Muslim99Muslim99

Al Mustadrak · Book 12 · Chapter 12

نماز خوف کا بیان

9 hadiths in this chapter

1245

Al Mustadrak #1245

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ حَفْصٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، وَاللَّفْظُ لَهُ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، ثنا أَبِي، ثنا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي الْأَشْعَثُ بْنُ سُلَيْمٍ، عَنِ الْأَسْوَدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ ثَعْلَبَةَ بْنِ زَهْدَمٍ، قَالَ: كُنَّا مَعَ سَعِيدِ بْنِ الْعَاصِ بِطَبَرِسْتَانَ، فَقَالَ: «أَيُّكُمْ صَلَّى مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟» ، فَقَامَ حُذَيْفَةُ «فَصَفَّ النَّاسَ خَلْفَهُ صَفًّا، وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ، فَصَلَّى بِالَّذِينَ خَلْفَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ انْصَرَفَ هَؤُلَاءِ مَكَانَ هَؤُلَاءِ، وَجَاءَ أُولَئِكَ فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَلَمْ يَقْضُوا» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ هَكَذَا "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ثعلبہ بن زہدم رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم سعید بن عاص کے ہمراہ طبرستان میں تھے ، انہوں نے فرمایا : تم میں سے کس شخص نے رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ صلوۃ الخوف پڑھی ہے ؟ تو حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ کھڑے ہو گئے ۔ لوگوں نے ایک صف ان کے پیچھے بنائی اور ایک صف دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی ، انہوں نے اپنے پیچھے کھڑے ہوؤں کو ایک رکعت پڑھائی ، پھر یہ نماز چھوڑ کر ان کی جہ پر جا کر کھڑے ہو گئے اور وہ ان کے پیچھے آ گئے ، آپ نے ان کو بھی ایک رکعت پڑھائی اور کسی نے بھی ( امام کے پیچھے پوری ) نماز نہیں پڑھی ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو اس طرح نقل نہیں کیا ۔"

1246

Al Mustadrak #1246

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْعَبَّاسِ مُحَمَّدُ بْنُ يَعْقُوبَ، ثنا أُسَيْدُ بْنُ عَاصِمٍ، ثنا الْحُسَيْنُ بْنُ جَعْفَرٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الزَّاهِدُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ الصَّغَانِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ جُعْشُمٍ، عَنْ سُفْيَانَ، وَأَخْبَرَنَا أَحْمَدُ بْنُ جَعْفَرٍ الْقَطِيعِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ حَنْبَلٍ، حَدَّثَنِي أَبِي، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، حَدَّثَنِي أَبُو بَكْرِ بْنُ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، «أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِذِي قَرَدٍ صَلَاةَ الْخَوْفِ رَكْعَةً رَكْعَةً، وَلَمْ يَقْضُوا» هَذَا شَاهِدٌ لِلْحَدِيثِ الَّذِي قَبْلَهُ «وَهُوَ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ذی قرد میں صلوۃ الخوف کی ایک ایک رکعت پڑھائی ۔ اور لوگوں نے نماز قضا نہیں کی ۔ ٭٭ یہ ھدیث صحیح الاسناد ہے اور یہ گزشتہ حدیث کی شاہد ہے ۔"

1247

Al Mustadrak #1247

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ الْفَقِيهُ، أَنْبَأَ مُحَمَّدُ بْنُ غَالِبٍ، ثنا أَبُو حُذَيْفَةَ، ثنا سُفْيَانُ، وَحَدَّثَنَا أَبُو بَكْرِ بْنُ إِسْحَاقَ، أَنْبَأَ أَبُو الْمُثَنَّى، ثنا مُسَدَّدٌ، ثنا يَحْيَى، عَنْ سُفْيَانَ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ أَبِي الْجَهْمِ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ بِذِي قَرَدٍ فَصَفَّ خَلْفَهُ صَفًّا وَصَفًّا مُوَازِيَ الْعَدُوِّ فَصَلَّى مَعَهُ رَكْعَةً، ثُمَّ ذَهَبُوا إِلَى مَصَافِّ أُولَئِكَ، وَجَاءَ أُولَئِكَ إِلَى مَصَافِّ هَؤُلَاءِ، وَصَلَّوْا مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً، ثُمَّ سَلَّمَ عَلَيْهِمْ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ بِهَذِهِ الْأَلْفَاظِ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں : رسول اللہ ﷺ نے ذی قرد میں ( اس طریقے سے ) نماز خوف پڑھائی کہ ایک صف آپ کے پیچھے تھی اور دوسری صف دشمن کے مقابلے میں ، پھر آپ ﷺ نے ان کو ایک رکعت پڑھا دی ، پھر یہ لوگ ( ایک رکعت پڑھنے کے بعد ) ان کی جگہ پر چلے گئے اور وہ ان کی جگہ پر آ گئے اور انہوں نے نبی اکرم ﷺ کے ہمراہ ایک رکعت پڑھی پھر آپ ﷺ نے سلام پھیر دیا ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن شیخین نے اسے ان الفاظ کے ہمراہ نقل نہیں کیا ۔"

