Al-Adab Al-Mufrad #1115
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ سَلَّامٍ قَالَ: أَخْبَرَنَا مَخْلَدٌ قَالَ: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ قَالَ: أَخْبَرَنِي أَبُو الزُّبَيْرِ أَنَّهُ سَمِعَ جَابِرًا يَقُولُ: سَلَّمَ نَاسٌ مِنَ الْيَهُودِ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالُوا: السَّامُ عَلَيْكُمْ، قَالَ: ((وَعَلَيْكُمْ)) ، فَقَالَتْ عَائِشَةُ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهَا وَغَضِبَتْ: أَلَمْ تَسْمَعْ مَا قَالُوا؟ قَالَ: ((بَلَى قَدْ سَمِعْتُ فَرَدَدْتُ عَلَيْهِمْ، نُجَابُ عَلَيْهِمْ، وَلَا يُجَابُونَ فِينَا))
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا جابر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ کچھ یہودیوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کیا تو کہا:السام علیکم۔ آپ نے فرمایا:’’وعلیکم‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو بہت غصہ آیا تو انہوں نے کہا:(اللہ کے رسول!)آپ نے سنا نہیں جو انہوں نے کہا؟ آپ نے فرمایا:’’کیوں نہیں میں نے سنا ہے اور وہ الفاظ انہی پر لوٹا دیے ہیں۔ ہماری دعا ان کے خلاف قبول ہوتی ہے اور ان کی ہمارے خلاف کی گئی دعا قبول نہیں ہوتی۔