Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 42 · Chapter 467

Greetings

بَابٌ

باب

3 hadiths in this chapter

1019

Al-Adab Al-Mufrad #1019

Sahih

حَدَّثَنَا مُسَدَّدٌ قَالَ: حَدَّثَنَا يَزِيدُ بْنُ زُرَيْعٍ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ، عَنْ سَعِيدِ بْنِ أَبِي سَعِيدٍ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ، أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَهَى عَنِ الْأَفْنِيَةِ وَالصُّعُدَاتِ أَنْ يُجْلَسَ فِيهَا، فَقَالَ الْمُسْلِمُونَ: لَا نَسْتَطِيعُهُ، لَا نُطِيقُهُ، قَالَ: ((أَمَّا لَا، فَأَعْطُوا حَقَّهَا)) ، قَالُوا: وَمَا حَقُّهَا؟ قَالَ: ((غَضُّ الْبَصَرِ، وَإِرْشَادُ ابْنِ السَّبِيلِ، وَتَشْمِيتُ الْعَاطِسِ إِذَا حَمِدَ اللَّهَ، وَرَدُّ التَّحِيَّةِ))

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکان کے سامنے کھلی جگہ پر اور راستوں پر بیٹھنے سے منع فرمایا۔ مسلمانوں نے عرض کیا:ہم میں اس کی طاقت نہیں، یعنی ایسا کرنا ہمارے لیے مشکل ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’اگر تم ایسا نہیں کرسکتے تو راستے کا حق ادا کرو۔‘‘ صحابہ نے عرض کیا:اس کا حق کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:’’نگاہوں کو پست رکھنا، مسافر کی راہنمائی کرنا، چھینکنے والا الحمد للہ کہے تو اس کا جواب دینا اور سلام کا جواب دینا۔‘‘

1020

Al-Adab Al-Mufrad #1020

Zaeef

حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ يُونُسَ قَالَ: حَدَّثَنَا زُهَيْرٌ قَالَ: حَدَّثَنَا كِنَانَةُ مَوْلَى صَفِيَّةَ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ قَالَ: أَبْخَلُ النَّاسِ مَنْ بَخِلَ بِالسَّلَامِ، وَالْمَغْبُونُ مَنْ لَمْ يَرُدَّهُ، وَإِنْ حَالَتْ بَيْنَكَ وَبَيْنَ أَخِيكَ شَجَرَةٌ، فَإِنِ اسْتَطَعْتَ أَنْ تَبْدَأَهُ بِالسَّلَامِ لَا يَبْدَأُكَ فَافْعَلْ

اردو ترجمہ · Urdu

سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے فرمایا:سب سے بڑا بخیل وہ ہے جو سلام میں بخل کرے اور نقصان میں وہ ہے جو سلام کا جواب نہ دے۔ اگر تیرے اور تیرے بھائی کے درمیان درخت حائل ہو جائے تو اگر طاقت رکھتا ہے کہ سلام میں پہل کرے تو کرنا۔

1021

Al-Adab Al-Mufrad #1021

Zaeef

حَدَّثَنَا عِمْرَانُ بْنُ مَيْسَرَةَ قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ، عَنْ حُسَيْنٍ، عَنْ عَمْرِو بْنِ شُعَيْبٍ، عَنْ سَالِمٍ مَوْلَى عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو قَالَ: وَكَانَ ابْنُ عَمْرٍو إِذَا سُلِّمَ عَلَيْهِ فَرَدَّ زَادَ، فَأَتَيْتُهُ وَهُوَ جَالِسٌ فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ، قَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، ثُمَّ أَتَيْتُهُ مَرَّةً أُخْرَى فَقُلْتُ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، فَقَالَ: السَّلَامُ عَلَيْكُمْ وَرَحْمَةُ اللَّهِ وَبَرَكَاتُهُ، وَطَيِّبُ صَلَوَاتِهِ

اردو ترجمہ · Urdu

سالم مولی عبداللہ بن عمرو رحمہ اللہ سے روایت ہے، وہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما کو جب سلام کہا جاتا تو سلام کے جواب میں زیادہ کلمات فرماتے۔ میں ان کی خدمت میں حاضر ہوا جبکہ وہ تشریف فرما تھے تو میں نے کہا:السلام علیکم:انہوں نے جواب دیا:السلام علیکم ورحمۃ اللہ! میں پھر ایک مرتبہ آیا اور کہا السلام علیکم ورحمۃ اللہ! تو انہوں نے جواب دیا۔ السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ، پھر ایک دفعہ ان کے پاس آیا تو میں نے کہا:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ۔ انہوں نے جواب دیا:السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ وطیب صلواتہ، تجھ پر سلامتی، اللہ کی رحمت اور اس کی برکات اور اس کی پاکیزہ صلوات ہوں۔