Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 43 · Chapter 497

Asking permission

بَابُ دُعَاءُ الرَّجُلِ إِذْنُهُ

کسی کو بلایا جائے تو یہی اجازت ہے

4 hadiths in this chapter

1079

Al-Adab Al-Mufrad #1079

Sahih

حَدَّثَنَا سُلَيْمَانُ بْنُ حَرْبٍ قَالَ: حَدَّثَنَا شُعْبَةُ، عَنْ أَبِي إِسْحَاقَ، عَنْ أَبِي الْأَحْوَصِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: إِذَا دُعِيَ الرَّجُلُ فَقَدْ أُذِنَ لَهُ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:جب کسی آدمی کو بلایا جائے تو اسے گویا اجازت دے دی گئی۔

1080

Al-Adab Al-Mufrad #1080

Sahih

حَدَّثَنَا عَيَّاشُ بْنُ الْوَلِيدِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْأَعْلَى قَالَ: حَدَّثَنَا سَعِيدٌ، عَنْ قَتَادَةَ، عَنْ أَبِي رَافِعٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((إِذَا دُعِيَ أَحَدُكُمْ فَجَاءَ مَعَ الرَّسُولِ، فَهُوَ إِذْنُهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:جب تم میں سے کسی کو بلایا جائے اور وہ بلانے والے کے ساتھ ہی آجائے تو یہ اس کے لیے اجازت ہے۔

1081

Al-Adab Al-Mufrad #1081

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا حَمَّادُ بْنُ سَلَمَةَ، عَنْ حَبِيبٍ، وَهِشَامٍ، عَنْ مُحَمَّدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: ((رَسُولُ الرَّجُلِ إِلَى الرَّجُلِ إِذْنُهُ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’کسی آدمی کا دوسرے کو قاصد بھیج کر بلانا اجازت دینا ہی ہے۔‘‘

1082

Al-Adab Al-Mufrad #1082

Sahih

حَدَّثَنَا مُوسَى بْنُ إِسْمَاعِيلَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ قَالَ: حَدَّثَنَا عَاصِمٌ قَالَ: حَدَّثَنَا مُحَمَّدٌ، عَنْ أَبِي الْعَلَانِيَةِ قَالَ: أَتَيْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْخُدْرِيَّ فَسَلَّمْتُ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، ثُمَّ سَلَّمْتُ فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، ثُمَّ سَلَّمْتُ الثَّالِثَةَ فَرَفَعْتُ صَوْتِي وَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ يَا أَهْلَ الدَّارِ، فَلَمْ يُؤْذَنْ لِي، فَتَنَحَّيْتُ نَاحِيَةً فَقَعَدْتُ، فَخَرَجَ إِلَيَّ غُلَامٌ فَقَالَ: ادْخُلْ، فَدَخَلْتُ، فَقَالَ لِي أَبُو سَعِيدٍ: أَمَا إِنَّكَ لَوْ زِدْتَ لَمْ يُؤْذَنْ لَكَ، فَسَأَلْتُهُ عَنِ الْأَوْعِيَةِ، فَلَمْ أَسْأَلْهُ عَنْ شَيْءٍ إِلَّا قَالَ: حَرَامٌ، حَتَّى سَأَلْتُهُ عَنِ الْجَفِّ، فَقَالَ: حَرَامٌ. فَقَالَ مُحَمَّدٌ: يُتَّخَذُ عَلَى رَأْسِهِ إِدَمٌ، فَيُوكَأُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابو علانیہ رحمہ اللہ سے روایت ہے کہ میں سیدنا ابو سعید خدری رضی اللہ عنہ کے پاس گیا اور سلام کہا تو مجھے اندر آنے کی اجازت نہ ملی۔ میں نے پھر سلام کہا تو بھی اجازت نہ ملی، پھر تیسری مرتبہ میں نے بآواز بلند سلام کہا:اے گھر والو! السلام علیکم۔ لیکن پھر بھی اجازت نہ ملی تو میں دروازے سے ایک طرف ہوکر بیٹھ گیا۔ پھر ایک لڑکا گھر سے میرے پاس آیا اور کہا:آجائیں تو میں اندر داخل ہوگیا۔ سیدنا ابوسعید رضی اللہ عنہ نے فرمایا:بلاشبہ اگر تم اسے (تین مرتبہ)سے زیادہ سلام کہتے تو تمہیں اجازت نہ ملتی۔ پھر میں نے ان سے برتنوں کے بارے میں پوچھا۔ میں نے جس برتن کے بارے میں پوچھا انہوں نے کہا:یہ حرام ہے۔ یہاں تک کہ میں نے ان سے جف (چمڑے کے برتن)کے بارے میں دریافت کیا تو انہوں نے فرمایا:حرام ہے۔ محمد بن سیرین رحمہ اللہ نے کہا:جف وہ برتن ہے جس کے منہ پر چمڑا لگا کر تسمہ باندھ دیا جاتا ہے۔