Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 9 · Chapter 102

Being a master

بَابُ هَلْ يَجْلِسُ خَادِمُهُ مَعَهُ إِذَا أَكَلَ

کیا کھانا کھاتے وقت غلام کو ساتھ بٹھانا ضروری ہے؟

2 hadiths in this chapter

200

Al-Adab Al-Mufrad #200

Sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ بْنِ أَبِي خَالِدٍ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمْ خَادِمُهُ بِطَعَامِهِ فَلْيُجْلِسْهُ، فَإِنْ لَمْ يَقْبَلْ فَلْيُنَاوِلْهُ مِنْهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’جب تم میں سے کسی کا نوکر کھانا لے کر آئے تو اسے ساتھ بٹھا لو اور اگر وہ نہ بیٹھے تو اسے کچھ کھانا اس میں سے دے دو۔‘‘

201

Al-Adab Al-Mufrad #201

Sahih

حَدَّثَنَا بِشْرُ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو يُونُسَ الْبَصْرِيُّ، عَنِ ابْنِ أَبِي مُلَيْكَةَ قَالَ: قَالَ أَبُو مَحْذُورَةَ: كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ عُمَرَ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ، إِذْ جَاءَ صَفْوَانُ بْنُ أُمَيَّةَ بِجَفْنَةٍ يَحْمِلُهَا نَفَرٌ فِي عَبَاءَةٍ، فَوَضَعُوهَا بَيْنَ يَدَيْ عُمَرَ، فَدَعَا عُمَرُ نَاسًا مَسَاكِينَ وَأَرِقَّاءَ مِنْ أَرِقَّاءِ النَّاسِ حَوْلَهُ، فَأَكَلُوا مَعَهُ، ثُمَّ قَالَ عِنْدَ ذَلِكَ: " فَعَلَ اللَّهُ بِقَوْمٍ - أَوْ قَالَ: لَحَا اللَّهُ قَوْمًا - يَرْغَبُونَ عَنْ أَرِقَّائِهِمْ أَنْ يَأْكُلُوا مَعَهُمْ "، فَقَالَ صَفْوَانُ: أَمَا وَاللَّهِ، مَا نَرْغَبُ عَنْهُمْ، وَلَكِنَّا نَسْتَأْثِرُ عَلَيْهِمْ، لَا نَجْدُ وَاللَّهِ مِنَ الطَّعَامِ الطِّيبِ مَا نَأْكُلُ وَنُطْعِمُهُمْ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو محذورۃ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر تھا کہ صفوان بن امیہ ایک بہت بڑا ٹب لے کر آئے جسے چند لوگ ایک چادر میں اٹھائے ہوئے تھے، چنانچہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے سامنے رکھ دیا۔ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسکین لوگوں اور دیگر لوگوں کے جو غلام وہاں موجود تھے انہیں بلایا تو انہوں نے ساتھ کھایا۔ اس وقت حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا:اللہ تعالیٰ ان لوگوں کا برا کرے۔ یا فرمایا:ان پر لعنت کرے جو اپنے غلاموں کے ساتھ کھانے سے گریز کرتے ہیں۔ حضرت صفوان نے کہا:اللہ کی قسم! ہم ان سے بے توجہی نہیں کرتے لیکن ہم اپنی ذات کو ان پر ترجیح دیتے ہیں۔ اللہ کی قسم ہمارے پاس اتنا عمدہ اور اچھا کھانا نہیں ہوتا جو ہم خود بھی کھائیں اور انہیں بھی کھلائیں۔