Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 47 · Chapter 552

Behaviour with people

بَابُ الْجُلُوسِ عَلَى السَّرِيرِ

تخت پر بیٹھنے کا بیان

7 hadiths in this chapter

1165

Al-Adab Al-Mufrad #1165

Zaeef

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا الْأَسْوَدُ بْنُ شَيْبَانَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُضَارِبٍ، عَنِ الْعُرْيَانِ بْنِ الْهَيْثَمِ قَالَ: وَفَدَ أَبِي إِلَى مُعَاوِيَةَ، وَأَنَا غُلَامٌ، فَلَمَّا دَخَلَ عَلَيْهِ قَالَ: مَرْحَبًا مَرْحَبًا، وَرَجُلٌ قَاعِدٌ مَعَهُ عَلَى السَّرِيرِ، قَالَ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، مَنْ هَذَا الَّذِي تُرَحِّبُ بِهِ؟ قَالَ: هَذَا سَيِّدُ أَهْلِ الْمَشْرِقِ، وَهَذَا الْهَيْثَمُ بْنُ الْأَسْوَدِ، قُلْتُ: مَنْ هَذَا؟ قَالُوا: هَذَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ عَمْرِو بْنِ الْعَاصِ، قُلْتُ لَهُ: يَا أَبَا فُلَانٍ، مِنْ أَيْنَ يَخْرُجُ الدَّجَّالُ؟ قَالَ: مَا رَأَيْتُ أَهْلَ بَلَدٍ أَسْأَلَ عَنْ بَعِيدٍ، وَلَا أَتْرَكَ لِلْقَرِيبِ مِنْ أَهْلِ بَلَدٍ أَنْتَ مِنْهُ، ثُمَّ قَالَ: يَخْرُجُ مِنْ أَرْضِ الْعِرَاقِ، ذَاتِ شَجَرٍ وَنَخْلٍ

اردو ترجمہ · Urdu

عریان بن ہیثم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میرے والد سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ کے پاس گئے جبکہ میں ابھی لڑکا تھا۔ جب وہ داخل ہوئے تو سیدنا معاویہ رضی اللہ عنہ نے فرمایا:خوش آمدید، خوش آمدید، ان کے ساتھ تخت پر بیٹھے ایک شخص نے کہا:امیر المومنین! یہ کون ہے جس کو آپ خوش آمدید کہہ رہے ہیں؟ انہوں نے فرمایا:یہ اہل مشرق (عراق)کے سردار ہیثم بن اسود ہیں۔ میں نے کہا:یہ پوچھنے والے کون ہیں؟ لوگوں نے کہا:یہ عبداللہ بن عمرو بن عاص ہیں۔ میں نے ان سے پوچھا:اے ابو فلان دجال کہاں سے نکلے گا؟ انہوں نے فرمایا:اس شہر والون سے بڑھ کر میں نے کسی شہر والوں کو نہیں دیکھا کہ وہ قریب والوں کو چھوڑ کر دور والوں سے سوال کرتے ہوں۔ تم بھی ان میں سے ہو جہاں سے دجال نکلے گا۔ پھر فرمایا:وہ درختوں اور کھجوروں والی زمین عراق سے نکلے گا۔

1166

Al-Adab Al-Mufrad #1166

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ، عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ قَالَ: جَلَسْتُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ عَلَى سَرِيرٍ حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ الْجَعْدِ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي جَمْرَةَ قَالَ: كُنْتُ أَقْعُدُ مَعَ ابْنِ عَبَّاسٍ، فَكَانَ يُقْعِدُنِي عَلَى سَرِيرِهِ، فَقَالَ لِي: أَقِمْ عِنْدِي حَتَّى أَجْعَلَ لَكَ سَهْمًا مِنْ مَالِي، فَأَقَمْتُ عِنْدَهُ شَهْرَيْنِ

