Muslim99Muslim99

Al-Muajam al-Saghir Tabarani · Book 28 · Chapter 798

جہنم کا بیان

آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کا بیان

2 hadiths in this chapter

845

Al-Muajam al-Saghir Tabarani #845

Zaeef

حَدَّثَنَا جَعْفَرُ بْنُ إِلْيَاسَ بْنِ صَدَقَةَ الْكَبَّاشُ الْمِصْرِيُّ ، حَدَّثَنَا نُعَيْمُ بْنُ حَمَّادٍ ، حَدَّثَنَا نُوحُ بْنُ أَبِي مَرْيَمَ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ الأَنْصَارِيِّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ ، قَالَ:" سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: مَنْ آلُ مُحَمَّدٍ؟، فَقَالَ: كُلُّ تَقِيٍّ، وَقَالَ: وَتَلا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَآلِهِ وَسَلَّمَ: إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلا الْمُتَّقُونَ سورة الأنفال آية 34"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ، إِلا نُوحٌ. تَفَرَّدَ بِهِ نُعَيْمٌ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا گیا کہ آلِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کون سے ہیں؟ فرمایا: ”ہر اللہ سے ڈرنے والا۔“ پھر یہ آیت پڑھی: «﴿إِنْ أَوْلِيَاؤُهُ إِلَّا الْمُتَّقُوْنَ﴾» (انفال: 34) ”بے شک اس کے دوست صرف متقی ہیں۔“

846

Al-Muajam al-Saghir Tabarani #846

Sahih

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مُجَاهِدٍ الأَصْبَهَانِيُّ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ بْنِ أَبَانَ ، حَدَّثَنَا زَافِرُ بْنُ سُلَيْمَانَ ، عَنْ طُعْمَةَ بْنِ عَمْرٍو الْجَعْفَرِيِّ ، عَنْ أَبِي الْجَحَّافِ دَاوُدَ بْنِ أَبِي عَوْفٍ ، عَنْ شَهْرِ بْنِ حَوْشَبٍ ، قَالَ: أَتَيْتُ أُمَّ سَلَمَةَ أُعَزِّيهَا عَلَى الْحُسَيْنِ بْنِ عَلِيٍّ، فَقَالَتْ: دَخَلَ عَلَي ّرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَجَلَسَ عَلَى مَنَامَةٍ لَنَا، فَجَاءَتْهُ فَاطِمَةُ رِضْوَانُ اللَّهِ وَرَحْمَتُهُ عَلَيْهَا بِشَيْءٍ وَضَعْتُهُ، فَقَالَ:" ادْعِي لِي حَسَنًا، وَحُسَيْنًا، وَابْنَ عَمِّكِ عَلِيًّا، فَلَمَّا اجْتَمَعُوا عِنْدَهُ قَالَ لَهُمْ: هَؤُلاءِ حَامَتِي وَأَهْلُ بَيْتِي، فَأَذْهِبْ عَنْهُمُ الرِّجْسَ وَطَهِّرْهُمْ تَطْهِيرًا"، لَمْ يَرْوِهِ عَنْ طُعْمَةَ، إِلا زَافِرٌ، تَفَرَّدَ بِهِ عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عُمَرَ مِشْكِدَانَةُ

اردو ترجمہ · Urdu

شہر بن حوشب کہتے ہیں: میں اُمّ سلمہ رضی اللہ عنہا کے پاس حسین بن علی رضی اللہ عنہما کی تعزیت کے لیے آیا تو وہ کہنے لگیں: ایک دفعہ میرے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم آئے اور ایک چادر پر بیٹھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کوئی چیز لائیں، میں نے اس کو رکھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا: ”حسن، حسین اور اپنے چچازاد کو بھی بلاؤ“، جب سارے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس اکٹھے ہو گئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے متعلق فرمایا: ”یہ میری خاص اولاد ہے، اور میرے اہلِ بیت ہیں۔ اے اللہ! ان سے گندگی اور نجاست کو دور کر دے، اور ان کو اچھی طرح پاک کر۔“