1248

Al Mustadrak #1248

See Details

أَخْبَرَنِي أَبُو عَمْرِو بْنُ أَبِي جَعْفَرٍ الْمُقْرِئُ، ثنا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ مُوسَى، ثنا إِسْحَاقُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ، أَنْبَأَ عُقْبَةُ بْنُ خَالِدٍ السَّكُونِيُّ، ثنا مُوسَى بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ، فَقَالَ: «صَلِّ فِي الْقَوْسِ، وَاطْرَحِ الْقَرْنَ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ إِنْ كَانَ مُحَمَّدُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ التَّيْمِيُّ سَمِعَ مِنْ سَلَمَةَ بْنِ الْأَكْوَعِ، أَنَّهُ سَأَلَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الصَّلَاةِ فِي الْقَوْسِ فَقَالَ: «صَلِّ فِي الْقَوْسِ، وَاطْرَحِ الْقَرْنَ» ، هَذَا وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہودیوں کے عبادت خانے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہاں نماز پڑھ لو اور جو ( بت وغیرہ ) سامنے ہو اس کو گرا دو ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے ، اگر محمد بن ابراہیم تیمی نے سلمہ بن اکوع کا یہ بیان سن رکھا ہے کہ انہوں نے رسول اللہ ﷺ سے یہودیوں کے عبادت خانے میں نماز پڑھنے کے متعلق پوچھا تو آپ ﷺ نے فرمایا : وہاں نماز پڑھ لو اور سامنے جو بت وغیرہ ہو ، اس کو گرا دو اس حدیث کو شیخین رحمۃ اللہ علیہما نے نقل نہیں کیا ۔"

1249

Al Mustadrak #1249

See Details

أَخْبَرَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ حَمْدَانَ الْجَلَّابُ، بِهَمْدَانَ، ثنا أَبُو حَاتِمٍ مُحَمَّدُ بْنُ إِدْرِيسَ الرَّازِيُّ، ثنا سَعِيدُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ، أَنْبَأَ يَحْيَى بْنُ أَيُّوبَ، حَدَّثَنِي يَزِيدُ بْنُ الْهَادِ، حَدَّثَنِي شُرَحْبِيلُ بْنُ سَعْدٍ، عَنْ جَابِرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ، عَنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ، قَالَ: «قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَطَائِفَةٌ مِنْ خَلْفِهِ، وَطَائِفَةٌ مِنْ وَرَاءِ الطَّائِفَةِ الَّتِي خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قُعُودٌ وُجُوهُهُمْ كُلُّهُمْ إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرَتِ الطَّائِفَتَانِ فَرَكَعَ فَرَكَعَتْ مَعَهُ الطَّائِفَةُ الَّتِي خَلْفَهُ وَالْآخَرُونَ قُعُودٌ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا أَيْضًا وَالْآخَرُونَ قُعُودٌ، ثُمَّ قَامَ فَقَامُوا وَنَكَصُوا خَلْفَهُ حَتَّى كَانُوا مَكَانَ أَصْحَابِهِمْ قُعُودًا، وَأَتَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى، فَصَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ سَلَّمَ وَالْآخَرُونَ قُعُودٌ، ثُمَّ سَلَّمَ فَقَامَتِ الطَّائِفَتَانِ كِلْتَاهُمَا فَصَلَّوْا لِأَنْفُسِهِمْ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ رَكْعَةً وَسَجْدَتَيْنِ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحُ الْإِسْنَادِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ، وَقَدِ احْتَجَّا بِجَمِيعِ رُوَاتِهِ غَيْرِ شُرَحْبِيلَ وَهُوَ تَابِعِيٌّ مَدَنِيٌّ غَيْرُ مُتَّهَمٍ "

