٍ، وَذَاكَ مَا لَا لَبَنَ فِيهِ وَلَا ظَهْرٌ، وَقَدْ عَرَضْتُ عَلَيْهِ نَاقَةً عَظِيمَةً لِيَأْخُذَهَا فَأَبَى عَلَيَّ، وَهَا هِيَ ذِهْ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا يَا رَسُولَ اللَّهِ خُذْهَا، فَقَالَ لَهُ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «ذَلِكَ الَّذِي عَلَيْكَ، فَإِنْ تَطَوَّعْتَ بِخَيْرٍ أَجَرَكَ اللَّهُ فِيهِ وَقَبِلْنَاهُ مِنْكَ» . قَالَ: فَهَا هِيَ هَذِهِ يَا رَسُولَ اللَّهِ قَدْ جِئْتُكَ بِهَا فَخُذْهَا، قَالَ: فَأَمَرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِقَبْضِهَا، وَدَعَا فِي مَالِهِ بِالْبَرَكَةِ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : مجھے رسول اللہ ﷺ نے مصدق ( زکوۃ و صدقات وصول کرنے والا ) بنا کر بھیجا ۔ میں ایک شخص کے پاس گیا ، اس نے سارا مال میرے سامنے جمع کر دیا ۔ اُس کے اس تمام مال پر ایک سال اونٹنی ’’ زکوۃ ‘‘ بنتی تھی ۔ میں نے اس سے کہا : ایک یکسالہ اونٹنی ادا کر دو کیونکہ تیری زکوۃ یہی بنتی ہے ۔ اس نے جواباً کہا : اس میں نہ دودھ ہے نہ گوشت جبکہ یہ بڑی اور موٹی تازی اونٹنی ہے ، آپ یہ لے لیں ۔ ( حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے ) کہا : مجھے جس کا حکم نہیں دیا گیا ہے ، وہ میں نہیں لے سکتا ۔ البتہ رسول اکرم ﷺ آپ کے قریب ہی ہیں ، اگر آپ مناسب سمجھیں تو اُن کی بارگاہ میں حاضر ہو کر یہی صورتِ حال بیان کر دیں ، اگر رسول اکرم ﷺ تم سے یہ اونٹنی قبول کر لیں تو مجھے بھی منظور ہے ، لیکن اگر حضور علیہ السلام قبول نہ کریں تو پھر میں بھی اس بات پر راضی نہیں ہوں ۔ اس نے کہا ( ٹھیک ہے ) میں ایسے کرتا ہوں ۔ ( حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ ) فرماتے ہیں : وہ میرے ہمراہ چل دیا اور ساتھ ہی وہ اونٹنی بھی لے لی جو اس نے مجھے پیش کی تھی ۔ ہم ( چلتے چلتے ) رسول اکرم ﷺ کی خدمت میں پہنچ گئے ۔ اس نے عرض کی : یا رسول اللہ ! میرے پاس آپ کا یہ سفیر میرے مال کی زکوۃ وصول کرنے آیا تھا ۔ خدا کی قسم ! اس سے قبل نہ رسول اللہ ﷺ اور نہ ہی ان کا کوئی سفیر میرے مال میں تشریف لائے ہیں ۔ میں نے سارا مال اس کے سامنے جمع کر دیا اور یہ سمجھتے ہیں کہ میرے اس تمام مال میں میرے ذمہ صرف یکسالہ اونٹنی ’’ زکوۃ ‘‘ ہے ۔ اور اس میں نہ دودھ ہے نہ گوشت ۔ جبکہ میں نے ان کو بہترین اونٹنی پیش کی ہے لیکن یہ انکار کر رہے ہیں ، وہ اونٹنی یہ ہے ۔ یا رسول اللہ ﷺ ! میں اس کو اپنے ساتھ ہی آپ کی خدمت میں لے آیا ہوں ۔ یا رسول اللہ ﷺ ! آپ اس کو قبول فرما لیں ۔ رسول اللہ ﷺ نے اس سے کہا : تیرے ذمہ واجب تو وہی ( یکسالہ اونٹنی ) تھی لیکن اگر تم اپنی خوشی سے اس سے اچھی چیز پیش کر رہے ہو تو اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا اجر دے گا ۔ اور ہم نے تم سے یہ ( اونٹنی قبول کی ۔ اس نے کہا : لیجیے ! یہ ہے وہ اونٹنی ۔ تو رسول اللہ ﷺ نے وہ اونٹنی وصول کر لینے کی اجازت عطا فرمائی اور اس کے مال میں برکت کی دعا فرمائی ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔"

1453

Al Mustadrak #1453

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ الْحَسَنُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زِيَادٍ، ثنا سَعِيدُ بْنُ سُلَيْمَانَ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ مُسْلِمٍ، ثنا عَمْرُو بْنُ دِينَارٍ، قَالَ: سَمِعْتُ جَابِرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «لَا صَدَقَةَ فِي الرِّقَةِ حَتَّى تَبْلُغَ مِائَتَيْ دِرْهَمٍ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَشَاهِدُهُ بِالشَّرْحِ بِحَدِيثِ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے ارشاد فرمایا :’’ چاندی کے بنے ہوئے درہموں میں اس وقت تک زکوۃ نہیں ہے جب تک ان کی قیمت 200 درہم تک نہ پہنچ جائے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ مذکورہ حدیث کی تفصیلی حدیث شاہد ہے جو کہ عاصم بن ضمرہ سے مروی ہے ( جیسا کہ درج ذیل ہے ) ۔"