اردو ترجمہ · Urdu

ابو العالیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے وہ کہتے ہیں کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے ساتھ تخت پر بیٹھا۔ ابو جمرہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں ابن عباس رضی اللہ عنہما کے پاس بیٹھا کرتا تو وہ مجھے اپنے تخت پر بٹھاتے۔ ایک دفعہ انہوں نے فرمایا:میرے پاس رک جاؤ یہاں تک کہ میں اپنے مال میں سے تمہارے لیے ایک حصہ مقرر کردوں۔ چنانچہ میں ان کے ہاں دو ماہ تک ٹھہرا رہا۔

1167

Al-Adab Al-Mufrad #1167

Hasan

حَدَّثَنَا عُبَيْدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا خَالِدُ بْنُ دِينَارٍ أَبُو خَلْدَةَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ، وَهُوَ مَعَ الْحَكَمِ أَمِيرٌ بِالْبَصْرَةِ عَلَى السَّرِيرِ، يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَ الْحَرُّ أَبْرَدَ بِالصَّلَاةِ، وَإِذَا كَانَ الْبَرْدُ بَكَّرَ بِالصَّلَاةِ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے امیر بصرہ حکم بن ابو عقیل ثقفي کے ساتھ اس کے تخت پر بیٹھ کر فرمایا:نبی صلی اللہ علیہ وسلم گرمی میں (ظہر کی)نماز ٹھنڈی کرکے (قدرے تاخیر سے)پڑھتے اور جب سردی ہوتی تو جلد نماز پڑھتے۔

1168

Al-Adab Al-Mufrad #1168

Hasan

حَدَّثَنَا عَمْرُو بْنُ مَنْصُورٍ قَالَ: حَدَّثَنَا مُبَارَكٌ قَالَ: حَدَّثَنَا الْحَسَنُ قَالَ: حَدَّثَنَا أَنَسُ بْنُ مَالِكٍ قَالَ: دَخَلْتُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ عَلَى سَرِيرٍ مَرْمُولٍ بِشَرِيطٍ، تَحْتَ رَأْسِهِ وِسَادَةٌ مِنْ أَدَمٍ حَشْوُهَا لِيفٌ، مَا بَيْنَ جِلْدِهِ وَبَيْنَ السَّرِيرِ ثَوْبٌ، فَدَخَلَ عَلَيْهِ عُمَرُ فَبَكَى، فَقَالَ لَهُ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((مَا يُبْكِيكَ يَا عُمَرُ؟)) قَالَ: أَمَا وَاللَّهِ مَا أَبْكِي يَا رَسُولَ اللَّهِ، أَلَّا أَكُونَ أَعْلَمُ أَنَّكَ أَكْرَمُ عَلَى اللَّهِ مِنْ كِسْرَى وَقَيْصَرَ، فَهُمَا يَعِيثَانِ فِيمَا يَعِيثَانِ فِيهِ مِنَ الدُّنْيَا، وَأَنْتَ يَا رَسُولَ اللَّهِ بِالْمَكَانِ الَّذِي أَرَى، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: ((أَمَا تَرْضَى يَا عُمَرُ أَنْ تَكُونَ لَهُمُ الدُّنْيَا وَلَنَا الْآخِرَةُ؟)) قُلْتُ: بَلَى يَا رَسُولَ اللَّهِ، قَالَ: ((فَإِنَّهُ كَذَلِكَ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کھجور کی رسی سے بنی ہوئی ایک چارپائی یا تخت پر تشریف فرما تھے۔ آپ کے سر کے نیچے کھجور کی چھال سے بھرا ہوا ایک چمڑے کا تکیہ تھا۔ آپ کے بدن مبارک اور تخت کے درمیان کوئی کپڑا نہ تھا۔ اس دوران سیدنا عمر رضی اللہ عنہ داخل ہوئے تو روپڑے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے پوچھا:’’عمر تم کیوں روتے ہو؟‘‘ انہوں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! اگر یہ بات جانتا نہ ہوتا کہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک آپ کی حیثیت قیصر وکسری سے کہیں بڑھ کر ہے تو میں نہ روتا۔ وہ کس قدر دنیاوی ناز ونعمت میں رہ رہے ہیں اور آپ اللہ کے رسول اس حال میں ہیں جس کو میں دیکھ رہا ہوں۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اے عمر! کیا تم اس بات سے راضی نہیں کہ ان کے لیے دنیا ہو اور ہمارے لیے آخرت؟‘‘ میں نے کہا:کیوں نہیں اے اللہ کے رسول! آپ نے فرمایا:’’پھر یہ اسی طرح ہے۔‘‘