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ ﷺ کی نماز خوف کے متعلق روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ کھڑے ہوئے تو ایک جماعت آپ کے پیچھے کھڑی ہوئی ۔ اور ایک جماعت ان کے پیچھے بیٹھ گئی ، ان سب کے چہرے رسول اللہ ﷺ کی طرف تھے ، رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی : تو دونو جماعتوں نے تکبیر کہی ۔ پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا تو جو جماعت آپ ﷺ کے پیچھے تھی ، انہوں نے رکوع کر لیا اور جو ان کے بھی پیچھے تھے ، وہ بیٹھے رہے ، پھر رسول اللہ ﷺ نے سجدہ کیا تو آپ ﷺ کے پیچھے والوں نے بھی سجدہ کیا ۔ اور ان کے پیچھے والے بیٹھے رہے پھر آپ ﷺ کھڑے ہوئے اور آپ ﷺ کے پیچھے والے بھی کھڑے ہو گئے ۔ پھر یہ لوگ پیچھے کھسکتے ہوئے ان لوگوں کی صف تک چلے گئے جو بیٹھے ہوئے تھے اور وہ دوسری جماعت ( جو پہلے بیٹھی رہی انہوں ) نے آ کر رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ایک رکعت پڑھی اور دو سجدے کیے ۔ پھر حضور علیہ السلام نے سلام پھیر دیا اور دوسرے بیٹھے رہے ۔ پھر جب آپ علیہ السلام نے سلام پھیر دیا تو دونوں جماعتیں اٹھ کھڑی ہوئیں اور انہوں نے خود بخود ایک رکعت اور دو سجدے ادا کیے ۔ ٭٭ یہ حدیث صحیح الاسناد ہے لیکن امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو نقل نہیں کیا ، امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ نے اس حدیث کے تمام راویوں کی روایات نقل کی ہیں سوائے شرحبیل کے ، حالانکہ یہ مدنی ، تابعی غیر متہم ہیں ۔"

1250

Al Mustadrak #1250

See Details

حَدَّثَنَا أَبُو الْحُسَيْنِ أَحْمَدُ بْنُ عُثْمَانَ بْنِ يَحْيَى الْمُقْرِئُ بِبَغْدَادَ، ثنا الْعَبَّاسُ بْنُ مُحَمَّدِ بْنِ حَاتِمٍ الدُّورِيُّ، ثنا يَعْقُوبُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ بْنِ سَعْدٍ، ثنا أَبِي، عَنِ ابْنِ إِسْحَاقَ، حَدَّثَنِي مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرِ بْنِ الزُّبَيْرِ، عَنْ عُرْوَةَ، عَنْ عَائِشَةَ، قَالَتْ: «صَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ» . قَالَتْ: " فَصَدَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ النَّاسَ صَدْعَتَيْنِ، فَصُفَّتْ طَائِفَةٌ وَرَاءَهُ، وَقَامَتْ طَائِفَةٌ، وِجَاءَ الْعَدُوُّ قَالَتْ: فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَكَبَّرَتِ الطَّائِفَةُ الَّذِينَ صَفُّوا خَلْفَهُ، ثُمَّ رَكَعَ وَرَكَعُوا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدُوا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ فَرَفَعُوا، ثُمَّ مَكَثَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ جَالِسًا وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامُوا، ثُمَّ نَكَصُوا عَلَى أَعْقَابِهِمْ يَمْشُونَ الْقَهْقَرَى حَتَّى قَامُوا مِنْ وَرَائِهِمْ، وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الْأُخْرَى فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَكَبَّرُوا، ثُمَّ رَكَعُوا لِأَنْفُسِهِمْ، ثُمَّ سَجَدَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَجْدَتَهُ الثَّانِيَةَ فَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي رَكْعَتِهِ وَسَجَدُوا لِأَنْفُسِهِمِ السَّجْدَةَ الثَّانِيَةَ، ثُمَّ قَامَتِ الطَّائِفَتَانِ جَمِيعًا فَصَفُّوا خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَرَكَعَ بِهِمْ رَكْعَةً فَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدُوا جَمِيعًا، ثُمَّ رَفَعَ رَأْسَهُ وَرَفَعُوا مَعَهُ، كُلُّ ذَلِكَ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَرِيعًا جِدًّا لَا يَأْلُو أَنْ يُخَفِّفَ مَا اسْتَطَاعَ، ثُمَّ سَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمُوا، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدْ شَرَكَهُ النَّاسُ فِي صَلَاتِهِ كُلِّهَا «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ مُسْلِمٍ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ» وَهُوَ أَتَمُّ حَدِيثٍ، وَأَشْفَاهُ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ "

