Al-Adab Al-Mufrad #1134
حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ أَكْحُلُ سَعْدٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَثَقُلَ، حَوَّلُوهُ عِنْدَ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: رُفَيْدَةُ، وَكَانَتْ تُدَاوِي الْجَرْحَى، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِهِ يَقُولُ: ((كَيْفَ أَمْسَيْتَ؟)) ، وَإِذَا أَصْبَحَ: ((كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟)) فَيُخْبِرُهُ
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے روز جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی رگ کٹ گئی اور ان کی تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو انہوں نے انہیں، ایک رفیدہ نامی عورت پر زخمیوں کا علاج کرتی تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس سے گزرتے تو پوچھتے:تیری شام کس حال میں ہوئی!‘‘ اور صبح حال دریافت کرتے تو پوچھتے:’’صبح کس حال میں ہوئی‘‘ تو وہ اپنا حال بتا دیتے۔