Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 45 · Chapter 529

Letters

بَابُ: كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟

صبح کس حال میں ہوئی؟ کہنے کا بیان

2 hadiths in this chapter

1134

Al-Adab Al-Mufrad #1134

Sahih

حَدَّثَنَا أَبُو نُعَيْمٍ قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ الْغَسِيلِ، عَنْ عَاصِمِ بْنِ عُمَرَ، عَنْ مَحْمُودِ بْنِ لَبِيدٍ قَالَ: لَمَّا أُصِيبَ أَكْحُلُ سَعْدٍ يَوْمَ الْخَنْدَقِ فَثَقُلَ، حَوَّلُوهُ عِنْدَ امْرَأَةٍ يُقَالُ لَهَا: رُفَيْدَةُ، وَكَانَتْ تُدَاوِي الْجَرْحَى، فَكَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا مَرَّ بِهِ يَقُولُ: ((كَيْفَ أَمْسَيْتَ؟)) ، وَإِذَا أَصْبَحَ: ((كَيْفَ أَصْبَحْتَ؟)) فَيُخْبِرُهُ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا محمود بن لبید رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ غزوہ خندق کے روز جب سیدنا سعد رضی اللہ عنہ کی رگ کٹ گئی اور ان کی تکلیف زیادہ بڑھ گئی تو انہوں نے انہیں، ایک رفیدہ نامی عورت پر زخمیوں کا علاج کرتی تھی جو نبی صلی اللہ علیہ وسلم جب ان کے پاس سے گزرتے تو پوچھتے:تیری شام کس حال میں ہوئی!‘‘ اور صبح حال دریافت کرتے تو پوچھتے:’’صبح کس حال میں ہوئی‘‘ تو وہ اپنا حال بتا دیتے۔

1135

Al-Adab Al-Mufrad #1135

Sahih

حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ صَالِحٍ قَالَ: حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يَحْيَى الْكَلْبِيُّ قَالَ: حَدَّثَنَا الزُّهْرِيُّ قَالَ: أَخْبَرَنِي عَبْدُ اللَّهِ بْنُ كَعْبِ بْنِ مَالِكٍ الْأَنْصَارِيُّ - قَالَ: وَكَانَ كَعْبُ بْنُ مَالِكٍ أَحَدَ الثَّلَاثَةِ الَّذِينَ تِيبَ عَلَيْهِمْ - أَنَّ ابْنَ عَبَّاسٍ أَخْبَرَهُ، أَنَّ عَلِيَّ بْنَ أَبِي طَالِبٍ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُ خَرَجَ مِنْ عِنْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي وَجَعِهِ الَّذِي تُوُفِّيَ فِيهِ، فَقَالَ النَّاسُ: يَا أَبَا الْحَسَنِ، كَيْفَ أَصْبَحَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ؟ قَالَ: أَصْبَحَ بِحَمْدِ اللَّهِ بَارِئًا، قَالَ: فَأَخَذَ عَبَّاسُ بْنُ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بِيَدِهِ، فَقَالَ: أَرَأَيْتُكَ؟ فَأَنْتَ وَاللَّهِ بَعْدَ ثَلَاثٍ عَبْدُ الْعَصَا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَأَرَى رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ سَوْفَ يُتَوَفَّى فِي مَرَضِهِ هَذَا، إِنِّي أَعْرِفُ وُجُوهَ بَنِي عَبْدِ الْمُطَّلِبِ عِنْدَ الْمَوْتِ، فَاذْهَبْ بِنَا إِلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَلْنَسْأَلْهُ: فِيمَنْ هَذَا الْأَمْرُ؟ فَإِنْ كَانَ فِينَا عَلِمْنَا ذَلِكَ، وَإِنْ كَانَ فِي غَيْرِنَا كَلَّمْنَاهُ فَأَوْصَى بِنَا، فَقَالَ عَلِيٌّ: إِنَّا وَاللَّهِ إِنْ سَأَلْنَاهُ فَمَنَعَنَاهَا لَا يُعْطِينَاهَا النَّاسُ بَعْدَهُ أَبَدًا، وَإِنِّي وَاللَّهِ لَا أَسْأَلُهَا رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَبَدًا

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی اس بیماری میں جس میں آپ نے وفات پائی، آپ کے پاس سے باہر آئے تو لوگوں نے پوچھا:ابوالحسن! رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کس حال میں صبح کی ہے؟ انہوں نے کہا:الحمدللہ اب آپ کو افاقہ ہے۔ ابن عباس کہتے ہیں کہ عباس بن عبدالمطلب ان کا ہاتھ پکڑ کر ایک طرف لے گئے اور کہا:کیا تمہیں خبر ہے! اللہ کی قسم تم تین دن بعد لاٹھی کے بندے بن جاؤ گے، یعنی دوسروں کے ماتحت ہوگے۔ اور میں اللہ کی قسم دیکھ رہا ہوں کہ آپ اس مرض میں وفات پا جائیں گے کیونکہ میں جانتا ہوں کہ موت کے وقت بنو عبدالمطلب کے چہرے کیسے ہوتے ہیں۔ ہم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلیں اور آپ سے خلافت کے بارے پوچھ لیں۔ اگر ہم میں سے کوئی ہوگا تو ہم اسے جان لیں گے اور اگر ہمارے علاوہ کوئی اور ہوگا تو ہم آپ سے بات کریں کہ آپ ہمارے بارے میں وصیت فرما دیں۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا:اللہ کی قسم! اگر ہم نے سوال کیا اور آپ نے ہمیں اس سے منع کر دیا تو لوگ آپ کے بعد کبھی ہمیں اقتدار نہیں دیں گے۔ اللہ کی قسم میں اس بارے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کبھی سوال نہیں کروں گا۔