اردو ترجمہ · Urdu

" ام المومنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے صلوۃ الخوف پڑھائی ، آپ فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے صحابہ رضی اللہ عنہم کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا ، ان میں سے ایک جماعت آپ ﷺ کے پیچھے کھڑی ہو گئی اور دوسری دشمن کے آگے کھڑی ہو گئی ، ام المومنین رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں : رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی تو آپ ﷺ کے ہمراہ اس جماعت نے بھی تکبیر کہی جو آپ ﷺ کے پیچھے صف بستہ تھے پھر آپ ﷺ نے رکوع کیا ، انہوں نے بھی رکوع کیا پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا ، انہوں نے بھی سجدہ کیا پھر آپ ﷺ نے سر اٹھایا انہوں نے بھی ست اٹھا لیا پھر رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور انہوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا پھر وہ لوگ کھڑے ہوئے اور اپنی ایڑیوں کے بل الٹے پاؤں چلتے ہوئے پیچھے لوٹ گئے ، یہاں تک کہ یہ لوگ دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پیچھے جا کر کھڑے ہو گئے ، پھر دوسری جماعت آئی اور انہوں نے رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنائی پھر انہوں نے تکبیر کہی پھر خود ہی سجدہ کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ نے دوسرا سجدہ کیا ، تو انہوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا ، پھر رسول اللہ ﷺ ( اگلی ) رکعت میں کھڑے ہو گئے اور ان لوگوں نے دوسرا سجدہ خود ہی کیا ، پھر دونوں جماعتیں اکٹھی رسول اللہ ﷺ کے پیچھے صف بنا کر کھڑی ہو گئیں ، آپ ﷺ نے ان کو رکوع کروایا ، ان س نے رکوع کیا ، پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا اور آپ ﷺ کے ہمراہ ان سب نے بھی سجدہ کیا ، پھر آپ ﷺ نے سجدہ سے سر اٹھا لیا ، اور انہوں نے بھی اپنا سر اٹھا لیا ۔ رسول اللہ ﷺ نے یہ تمام عمل بہت تیزی سے کیا اور انہوں نے نماز کے مختصر کرنے میں ذرا کوتاہی نہ کی ، پھر رسول اللہ ﷺ نے سلام پھیرا ، انہوں نے بھی سلام پھیرا ، پر رسول اللہ ﷺ ( نماز سے فارغ ہو کر جب ) کھڑے ہوئے تو تمام لوگ آپ کی تمام نماز میں شرکت کر چکے تھے ۔ ٭٭ یہ حدیث امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن اسے صحیحین میں نقل نہیں کیا گیا ۔ اور نماز خوف کے حوالے سے یہ حدیث سب سے جامع ہے ۔"

