Muslim99Muslim99

Al-Muajam al-Saghir Tabarani · Book 28 · Chapter 853

جہنم کا بیان

حضرت آدم علیہ السلام کا اللہ تعالیٰ سے معافی مانگنے کا بیان

1 hadith in this chapter

903

Al-Muajam al-Saghir Tabarani #903

Zaeef

حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ دَاوُدَ بْنِ أَسْلَمَ الصَّدَفِيُّ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ الْمَدَنِيُّ الْفِهْرِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ إِسْمَاعِيلَ الْمَدَنِيُّ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ أَسْلَمَ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ جَدِّهِ ، عَنْ عُمَرَ بْنِ الْخَطَّابِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ:"لَمَّا أَذْنَبَ آدَمُ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الذَّنْبَ الَّذِي أَذْنَبَهُ رَفَعَ رَأْسَهُ إِلَى الْعَرْشِ، فَقَالَ: أَسْأَلُكَ بِحَقِّ مُحَمَّدٍ إِلا غَفَرْتَ لِي، فَأَوْحَى اللَّهُ إِلَيْهِ، وَمَا مُحَمَّدٌ وَمَنْ مُحَمَّدٌ؟، فَقَالَ: تَبَارَكَ اسْمُكَ، لَمَّا خَلَقْتَنِي رَفَعْتُ رَأْسِي إِلَى عَرْشِكَ، فَإِذَا فِيهِ مَكْتُوبٌ: لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ، مُحَمَّدٌ رَسُولُ اللَّهِ، فَعَلِمْتُ أَنَّهُ لَيْسَ أَحَدٌ أَعْظَمَ عِنْدَكَ قَدْرًا مِمَّنْ جَعَلْتَ اسْمَهُ مَعَ اسْمِكَ، فَأَوْحَى اللَّهُ عَزَّ وَجَلَّ إِلَيْهِ، يَا آدَمُ، إِنَّهُ آخِرُ النَّبِيِّينَ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ، وَإِنَّ أُمَّتَهُ آخِرُ الأُمَمِ مِنْ ذُرِّيَّتِكَ، وَلَوْلاهُ يَا آدَمُ مَا خَلَقْتُكَ"، لا يُرْوَى عَنْ عُمَرَ، إِلا بِهَذَا الإِسْنَادِ، تَفَرَّدَ بِهِ أَحْمَدُ بْنُ سَعِيدٍ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب آدم علیہ السلام گناہ کرنے لگے جو گناہ انہوں نے کیا تھا تو اپنا سر عرش کی طرف اٹھایا اور کہا: اے اللہ! میں تجھ سے محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کے حق کے واسطے سے سوال کرتا ہوں کہ مجھے معاف کر دے، تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی کہ ”محمّد صلی اللہ علیہ وسلم کیا اور کون ہیں؟“ تو انہوں نے کہا: تیرا نام بابرکت ہے، جب تو نے مجھے پیدا کیا تو میں نے اپنا سر تیرے عرش کی طرف اٹھایا تو اچانک وہاں یہ لکھا ہوا دیکھا: «لَا اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلَ اللّٰهِ» تو میں نے جان لیا کہ جس کے نام کو تو نے اپنے نام کے ساتھ کیا اس سے زیادہ قدر و منزلت والا تیرے نزدیک اور کوئی نہیں ہو سکتا۔ تو اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی کی: ”اے آدم! تیری اولاد سے وہ آخری نبی ہیں اور ان کی امّت تیری اولاد سے تمام امتوں سے آخر میں ہو گی، اور اے آدم! اگر وہ نہ ہوتے تو میں تجھ کو پیدا بھی نہ کرتا۔“