Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 9 · Chapter 93

Being a master

بَابُ مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ فَلْيُعْتِقْهُ مِنْ غَيْرِ إِيجَابٍ

جس نے غلام کو تھپڑ مارا بہتر ہے کہ وہ اسے آزاد کر دے

5 hadiths in this chapter

176

Al-Adab Al-Mufrad #176

Sahih

حَدَّثَنَا آدَمُ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنَا حُصَيْنٌ قَالَ: سَمِعْتُ هِلَالَ بْنَ يَسَافٍ يَقُولُ: كُنَّا نَبِيعُ الْبَزَّ فِي دَارِ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ، فَخَرَجَتْ جَارِيَةٌ فَقَالَتْ لِرَجُلٍ شَيْئًا، فَلَطَمَهَا ذَلِكَ الرَّجُلُ، فَقَالَ لَهُ سُوَيْدُ بْنُ مُقَرِّنٍ: أَلَطَمْتَ وَجْهَهَا؟ لَقَدْ رَأَيْتُنِي سَابِعَ سَبْعَةٍ وَمَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا بَعْضُنَا، فَأَمَرَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ يُعْتِقُهَا

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ہلال بن یساف رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ ہم سوید بن مقرن کے گھر میں کپڑا بیچ رہے تھے کہ ایک لونڈی نکلی اور اس نے ایک آدمی سے کچھ کہا تو اس آدمی نے اسے تھپڑ مار دیا۔ اس پر سوید بن مقرن رضی اللہ عنہ نے اس سے فرمایا:کیا تونے اس کے چہرے پر طمانچہ مارا ہے؟ یقیناً میں سات (بھائیوں)میں سے ساتواں تھا اور ہماری صرف ایک ہی خادمہ تھی تو ہم میں سے کسی نے اسے تھپڑ مار دیا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے حکم دیا کہ وہ اسے آزاد کر دے۔

177

Al-Adab Al-Mufrad #177

Sahih

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ عَوْنٍ، وَمُسَدَّدٌ، قَالَا: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ، عَنْ فِرَاسٍ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ زَاذَانَ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((مَنْ لَطَمَ عَبْدَهُ أَوْ ضَرَبَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، فَكَفَّارَتُهُ عِتْقُهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ میں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جس نے اپنے غلام کو طمانچہ مارا یا بغیر قصور کے مارا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کر دے۔‘‘

178

Al-Adab Al-Mufrad #178

Sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ سُفْيَانَ قَالَ: حَدَّثَنِي سَلَمَةُ بْنُ كُهَيْلٍ قَالَ: حَدَّثَنِي مُعَاوِيَةُ بْنُ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ قَالَ: لَطَمْتُ مَوْلًى لَنَا فَفَرَّ، فَدَعَانِي أَبِي فَقَالَ لَهُ: اقْتَصَّ، كُنَّا وَلَدَ مُقَرِّنٍ سَبْعَةً، لَنَا خَادِمٌ، فَلَطَمَهَا أَحَدُنَا، فَذُكِرَ ذَلِكَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ: ((مُرْهُمْ فَلْيُعْتِقُوهَا)) ، فَقِيلَ لِلنَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: لَيْسَ لَهُمْ خَادِمٌ غَيْرَهَا، قَالَ: ((فَلْيَسْتَخْدِمُوهَا فَإِذَا اسْتَغْنَوْا خَلُّوا سَبِيلَهَا))

اردو ترجمہ · Urdu

معاویہ بن سوید بن مقرن رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے اپنے ایک غلام کو طمانچہ مارا تو وہ بھاگ گیا۔ میرے والد نے مجھے بلایا اور کہا کہ تجھ سے قصاص لیا جائے گا۔ ہم مقرن کے سات بیٹے تھے اور ہماری صرف ایک خادمہ تھی۔ ہم میں سے ایک بھائی نے اسے طمانچہ مار دیا تو اس کا ذکر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے ہوا۔ آپ نے فرمایا:’’انہیں حکم دو کہ اسے آزاد کردو۔‘‘ آپ سے عرض کیا گیا کہ ان کا اس کے علاوہ کوئی خدمت کرنے والا نہیں۔ آپ نے فرمایا:’’وہ اس سے خدمت لیں اور جب اس کی ضرورت نہ رہے تو اسے آزاد کردیں۔‘‘