1251

Al Mustadrak #1251

See Details

أَخْبَرَنِي أَبُو عَلِيٍّ الْحُسَيْنُ بْنُ عَلِيٍّ الْحَافِظُ، أَنْبَأَ عَبْدَانُ الْأَهْوَازِيُّ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ مَعْمَرِ بْنِ رِبْعِيٍّ الْقَيْسِيُّ، ثنا عَمْرُو بْنُ خَلِيفَةَ الْبَكْرَاوِيُّ، ثنا أَشْعَثُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ الْحُمْرَانِيُّ، عَنِ الْحَسَنِ، عَنْ أَبِي بَكْرَةَ، «أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَّى بِالْقَوْمِ فِي صَلَاةِ الْخَوْفِ صَلَاةَ الْمَغْرِبِ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ، ثُمَّ انْصَرَفَ، وَجَاءَ الْآخَرُونَ فَصَلَّى بِهِمْ ثَلَاثَ رَكَعَاتٍ» سَمِعْتُ أَبَا عَلِيٍّ الْحَافِظَ، يَقُولُ: هَذَا حَدِيثٌ غَرِيبٌ أَشْعَثُ الْحُمْرَانِيُّ لَمْ يَكْتُبْهُ إِلَّا بِهَذَا الْإِسْنَادِ " قَالَ الْحَاكِمُ: وَإِنَّهُ «صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوبکرہ رضی اللہ عنہ روایت کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو نماز خوف کے طور پر مغرب کی نماز کی تین رکعتیں پڑھائیں ، یہ لوگ نماز سے فارغ ہوئے ( اور چلے گئے ) اور دوسرے صحابہ رضی اللہ عنہم ( جنہوں نے ابھی تک نماز نہیں پڑھی تھی ) آ گئے ۔ حضور علیہ السلام نے ان کو بھی تین رکعتیں پڑھائیں ۔ ٭٭ ( امام حاکم کہتے ہیں ) میں نے ابوعلی الحافظ کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ یہ حدیث غریب ہے ۔ اشعث الحمرانی نے اس حدیث کو اسی اسناد کے ہمراہ نقل کیا ہے ، امام حاکم کہتے ہیں : یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ اور امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ کے معیار کے مطابق صحیح ہے ۔"

1252

Al Mustadrak #1252

See Details

أَخْبَرَنَا أَبُو مُحَمَّدٍ عَبْدُ الْعَزِيزِ بْنُ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ سَهْلٍ الدَّبَّاسُ، بِمَكَّةَ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ عَلِيِّ بْنِ زَيْدٍ الصَّائِغُ، ثنا سَعِيدُ بْنُ مَنْصُورٍ، ثنا جَرِيرُ بْنُ عَبْدِ الْحَمِيدِ، عَنْ مَنْصُورٍ، عَنْ مُجَاهِدٍ، عَنْ أَبِي عَيَّاشٍ الزُّرَقِيِّ، قَالَ: " كُنَّا مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِعُسْفَانَ، وَعَلَى الْمُشْرِكِينَ خَالِدُ بْنُ الْوَلِيدِ فَصَلَّيْنَا الظُّهْرَ، فَقَالَ الْمُشْرِكُونَ: لَقَدْ أَصَبْنَا غِرَّةً، لَقَدْ أَصَبْنَا غَفْلَةً، لَوْ كُنَّا حَمَلَنَا عَلَيْهِمْ وَهُمْ فِي الصَّلَاةِ، فَنَزَلَتْ آيَةُ الْقَصْرِ بَيْنَ الظُّهْرِ وَالْعَصْرِ، فَلَمَّا حَضَرَتِ الْعَصْرُ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مُسْتَقْبِلَ الْقِبْلَةِ وَالْمُشْرِكُونَ أَمَامَهُ، فَصَفَّ خَلْفَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَفٌّ، وَصَفٌّ بَعْدَ ذَلِكَ الصَّفِّ صَفٌّ آخَرُ، فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ وَسَجَدَ الصَّفُّ الَّذِينَ يَلُونَهُ، وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا صَلَّى هَؤُلَاءِ السَّجْدَتَيْنِ، وَقَامُوا سَجَدَ الْآخَرُونَ الَّذِينَ كَانُوا خَلْفَهُمْ، ثُمَّ تَأَخَّرَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ إِلَى مَقَامِ الْآخَرِينَ، وَرَكَعُوا جَمِيعًا، ثُمَّ سَجَدَ الصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ وَقَامَ الْآخَرُونَ يَحْرُسُونَهُمْ، فَلَمَّا جَلَسَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَالصَّفُّ الَّذِي يَلِيهِ سَجَدَ الْآخَرُونَ، ثُمَّ جَلَسُوا جَمِيعًا فَسَلَّمَ عَلَيْهِمْ، فَصَلَّاهَا بِعُسْفَانَ وَصَلَّاهَا يَوْمَ بَنِي سُلَيْمٍ «هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ»

