Al-Adab Al-Mufrad #1144
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا أَبُو خَالِدٍ الْأَحْمَرُ، عَنْ حُمَيْدٍ، عَنْ أَنَسٍ: أَتَانَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَنَحْنُ صِبْيَانُ، فَسَلَّمَ عَلَيْنَا، وَأَرْسَلَنِي فِي حَاجَةٍ، وَجَلَسَ فِي الطَّرِيقِ يَنْتَظِرُنِي حَتَّى رَجَعْتُ إِلَيْهِ، قَالَ: فَأَبْطَأْتُ عَلَى أُمِّ سُلَيْمٍ، فَقَالَتْ: مَا حَبَسَكَ؟ فَقُلْتُ: بَعَثَنِي النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَاجَةٍ، قَالَتْ: مَا هِيَ؟ قُلْتُ: إِنَّهَا سِرٌّ، قَالَتْ: فَاحْفَظْ سِرَّ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا انس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہمارے پاس تشریف لائے جبکہ ہم بچے تھے۔ آپ نے ہمیں سلام کیا اور مجھے کسی کام کے لیے بھیجا اور راستے میں بیٹھ کر میرا انتظار فرماتے رہے یہاں تک کہ میں واپس آگیا۔ حضرت انس کہتے ہیں کہ میں (اپنی والدہ)ام سلیم کے پاس جانے سے لیٹ ہوگیا تو انہوں نے پوچھا:تم لیٹ کیوں ہوئے؟ میں نے کہا:مجھے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے کام بھیجا تھا۔ انہوں نے کہا:کس کام بھیجا تھا؟ میں نے کہا:وہ راز دارانہ کام تھا۔ انہوںنے کہا:پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے راز کی حفاظت کرنا۔