Muslim99Muslim99

Al-Muajam al-Saghir Tabarani · Book 30 · Chapter 893

اذکار کا بیان

دعا میں عالی مقام مؤمنین کے اوصاف کا بیان

1 hadith in this chapter

948

Al-Muajam al-Saghir Tabarani #948

See Details

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْهَيْثَمِ الْمِصْرِيُّ، سَمِعْتُ ذَا النُّونِ الْمِصْرِيَّ الْعَابِدَ أَبَا الْفَيْضِ، يَقُولُ:"اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ جَاوَزُوا دَارَ الظَّالِمِينَ، وَاسْتَوْحَشُوا مِنْ مُؤَانَسَةِ الْجَاهِلِينَ، وَشَابُوا ثَمَرَةَ الْعَمَلِ بِنُورِ الإِخْلاصِ، وَاسْتَقَوْا مِنْ عَيْنِ الْحِكْمَةِ، وَرَكِبُوا سَفِينَةَ الْفِطْنَةِ، وَأَقْلَعُوا بِرُوحِ الْيَقِينِ، وَلَجَجُوا فِي بَحْرِ النَّجَاةِ، وَأَرْسَوْا بِشَطِّ الإِخْلاصِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ سَرَحَتْ أَرْوَاحُهُمْ فِي الْعُلا، وَجَنُوا مِنْ ثِمَارِ رِيَاضِ التَّسْنِيمِ، وَخَاضُوا لُجَّةَ السُّرُورِ، وَشَرِبُوا بِكَأْسِ الْعَيْشِ، وَاسْتَظَلُّوا تَحْتَ الْكَرَامَةِ، اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِنَ الَّذِينَ فَتَحُوا بَابَ الصَّبْرِ، وَأَرْدَمُوا خَنَادِقَ الْجَزَعِ، وَجَازُوا شَدَائِدَ الْعِقَابِ، وَعَبَرُوا جِسْرَ الْهَوَاءِ"، فَإِنَّهُ جَلَّ اسْمُهُ، يَقُولُ: وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى {40} فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى {41} سورة النازعات آية 40-41 اللَّهُمَّ اجْعَلْنَا مِمَّنْ أَشَارَتْ إِلَيْهِمْ أَعْلامُ الْهِدَايَةِ، وَوَضَحَتْ لَهُمْ طَرِيقُ النَّجَاةِ، وَسَلَكُوا سَبِيلَ إِخْلاصِ الْيَقِينِ"

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ذوالنون مصری ابوالفیض عابد رحمہ الله کہتے ہیں: اے اللہ! ہمیں ان لوگوں سے کیجئے جو ظالموں کے گھروں سے گزر جاتے ہیں اور جاہلوں کے ساتھ اُنسیت رکھنے سے ڈرتے ہیں، اور عمل کے پھل سے اخلاص کا نور ملا دیتے ہیں، اور حکمت کے چشمے سے پانی حاصل کرتے ہیں، اور سمجھ اور فطانت کی کشتی پر سوار ہوتے ہیں، یقین کی روح میں قلعہ بناتے ہیں، نجات کے سمندر میں داخل ہوتے ہیں، اور اخلاص کے کنارے پر لنگر انداز ہوتے ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں سے کر جن کی روحیں بلندی میں کھاتی پیتی ہیں، خوشبو کے باغوں سے پھل کھاتی ہیں، خوشی کے سمندر کی گہرائی میں داخل ہوتی ہیں، اور عیش و عشرت کے پیالے سے پیتی ہیں، اور وہ لوگ عزت کے نیچے سایہ حاصل کرتی ہیں۔ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں سے کر جنہوں نے صبر کا دروازہ کھولا، گھبراہٹ کی خندقیں ختم کر دیں، اور عذاب کی سختیوں سے گزر گئے، ہوا کا پل عبور کر گئے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «﴿وَأَمَّا مَنْ خَافَ مَقَامَ رَبِّهِ وَنَهَى النَّفْسَ عَنِ الْهَوَى o فَإِنَّ الْجَنَّةَ هِيَ الْمَأْوَى﴾» (النازعات: 40، 41) یعنی ”جو شخص اپنے رب کے سامنے کھڑا ہونے سے ڈرا، نفس کو خواہش سے روکا، تو جنّت ہی اس کا ٹھکانا ہے۔“ اے اللہ! ہمیں ان لوگوں سے کر جن کے سامنے ہدایت کے نشانات کھل گئے، اور نجات کے راستے واضح ہو گئے، اور جو یقینی اخلاص کے راستے پر چلے۔