اردو ترجمہ · Urdu

" حضرت ابوعیاش الزرقی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ہم رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ عسفان میں تھے اور مشرکوں کے سپہ سالار خالد بن ولید تھے ، ہم نے نماز ظہر ادا کی ، مشرکوں نے پروگرام بنایا کہ ہمارے پاس بہت اچھا موقع ہے کہ مسلمان نماز میں ( جنگ کی طرف ) متوجہ نہیں ہوتے ، اگر ہم ان پر اس وقت حملہ کریں جب یہ نماز کی حالت میں ہوتے ہیں ( تو ہمیں کامیابی مل سکتی ہے ) تو ظہر اور عصر کے درمیان ’’ نماز قصر ‘‘ کی آیت نازل ہو گئی ، جب نماز عصر کا وقت ہوا تو رسول اللہ ﷺ قبلہ رو ہو کر کھڑے ہوئے اور مشرکین آپ ﷺ کے سامنے تھے ۔ چنانچہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے ایک صف حضور اکرم ﷺ کے پیچھے بنائی اور اس صف کے پیچھے ایک اور صف بنا لی ، پھر رسول اکرم ﷺ نے رکوع کیا تو دونوں صفوں نے آپ ﷺ کے ہمراہ رکوع کیا ۔ پھر آپ ﷺ نے سجدہ کیا تو جو صف آپ ﷺ کے پیچھے تھی انہوں نے آپ ﷺ کے ہمراہ سجدہ کیا اور ان سے پیچھے والی صف والے صحابہ رضی اللہ عنہم ان کی حفاظت کی غرض سے کھڑے رہے پھر اگلی صف والوں نے دو سجدے کر لیے اور کھڑے ہو گئے تو پچھلی صف والوں نے سجدے کر لیے پھر اگلی صف والے پیچھے کھسک گئے اور پچھلی صف میں جا کر کھڑے ہو گئے ( اور پیچھے والے آگے ہو گئے ) پھر دونوں صفوں والوں نے رکوع کیا اور اگلی صف والوں نے سجدہ کیا جبکہ پیچھے والے ان کی حفاظت کی غرض سے کھڑے رہے پھر رسول اللہ ﷺ بیٹھ گئے اور اگلی صف والے بھی بیٹھ گئے اور پیچھے والوں نے سجدہ کر لیا ۔ پھر یہ سب لوگ بیٹھ گئے اور پھر نبی اکرم ﷺ نے سب کا سلام پھیرا ۔ نبی اکرم ﷺ نے یہ نماز ’’ عسفان ‘‘ میں پڑھی اور بنی سلیم کے دن پڑھی ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔"

1253

Al Mustadrak #1253

See Details

حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ صَالِحِ بْنِ هَانِئٍ، ثنا مُحَمَّدُ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ أَنَسٍ الْقُرَشِيُّ، ثنا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ الْمُقْرِئُ، ثنا حَيْوَةُ بْنُ شُرَيْحٍ، أَنْبَأَ أَبُو الْأَسْوَدِ، أَنَّهُ سَمِعَ عُرْوَةَ بْنَ الزُّبَيْرِ يُحَدِّثُ، عَنْ مَرْوَانَ بْنِ الْحَكَمِ، أَنَّهُ سَأَلَ أَبَا هُرَيْرَةَ هَلْ صَلَّيْتَ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الْخَوْفِ؟ قَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: نَعَمْ. قَالَ مَرْوَانُ: مَتَى؟ فَقَالَ أَبُو هُرَيْرَةَ: «عَامَ غَزْوَةِ نَجْدٍ، قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِلَى الصَّلَاةِ صَلَاةِ الْعَصْرِ فَقَامَتْ مَعَهُ طَائِفَةٌ وَطَائِفَةٌ أُخْرَى مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، وَظُهُورُهُمْ إِلَى الْقِبْلَةِ، فَكَبَّرَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَكَبَّرُوا جَمِيعًا الَّذِينَ مَعَهُ وَالَّذِينَ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ رَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً وَاحِدَةً، وَرَكَعَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي خَلْفَهُ، ثُمَّ سَجَدَ فَسَجَدَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي تَلِيهِ وَالْآخَرُونَ قِيَامٌ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ، ثُمَّ قَامَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَقَامَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مَعَهُ، وَذَهَبُوا إِلَى الْعَدُوِّ فَقَابَلُوهُمْ وَأَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَائِمٌ كَمَا هُوَ، ثُمَّ قَامُوا فَرَكَعَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَةً أُخْرَى وَرَكَعُوا مَعَهُ وَسَجَدُوا مَعَهُ، ثُمَّ أَقْبَلَتِ الطَّائِفَةُ الَّتِي كَانَتْ مُقَابِلَ الْعَدُوِّ فَرَكَعُوا وَسَجَدُوا وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَاعِدٌ وَمَنْ مَعَهُ، ثُمَّ كَانَ السَّلَامُ، فَسَلَّمَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَسَلَّمُوا جَمِيعًا، فَكَانَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَانِ، وَلِكُلِّ رَجُلٍ مِنَ الطَّائِفَتَيْنِ رَكْعَةٌ رَكْعَةٌ» هَذَا حَدِيثٌ صَحِيحٌ عَلَى شَرْطِ الشَّيْخَيْنِ، وَلَمْ يُخَرِّجَاهُ "" كِتَابُ الْجَنَائِزِ

