Al-Adab Al-Mufrad #1244
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ يُوسُفَ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ، عَنِ السَّائِبِ، عَنْ عُمَرَ قَالَ: رُبَّمَا قَعَدَ عَلَى بَابِ ابْنِ مَسْعُودٍ رِجَالٌ مِنْ قُرَيْشٍ، فَإِذَا فَاءَ الْفَيْءُ قَالَ: قُومُوا فَمَا بَقِيَ فَهُوَ لِلشَّيْطَانِ، ثُمَّ لَا يَمُرُّ عَلَى أَحَدٍ إِلَّا أَقَامَهُ، قَالَ: ثُمَّ بَيْنَا هُوَ كَذَلِكَ إِذْ قِيلَ: هَذَا مَوْلَى بَنِي الْحَسْحَاسِ يَقُولُ الشِّعْرَ، فَدَعَاهُ فَقَالَ: كَيْفَ قُلْتَ؟ فَقَالَ: [البحر الطويل] وَدِّعْ سُلَيْمَى إِنْ تَجَهَّزْتَ غَازِيَا كَفَى الشَّيْبُ وَالْإِسْلَامُ لِلْمَرْءِ نَاهِيَا، فَقَالَ: حَسْبُكَ، صَدَقْتَ صَدَقْتَ
اردو ترجمہ · Urdu
سائب بن یزید رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ بسا اوقات قریش کے کچھ لوگ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کے دروازے پر آبیٹھتے (تاکہ کچھ سیکھیں)جب سایہ ڈھل جاتا تو فرماتے:اٹھو، اب جو وقت باقی بچا ہے وہ شیطان کے لیے ہے، پھر جس کے پاس سے گزرتے اسے سختی سے اٹھاتے۔ پھر اسی طرح وہ اٹھا رہے تھے کہ ان سے کہا گیا کہ یہ بنو حسحاس کا غلام ہے جو شعر کہتا ہے۔ انہوں نے اسے بلایا اور پوچھا:تونے کیا شعر کہا ہے؟ اس نے کہا:اگر تونے صبح صبح سفر کا ارادہ کرلیا ہے تو سلیمی کو چھوڑ دے کیونکہ بڑھاپا اور دین اسلام انسان کو برائی سے روکنے کے لیے کافي ہیں۔ انہوں نے فرمایا:بس کافي ہیں تونے سچ کہا ہے، تونے سچ کہا۔