Al-Adab Al-Mufrad #1260
حَدَّثَنَا حَجَّاجُ بْنُ مِنْهَالٍ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ ثَابِتٍ، عَنْ أَنَسٍ قَالَ: ذَهَبْتُ بِعَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي طَلْحَةَ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَوْمَ وُلِدَ، وَالنَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي عَبَاءَةٍ يَهْنَأُ بَعِيرًا لَهُ، فَقَالَ: ((مَعَكَ تَمَرَاتٌ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَاوَلْتُهُ تَمَرَاتٍ فَلَاكَهُنَّ، ثُمَّ فَغَرَ فَا الصَّبِيِّ، وَأَوْجَرَهُنَّ إِيَّاهُ، فَتَلَمَّظَ الصَّبِيُّ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((حُبَّ الْأَنْصَارِ التَّمْرَ)) ، وَسَمَّاهُ: عَبْدَ اللَّهِ
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں عبداللہ بن ابی طلحہ کو اس کی پیدائش کے روز نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس لے گیا جبکہ آپ اس وقت چغہ پہنے اپنے ایک اونٹ کو قطران مل رہے تھے۔ آپ نے پوچھا:’’تیرے پاس کھجوریں ہیں؟‘‘ میں نے عرض کیا:جی ہاں! میں نے آپ کو کھجوریں پکڑا دیں تو آپ نے ان کو چبایا، پھر بچے کا منہ کھول کر اس میں ڈال دیں۔ بچے نے منہ چلانا شروع کر دیا۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کھجور انصار کو پسند ہے۔‘‘ اور آپ نے اس بچے کا نام عبداللہ رکھا۔