Al-Adab Al-Mufrad #1141
حَدَّثَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ مُحَمَّدٍ قَالَ: حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ الْعَقَدِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الْمَوَالِي قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيُّ قَالَ: أُوذِنَ أَبُو سَعِيدٍ الْخُدْرِيُّ بِجِنَازَةٍ، قَالَ: فَكَأَنَّهُ تَخَلَّفَ حَتَّى أَخَذَ الْقَوْمُ مَجَالِسَهُمْ، ثُمَّ جَاءَ مَعَهُ، فَلَمَّا رَآهُ الْقَوْمُ تَسَرَّعُوا عَنْهُ، وَقَامَ بَعْضُهُمْ عَنْهُ لِيَجْلِسَ فِي مَجْلِسِهِ، فَقَالَ: لَا، إِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((خَيْرُ الْمَجَالِسِ أَوْسَعُهَا)) ، ثُمَّ تَنَحَّى فَجَلَسَ فِي مَجْلِسٍ وَاسِعٍ
اردو ترجمہ · Urdu
عبدالرحمن بن ابی عمرہ انصاری رحمہ اللہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کو کسی جنازے کی اطلاع دی گئی تو وہ لیٹ ہوگئے یہاں تک کہ لوگ انتظار میں اپنی اپنی جگہ پر بیٹھ گئے، پھر وہ بعد میں آئے جب لوگوں نے انہیں دیکھا تو جلدی سے آگے سے ہٹ گئے اور کئی لوگ کھڑے ہوگئے تاکہ وہ انہیں اپنی جگہ پر بٹھائیں۔ انہوں نے فرمایا:میں نہیں بیٹھوں گا۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:بہترین مجلس وہ ہے جو کشادہ ہو۔‘‘ پھر ایک طرف ہوکر وسیع مجلس میں بیٹھ گئے۔