1454

Al Mustadrak #1454

See Details

أَخْبَرْنَاهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ الْحَافِظُ، ثنا يَحْيَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ ضَمْرَةَ، عَنْ عَلِيٍّ، رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: «لَيْسَ فِي تِسْعِينَ وَمِائَةٍ شَيْءٌ، فَإِذَا بَلَغَتْ مِائَتَيْنِ فَفِيهَا خَمْسَةُ دَرَاهِمَ»

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت عاصم بن ضمرہ رضی اللہ عنہ حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالے سے نبی اکرم ﷺ کا یہ فرمان نقل کرتے ہیں : 199 درہموں میں کوئی زکوۃ نہیں ہے اور جب 200 ہو جائیں تو ان میں 5 درہم زکوۃ ہے ۔

1455

Al Mustadrak #1455

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو عَبْدِ اللَّهِ مُحَمَّدُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الصَّفَّارُ، ثنا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ الضَّبِّيُّ، وَأَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ تَمِيمٍ الْقَنْطَرِيُّ، بِبَغْدَادَ ثنا أَبُو قِلَابَةَ، قَالَا: ثنا أَبُو عَاصِمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ كُلَيْبٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ وَائِلِ بْنِ حُجْرٍ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ بَعَثَ إِلَى رَجُلٍ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «جَاءَهُ مُصَدِّقُ اللَّهِ، وَمُصَدِّقُ رَسُولِهِ، فَبَعَثَ بِفَصِيلٍ مَخْلُولٍ، اللَّهُمَّ لَا تُبَارِكْ لَهُ فِيهِ، وَلَا فِي إِبِلِهِ» فَبَلَغَ ذَلِكَ الرَّجُلَ فَبَعَثَ إِلَيْهِ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا وَجَمَالِهَا، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «بَلَغَ فُلَانًا مَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَبَعَثَ بِنَاقَةٍ مِنْ حُسْنِهَا، اللَّهُمَّ بَارِكْ فِيهِ وَفِي إِبِلِهِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت وائل بن حجر رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ نبی اکرم ﷺ نے ان کو ایک آدمی کے پاس ( زکوۃ وصول کرنے کے لئے ) بھیجا تو اس نے رسول اللہ ﷺ کی طرف اونٹنی کا ایک دبلا سا بچہ ( جس نے ابھی دودھ پینا چھوڑا تھا ) بھیجا ۔ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : اس کے پاس اللہ کا مصدق اور اللہ کے رسول کا مصدق آیا اور اس نے اونٹنی کا یہ دبلا سا بچہ بھیجا ہے ۔ یا اللہ ! اس میں برکت نہ دے اور نہ ہی اس کے اونٹوں میں برکت دے ۔ اس بات کی خبر اس شخص کو بھی ہو گئی تو اس نے ایک اونٹنی انتہائی تندرست اور خوبصورت آپ کی طرف بھیج دی تو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : فلاں شخص تک وہ بات پہنچ گئی جو اللہ کے رسول نے کہی : تو اس نے انتہائی تندرست اور خوبصورت اونٹنی بھیج دی ہے ۔ یا اللہ ! اس میں اور اس کے اونٹوں میں برکت عطا فرما ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔"

1456

Al Mustadrak #1456

See Details

أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ مُوسَى الصَّيْدَلَانِيُّ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي طَالِبٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ الْمُثَنَّى، ثنا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ، ثنا سُفْيَانُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ حَارِثَةَ بْنِ مُضَرِّبٍ، قَالَ: جَاءَ نَاسٌ مِنْ أَهْلِ الشَّامِ إِلَى عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ فَقَالُوا: إِنَّا قَدْ أَصَبْنَا أَمْوَالًا: خَيْلًا وَرَقِيقًا نُحِبُّ أَنْ يَكُونَ لَنَا فِيهَا زَكَاةٌ وَطَهُورٌ، قَالَ: مَا فَعَلَهُ صَاحِبَايَ قَبْلِي فَأَفْعَلُهُ، فَاسْتَشَارَ عُمَرُ عَلِيًّا رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا فِي جَمَاعَةٍ مِنْ أَصْحَابِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ عَلِيٌّ: «هُوَ حَسَنٌ إِنْ لَمْ يَكُنْ جِزْيَةً يُؤْخَذُونَ بِهَا رَاتِبَةً» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِلَّا أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَاهُ عَنْ حَارِثَةَ، وَإِنَّمَا ذَكَرْتُهُ فِي هَذَا الْمَوْضِعِ لِلْمُحْدَثَاتِ الرَّاتِبَةِ الَّتِي فُرِضَتْ فِي. . . "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت حارثہ بن مضرب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : اہل شام میں سے کچھ لوگ حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور کہنے لگے : ہمیں بہت سارا مال ملا ہے جس میں گھوڑے اور غلام شامل ہیں ۔ ہم چاہتے ہیں کہ ان میں سے ہمارے لیے زکوۃ ہو آپ نے فرمایا : مجھ سے پہلے میرے دونوں ساتھیوں ( نبی اکرم ﷺ اور ابوبکر ) نے جو کیا تھا میں بھی وہی کروں گا تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اصحاب رسول کی ایک جماعت میں حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : اگر ان سے مستقل جزیہ نہیں لیا جاتا ، تو ٹھیک ہے ( ان سے زکوۃ وصول کی جائے ) ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو حارثہ کے حوالے سے نقل نہیں کیا ۔ میں نے اس کو اس کے مقام پر نئے مقرر کردہ ٹیکسوں کی وجہ سے ذکر کیا ہے ( اس مقام پر اصل کتاب میں جگہ خالی ہے ) ۔"