اردو ترجمہ · Urdu

" مروان بن حکم رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ، انہوں نے حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے پوچھا : آپ نے ( کبھی ) رسول اللہ ﷺ کے ہمراہ ’’ صلوۃ الخوف ‘‘ پڑھی ہے ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : جی ہاں ۔ مروان نے پوچھا : کب ؟ حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے جواب دیا : غزوہ نجد کے سال رسول اکرم ﷺ نماز عصر کے لیے کھڑے ہوئے تو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی ایک جماعت آپ کے ہمراہ کھڑی ہو گئی اور دوسری جماعت دشمنوں کے مقابلے میں کھڑی رہی ، ان کی پشت قبلہ کی طرف تھی ، رسول اللہ ﷺ نے تکبیر کہی تو جتنے لوگ آپ کے ہمراہ جماعت میں شریک تھے ان سب نے تکبیر کہی اور جو دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہوئے تھے ، انہوں نے بھی تکبیر کہی ۔ پھر حضور اکرم ﷺ نے ایک رکوع کیا تو آپ کے ہمراہ جو جماعت تھی ، انہوں نے بھی رکوع کیا ، جبکہ دوسری جماعت دشمن کے مقابلے میں کھڑی رہی پھر رسول اکرم ﷺ کھڑے ہو گئے اور آپ کے ہمراہ جو جماعت تھی وہ جا کر دشمن کے مقابلے میں کھڑے ہو گئے اور یہ جماعت جو کہ دشمن کے مقابلے میں تھی آئی ، انہوں نے آ کر خود ہی رکوع بھی کیا اور سجدہ بھی کیا اور اس دوران نبی اکرم ﷺ بدستور کھڑے رہے ۔ پھر یہ لوگ ( دو سجدے کرنے کے بعد ) کھڑے ہو گئے پھر رسول اللہ ﷺ نے دوسری رکعت کا رکوع کیا تو ان لوگوں نے بھی آپ کے ہمراہ رکوع کیا ، آپ نے سجدہ کیا تو انہوں نے بھی آپ کے ہمراہ سجدہ کیا ۔ پھر وہ جماعت بھی آ گئی جو دشمن کے مقابلے میں کھڑی تھی انہوں نے آ کر خود ہی رکوع اور سجدہ کیا اور اس دوران رسول اکرم ﷺ اور ان کے ساتھ نماز پڑھنے والی پہلی جماعت کے لوگ بیٹھے رہے ، اس کے بعد سلام کا موقع تھا ، تو رسول اکرم ﷺ نے سلام پھیرا اور آپ کے ہمراہ تمام لوگوں نے سلام پھیرا ، اس طرح رسول اللہ ﷺ کی دو رکعتیں اور دونو جماعتوں کی ایک ایک ہوئی ۔ ٭٭ یہ حدیث امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ و امام مسلم رحمۃ اللہ علیہ دونوں کے معیار کے مطابق صحیح ہے لیکن دونوں نے ہی اسے نقل نہیں کیا ۔"