Al-Adab Al-Mufrad #910
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ بُكَيْرٍ قَالَ: حَدَّثَنَا اللَّيْثُ، عَنْ يُونُسَ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ، عَنْ ثَابِتِ بْنِ قَيْسٍ، أَنَّ أَبَا هُرَيْرَةَ قَالَ: أَخَذَتِ النَّاسَ الرِّيحُ فِي طَرِيقِ مَكَّةَ - وَعُمَرُ حَاجٌّ - فَاشْتَدَّتْ، فَقَالَ عُمَرُ لِمَنْ حَوْلَهُ: ((مَا الرِّيحُ؟)) فَلَمْ يَرْجِعُوا بِشَيْءٍ، فَاسْتَحْثَثْتُ رَاحِلَتِي فَأَدْرَكْتُهُ، فَقُلْتُ: بَلَغَنِي أَنَّكَ سَأَلْتَ عَنِ الرِّيحِ، وَإِنِّي سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: ((الرِّيحُ مِنْ رَوْحِ اللَّهِ، تَأْتِي بِالرَّحْمَةِ، وَتَأْتِي بِالْعَذَابِ، فَلَا تَسُبُّوهَا، وَسَلُوا اللَّهَ خَيْرَهَا، وَعُوذُوا مِنْ شَرِّهَا))
اردو ترجمہ · Urdu
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ جب سیدنا عمر رضی اللہ عنہ حج کے لیے مکہ مکرمہ کے راستے میں جا رہے تھے تو بڑی تیز ہوا چلی۔ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے ہم نشینوں سے کہا:ہوا کیا چیز ہے؟ انہوں نے اس کا کوئی جواب نہ دیا۔ میں جلدی سے اپنی سواری آگے بڑھا کر ان کے پاس پہنچ گیا۔ میں نے عرض کیا:مجھے پتا چلا ہے کہ آپ نے ہوا کے بارے میں پوچھا ہے۔ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو فرماتے ہوئے سنا:’’ہوا اللہ کی رحمت ہے جو رحمت لاتی ہے اور عذاب لے کر آتی ہے، لہٰذا تم اسے برا بھلا مت کہو اور اللہ سے اس کی خیر کا سوال کرو اور اس کے شر سے پناہ طلب کرو۔‘‘