Muslim99Muslim99

Al-Adab Al-Mufrad · Book 34 · Chapter 349

Names

بَابُ قَوْلِ الرَّجُلِ: نَفْسِي لَكَ الْفِدَاءُ

کسی سے کہنا، میری جان آپ پر قربان

2 hadiths in this chapter

806

Al-Adab Al-Mufrad #806

Zaeef

حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ قَالَ: حَدَّثَنَا سُفْيَانُ، عَنِ ابْنِ جُدْعَانَ قَالَ: سَمِعْتُ أَنَسَ بْنَ مَالِكٍ يَقُولُ: كَانَ أَبُو طَلْحَةَ يَجْثُو بَيْنَ يَدَيْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَيَنْثُرُ كِنَانَتَهُ وَيَقُولُ: وَجْهِي لِوَجْهِكَ الْوِقَاءُ، وَنَفْسِي لِنَفْسِكَ الْفِدَاءُ

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، وہ کہتے ہیں کہ سیدنا ابو طلحہ رضی اللہ عنہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے دو زانو بیٹھ جاتے اور ترکش سے تیر نکال کر پھیلا دیتے اور یہ شعر پڑھتے:میرا چہرہ آپ کے چہرے کی ڈھال ہے اور میری جان آپ پر فداء ہے۔

807

Al-Adab Al-Mufrad #807

Sahih

حَدَّثَنَا مُعَاذُ بْنُ فَضَالَةَ، عَنْ هِشَامٍ، عَنْ حَمَّادٍ، عَنْ زَيْدِ بْنِ وَهْبٍ، عَنْ أَبِي ذَرٍّ قَالَ: فَانْطَلَقَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوَ الْبَقِيعِ، وَانْطَلَقْتُ أَتْلُوهُ، فَالْتَفَتَ فَرَآنِي فَقَالَ: ((يَا أَبَا ذَرٍّ)) ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ يَا رَسُولَ اللَّهِ، وَسَعْدَيْكَ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ، فَقَالَ: ((إِنَّ الْمُكْثِرِينَ هُمُ الْمُقِلُّونَ يَوْمَ الْقِيَامَةِ، إِلَّا مَنْ قَالَ هَكَذَا وَهَكَذَا فِي حَقٍّ)) ، قُلْتُ: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، فَقَالَ: ((هَكَذَا)) ثَلَاثًا ثُمَّ عَرَضَ لَنَا أُحُدٌ فَقَالَ: ((يَا أَبَا ذَرٍّ)) ، فَقُلْتُ: لَبَّيْكَ رَسُولَ اللَّهِ وَسَعْدَيْكَ، وَأَنَا فِدَاؤُكَ، قَالَ: " مَا يَسُرُّنِي أَنَّ أُحُدًا لِآلِ مُحَمَّدٍ ذَهَبًا، فَيُمْسِي عِنْدَهُمْ دِينَارٌ - أَوْ قَالَ: مِثْقَالٌ " ثُمَّ عَرَضَ لَنَا وَادٍ، فَاسْتَنْتَلَ فَظَنَنْتُ أَنَّ لَهُ حَاجَةً، فَجَلَسْتُ عَلَى شَفِيرٍ، وَأَبْطَأَ عَلَيَّ. قَالَ: فَخَشِيتُ عَلَيْهِ، ثُمَّ سَمِعْتُهُ كَأَنَّهُ يُنَاجِي رَجُلًا، ثُمَّ خَرَجَ إِلَيَّ وَحْدَهُ، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَنِ الرَّجُلُ الَّذِي كُنْتَ تُنَاجِي؟ فَقَالَ: ((أَوَ سَمِعْتَهُ؟)) قُلْتُ: نَعَمْ، قَالَ: ((فَإِنَّهُ جِبْرِيلُ أَتَانِي، فَبَشَّرَنِي أَنَّهُ مَنْ مَاتَ مِنْ أُمَّتِي لَا يُشْرِكُ بِاللَّهِ شَيْئًا دَخَلَ الْجَنَّةَ)) ، قُلْتُ: وَإِنْ زَنَى وَإِنْ سَرَقَ؟ قَالَ: ((نَعَمْ))

اردو ترجمہ · Urdu

حضرت ابوذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے، انہوں نے کہا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم بقیع کی طرف تشریف لے گئے اور میں بھی آپ کے پیچھے چلا۔ آپ نے التفات فرمایا تو مجھے دیکھ کر فرمایا:’’اے ابو ذر!‘‘ میں نے عرض کیا:میں حاضر ہوں اور تعمیل ارشاد کے لیے موجود، نیز آپ پر قربان ہوں۔ آپ نے فرمایا:’’زیادہ مال والے ہی روز قیامت قلت کا شکار ہوں گے سوائے ان کے جنہوں نے راہ حق میں اس اس طرح لٹایا۔‘‘ میں نے عرض کیا:اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں۔ آپ نے تین مرتبہ ’’اس طرح‘‘ کا لفظ استعمال کیا۔ پھر احد پہاڑ ہمارے سامنے ظاہر ہوا تو آپ نے فرمایا:’’اے ابوذر!‘‘ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول میں حاضر ہوں اور تعمیل ارشاد کے لیے تیار ہوں اور آپ پر فدا ہوں۔ آپ نے فرمایا:’’مجھے یہ بات خوش نہیں کرتی کہ آل محمد کے لیے احد پہاڑ سونے کا بن جائے اور شام تک ان کے پاس ایک درہم یا ایک مثقال بھی باقی ہو۔‘‘ پھر ہمارے سامنے ایک وادی آگئی تو آپ آگے بڑھ گئے۔ میں سمجھا کہ آپ کو کوئی حاجت ہوگی، چنانچہ میں وادی کے کنارے بیٹھ گیا۔ آپ نے واپس آنے میں کافي دیر کر دی۔ وہ کہتے ہیں:مجھے آپ کے بارے میں خطرہ محسوس ہوا (کہ کہیں دشمن نہ آگیا ہو)پھر میں نے سنا جیسے آپ کسی آدمی سے سرگوشی کر رہے ہیں لیکن آپ اکیلے ہی واپس تشریف لائے۔ میں نے عرض کیا:اللہ کے رسول! آپ کس آدمی سے سرگوشی کر رہے تھے؟ آپ نے فرمایا:کیا تم نے سن لیا؟‘‘ میں نے عرض کیا:جی ہاں! آپ نے فرمایا:’’وہ جبرائیل تھے۔ میرے پاس یہ خوشخبری دینے کے لیے آئے تھے کہ میری امت میں سے جو شخص اس حال میں فوت ہوا کہ وہ اللہ کے ساتھ شرک نہ کرتا ہو، وہ جنت میں داخل ہوگا۔ میں نے کہا:خواہ وہ زانی اور چور ہو؟ آپ نے فرمایا:ہاں۔‘‘