179

Al-Adab Al-Mufrad #179

Sahih

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَرْزُوقٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا شُعْبَةُ قَالَ لِي مُحَمَّدُ بْنُ الْمُنْكَدِرِ: مَا اسْمُكَ؟ فَقُلْتُ: شُعْبَةُ قَالَ: حَدَّثَنِي أَبُو شُعْبَةَ، عَنْ سُوَيْدِ بْنِ مُقَرِّنٍ الْمُزَنِيِّ، وَرَأَى رَجُلًا لَطَمَ غُلَامَهُ، فَقَالَ: " أَمَا عَلِمْتَ أَنَّ الصُّورَةَ مُحَرَّمَةٌ؟ رَأَيْتُنِي وَإِنِّي سَابِعُ سَبْعَةِ إِخْوَةٍ، عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، مَا لَنَا إِلَّا خَادِمٌ، فَلَطَمَهُ أَحَدُنَا، فَأَمَرَنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنْ نُعْتِقَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

سوید بن مقرن المزنی سے روایت ہے، انہوں نے ایک شخص کو دیکھا کہ اس نے اپنے غلام کو تھپڑ مارا ہے، تو فرمایا:تمہیں معلوم نہیں کہ چہرے پر مارنا حرام ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں دیکھا کہ ہم سات بھائی تھے اور ہماری صرف ایک خادمہ تھی۔ ہم میں سے کسی نے اسے طمانچہ مارا تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں حکم دیا کہ ہم اسے آزاد کر دیں۔

180

Al-Adab Al-Mufrad #180

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا فِرَاسٌ، عَنْ أَبِي صَالِحٍ، عَنْ زَاذَانَ أَبِي عُمَرَ قَالَ: كُنَّا عِنْدَ ابْنِ عُمَرَ، فَدَعَا بِغُلَامٍ لَهُ كَانَ ضَرَبَهُ فَكَشَفَ عَنْ ظَهْرِهِ فَقَالَ: أَيُوجِعُكَ؟ قَالَ: لَا. فَأَعْتَقَهُ، ثُمَّ رَفَعَ عُودًا مِنَ الْأَرْضِ فَقَالَ: مَالِي فِيهِ مِنَ الْأَجْرِ مَا يَزِنُ هَذَا الْعُودَ، فَقُلْتُ: يَا أَبَا عَبْدِ الرَّحْمَنِ، لِمَ تَقُولُ هَذَا؟ قَالَ: سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ - أَوْ قَالَ -: ((مَنْ ضَرَبَ مَمْلُوكَهُ حَدًّا لَمْ يَأْتِهِ، أَوْ لَطَمَ وَجْهَهُ، فَكَفَّارَتُهُ أَنْ يُعْتِقَهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

زاذان ابوعمر سے روایت ہے کہ ہم ابن عمر رضی اللہ عنہما کے پاس تھے تو انہوں نے اپنے ایک غلام کو بلایا جسے انہوں نے مارا تھا۔ اس کی کمر سے کپڑا ہٹایا اور فرمایا:کیا تجھے درد ہوتی ہے! اس نے کہا:نہیں، تو آپ نے اسے آزاد کر دیا۔ پھر ایک لکڑی زمین سے پکڑی اور فرمایا:اس میں میرے لیے اس لکڑی کے وزن کے برابر بھی ثواب نہیں۔ میں نے کہا:ابو عبدالرحمن! تم ایسا کیوں کہتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ میں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’جس نے اپنے غلام کو بغیر قصور کے مارا یا اسے طمانچہ رسید کیا تو اس کا کفارہ یہ ہے کہ اسے آزاد کرے۔‘‘