Al-Adab Al-Mufrad #1265
حَدَّثَنَا فَرْوَةُ بْنُ أَبِي الْمَغْرَاءِ قَالَ: أَخْبَرَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ الْمُخْتَارِ، عَنْ مَعْرُوفِ بْنِ سُهَيْلٍ الْبُرْجُمِيِّ، عَنْ جَعْفَرِ بْنِ أَبِي الْمُغِيرَةِ قَالَ: نَزَلَ بِي سَعِيدُ بْنُ جُبَيْرٍ فَقَالَ: حَدَّثَنِي ابْنُ عَبَّاسٍ، أَنَّهُ كَانَ يُقَالُ: أَيْنَ أَيْسَارُ الْجَزُورِ؟ فَيَجْتَمِعُ الْعَشَرَةُ، فَيَشْتَرُونَ الْجَزُورَ بِعَشَرَةِ فِصْلَانٍ إِلَى الْفِصَالِ، فَيُجِيلُونَ السِّهَامَ، فَتَصِيرُ لَتِسْعَةٍ، حَتَّى تَصِيرَ إِلَى وَاحِدٍ، وَيَغْرَمُ الْآخَرُونَ فَصِيلًا فَصِيلًا، إِلَى الْفِصَالِ فَهُوَ الْمَيْسِرُ
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ یوں کہا جاتا تھا کہ جوئے کا اونٹ کہاں ہے، پھر دس آدمی جمع ہوتے اور اونٹ کے دس بچوں کے عوض ایک اونٹ خرید لیتے اور وہ اس طرح کہ جس طرح اونٹنیوں کے بچے ہوتے رہیں گے ہر شخص ایک ایک دیتا رہے گا۔ پھر تیر گھماتے اور اس کے نو حصے ہو جاتے، پھر مسلسل تیروں کے ذریعے ہر دفعہ ایک حصہ کم ہو جاتا یہاں تک وہ ایک آدمی کا ہو جاتا (جس کا تیر گھوما تھا)اور باقی سب ایک ایک اونٹ کا بچہ بطور تاوان بھرتے (اور اس شخص کو دیتے جس سے اونٹ خریدا تھا۔ چنانچہ یہی جوا تھا جو عربوں میں رائج تھا۔