1169

Al-Adab Al-Mufrad #1169

Sahih

حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ يَزِيدَ قَالَ: حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ الْمُغِيرَةِ، عَنْ حُمَيْدِ بْنِ هِلَالٍ، عَنْ أَبِي رِفَاعَةَ الْعَدَوِيِّ قَالَ: انْتَهَيْتُ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَهُوَ يَخْطُبُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، رَجُلٌ غَرِيبٌ جَاءَ يَسْأَلُ عَنْ دِينِهِ، لَا يَدْرِي مَا دِينُهُ، فَأَقْبَلَ إِلَيَّ وَتَرَكَ خُطْبَتَهُ، فَأَتَى بِكُرْسِيٍّ خِلْتُ قَوَائِمَهُ حَدِيدًا - قَالَ حُمَيْدٌ: أُرَاهُ خَشَبًا أَسْوَدَ حَسَبُهُ حَدِيدًا - فَقَعَدَ عَلَيْهِ، فَجَعَلَ يُعَلِّمُنِي مِمَّا عَلَّمَهُ اللَّهُ، ثُمَّ أَتَمَّ خُطْبَتَهُ، آخِرَهَا

اردو ترجمہ · Urdu

ابو رفاعہ عدوی رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ آپ خطبہ ارشاد فرما رہے تھے۔ میں نے کہا:اللہ کے رسول! ایک پردیسی شخص آپ کی خدمت میں حاضر ہے جو اپنے دین کے بارے میں پوچھتا ہے۔ وہ نہیں جانتا کہ اس کا دین کیا ہے؟ چنانچہ آپ خطبہ چھوڑ کر میرے پاس تشریف لائے، پھر ایک کرسی لائی گئی میرے خیال کے مطابق اس کی ٹانگیں لوہے کی تھیں۔ (حمید کہتے ہیں کہ میرے خیال میں وہ کالی لکڑی کی تھیں جسے انہوں نے لوہے کی سمجھا)چنانچہ آپ اس پر بیٹھ گئے۔ پھر آپ مجھے وہ احکام سکھانے لگے جو اللہ نے آپ کو سکھائے تھے۔ پھر بعدازاں آپ نے اپنا خطبہ مکمل فرمایا۔

1170

Al-Adab Al-Mufrad #1170

Zaeef

حَدَّثَنَا يَحْيَى قَالَ: حَدَّثَنَا وَكِيعٌ، عَنْ مُوسَى بْنِ دِهْقَانَ قَالَ: رَأَيْتُ ابْنَ عُمَرَ جَالِسًا عَلَى سَرِيرِ عَرُوسٍ، عَلَيْهِ ثِيَابٌ حُمْرُ

اردو ترجمہ · Urdu

موسیٰ بن دہقان رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما کو دلہن والے تخت پر بیٹھے دیکھا جبکہ انہوں نے سرخ کپڑے زیب تن کر رکھے تھے۔

1171

Al-Adab Al-Mufrad #1171

Hasan

وَعَنْ أَبِيهِ، عَنْ عِمْرَانَ بْنِ مُسْلِمٍ قَالَ: رَأَيْتُ أَنَسًا جَالِسًا عَلَى سَرِيرٍ وَاضِعًا إِحْدَى رِجْلَيْهِ عَلَى الْأُخْرَى

اردو ترجمہ · Urdu

عمران بن مسلم رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں نے سیدنا انس رضی اللہ عنہ کو دیکھا کہ آپ تخت پر تشریف فرما تھے جبکہ آپ نے ایک ٹانگ دوسری ٹانگ پر رکھی ہوئی تھی۔