Al Mustadrak #1427
حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ سِنَانٍ الْقَزَّازُ، ثنا عَمْرُو بْنُ عَاصِمٍ الْكِلَابِيُّ، ثنا عِمْرَانُ بْنُ دَاوُدَ الْقَطَّانُ، ثنا مَعْمَرُ بْنُ رَاشِدٍ، عَنِ الزُّهْرِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ، قَالَ: لَمَّا تُوُفِّيَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ارْتَدَّتِ الْعَرَبُ، فَقَالَ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ: يَا أَبَا بَكْرٍ، أَتُرِيدُ أَنْ تُقَاتِلَ الْعَرَبَ؟ قَالَ: فَقَالَ أَبُو بَكْرٍ: إِنَّمَا قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «أُمِرْتُ أَنْ أُقَاتِلَ النَّاسَ حَتَّى يَشْهَدُوا أَنْ لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ وَأَنِّي رَسُولُ اللَّهِ، وَيُقِيمُوا الصَّلَاةَ، وَيُؤْتُوا الزَّكَاةَ، وَاللَّهِ لَوْ مَنَعُونِي عَنَاقًا مِمَّا كَانُوا يُعْطُونَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَأُقَاتِلُهُمْ عَلَيْهِ» قَالَ عُمَرُ: فَلَمَّا رَأَيْتُ رَأْيَ أَبِي بَكْرٍ قَدْ شُرِحَ عَلَيْهِ عَلِمْتُ أَنَّهُ الْحَقُّ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، غَيْرَ أَنَّ الشَّيْخَيْنِ لَمْ يُخَرِّجَا عِمْرَانَ الْقَطَّانَ، وَلَيْسَ لَهُمَا حُجَّةٌ فِي تَرْكِهِ، فَإِنَّهُ مُسْتَقِيمُ الْحَدِيثِ، وَشَاهِدُهُ حَدِيثُ أَبِي الْعَنْبَسِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»
اردو ترجمہ · Urdu
" حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب رسول اللہ ﷺ کا انتقال ہو گیا تو اہل عرب مرتد ہونے لگ گئے ۔ تو حضرت عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے فرمایا : اے ابوبکر ! کیا تم اہل عرب سے جنگ کرنا چاہتے ہو ؟ تو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : رسول اللہ ﷺ نے فرمایا : مجھے لوگوں سے جہاد کرنے کا حکم دیا گیا یہاں تک کہ وہ اس بات کی گواہی دے دیں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے ۔ اور بے شک میں اللہ کا رسول ہوں اور نماز قائم کریں اور زکوۃ دیں ۔ خدا کی قسم ! اگر یہ مجھ سے ایک رسی بھی روکیں گے جو وہ رسول اللہ ﷺ کو دیا کرتے تھے ، تو میں ان سے جہاد کروں گا ۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : جب میں نے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی رائے کو دیکھا کہ اس پر ان کو شرحِ صدر حاصل ہے تو میں جان گیا کہ ان کی یہ رائے برحق ہے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ۔ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے علاوہ عمران القطان کی اور کوئی روایت نقل نہیں کی ، حالانکہ شیخین رحمۃ اللہ علیہما کے پاس ان کو ترک کرنے کی کوئی دلیل نہیں ہے کیونکہ یہ مستقیم الحدیث ہیں ۔ ابوعنبس سے مروی ایک حدیث اس کی شاہد بھی ہے لیکن شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے اسے نقل نہیں کیا ۔"